”وندے ماترم” کیا مسلمانوں کے لئے قابل قبول ہوسکتا ہے ؟؟؟
رفیع الدین حنیف قاسمی
استاذ حدیث وادب ادارہ کہف الایمان ٹرسٹ ، بورابنڈہ ، حیدرآباد
اس وقت ملک میں جو پارٹی برسر اقتدار ہے ؛ اس نے اپنی بنیاد ہی مسلمانوں سے اختلاف پر رکھی ہوئی ہے ، وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر، مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو اکسا کر اپنی سیاسی بساط کو مضبوط کرتی جار ہی ہے، بلکہ ہر وہ کام کرتی ہے جس سے ملک کی جمہوریت کا خاتمہ ہو، جہاں ہندو مسلمان یکجہتی ، فرقہ وارنہ ہم آہنگی اوربقائے باہم نہ رہے ، ملک کی واقعہ ترقی وفلاج وبہبود سے اس کو کوئی سروکار نہیں، ہمارا ملک ہمیشہ ہی سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی آمجگاہ رہا ہے ، یہاں ہمہ جہت تذہیب وثقافت کو کبھی بھی ختم کیا جاسکا نہ کیا، جاسکتا ہے ، نہ کیا جاسکے گا، یہاں وقتیہ طور پر ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا کر ووٹ تو بٹوری جاسکتے ہیں، حکومت پر تو براجمان ہویا جاسکتا ہے ، تخت نشیں تو ہویا جاسکتا ہے ، لیکن مسلمانوں کو نظر انداز کرنا ، مسلمانوں کو ہراساں کرنا ، مسلمانوں کو جو ملک کی بڑی اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں، انہیں حاشیہ پر رکھ دینا اور ہر دم اس بات کے لئے کوشاں اورسرگرداں ہونا کی کسی طرح مسلمانوں کو سراسیمہ کر کے ملک کے باسیوں کومیں تقرفہ بازی، عدم یکجہتی اور فرقہ واریت کا ماحول پیدا کر کے ملک میں دائمی اور ابدی طور پر حکومت سازی کے خواب دیکھے جاسکیں۔
اس وقت جو بحث زبان زد عام وخاص ہے ، وہ ”وندے ماترم ” کا گیت ہے ،بنگال جیتنے کے بعد ہندؤوں کو خوش کرنے کے لئے حکومت نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ”وندے ماترم” کو ”راشٹرگان” کا درجہ دیا جائے ، جس میں کابینہ نے یہ بھی منظور دی ہے کہ ”جن گن من ” قبل ”راشٹرگان””یعنی وندے ماترم” ہوگا، اس پر اعتراض کرنے یا اس میں رخنہ اندازی کرنے پر جرم وسزاکے الترام کی بھی بات کہی گئی ۔
یہ فیصلہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے بعد وزیر اعظم کی صدارت میں کابینہ کی پہلی میٹنگ میں لیا گیا، اس اجلاس میں ”پریوینشن آف انسلٹس ٹونیشنل آنر ایکٹ ١٩٧١” میں ترمیم کی تجویز بھی پیش کی گئی ۔جس میں مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور دیگر سرکاری اداروں کو ہدایات دی کہ وہ ”وندے ماترم” کے تمام چھ بند جو تین منٹ سے کچھ زیادہ طویل ہوتے ہیں، ان کو سرکاری تقریبات میں گایا بجایا جانا چاہئے۔
لیکن مسلمانوں پر ”وندے ماترم ”کا لزوم یہ ہندوستانی آئین ودستور اور دستور سے حاصل شدہ آزادی کے خلاف ہے ،حکومت یہ فیصلہ غیر جمہوری بھی ہے اور غیر دستوری بھی، اور ہندوستان کے سیکولر اقدار کے خلاف بھی، کیوںکہ ”وندے ماترم” کے اس گیت میں ہندؤوں کے دیوی دیتاؤوں کا ذکر اور ان کی مدح سرائی ہے ، ان کی تعظیم وتکریم اور ان کی عبادت کی بات کہی گئی ہے ، اس سے ملک کی ایک بڑی اقلیت کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں، کسی مخصوص طبقہ کے مذہبی عقیدہ کو ملک سے محبت کا نام دے کر اس کو تمام ملک کے باشندوں پر مسلط نہیں کیاجاسکتا اور نہ ان ”کلمات شرکیہ وکفریہ ” کے کہنے کو ملک سے محبت کا پیمانہ قرار دیا جاسکتا ہے ، کیوں یہ مختلف دیوی دیوؤتاؤں کی پرستش اور عبادت اور تعظیم یہ درحقیقت مسلمانوں کے عقیدہ توحید کے خلاف ہے ۔
وندے ماترم اور مسلمانوں کا موقف
یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے ، لیکن بی جے پی حکومت اس کے ذریعہ ہندو مسلم سیاست کو مزید ہوا دینا چاہتی ہے ، اس قبل بھی ”وندے ماترم” کے تعلیمی اداروں میں لزوم کی بات آئی تو اس وقت کے مسلم پرسنل بورڈ کے صدر مولانا ابو الحسن ندوی نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس وقت کی یوپی اے حکومت کو اپنے فیصلہ سے دستبردار ہونا پڑا تھا، اس وقت مولانا کا موقف تھا کہ مسلمان اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں، لیکن وہ کسی بھی ایسے ترانہ یا عمل کو قبول نہیں کرتے جو ان کے عقیدۂ توحید کے مغایر ہو، اس لئے جب تک کسی بھی معاملہ میں قانون سازی ، یا فیصلہ سے پہلے ملک کے ہر باشندے کے مذہبی جذبات وعقائد کو پیش نظر رکھ کر اس قانون کو ترتیب دیا جائے اس کی وجہ سے ملک میں بقائے باہمی ، یکجہتی ، محبت اور محبت وبھائی چارہ باقی رہ سکتا ہے ، بلکہ ملک کی سالمیت جبر وظلم اور مذہبی بالادستی سے نہیں بلکہ دستور وآئین کے باہمی احترام اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے ممکن ہے ۔
اس وقت آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے بھی اپنی پریس ریلیز میں مرکزی کابینہ کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کردیا ہے جس کے تحت” وندے ماترم”کو قومی ترانے ” جن گن من” کے مساوی درجہ دینے ، اس کے تمام چھ بندوں کو لازمی قرار دینے اور تمام سرکاری وتعلیمی اداروں کے پروگراموں میں ”جن گن من” سے پہلے اس کے پڑھنے کو لازم قرار دیا گیا ہے ، بورڈ نے اسے دستور ہندکی بنیادی روح، مذہبی آزادی، سیکولر ادار اور کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے بالکل مغائر قرار دیتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے وہ فوری طور پر اپنا یہ فیصلہ واپس لے، مزید یہ بھی کہا گیا کہ ایک سیکولر ملک میں کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام ملک کے شہریوں پر جبرا مسلط کرنا یہ درست نہیں، وندے ماترم کے بندوں میں درگا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی مدح سرائی اور عبادت کا تصور موجود ہے، جو مسلمانوں کے بنیادی عقیدہ توحید سے براہ راست متصادم ہے، جب کہ اسلام ایک اکیلے اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے ۔
یہ بھی واضح رہے کہ ”وندے ماترم” کے حوالے سے تاریخی ریکارڈ بالکل واضح ہے کہ ٢٦/اکتوبر ١٩٣٧ کو رویندر ناٹھ ٹیکور نے پنڈٹ جواہر لال نہرو کو ایک خط میں مشورہ دیا تھاکہ ”وندے ماترم” کے ابتدائی دو بندوں ”قومی گیت” کے طور پر قبول کیا جائے، کیوں کہ بقیہ اشعار توحید پرست مذاہب کے عقائد سے متصادم ہیں، یہی بنیاد تھی جس پر کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ٢٩/اکتوبر ١٩٣٧ء کو فیصلہ کیاکہ صرف دو بندوں کو ”قومی گیت” کے طور پر منظور کیا جائے ، اس لئے آج ٹیگور کے نام کے غلط استعمال کے ذریعے اس ”گیت” کو جبرا مسلط کرنا یااس کے مکمل گانے کی بات کرنا یہ صرف تاریخی حقائق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہی نہیں ؛ بلکہ ”گروجی ٹیگور” کی تحقیر بھی ہے۔
وندے ماترم کے حوالہ سے بحث در اصل اس کے مذہبی عقائد کے احترام اور آئینی آزادی کے دائرے میں ہونا چاہئے کہ نہ کہ سیاسی الزام تراشیوں اور سیاسی مفادات کے تناظر میں، بلکہ اس وقت اس سے زیادہ ضرورت اس بات کہ ہے کہ ملک کے ان مسائل کو زیر بحث لایا جائے ، جو ملک کے عمومی مفاد میں ہوں، جس سے ملک فلاح وبہبود اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے، مذہبی معاملات کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا بالکل یہ قومی اور ملکی مفاد میں نہیں ہے، ملک کی اقتصادی اور معاشی صورتحال نہایت ابتر ہوتی جارہی ہے ، سونے کے دام آسمان کو چھورہے ، ملک کا زر مبادلہ بالکل گھٹتا جارہا ہے ، ڈالر کے مقابلے روپیئے میں گراوٹ کا رحجان یہ ہے کہ روپیہ ڈالر کے مقابلہ سو کے قریب پہنچ چکا ہے ،اگر ملک کی یہی صورتحال رہتی ہے تو ایک وقت اسی سیاسی مفادات کے حصول کے ہوڑ کے چکر میں ملک ”اقتصادی بحران” کا بھی شکار ہوسکتا ہے ، ان مسائل پر سے توجہ اور دھیان ہٹانے کے کی کوشش کی جاتی ہے ، ملک کی ترقی والے مسائل یہ محنت طلب ہوتے ہیں، اس میں پالیسیاں بنانی پڑتی ہے، لیکن فرقہ وارنہ تقرقہ بازی کو فروغ دے کر، صرف زبانی جمع وخرچ کے ذریعہ بآسانی تخت حکومت تک رسائی ہوسکتی ہے ، اس لئے اسی کو ہمارے زعمائے قوم نے اپنا وطیرہ اور رات ودن کا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے ، جو جس قدر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلے گا، جو جس قدر مسلمانوں کے خلاف مذہبی بات کہے گا اس کا نشان منزل حکومت کے عہدہ پر پہنچنا آسان ہوتا جارہاہے ،بلکہ اپوزیشن کے سیکولر اقدار کے حامل زعما ء بھی وقت اپنے مالی کرپشن کی پکڑ سے بچنے کے لئے بی جے پی پارٹی جین کرلیتے ہیں اور جتنا کوئی زہر مسلمانوں کے خلاف اور ہندو عقیدے کے موافق اگلتا ہے ، اس کو بڑے عہدے پر پہنچنے کی راہ آسان ہوجاتی ہے ، دیکھا دیکھی ہر شخص یہی راہ اپنانے میں لگا ہوا ہے۔
بنگال انتخابات کی جیت کے تناظر میں ”وندے ماترم” کے مسئلہ کو اٹھا کر بنگال کی ہندو کمیونٹی کو مسلمانوں کے خلاف برانگیختہ کرنا اور ہندوؤں کو یکجا کر کے ان کے ووٹ حاصل کرنا اور اپنی سیاسی روٹی سینکنا ہے ۔
وندے ماترم، جنگ آزادی اورحب الوطنی
اس سے قبل بھی ماہ دسمبر/ ٢٠٢٥کے اوائل میں اس گیت پر ١٥٠ سال مکمل ہونے پر حکومت نے اس گیت کو عوامی سطح پر مقبول کرانے کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لئے پارلیمنٹ میں ٨/ دسمبر کو اس گیت کے متعلق دس گھنٹے کا سیاسی مباحثہ ہوا تھا، اس کے دوران حکومتی ادارے اور نیشنل میڈیا یہ باور کرانے کی ناتمام کوشش کی کہ ”وندے ماترم ” یہ گیت "حب الوطنی” کا ائینہ دار اور جنگ آزادی کی نشانی ہے ۔
وندے ماترم کے حامیوں کا زور ہمیشہ اس بات پر رہا ہے ہے کہ وہ لوگ اس گیت کو جنگ آزادی کے انقلابیوں کا گیت کہتے ہیں، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا جنگ آزادی صرف ہندوسماج کے لوگوں نے لڑی تھی، دیگر مذاہب کے لوگ اس میں شامل نہیں تھے، یہ آزادی کیا خالص مذہبی بنیادوں پر لڑی گئی تھی، بلکہ جنگ آزادی کی ابتداء اس گیت کے لکھنے سے قبل ہی ہوچکی تھی، یہ گیت ١٨٨٥ء میں لکھاگیا، جب کہ جنگ آزادی کی پہلی لڑائی اس گیت کے وجود میں میں آنے سے اٹھارہ سال پہلی لڑی گئی، اس وقت ا س گیت کے گایک ”بنکم چندر” اور ”آنند مٹھ” ناول کے مصنف پر انیس سال کے تھے اور کلکتہ کے انگریزی کالج میں پڑھائی کررہے تھے۔
پہلی جنگ آزادی کے قائدین میں جہاں مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر، جنر ل بخت خان اور مولانا فضل حق خیر آباد ی جیسے افراد تھے ، تو ہندو سماج کی جانب سے رانی لکشمی بائی ، تانتیا ٹوپے اور منگل پانڈے جیسے افراد بھی شریک جنگ تھے اس وقت ”وندے ماترم” کا کوئی نام ونشان بھی نہیں تھا، بعد کے زمانہ میں اگر کچھ ہندومجاہدین جنگ آزادی ”وندے ماترم” کا نعرہ لگاتھے تو مسلمان ”انقلاب زندہ باد ” کا نعرہ بلند کرتے تھے، ایک طرف بھگت سنگ ، چندر شیکھر ، سکھ دیواور سبھاش چندر بوس جیسے انقلابی سورما تھے تو دوسری طرف مولانا کفایت علی کافی، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی، مولانا وہاج الدین ، خان بہادر خان اور مولانا فضل حق خیرآبادی جیسے مجاہدین آزای بھی وطن پر اپنی جان نثار کررہے ، وہ الفاظ کے غازی نہیں وہ کردار کے غازی تھے، اس لئے صرف حب الوطنی کے نام پر مسلمانو ںپر مذہبی نعرہ تھوپنا کسی بھی طرح جائز نہیں، محبت وطن ہونے کے ثبوت مانگنے والوں کو آج بھی کالا پانی جیل کے دروازے پر علامہ فضل حق خیر آبادی کی قبر ہماری حب الوطنی کو گواہ بنی ہوئی ہے، مسلمان بھی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، وہ اپنے الفاظ اور اپنی تہذیب وثقافت کے مطابق اور ہندو بھی اپنی ثقافت اورتہذیب کے پس منظرمیں، جذبہ دونوں کا ایک ہی ہے، اپنے وطن سے محبت کا اظہار، اپنے وطن کی حفاظت، اپنے وطن کی فلاح وبہبود ، حب الوطنی کے معاملہ میں مسلمان بھی کسی ہندو سے پیچھے رہا ہے اور نہ رہے گا، البتہ اگر زور اس بات پر دیا جائے کہ حب الوطنی کا اظہار صرف انہی لفظوں میں قابل قبول ہے جو ہندو آستھا کے مطابق ہو تو یہ سراسر زیادتی اور ظلم ہے ۔۔
مسلمانوں کے لئے اس سے بڑھ کر محب وطن ہونے کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اسی وطن کی مٹی سے پیدا ہوتے ہیں، اسی وطن کی مٹی میں مل جاتے ہیں، اس وطن کے مٹی سے تیمم کرتے ہیں، رب اور خداوند قدوس کے عبادت کے لئے اس وطن کی مٹی پر تو سجدہ ریز ہوتے ہیں، گرچہ مسلمان اللہ کے حکم پر سجدہ کرتے ہیں، لیکن سجدہ تو وطن کی مٹی ہی پر کرتے ہیں۔
”وندے ماترم ”کی حقیقت
وندے ماترم بنگلہ زبان میں لکھا ہوا ترانہ ہے، اسے بھارت کا قومی گیت بھی تسلیم کیا گیا ہے، یہ ترانہ بنگلہ زبان کے شاعر” بنکِم چندر چٹوپادھیائے ”نے لکھا ہے۔ یہ ترانہ پہلی مرتبہ سات نومبر 1875 کو” بنگ درشن نامی” ماہانہ رسالے میں شائع ہوا، اس رسالے کے بانی اور ایڈیٹر بنکم "چندر” ہی تھے۔ بنکم چندر نے سن 1882 میں” آنند مٹھ نامی ”ایک ناول تحریر کیا تھا، اس میں بھی مذکورہ ترانہ شامل تھا۔، یہ ناول بنیادی طور پر مسلم دشمنی پر مبنی ہے،اسی ناول کے ایک حصے میں کچھ افراد اپنی” دیوی درگا” کی مورتی کے آگے یہ ترانہ پڑھتے ہیں۔
اشاعت کے اکیس سال بعد کلکتہ میں کانگریس پارٹی کا سیاسی کنونشن منعقد ہوا،اس کنونشن میں پہلی مرتبہ” روندر ناتھ ٹیگور ”نے اس ترانے کو گایا، جس کے بعد یہ ترانہ بنگال میں اور پھر ملک بھر میں پھیل گیا،کانگریس نے اس ترانے کو سیاسی طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا، جب اس گیت کو قومیت کی علامت بنا کر پیش کیا جانے لگا تو روندر ناتھ ٹیگور نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے سن 1937 میں سبھاش چندر بوس کو ایک خط لکھا کہ
:”وندے ماترم کا بنیادی عقیدہ دیوی درگا کی پرستش ہے اور یہ اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی قسم کی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بیشک بنکم نے درگا کو متحدہ بنگال کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا ہے، مگر کسی مسلم سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ حب الوطنی کے نام پر دس ہاتھوں والی درگا کی عبادت کرے”۔ (بحوالہ: روندر ناتھ کے منتخبہ خطوط، مطبوعہ کیمبریج یونیورسٹی)
یعنی اس گیت کو پڑھنے کے باوجود ”روندر ناتھ ٹیگور” بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ اس گیت کی بنیاد ہندو دھرم کے عقیدے پر رکھی ہوئی ہے، اس لیے قومیت اور وطنیت کی بنیاد پر کسی مسلمان کا اسے پڑھنا درست نہیں ہوگا؛ اس لیے انہوں نے اس پر نقطہ نظر واضح کر دیا کہ مسلمانوں کو اسے پڑھنے پر مجبور نہ کیا جائے،آزادی کے بعد دستور ساز کمیٹی میں ملک کے قومی ترانے کو لیکر مباحثہ ہوا تو کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ وندے ماترم کو بھارت کا قومی ترانہ مقرر کیا جائے اور کچھ لوگوں کا رجحان "جن من گن” کی جانب تھا۔،بحث ومباحثہ کے بعد جن من گن کو بھارت کا قومی ترانہ تسلیم کر لیا گیا؛ مگر چونکہ وندے ماترم کے حامیوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی اور یہ گیت عرصہ دراز سے ہندو عوام میں مستعمل تھا؛ اس لیے اس کے ابتدائی اشعار کو قومی گیت کا درجہ دے دیا گیا۔
وندے ماترم کا مفہوم کیا ہے؟
ان دنوں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے وندے ماترم ہی حب الوطنی کا پہلا اور آخری سرٹیفکیٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ پہلے ہم اچھی طرح وندے ماترم کے مفہوم ومطلب کو جان لیں۔ وندے ماترم بنگلہ زبان کا ترانہ ہے، ہم اس کے چند اشعار کا اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں:
١۔اے ماں! میں تیری عبادت کرتا ہوں۔ جو اچھے پانی، پھلوں اور فصلوں سے بھرپور ہے۔ جس کی ہوا جنوبی پہاڑوں سے آنے والی ٹھنڈی اور بھینی بھینی خوشبو کی طرح ہے۔ جس کی دھرتی ہری بھری فصلوں سے لہلہا رہی ہے۔ اے ماں! میں تیری عبادت کرتا ہوں۔
٢۔وہ جس کی رات کو چاند کی روشنی زینت دیتی ہے۔ وہ جس کی زمین کھلے ہوئے پھولوں سے، سجے ہوئے درختوں سے مزین ہے۔ ہمیشہ ہنسنے والی، میٹھی زبان بولنے والی، راحت دینے والی، برکت دینے والی ماں! میں تیری عبادت کرتا ہوں۔اے میری ماں!
٣۔ تیس کروڑ لوگوں کی پرجوش آوازیں، ساٹھ کروڑ بازو میں سمیٹنے والی تلواریں، کیا اتنی طاقت کے بعد بھی تو کمزور ہے، اے میری ماں!
٤۔ تو ہی میرے بازو کی قوت ہے، میں تیرے قدم چومتا ہوں۔اے میری ماں۔
٥۔تیری ہی محبوب مورتی مندر میں ہے ، تو ہی درگا، دس مسلح ہاتھوں والی، تو ہی کملا ہے، تو ہی کنول کے پھولوں کی بہار ہے ، تو ہی پانی ہے، تو ہی علم دینے والی ہے۔میں تیرا غلام ہوں ، غلام کا غلام ہوں۔
٦۔اچھے پانی اچھے پھلوں والی میری ماں ، میں تیرا بندہ ہوں اے میری ماں۔
اس نظم میں ”وندنا” کا لفظ بار بار استعمال ہوتا ہے ، جس کے معنی آتے ہیں: پوجا کرنا، غایت درجہ عقیدت کا اظہار کرنا، پرارتھنا کرنا، دعا کرنا، پرنام کرنا، سلام کرنا۔لیکن یہ لفظ زیادہ تردیوی دیوتاؤں کی پرستش کے لئے استعمال ہتا ہے ، مثلا یہ لوگ کہتے ہیں شیو وندنا، درگا وندنا، سرسوتی وندنا ، یعنی بھگوان کی پوچا، پرارتھنا، یا بھگوان کی غیر معمولی تعریف کرنا، اس کے علاوہ ہندو سماج میں ”بھارت” کو ایک ”دیوی” کا درجہ دیا جاتا ہے ، وید،والمبکی کی رامائن میں اس کے حوالے موجود ہیں، جن میں بھارت کی زمین کو ”دیوی” اور ”پالہنہار” کہا گیا ہے ، اس کے لئے علامتی مورتی بھی استعمال ہوتی ہے،ملک کے مختلف حصوں میں ”بھارت ماتا”کے مندر بھی بنے ہوئے ہیں۔ جنگ آزادی کے عظیم رہنما شری موہن داس کرمچند گاندھی نے سن 1936 میں بنارس میں بھارت ماتا مندر کا افتتاح کیا تھا، اس مندر کو شو پرساد گپتا نے بنوایا تھا۔ سن 1973 میں بھارت ماتا کا مندر ہری دوار میں بنایا گیا، جنوری 2017 میں اجین میں بھارت ماتا مندر کا افتتاح کیا گیا اور سال 2024 میں بھارت کے وزیر اعظم نے بھارت ماتا کے احترام میں خصوصی طور پر سو روپے کا سکہ جاری کیا جس پر بھارت ماتا کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
مذکورہ تفصیل سے واضح ہے کہ بھارت جو ہمارا وطن ہے وہ ہمارے ہم وطن ہندووں کے لیے صرف وطن نہیں بلکہ دیوی کے درجے میں ہے، اس لیے اظہار محبت کے طور پر ان کا بھارت کو دیوی کہنا،اس کی پوجا کرنا، اس کی پالہناری کے نعرے لگانا ان کے دھرم کے مطابق ہے، لیکن ایسا کرنا کسی بھی طور پر ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کیوں کہ ہمارے یہاں خداوند قدوس کے علاوہ کسی کو خدائی میں شریک ماننا جائز نہیں ہے۔
Comments are closed.