پرائمری سے پی جی تک اردو زبان کا قتل عام؛ مسائل حل کرنے صحافی مدثر احمد کا مطالبہ
شیموگہ(پریس ریلیز)اردو زبان کے زوال میں حکومتوں کی بے توجہی کے ساتھ ساتھ اردو بولنے والے خود بھی اس زبان کے قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔ پرائمری سے لے کر پوسٹ گریجویٹ سطح تک اردو زبان کو نظر انداز کرنے اور اس کی تدریس سے کنارہ کشی کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہو چکی ہے، اس بات کااظہار صحافی مدثر احمد شیموگہ نے کیاہے ، انہوںنے اس سلسلے میں اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اردو اسکولوں میں داخلوں کی شدید کمی کے علاوہ ایڈیڈ اور پرائیویٹ اسکولوں میں بھی جہاں مسلمان طلباء کی بھاری اکثریت ہے، اردو زبان کو عملاً ختم کیا جا رہا ہے۔ بہت سے ایسے پرائیویٹ اسکول جو اردو والوں نے خود قائم کیے ہیں، ان کے مینجمنٹ اردو پڑھانے سے صاف انکار کر رہے ہیں اور اس کی جگہ ہندی، کنڑا اور انگریزی زبانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہ مسئلہ صرف پرائمری اور ہائی اسکول تک محدود نہیں ہے بلکہ پری یونیورسٹی، ڈگری اور پی جی سطح پر بھی اسی طرح کی بدتر صورتحال موجود ہے۔ ڈگری کورسز میں بی اے اردو میجر اور آپشنل مضمون لینے والے طلباء کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ پی جی میں ایم اے اردو کرنے والوں کی تعداد تو مزید حوصلہ شکن سطح پر پہنچ چکی ہے۔والدین اور اسکول انتظامیہ میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ اردو پڑھنے سے روزگار کے مواقع نہیں ملتے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ڈگری اکیلے نوکری کی ضمانت نہیں بنتی جب تک اس کے ساتھ کوئی پروفیشنل یا سکِل بیسڈ کورس نہ کیا جائے۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں جہاں مسلمان بچوں کی اکثریت ہے، وہاں بھی اردو زبان کی تدریس کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ نتیجتاً نئی نسل اردو زبان سے تیزی سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔ فکر مند حلقوں کا کہنا ہے کہ انجمنوں اور مذہبی تنظیموں کو فوری طور پر اسکولوں کا دورہ کر کے مینجمنٹ سے گزارش کرنی چاہیے کہ وہ طلباء کو اردو پڑھانے کے لیے آمادہ کریں۔ غیر مسلم تعلیمی اداروں میں جہاں مسلمان بچوں کی تعداد زیادہ ہے، وہاں اردو بطور زبان پڑھانے اور اردو ٹیچر کی تقرری کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ پی یو کالجوں میں اردو کو لازمی مضمون بنانے کی ضرورت ہے۔ کرناٹکا اردو اکادمی کو ریاستی محکمہ تعلیم کے ساتھ رابطہ کر کے اردو زبان کی اہمیت اجاگر کرنی چاہیے اور اسے بطور زبان پڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہییں۔ جن سرکاری اور نجی کالجوں میں اردو پڑھانے کی خواہش موجود ہے، وہاں کرناٹکا اردو اکادمی اور اقلیتی محکمہ کے اشتراک سے اساتذہ کی تقرری کی جائے اور ان کی تنخواہ کا بندوبست کیا جائے۔ ساتھ ہی بی اے اور ایم اے اردو کرنے والے طلباء کے لیے فیس میں ریلیف، اسکالرشپ اور عریو جیسی اسکیمات کو فعال کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔اردو زبان نہ صرف مسلمانوں کی مادر زبان ہے بلکہ بھارت کی مشترکہ تہذیب اور ثقافت کا اہم حصہ بھی ہے۔ اگر اسے بچانے کے لیے ابھی سے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں اپنی زبان سے مکمل طور پر محروم ہو جائیں گی۔ اس لیے علماء کرام، انجمنوں، تعلیمی اداروں اور والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مل کر اردو زبان کے بقا کی اس جنگ میں حصہ لیں۔
Comments are closed.