وندے ماترم کی لازمیت غیر دستوری اور سیکولر اقدار کے منافی، بہار کی ملی تنظیموں نے حکومت سے اس کی لازمیت کو ختم کرنے کا کیا مطالبہ

 

پٹنہ (پریس ریلیز) وطن عزیز ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے ،ملک سے محبت اور اس کی محبوبیت کو دل میں بسائے رکھنا اور ہر قدم پر اس کی خوشحالی و ترقی کی فکر کرنا ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے ،یہاں ہر مذہب کے ماننے والے کو اپنے مذہبی اصول و عقائد پر زندگی گذارنے اور اس پر عمل کرنے کا دستوری حق حاصل ہے ،اس لئے حکومت کا کوئی ایسا فیصلہ جس سے مذہبی آزادی مجروح ہوتی ہو اور آئینی اقدار پر زد پڑتی ہو یقیناایسا فیصلہ غیر دستوری ہے ،اس وقت حکومت بہار کی طرف سے اسکولس اور تقریبات میں قومی گیت سے پہلے ’’وندے ماترم‘‘ کے اشعار کے پڑھنے کو لازم قرار دینا غیر دستوری اور سیکولر اقدار کے منافی ہے ،یہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بھی خلاف اور مسلمانوں کے عقیدۂ توحید سے براہ راست متصادم ہے ،چونکہ اس کے اکثر اشعارشرکیہ کلمات پر مشتمل ہیں ،اس لئے غور کرنا چاہئے کہ ہم کس طرح اس لازمیت کو ختم کر ا کے عقیدۂ توحید کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ہمارا ملک ہمارے لئے محبوب کا درجہ رکھتا ہے ،معبود تو صرف اللہ ہے ۔اسی طرح اسسٹینٹ پروفیسر کی بحالی میں اردو کو نظر انداز کرنے کا معاملہ بھی کافی اہم ہے کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے ،ہم سب کو اس بارے میں بھی غور وفکر کر کے مناسب مطالبہ حکومت تک پہونچانا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار ،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے آج امارت شرعیہ کے کانفرنس ہال میں ملی تنظیموں کے ذمہ داران ،خانقاہوں کے سجادگان ،علماء و دانشوران کی مٹینگ میں کیا ،اس موقع پر اپنی تمہیدی گفتگو میں ناظم امارت شرعیہ بہا ر،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب نے مذکورہ دونوں معاملے کی اہمیت و نزاکت پر مختصر اور جامع گفتگو کی اور کہا کہ ایمان مومن کے لئے سب سے قیمتی سرمایہ ہے ،’’وندے ماترم‘‘ کے اشعار کے پڑھنے کو لازمیت کے درجہ سے الگ کیا گیا تھا؛لیکن اب جب لازمیت کا سرکولر جاری ہوگیا تو حضرت امیر شریعت مدظلہ نے اس سلسلہ میں اپنی فکر مندی کا ثبوت دیتے ہوئے مجھے ہدایت دی کہ میں آپ حضرات کو دونوں موضوع پر غور وخوض کے لئے جمع ہونے کی زحمت دوں ،میں مشکور ہوں کہ آپ حضرات تشریف لائے اور مسئلے کی اہمیت کو سمجھا،قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے کہا کہ اس کے خلاف قانونی جد جہد کرنی چاہیے ،مٹینگ میں شریک تنظیموں کے ذمہ داران ،خانقاہوں کے سربراہان اور اصحاب فکر و دانش نے بھی حکومت کی طرف سے جاری ’’وندے ماترم‘‘کی لازمیت پر تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں مناسب آرا پیش کی گئیں۔جن میں کہا گیا کہ فوری طور پر ایک میمورنڈم مرتب کر کے محترم وزیر اعلیٰ بہار سے وفد کی شکل میں ملاقات کی جائے اور ان سے اس کی لازمیت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے ،اس سلسلہ میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی جائے جو آئندہ کے لئے مناسب لائحہ عمل طے کرے ۔اسی طرح پروفیسر کی بحالی میں اردو کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے وہ بھی نہایت ہی اہم معاملہ ہے ،بہتر ہوگا کہ اس موضوع سے متعلق بھی ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے جو مختلف پہلوؤں سے اس مسئلہ کا جائزہ لے کر ایک جامع میمورنڈم مرتب کر ے اور اس میمورنڈم کو بھی علیحدہ طور پر محترم وزیر اعلیٰ بہار اور وزیر تعلیم بہار و دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام کو پیش کیا جائے ،اس کارروائی کے بعد جو نتیجے سامنے آئیں گے ان کی روشنی میں آئندہ مزید لائحہ عمل طے کے جائیں گے ،آج کی اس مٹینگ میں جناب مولانا رضوان احمد اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار ،جناب مولانا محمد ناظم صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء بہار( میم )جناب انوارالہدیٰ صاحب ناظم نشر و اشاعت جمعیۃ علما،(الف) مولانا محمد ابوالکلام شمسی صاحب صدرآل انڈیا مومن کانفرنس بہار،جناب ڈاکٹر توقیر عالم صاحب سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق یونیورسیٹی،جناب پروفیسر ابوذر کمال الدین صاحب مظفر پور،جناب ڈاکٹر انور کمال الدین صاحب صدر مسلم مجلس مشاورت پٹنہ ،مولانا شہاب الدین ازہری ندوی صاحب قائم مقام مہتمم مدرسہ رحمانیہ سوپول ،جناب پروفیسر صفدر امام قادری صاحب صدر شعبہ اردو کالج آف کامرس آرٹس اینڈ سائنس پٹنہ،جناب عبدالرحمن صاحب سابق ڈی آئی جی ،جناب انجینئر فہد رحمانی صاحب سی او رحمانی تھرٹی،جناب عبدالوہاب صاحب سابق اے ڈی ایم ،جناب مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب صدر قاضی شریعت ،جناب اسلم جاوداں صاحب اردو کونسل پٹنہ،جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ ،جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحبنائب ناظم امارت شرعیہ ،جناب مولانا سہیل اختر قاسمی صاحب نائب قاضی شریعت امارت شرعیہ ،جناب مولانا عبدالباسط ندوی صاحب سکریٹری المعہد العالی امارت شرعیہ ،مولانا گوہر امام قاسمی صاحب رکن شوری ٰ امارت شرعیہ ،جناب مولانااسعد قاسمی صاحب امام جامع مسجد پٹنہ جنکشن ،جناب محمد اشتیاق صاحب ،جناب ایس ایم شرف صاحب،ضیا ء القمر صاحب ،تحسن الحق رضوی صاحب ،جناب نیلم عباس چودھری صاحب ،جناب سمع الحق صاحب ،جناب ابو رضوان صاحب کے علاوہ کئی اہم شخصیات نے شرکت کی اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔مٹینگ کا آغاز جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،نظامت کی ذمہ داری ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب نے نبھائی ،اخیر میں جناب عبدالوہاب انصاری صاحب کے حج کے جانے پر مبارکباد دی گئی اور حضرت امیر شریعت کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔

Comments are closed.