نرسز انسانیت کی روشن چراغ اور خدمت، محبت اور شفقت کی بے مثال نمونہ ہیں:مولانا انیس الرحمن قاسمی
انٹرنیشنل نرسز ڈے کے موقع پر چمپارن نرسنگ کالج میں منقعد تقریب میں نرسوں کو خراجِ تحسین
ساٹھی، چمپارن( پریس ریلیز)انیس گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے زیر اہتمام کٹہری ، ساٹھی ، ضلع مغربی چمپارن میں چلنے والے میں انٹرنیشنل نرسنگ ڈے کے موقع پر ایک شاندار، باوقار اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروقار پروگرام انیس گروپ آف انسٹیٹیوشنز کے سرپرست اور ملک کی معروف علمی و دینی شخصیت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل کی صدارت میں منعقد ہوا۔
تقریب کا آغاز جناب مولانا نوشاد صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد چمپارن نرسنگ کالج کے ٹیچرز کے ذریعہ معززمہمانانِ کرام کا گلدستہ اور شال پیش کر کے خیر مقد م کیا گیا۔ نرسنگ کی طالبات شوانی اور خوشبو نے استقبالیہ ترانہ پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض جناب شمیم قمر ریاضی صاحب اور سوکومار ومل نے حسن و خوبی سے انجام دیے ، جبکہ طالبات و طلبہ کے پروگراموں کی نظامت چمپارن نرسنگ کالج کے پرنسپل پریتم سر نے کی طالبات و طلبہ کے ذریعہ کینڈل جلا کر نرسنگ کے پیشہ سے متعلق جذبہ خدمت ، ایثار و قربانی اور دیانت داری کا حلف بھی لیا گیا۔
اس موقع پر مقررین نے نرسنگ کے مقدس پیشہ کی اہمیت، انسانیت کی خدمت میں نرسوں کے بے مثال کردار اور صحت عامہ کے میدان میں ان کی قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
صدرِ اجلاس مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ نرسنگ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق، ہمدردی، ایثار اور انسانیت نوازی کا عظیم مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماروں کی خدمت کرنا نہایت عظیم عمل ہے اور نرسیں معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل خصوصاً طالبات کو چاہیے کہ وہ نرسنگ کے شعبہ میں آگے بڑھ کر قوم و ملت اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کریں۔انہوں نے تمام ٹیچرز ، اسٹاف اور طلبہ و طالبات کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ سب لوگوں نے بڑی محنت سے اتنا حسین پروگرام منعقد کیا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ خدمتِ خلق ہے۔ انسان جو کچھ سیکھے، پڑھے اور حاصل کرے، اگر اسے دوسروں کے فائدے، سماج کی بھلائی اور انسانیت کی خدمت میں استعمال کرے تو وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قریب بھی ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں قائم تمام تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اس سے معاشرہ فائدہ اٹھائے ،نوجوان باصلاحیت بنیں، اور اپنے علم و ہنر کے ذریعے انسانیت کی خدمت انجام دیں۔ انہوں نے طلبہ و طالبات کو نصیحت کی کہ وہ اپنی تعلیم کو صرف روزگار کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے قوم و ملت اور سماج کی ترقی کا وسیلہ بنائیں۔
مہمان خصوصی جناب آفاق احمد صاحب معزز رکن بہار قانون ساز کونسل نے اپنے خطاب میں تعلیمی اداروں کے قیام پر مولانا انیس الرحمن قاسمی کی تعریف کرتے ہوئے ، ان کے عزم مصمم، دور اندیشی اور دانشمندی کی ستائش کی ، انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ عزم کے ساتھ جنون پیدا کیجئے تو سب راہیں آسان ہو جائیں گی، انہوں نے خدمت کی نیت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت بڑی عبادت ہے، اپنا عزم و ارادہ بلند رکھئے ،آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔
جناب مرتضیٰ انصاری این سی ڈی او بتیا کے نے طلبہ کو دل لگا کر پڑھنے کی نصیحت اور کہا کہ اپنے سبجکٹ کے ماہر بنئے ، انہوں نے ٹیچر کو بھی ہدایت دی کہ سبجکٹ پر خوب عبور ہونا چاہئے ، اس کے لیے ٹیچر کو روزانہ کم سے کم دو گھنٹہ پڑھنا چاہئے۔انہوں نے نرسنگ اور میڈیکل کے شعبہ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے ذریعہ نرسز کو قیمتی نصیحتیں کی اور ان کی خدمت کو خرا ج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی نظم بھی سنائی۔
اس سے قبل اپنے افتتاحی خطاب میں چمپارن نرسنگ کالج کی ٹیچر محترمہ نرگس نے کہا آج ہم سب یہاں انٹرنیشنل نرسز ڈے کے موقع پر جمع ہوئے ہیں تاکہ اُن لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کر سکیں جو انسانیت کی خدمت کا سب سے روشن چہرہ ہیں یعنی نرسیں۔نرسنگ صرف ایک پیشہ نہیں ہے بلکہ یہ رحمت، محبت، صبر اور قربانی کا نام ہے۔ جب کوئی مریض تکلیف میں ہوتا ہے تو سب سے پہلے جو شفقت بھرا ہاتھ اُس تک پہنچتا ہے، وہ ایک نرس کا ہوتا ہے۔
آج کا دن خاص طور پر Florence Nightingale کی یاد میں منایا جاتا ہے، جنہیں Lady with the Lamp کہا جاتا ہے۔ انہوں نے Crimean War کے دوران زخمی سپاہیوں کی خدمت کی۔ وہ رات رات بھر چراغ لے کر مریضوں کے پاس جاتی تھیں۔ انہوں نے نرسنگ کو ایک معزز اور منظم پیشہ بنایا۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک شخص کا جذبہ پوری دنیا بدل سکتا ہے۔ان کی خدمت اور انسانی درد کا احساس ہم سب کے لیے مثال ہے۔آج کی نرسیں بھی کسی ہیرو سے کم نہیں ہیں۔ خاص طور پر وبا کے دوران جب دنیا رک گئی تھی، نرسیں اپنی جان کی پروا کیے بغیر ہسپتالوں میں کھڑی رہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ اصل ہیرو وہی ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ چمپارن نرسنگ کالج کی ٹیچر پوجا میم نے اپنی تقریر میں نرسوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نرسیں صرف مریض کا علاج نہیں کرتیں بلکہ اُمید دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جو امید دلاتے ہیں نرسیں اس امید کو زندہ رکھتی ہیں ، وہصرف انجکشن نہیں لگاتیں بلکہ ہمت دیتی ہیں۔وہ صرف ڈیوٹی نہیں کرتیں بلکہ انسانیت کی عبادت کرتی ہیں۔انہوں نے سب سے درخواست کی کہ ہم نرسوں کی قدر کریں، ان کا احترام کریں، اور ان کی خدمت کو سمجھیں۔
جناب کندن بھوشن جی پرنسپل جی این ایم کالج بتیا نے اپنے خطاب میں چمپارن نرسنگ کالج کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہت ہی کم مدت میں اس کالج نے اس علاقہ میں اپنی شناخت قائم کر لی ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کالج کے ذریعہ پورے بہار میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں اپنے علاقہ اور ضلع کا نام روشن کریں گے ۔انہوں نے طالبات و طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ نرسنگ صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ خدمتِ انسانیت کا عظیم مشن ہے۔ انہوں نے طالبات کو نصیحت کی کہ علم، نظم و ضبط اور اخلاق کے ساتھ اپنے پیشہ کو اپنائیں تاکہ سماج اور ملک کی بہتر خدمت کر سکیں۔درگیش نندن جی پرنسپل اے این ایم اسکول بتیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک کامیاب نرس وہی ہے جو علم کے ساتھ ہمدردی، صبر اور خدمت کے جذبہ کو بھی اپنے اندر پیدا کرے۔ انہوں نے طالبات کو محنت اور لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرکے سماج میں بہترین مثال قائم کرنے کی ترغیب دی۔ مولانا اعجاز احمد قاسمی نے اپنے خطاب میں فلورنس نائیٹنگل کی خدمات اور اس کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیااور انٹرنیشنل نرسنگ ڈے کی تقریب کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر اروند سر سابق استاذ شمس ٹیچر س ٹریننگ کالج، ابھے سر پرنسپل شمس ٹیچر س ٹریننگ کالج، قاری بشیر صاحب سابق صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا، جناب مفتی فیض صاحب ، صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ بتیا، کامریڈاحمد علی صاحب، مولانا ضیاء الحق صاحب، پنڈت وپن تیواری، ڈاکٹر معین اختر اور ڈاکٹر وصی اللہ صاحب نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔ مقررین نے دیہی اور پسماندہ علاقے میں تعلیم کی شمع روشن کرنے پر مولانا انیس الرحمن قاسمی کی بھرپور ستائش کی اور کہا کہ ان کی محنت، بصیرت اور تعلیمی جذبہ کی بدولت یہ ادارے نہ صرف علاقے بلکہ پورے بہار میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معیاری ادارے کا اس خطے میں قائم ہونا علاقے کے لیے باعثِ فخر اور اعزاز ہے، جس نے یہاں کے نوجوانوں کو تعلیم، تربیت اور روشن مستقبل کی نئی راہیں فراہم کی ہیں۔اس موقع پر کالج کے طلبہ و طالبات نے مختلف ثقافتی و تعلیمی پروگرام پیش کیے، جنہیں حاضرین نے خوب سراہا۔
آخر میں منتظمین کی جانب سے تمام مہمانوں، اساتذہ اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا۔ یہ تقریب اپنے حسنِ انتظام، علمی گفتگو اور پرجوش ماحول کی وجہ سے دیر تک یاد رکھی جائے گی۔ شرکت کرنے والوں میں انیس گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے ماتحت چلنے والے اداروں کے سکریٹری جناب عبید الرحمن صاحب ، چمپارن نرسنگ کالج کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سہیل احمد، نیکسس کالج آف مینجمنٹ اینڈ ہائر اسٹڈیز کے پرنسپل جناب انجینئر نجیب الرحمن، جناب ڈاکٹر اشونی کمار شمس ٹیچرس ٹریننگ کالج، جناب انجینئر محفوظ الرحمن اسسٹنٹ پروفیسر نیکسس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی،جناب ڈاکٹر شمیم احمد، جناب ڈاکٹر امتیاز احمد ، جناب شوکت صاحب سابق مکھیا، ڈاکٹر تجمل حسین پاشا، مسعود عالم صاحب سمری، محبوب عالم صاحب بیہڑا ، نسیم اختر صاحب، مولانا عبد الحق صاحب سابق قاضی امارت شرعیہ بسوریا، ڈاکٹر شعیب عالم نائب ناظم مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی، جناب راجن کمار تھانہ انچارج ساٹھی، معہد السلام کے ذمہ دار جناب مولانا جنید عالم ندوی کے علاوہ اس مقام پر قائم تمام تعلیمی اداروں کے اساتذہ، کارکنان و طلبہ اور علاقہ کے ہر مذہب و طبقہ سے متعلق معززین کی بڑی تعداد موجود رہی ۔
Comments are closed.