پریس ریلیز
اے ایم یو میں مختلف کورسیز کے داخلہ امتحانات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد ہوئے
علی گڑھ، 26 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں اتوار کو سینئر سیکنڈری اسکول سر ٹیفکیٹ (سائنس اسٹریم) / ڈپلوما انجینئرنگ، سینئر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (ہیومینیٹیز/ کامرس اسٹریم)، ایس ایس ایس سی (بِرج کورس) اور بی اے ایل ایل بی پروگراموں کے داخلہ امتحانات علی گڑھ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں قائم مراکز پر خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد ہوئے۔
سینئر سیکنڈری اسکول (سائنس اسٹریم) / ڈپلوما انجینئرنگ کے لیے 26,393 امیدواروں نے درخواست دی تھی جن میں سے 22764 امیدوار علی گڑھ سمیت، امپھال، کولکاتہ، لکھنؤ، میرٹھ، پٹنہ، رامپور، کشن گنج، سری نگر، مرشدآباد اور کوزی کوڈ میں قائم 44 مراکز پر داخلہ امتحان میں شامل ہوئے۔ دن کے دوسرے وقفہ میں سینئر سیکنڈری اسکول (ہیومینیٹیز/کامرس)، ایس ایس ایس سی (بِرج کورس)، اور بی اے ایل ایل بی پروگرام کا داخلہ امتحان منعقد ہوا جن کے لئے بالترتیب 6,862، 200 اور 5,292 امیدواروں نے فارم پُر کئے تھے۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، پراکٹر پروفیسر محمد نوید خان اور دیگر اہلکاروں کے ساتھ یونیورسٹی کیمپس میں مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا تاکہ امتحانات کے ہموار انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔
اپنے پیغام میں وائس چانسلر نے امتحانات کے منظم انعقاد پر اطمینان کا اظہار کیا اور یونیورسٹی عملے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے داخلہ عمل میں شفافیت اور منصفانہ طرز عمل کے لیے اے ایم یو کے عزم پر زور دیا۔
کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے کہا کہ امتحانات کو خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے تمام مراکز پر مشاہد اور نگراں تعینات کئے تھے اور وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے۔
یونیورسٹی کی این ایس ایس یونٹ نے کیمپس میں کئی مقامات پر امدادی کیمپ لگائے، جہاں امیدواروں کی رہنمائی کی گئی اور بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ این ایس ایس رضاکاروں نے مراکز پر امیدواروں کی معاونت اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں تعاون اور مثالی خدمت کا مظاہرہ کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو پروفیسر نے زرعی ٹکنالوجی اورہیلتھ سائنسز پر بین الاقوامی کانفرنس میں کلیدی خطبہ دیا
علی گڑھ، 26 اپریل: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی کے چیئرمین ڈاکٹر سید ضیاء الرحمن نے سنسکرتی یونیورسٹی، متھرا میں منعقدہ زرعی ٹکنالوجی، نباتات اور ہیلتھ سائنسز سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس (آئی سی اے پی ایچ ایس-2026) میں کلیدی خطبہ پیش کیا۔
کلیدی اجلاس کی صدارت ممتاز ماہرین نے کی، جن میں ڈاکٹر اے کے سنگھ، وائس چانسلر، رانی لکشمی بائی سینٹرل ایگریکلچرل یونیورسٹی؛ ڈاکٹر ابھیجیت مترا، وائس چانسلر، دکشنانچل ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی؛ ڈاکٹر این ایس راٹھور، سابق وائس چانسلر، مہارانا پرتاپ یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹکنالوجی اور سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، آئی سی اے آر؛ اور ڈاکٹر ایم بی چیٹی، وائس چانسلر، سنسکرتی یونیورسٹی شامل تھے۔
ڈاکٹر رحمن نے کانفرنس کے نیشنل ایڈوائزری بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور اس کے تعلیمی و سائنسی خاکے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے ”الائیڈ سائنسز اور بایومیڈیکل انٹیگریشن“ کے عنوان پر ایک سائنسی اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں تشخیص، غذائی جائزہ اور ٹرانسلیشنل ریسرچ کو فروغ دینے میں الائیڈ ہیلتھ اور بایومیڈیکل سائنسز کے باہمی اشتراک پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس اجلاس میں فوڈ ٹاکسیکولوجی، مائیکروبایولوجی، پروٹیومکس، نیوٹریشنل بایو کیمسٹری اور غذائیت سے متعلق عوارض میں بایومارکرز جیسے ابھرتے ہوئے موضوعات پر پرزنٹیشن ہوئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 پر ورکشاپ کا انعقاد
علی گڑھ، 26 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے انڈرگریجویٹ ہسٹری کلب نے شعبہ تاریخ میں ”قومی تعلیمی پالیسی 2020: رہنمائی اور کاؤنسلنگ“ کے موضوع پر ایک ورکشاپ منعقد کی۔ پروگرام کی کوآرڈنیٹر ڈاکٹر انیسہ اقبال صابر تھیں۔ کلب کی سالگرہ کے موقع پر’کاروانِ نو‘ کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام میں طلبہ و اساتذہ کی بھرپور شرکت رہی۔
اپنے کلیدی خطاب میں، اے ایم یو کے این ای پی سیل سے وابستہ جناب نثار احمد خان نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالی اور روایتی 10+2 نظام سے5+3+3+4 نظام کی طرف منتقلی کی وضاحت کی۔ انہوں نے اس پالیسی میں ملٹی ڈسپلینری لرننگ، مضامین کے انتخاب میں لچک، ہنر فروغ اور طالب علم مرکوز و ہمہ جہتی تعلیمی نقطہ نظر کی مختلف جہات پر روشنی ڈالی۔
پروگرام کا اختتام ایک بامعنی تبادلہ خیال پر ہوا، جس میں طلبہ نے رہنمائی، مضامین کے انتخاب میں لچک اور داخلہ و اخراج کے اختیارات کے نفاذ سے متعلق سوالات کئے اور اپنے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا۔ اس موقع پر 2025–2026 سیشن کے لئے کلب کے اراکین میں اسناد تقسیم کی گئیں، جس کے بعد ایگزیکیٹیو اراکین نے اپنے تجربات اور تاثرات کا اظہار کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو پروفیسر اور ریسرچ اسکالر نے اے آئی پر مبنی وائلڈ لائف مانیٹرنگ سسٹم کے لیے ڈیزائن پیٹنٹ حاصل کیا
علی گڑھ، 26 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کی پروفیسر عروس الیاس اور ریسرچ اسکالر شہزادہ اقبال کو حکومتِ ہند کی جانب سے ایک جدید“وائلڈ لائف سینٹینل انٹروزن ڈیٹیکشن سسٹم“کے لیے ڈیزائن پیٹنٹ عطا کیا گیا ہے۔ یہ سسٹم، پروفیسر عروس الیاس اور ریسرچ اسکالر شہزادہ اقبال نے انور حسین آزاد کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔
ڈیزائن پیٹنٹ کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر الیاس نے بتایا کہ یہ اختراع اے آئی سے تقویت یافتہ اور شمسی توانائی سے چلنے والا نگرانی پلیٹ فارم ہے، جسے خصوصاً جنگلاتی سرحدی علاقوں اور زرعی خطوں میں انسان و جنگلی جانوروں کے بڑھتے ہوئے تصادم کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں جدید ٹکنالوجیز جیسے موشن سینسرز، ہائی ریزولوشن آپٹیکل کیمرے، انفراریڈ اور تھرمل امیجنگ شامل ہیں، نیز انٹیلی جینٹ الگورتھمز بھی شامل ہیں جو جانوروں کی شناخت، ریوڑ کے حجم کا اندازہ لگانے اور نقل و حرکت کے انداز کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی سرگرمی کی نشاندہی ہوتے ہی یہ نظام خودکار طور پر ڈیٹا کو محفوظ اور پروسیس کرتا ہے اور فوری الرٹ اور بصری معلومات مانیٹرنگ اسٹیشنز تک منتقل کرتا ہے۔ اس سے محکمہ جنگلات کے اہلکار اور مقامی حکام بروقت اور مؤثر کارروائی کر سکتے ہیں، جس سے گشت پر انحصار کم ہوتا ہے اور ردعمل میں تاخیر کو بھی کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ماہر امراض چشم نے دہلی آپتھلمولوجیکل سوسائٹی کی کانفرنس میں لیکچر دیا
علی گڑھ، 26 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم سے وابستہ ڈاکٹر محمد ثاقب نے نئی دہلی کے پرگتی میدان واقع بھارت منڈپم میں دہلی آپتھلمولوجیکل سوسائٹی کی سالانہ کانفرنس میں لیکچر دیا۔
”آشوب چشم کے بعد خشک آنکھ اور اس کا علاج“ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب نے بتایا کہ آشوب چشم سے صحت یابی کے بعد بھی مریضوں کی ایک بڑی تعداد خشک آنکھ کی علامات کا سامنا کرتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں کی سرخی، خارش، چبھن، پانی آنا، دھندلا نظر آنا اور ہلکے درد جیسی علامات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں، جو معیارِ زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔
انہوں نے خود سے علاج کرنے اور عام طور پر دستیاب آئی ڈراپس کے بے جا استعمال سے خبردار کیا، جو پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ احتیاطی تدابیر پر زور دیتے ہوئے انہوں نے گرمی، گرد و غبار اور آلودگی سے بچنے، آنکھوں کو نہ رگڑنے، بصری نقائص دور کرنے اور ماہرین سے بروقت مشورہ لینے پر زور دیا۔
صدر شعبہ پروفیسر سمیع ذکاء الرّب نے شعبہ میں قائم خصوصی ”ڈرائی آئی کلینک“کی سہولت کا ذکر کیا، جو جدید تشخیصی آلات سے لیس ہے اور ہر بدھ کو فعال رہتا ہے تاکہ اس طرح کی بیماریوں کے مؤثر علاج میں مدد فراہم کی جا سکے۔
کانفرنس میں موجود ماہرین نے کہا کہ آشوب چشم کے بعد خشک آنکھ ایک عام لیکن اکثر نظرانداز کی جانے والی کیفیت ہے، اور طویل مدتی پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے بیداری، احتیاطی دیکھ بھال اور آنکھوں کے باقاعدہ معائنہ کی ضرورت رہتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے پروفیسر ایم رضوان خان نے شیکسپیئر اور ڈیجیٹل ہیومینیٹیز پر بین الاقوامی سیمینار میں کلیدی خطبہ دیا
علی گڑھ، 26 اپریل: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر ایم رضوان خان نے کریم سٹی کالج، جمشید پور کے شعبہ انگریزی (پوسٹ گریجویٹ)ا ور آئی کیو اے سی اور آتھرز پریس، دہلی کے اشتراک سے ”آل دی انٹرنیٹ اِز اے اسٹیج: شیکسپیئر اینڈ ڈیجیٹل ہیومینیٹیز – ایکسپلورنگ دی بارڈ اِن دی الگورتھمک ایج“ کے عنوان پر منعقدہ تین روزہ آن لائن بین الاقوامی سیمینار میں کلیدی خطبہ دیا۔
سیمینار کا آغاز شعبہ انگریزی کے صدر اور آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر ایس ایم یحییٰ ابراہیم کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے کلیدی مقرر، معزز مہمانوں اور مختلف اداروں سے شریک ہونے والے افراد کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے سیمینار کے موضوع کی اہمیت اور شیکسپیئر مطالعات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں اس کی معنویت پر روشنی ڈالی۔
اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر خان نے ڈیجیٹل دور میں ادبی مطالعات کے بدلتے ہوئے منظرنامے کا باریک بینی اور فکری گہرائی کے ساتھ تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کس طرح الگورتھمک نظام، ڈیجیٹل آرکائیوز اور کمپیوٹیشنل ٹولز مطالعہ، تصنیف اور تشریح کے روایتی تصورات کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ انہوں نے ژاک دریدا، رولان بارتھ اور مشیل فوکو کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے آرکائیوز کے عدم استحکام، متنیت کی تبدیلی اور موجودہ ڈیجیٹل ماحول میں تشریحی اختیار کی منتقلی کا ذکر کیا۔
خطاب کا ایک اہم پہلو”شیکسپیئر پرابلم“ پر ان کی گفتگو تھی، جس میں انہوں نے بتایا کہ وسیع پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبے جہاں رسائی کو بڑھاتے ہیں، وہیں ادبی روایت میں قائم شدہ درجہ بندیوں کو مضبوط بھی کر سکتے ہیں اور کم معروف ادبی آوازوں کو پس منظر میں دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل ڈھانچوں کے ناقدانہ تجزیہ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ شمولیت اور تشریحی گہرائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پروفیسر رضوان خان نے مزید کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل نظام میں شیکسپیئر صرف ایک تاریخی مصنف نہیں بلکہ ایک متحرک اور مربوط وجود کے طور پر سامنے آتے ہیں، جس کا دائرہ متون، پیشکش، ڈیٹا سیٹس اور کمپیوٹیشنل نظاموں تک وسیع ہے۔
کلیدی خطاب کے بعد ایک دل چسپ گفتگو ہوئی، جس نے پیش کردہ خیالات کی گہرائی اور عصری معنویت کو اجاگر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
Comments are closed.