تدفین کے بعد میّت کے گھر کھانا
ڈاکٹر علیم خان فلکی
قوم شادی کے کھانوں کے اخراجات سے ہی یوں تباہ حال تھی، ایک اور کھانے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اور وہ ہے تدفین کے بعد میّت کے گھر پر کھانا۔ تدفین کے بعد قبرستان آنے والے حضرات میّت کے گھروارد ہوجاتے ہیں، اورجو خود نہیں آتے انہیں میّت کے رشتہ دار اصرار کرکے لاتے ہیں۔ کیونکہ اب یہ رسم اتنی ہی اہم ہوگئی ہے جیسے منگنی اور بارات کا کھانا۔
یہ رسم کہاں سے شروع ہوئی، یہ جائز ہے یا ناجائز ہے یا بدعت ہے، یہاں یہ بحث نہ کیجئے، اپنی عقلِ سلیم کو استعمال کیجئے اورصرف یہ بتایئے کہ میّت کے گھروالے جن پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے، کیا یہ ایک شرمناک حرکت نہیں ہے کہ ایسے رنجیدہ اشخاص کا غم ہلکا کرنے کے بجائے انہیں دستربچھانے اور اٹھانے کے کام پر لگا دیا جائے؟ بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ سارے بھوکڑ دسترخوان پر بیٹھ جاتے ہیں اور کوئی ان میزبانوں کو پکار کر کہتا ہے اِدھر چاول نہیں ہے، اُدھر پانی دیجئے، ذرا اے سی یا فیان بڑھایئے۔لوگوں کو یہ احساس کیوں نہیں ہوتا کہ اس رنجیدہ مہمان نے یہ انتظام کہاں سے کیا ہوگا، دعوت تو ہوجائیگی لیکن دعوت کے بعد اس گھر میں چولھا جلانے کا بھی انتظام ہے یا نہیں؟ سوسائیٹی میں چند ایک جن کے پاس خوب پیسہ ہے وہ تو اِس کھانے کا انتظام دِکھاوے کے لئے خوب کرلیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ سوسائٹی میں نوّے فیصد لوگ جو مرتے ہیں وہ نہ حرام کی کمائی چھوڑ کر مرتے ہیں، نہ پراپرٹی اور نہ بینک بیلنس، وہ تو قرضے چھوڑ کر مرتے ہیں، وہ پیسہ کہاں سے لائیں گے۔ ایسے میں کوئی صاحب اِس کو اجرِعظیم سمجھ کر بِریانی کی ایک دیغ کا آرڈر دے دیتے ہیں۔ یہ میّت کی دیغ یا تدفین کے کھانے کے طور پر اصطلاح عام ہوگئی ہے، ہر بڑی ریسٹورنٹ میں آپ صرف میّت کی دیغ کہہ دیجئے وہ پچاس یا سو آدمی کا کھانا بھیج دیں گے۔ پہلے یہ کھانا سادہ چاول اور دالچہ کی حد تک محدود تھا لیکن اب تو میّت کے کھانے میں بِریانی عام ہوگئی ہے۔ لوگ بھرپور بے غیرتی کے ساتھ اگر ان کی پلیٹ میں بوٹی نہیں ہے تو میزبان کو آرڈر بھی دیتے ہیں کہ بھائی اِدھر گوشت نہیں ہے ذرا گوشت منگوایئے۔
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، اِس سے آگے سیوم یعنی تیسرے دن کا کھانا، پھر دسویں دن کا، پھر بیسویں دن کا کھانا، پھر چہلم یعنی چالیسویں دن کا کھانا۔ چہلم تو آج کا ایک مِنی ولیمہ کی تقریب بن چکی ہے۔ لوگ اب گھر کے سامنے شامیانہ نہیں لگاتے بلکہ بیانکٹ ہال لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ یقیناً ایک اچھی نیت سے شروع کیا گیا تھاکہ اگر کچھ غربا کو اِس بہانے کچھ کھانے کو مل جائے تو مرحوم کے لئے بھی ایک ایصالِ ثواب کا شائد ذریعہ بن جائے۔ لیکن بدعت پھر بدعت ہے، چاہے کتنی اچھی نیت سے شروع کی جائے، ایک دن تو یہ فتنہ بننا ہی ہے۔
جہیز اور بارات کا کھانا بھی اسی طرح کی ایک ایسی بدعت تھی جو آغاز میں اچھی نیت سے ہی شروع کی گئی کہ باپ کی طرف سے اگر استطاعت کے مطابق بیٹی کو کچھ مل جائے تو اس میں کوئی قباحت نظرنہیں آتی تھی۔ لیکن بدعت ایک سانپ کے بچے کی طرح ہوتی ہے جو چھوٹے رہنے تک اچھا لگتا ہے لیکن بڑا ہو کر ازدھا بن جاتا ہے۔ اور پورے گھر کو ڈس لیتا ہے۔ ان شادیوں کی رسموں نے جیسے آج پورے سماج کو ڈس لیا ہے اسی طرح اِن میّت کی دعوتوں نے بھی غریبوں کو مزید افلاس کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ بے شمار رکشہ والے بھی اپنے والدین کی برسی پر قرضے مانگ کربرسی کرنے پر مجبور ہیں اگر یہ دعوتیں نہ کریں تو اُن پر شادیوں کی طرح برسی پر بھی ”ورنہ لوگ کیا کہیں گے؟” کا قہر ٹوٹتا ہے۔
پہلے یہ تھا کہ مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے لوگ آتے، ایک آدھ پارہ قرآن کی تلاوت کرتے اور دعا کرتے پھر کھانے پر بیٹھتے۔ لیکن اب تو نہ کوئی ایک رکوع پڑھتا ہے اور نہ درود، سوائے مولوی صاحب کے جو دو چار سورتیں پڑھ کر فاتحہ پکارتے ہیں، سارے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کررسم پوری کرتے ہیں اور دسترخوان پر براجمان ہوجاتے ہیں۔
میّت کے گھر کھانے کے تعلق سے جو روایات سیرت سے ہمیں ملتی ہیں ان میں ایک روایت یہ ہے کہ جب حضرت جعفرؓبن ابی طالب کا انتقال ہوا، رسول اللہ ﷺ نے اُن کے گھر حاضری بھیجنے کی ہدایت کی۔ شائد اسی ابنیاد پر ہمارے اسلاف نے میّت کے گھروں والوں کی دلجوئی کیلئے اُن کے گھر تین دن تک کھانا بھیجنے کی روایت قائم کی، اور کچھ دہے پہلے تک بھی پڑوس کے گھروں اور رشتہ داروں کی جانب سے حاضری بھیجنے کا طریقہ رائج رہا۔ پھر وہ سادہ سیدھا کھانا بِریانی میں تبدیل ہوگیا۔
یہ سنّت ہے یا بدعت، اِس کا فیصلہ اپنے کامن سینس سے کرنے کی ضرورت ہے۔ فرمانِ رسول ﷺ ہے کہ استفتِ بقلبک۔ اپنے دل سے پوچھ یعنی ضمیر سے پوچھ۔ آپ کے گھر کسی کا انتقال ہوجائے تو آپ کیا چاہیں گے؟ کیا یہ چاہیں گے کہ لوگ آپ کے گھر آکر تعزیت کرکے فوری رخصت ہوجائیں یا ہرکمرے اور دالان میں جمع ہوجائیں اور آپ کو کھانا پروسنے میں مصروف کردیں؟ اگر یہ سسٹم بن چکا ہے تو یہ غیراسلامی اور غیراخلاقی ہے اس سسٹم کو توڑنا لازمی ہے۔ اس کے لئے اجتہاد کرنے کی ضرورت ہے۔ اجتہاد ہی کامن سینس کا نام ہے۔ اگر صحابہؓ کے اجتہاد کا مطالعہ کیا جائے تو بات سمجھ میں آئیگی کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں زکوٰۃ نہ دینے والوں پر کوئی سزا کا حکم نہیں تھا، حضرت ابوبکرصدیقؓ نے یہ حکم جاری کیا اور فرمایا کہ اگرکسی کے ذمہ ایک رسّی کی بھی ادائیگی ہوگی اور وہ دینے سے انکار کرے گا تو میں اس کے خلاف تلوار اٹھاؤں گا۔ حضرت عمرؓ نے چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا کوملتوی کیا، بے نمازی، شرابی، متعہ اور حلالہ کرنے والوں کے خلاف کوڑوں کی سزا جاری کی۔ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے بھی کئی اجتہادی فیصلے تاریخ میں موجود ہیں۔ جن سے فقہا یہ اخذ کرتے ہیں کہ کوئی عمل شریعت میں اگر لازمی نہ ہو مگر ایک عادت یا عرف بن جائے لیکن وقت، حالات اور مقام کے بدلنے کے ساتھ وہ مصیبت بن جائے تو اس کو تبدیل کرنا اجتہاد ہے، اور یہ لازمی ہے۔
جس طرح آج شادی کی رسومات قوم کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت بن چکے ہیں، اسی طرح یہ میّت کے کھانے بہت بڑی مصیبت بن چکے ہیں، ان کو بڑھاوا دینے والے سب سے پہلے وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایسے کھانوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو کھانے کے لئے اصرار کیا جائے تو یہ جواز نہیں بنتا کیوں کہ یہ کھلی بدعت ہے۔ چند ایک مالداروں کے لئے تو اس میں کوئی مشکل نہیں لیکن اکثریت کے لئے یہ فتنہ ہے۔ آپ کی قوم کی اکثریت غربت و افلاس کی بدترین نچلی سطح پر ہے۔ آپ ان لوگوں تک دین تو نہیں پہنچا سکے، کم ازکم اتنا تو کیجئے کہ اِن غلط رسموں کا اپنے طور پر بائیکاٹ کرکے انہیں سکھایئے کہ اِن رسموں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بالخصوص مولوی حضرات سے یہ درخواست ہے کہ وہ ایسی دعوتوں کا بائیکاٹ کرکے اپنے عمل کے ذریعے ایسی دعوتوں کے غیراسلامی ہونے کا اعلان کریں۔
ڈاکٹرعلیم خان فلکی
صدرسوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد
9642571721
Comments are closed.