آزادیٔ ضمیر سے عالمی دباؤ تک، ملک میں مذہبی آزادی کی بدلتی تصویر
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
عصرِ حاضر میں مذہبی آزادی کو انسانی حقوق کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی ذاتی شناخت اور ضمیر کی آزادی کا مظہر ہے بلکہ کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کے اخلاقی معیار کا پیمانہ بھی ہے۔ جب کسی ملک میں اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف داخلی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں United States Commission on International Religious Freedom (USCIRF) کی جانب سے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
درحقیقت، یہ تشویش کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر بین الاقوامی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتی ہے۔ متعدد معتبر عالمی تنظیمیں بھی اس مسئلے کو مسلسل اجاگر کرتی رہی ہیں۔ چنانچہ Amnesty International اپنی سالانہ اور خصوصی رپورٹوں میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدّد کی نشاندہی کرتی رہی ہے، اور حکومتوں کو انسانی حقوق کے عالمی معیارات کی پاسداری کی یاد دہانی کراتی ہے۔ اس طرح مختلف عالمی اداروں کی متواتر رپورٹس اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مذہبی آزادی کا مسئلہ محض داخلی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
اسی طرح Human Rights Watch بھی اپنی تحقیقی رپورٹس میں زمینی حقائق، متاثرین کے بیانات اور پالیسی سطح کے تجزیات پیش کرتے ہوئے اس امر پر زور دیتی ہے کہ قانون کے نفاذ میں غیر جانب داری اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے مشاہدات عموماً اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بعض مواقع پر ریاستی و سماجی رویّوں میں ایسا عدم توازن پایا جاتا ہے جو مذہبی ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔
امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی جیسے عالمی فورمز پر بھی وقتاً فوقتاً مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کا مسئلہ زیرِ بحث آتا رہا ہے، جہاں رکن ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آئینی وعدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ایک منصفانہ اور جامع نظام کو فروغ دیں۔ اس طرح ان عالمی اداروں کی آراء باہم مل کر ایک وسیع تر تصویر پیش کرتی ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہبی آزادی کا مسئلہ نہ صرف داخلی سطح کا معاملہ ہے بلکہ عالمی انسانی حقوق کے تناظر میں بھی ایک اہم اور حساس موضوع بن چکا ہے۔
جب ہم اس عالمی بحث کو کسی مخصوص ملک بالخصوص بھارت کی صورتِ حال پر منطبق کرتے ہیں تو یہ ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ معاملے کا جائزہ اس کے آئینی اور قانونی ڈھانچے کی روشنی میں لیا جائے۔ چنانچہ بھارت میں مذہبی آزادی کے سوال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض سماجی یا سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ آئینی بنیادوں پر بھی پرکھا جائے۔ اس سلسلے میں Constitution of India ایک واضح اور جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اسے اختیار کرنے کی آزادی دیتا ہے، جب کہ آرٹیکل 26 مذہبی جماعتوں کو اپنے مذہبی امور اور اداروں کے انتظام کا حق فراہم کرتا ہے، جو اجتماعی مذہبی آزادی کی ایک اہم شکل ہے۔ یوں یہ آئینی دفعات نہ صرف عالمی معیارات سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی عکاس ہیں بلکہ مذہبی آزادی کے ایک منظم اور اصولی نظام کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں، جس کی مؤثریت کا انحصار اس کے عملی نفاذ پر ہے۔
چنانچہ آرٹیکل 14 قانون کے سامنے برابری کو یقینی بناتا ہے، تاکہ کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہ برتا جائے، جب کہ آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی آزادی کے حق کو تحفّظ فراہم کرتا ہے، جو انسانی وقار اور آزادی کا بنیادی سرچشمہ ہے۔ یوں یہ تمام آئینی دفعات مل کر ایک ایسا ہم آہنگ نظام تشکیل دیتی ہیں جس کا مقصد نہ صرف مذہبی آزادی کا تحفّظ ہے بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل بھی ہے جہاں برابری، انصاف اور باہمی احترام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اصل سوال ان دفعات کے محض وجود کا نہیں بلکہ ان کے مؤثر اور منصفانہ عملی نفاذ کا ہے، جو آج کے مباحث میں ایک نہایت اہم اور توجہ طلب پہلو بن چکا ہے۔
اسی عملی پہلو کو سمجھنے کے لیے جب ہم عدالتی نظائر کی طرف رجوع کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے مختلف مواقع پر ایسے اہم فیصلے صادر کیے ہیں جنہوں نے مذہبی آزادی اور شخصی حقوق کے آئینی تصور کو نہ صرف واضح کیا بلکہ اسے عملی تحفظ بھی فراہم کیا۔ اس ضمن میں Shafin Jahan vs Asokan K.M. (معروف ہادیہ کیس) ایک نمایاں مثال ہے، جہاں عدالتِ عظمیٰ نے یہ اصولی مؤقف اختیار کیا کہ کسی بالغ فرد کو اپنے مذہب کے انتخاب اور اپنی پسند سے شادی کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، اور ریاست یا خاندان اس ذاتی آزادی میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ یوں یہ فیصلہ دراصل آرٹیکل 21 کے تحت فراہم کردہ شخصی آزادی اور وقارِ انسانی کے وسیع تر مفہوم کی نہ صرف توثیق کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ آئینی حقوق کی حقیقی معنویت عدالتی تشریحات اور ان کے مؤثر نفاذ ہی سے وابستہ ہے۔
اسی طرح Bijoe Emmanuel vs State of Kerala ایک نہایت اہم نظیر ہے، جس میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے یہ قرار دیا کہ اگر کوئی طالب علم اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر قومی ترانہ گانے سے گریز کرتا ہے مگر احتراماً خاموش کھڑا رہتا ہے، تو اسے اس بنیاد پر سزا دینا آئین کے خلاف ہے۔ اس فیصلے نے واضح کیا کہ مذہبی آزادی کا حق محض رسمی عبادات تک محدود نہیں بلکہ فرد کے ضمیر اور اعتقادی وابستگیوں کے احترام کو بھی شامل کرتا ہے۔ ان عدالتی نظائر سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ بھارتی آئینی و عدالتی نظام میں مذہبی آزادی اور شخصی حقوق کے تحفّظ کی مضبوط بنیادیں موجود ہیں، اور اگر ان اصولوں کو مسلسل اور غیر جانب دارانہ انداز میں نافذ کیا جائے تو ایک زیادہ منصفانہ اور ہم آہنگ معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔
جب ہم ان مضبوط آئینی اور عدالتی اصولوں کو زمینی حقائق کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو ایک پیچیدہ اور بعض اوقات متضاد تصویر سامنے آتی ہے، جو اس بحث کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ مذہبی آزادی کے قانونی و نظری مباحث کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر پیش آنے والے بعض واقعات اس مسئلے کی حقیقی صورتِ حال کو نمایاں کرتے ہیں۔ چنانچہ مختلف اوقات میں گرجا گھروں پر حملوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جنہوں نے مسیحی برادری میں عدم تحفّظ کے احساس کو جنم دیا۔ اسی طرح گاؤ رکھشا کے نام پر ہجومی تشدّد (mob lynching) کے متعدد واقعات نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر طبقات کو بھی متاثر کیا، اور قانون کی عمل داری کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے۔
بعض علاقوں میں مذہبی اجتماعات یا عبادات پر عائد کی جانے والی پابندیاں بھی بحث کا موضوع بنی ہیں، جہاں مقامی انتظامیہ کے اقدامات کو کبھی امن و امان کے تناظر میں جائز قرار دیا گیا، تو کبھی انہیں مذہبی آزادی پر قدغن کے طور پر دیکھا گیا۔ یوں یہ تمام مثالیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ مذہبی آزادی کا مسئلہ محض آئینی دفعات یا عدالتی نظائر تک محدود نہیں بلکہ اس کا حقیقی اظہار معاشرتی رویّوں، انتظامی فیصلوں اور قانون کے یکساں و منصفانہ نفاذ میں مضمر ہے۔ اگر ان پہلوؤں میں توازن اور انصاف برقرار نہ رکھا جائے تو آئینی ضمانتیں بھی اپنی عملی افادیت کھو سکتی ہیں اور یہی وہ بنیادی چیلنج ہے جس کا سامنا آج کے معاشروں کو درپیش ہے۔
بھارت میں مذہبی آزادی کے قانونی مباحث میں بعض ایسے قوانین خاص طور پر زیرِ بحث آتے ہیں جنہیں ناقدین مذہبی آزادی کے اصولوں سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ ان میں سرفہرست مختلف ریاستوں میں نافذ انسدادِ تبدیلی مذہب قوانین (Anti-Conversion Laws) ہیں، جن کا بنیادی مقصد بظاہر جبری یا فریب کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کو روکنا بتایا جاتا ہے۔ تاہم، عملی سطح پر ان قوانین کے نفاذ کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ آیا یہ واقعی صرف جبر کی روک تھام تک محدود ہیں یا ان کے اطلاق میں بعض اوقات ایسے عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں جو افراد کی ذاتی مذہبی آزادی اور انتخاب کے حق کو متاثر کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں Citizenship Amendment Act (شہریت ترمیمی قانون) بھی ایک اہم بحث کا مرکز رہا ہے۔ اس قانون کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس میں شہریت کے حصول کے لیے مذہب کو ایک بنیاد کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جس سے آئینی مساوات اور مذہبی غیر جانب داری کے اصولوں پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، اس کے حامی اسے مخصوص پس منظر میں ایک انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد پڑوسی ممالک میں مذہبی اقلیتوں کو تحفّظ فراہم کرنا ہے۔ یوں یہ قانونی مثال اس امر کو واضح کرتی ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کا مسئلہ محض نظری یا آئینی بحث تک محدود نہیں بلکہ اس کا گہرا تعلق قانون سازی، اس کے نفاذ اور اس کی تعبیر سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے قوانین پر جاری مباحث ایک وسیع تر سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کس طرح ریاستی پالیسیاں مذہبی آزادی، مساوات اور سماجی ہم آہنگی کے درمیان ایک متوازن رشتہ قائم کر سکتی ہیں۔
اسی پس منظر میں جب ان داخلی مباحث اور پالیسی اقدامات کو عالمی سطح پر پرکھا جاتا ہے تو بین الاقوامی اداروں کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوتی ہے۔ چنانچہ USCIRF، اپنی مسلسل رپورٹوں میں بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف امتیازی سلوک، تشدّد اور بعض قانونی پابندیوں کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔ حالیہ بیانات میں اس نے نہ صرف ان امور کو "سنگین” قرار دیا بلکہ امریکی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بھارت کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے جنہیں "خصوصی تشویش رکھنے والے ممالک” (Countries of Particular Concern) کہا جاتا ہے۔ یوں داخلی قانون سازی اور اس پر جاری مباحث بالآخر ایک وسیع تر عالمی تناظر سے جڑ جاتے ہیں، جہاں کسی ملک کی انسانی حقوق کی صورتِ حال اس کی بین الاقوامی ساکھ اور تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ مطالبہ محض ایک رسمی یا علامتی اقدام نہیں بلکہ اس کے دور رس سفارتی اور اقتصادی اثرات ہو سکتے ہیں۔ کسی ملک کو اس فہرست میں شامل کرنا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ وہاں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں ایک منظم اور مستقل نوعیت اختیار کر چکی ہیں، اور بین الاقوامی برادری کو اس پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ اسی تناظر میں امریکی کانگریس کی رکن وکی ہرٹزلر کا بیان بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی اور سفارتی مذاکرات کے دوران وہاں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور مسیحیوں پر ہونے والے حملوں اور امتیازی رویّوں کا مسئلہ بھی اٹھایا جانا چاہیے۔ ان کا یہ مؤقف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اب انسانی حقوق، خصوصاً مذہبی آزادی، محض داخلی معاملہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی تعلقات اور اقتصادی مفادات کے ساتھ بھی جڑ چکا ہے۔
وکی ہرٹزلر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کو اپنے ایسے قوانین پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے جو مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ یہاں بالخصوص ان قوانین کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو مذہبی تبدیلی (conversion) کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد کرتے ہیں یا کسی مخصوص مذہبی طبقے کو بالواسطہ طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ قوانین نہ صرف آئینِ ہند کی روح کے خلاف ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات سے بھی ہم آہنگ نہیں۔ اگر ہم اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارت جیسے کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی کا قیام ایک نازک مگر ناگزیر ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے کی اصل طاقت اس کی تنوع (diversity) اور رواداری (tolerance) میں مضمر رہی ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بعض سیاسی، سماجی اور نظریاتی عوامل نے اس توازن کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتوں میں عدم تحفّظ کا احساس بڑھا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کا احترام بین الاقوامی اصولوں کا حصہ ہے، مگر جب بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ سامنے آتا ہے تو عالمی برادری کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اس پر آواز اٹھائے۔ اسی لیے USCIRF جیسے ادارے اپنی رپورٹوں اور سفارشات کے ذریعے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ اصلاحِ احوال کے لیے دباؤ بھی ڈالتے ہیں۔ اس پورے منظرنامے میں ایک متوازن نقطۂ نظر اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ محض بیرونی دباؤ کسی دیرپا حل کی ضمانت نہیں دے سکتا جب تک کہ داخلی سطح پر سنجیدہ مکالمہ، آئینی بالادستی، اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی مخلصانہ کوششیں نہ کی جائیں۔ بھارت کے لیے یہ ایک اہم موقع بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی جمہوری اقدار کو مزید مضبوط کرے اور دنیا کے سامنے ایک ایسے معاشرے کی مثال پیش کرے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والے بلا خوف و خطر اپنی عبادات اور عقائد پر عمل کر سکیں۔
مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے مسائل اب محض داخلی نوعیت کے معاملات نہیں رہے بلکہ وہ بین الاقوامی تعلقات، سفارتی ترجیحات اور اقتصادی شراکت داریوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ باہمی مفادات کے باوجود انسانی حقوق کے سوالات بھی وقتاً فوقتاً اس ایجنڈے کا حصّہ بنتے رہتے ہیں۔ تجارتی مذاکرات اور اسٹریٹجک شراکت داریوں میں اب یہ پہلو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا کہ کسی ملک کا داخلی انسانی حقوق کا ریکارڈ اس کے عالمی تعلقات پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح Quadrilateral Security Dialogue (کواڈ) جیسے علاقائی و اسٹریٹجک اتحاد، جن میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں، بظاہر سکیورٹی اور جغرافیائی سیاست (geopolitics) پر مرکوز ہیں، مگر ان کے رکن ممالک کے لیے جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری بھی ایک اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں کسی ایک رکن ملک کی داخلی صورتِ حال پر اٹھنے والے سوالات اس اتحاد کے اخلاقی بیانیے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
کسی بھی ملک کی عالمی شناخت یا گلوبل امیج (Global Image) اس کے داخلی طرزِ حکمرانی، اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ اور انسانی حقوق کے احترام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ جب کسی ملک کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر منفی رپورٹس یا خدشات سامنے آتے ہیں تو اس کا اثر نہ صرف اس کی سفارتی ساکھ پر پڑتا ہے بلکہ سرمایہ کاری، سیاحت اور عالمی اعتماد پر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یوں یہ تمام پہلو اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ مذہبی آزادی کا مسئلہ محض ایک سماجی یا آئینی بحث نہیں بلکہ ایک ایسا کثیر جہتی معاملہ ہے جو معیشت، سیاست اور عالمی تعلقات کے ساتھ گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ مذہبی آزادی کا مسئلہ محض کسی ایک ملک یا خطے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر دنیا کو ایک پُرامن اور منصفانہ جگہ بنانا ہے تو ہر سطح پر خواہ وہ قومی ہو یا بین الاقوامی ان اصولوں کی پاسداری ناگزیر ہے جو انسان کو اس کی بنیادی آزادیوں کے ساتھ جینے کا حق دیتے ہیں۔
Comments are closed.