جدید طرزِ زندگی اورصحت و سکون کا بڑھتا ہوا خطرہ
محمد عارف انصاری
رابطہ:9572908382
تمہید:
انسان نے سائنسی ترقی اور آرام دہ زندگی کے وسائل حاصل کر لیے ہیں، مگر اس کے باوجود دل کے امراض، ذیابیطس، ذہنی دباؤ اور قبل از وقت بڑھاپے جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج انسان صرف بیماریوں سے نہیں بلکہ بے حرکتی، ناقص نیند، غیر صحت مند خوراک اور غیر متوازن طرزِ زندگی کے باعث صحت کی پیچیدگیوں میں مبتلا ہو رہا ہے۔ طبی تحقیقات اور معالجین کے تجربات واضح کرتے ہیں کہ بعض خاموش عادتیں رفتہ رفتہ جسم و دماغ کو کمزور کر دیتی ہیں۔ بے حرکتی، تنہائی، ناقص نیند اور مستقل فکر صحت کے خاموش قاتل ہیں۔ یہ مضمون انہی عوامل کا طبی و سماجی تناظر میں تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے۔
طرزِ زندگی اصل مسئلہ:
طبی دنیا میں طویل عرصے تک بیماریوں کو زیادہ تر جینیاتی عوامل یا بیرونی اسباب سے جوڑ کر دیکھا جاتا رہا، مگر جدید تحقیقات اب تصدیق کر رہی ہیں کہ انسان کی روزمرہ عادتیں اس کی صحت اور عمر پر غیر معمولی اثر ڈالتی ہیں۔ مسلسل بیٹھے رہنا، ناکافی نیند، غیر متوازن خوراک، ذہنی دباؤ اور سماجی تنہائی جیسے عوامل خاموشی سے انسانی جسم کو اندر سے کمزور کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر صحت مند دکھائی دینے والے بہت سے لوگ اچانک فالج، دل کے دورے یا ذہنی زوال کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض لوگ محدود وسائل کے باوجود متحرک اور متوازن زندگی کی وجہ سے نسبتاً بہتر صحت کے ساتھ عمر گزار لیتے ہیں۔
بے حرکتی: جدید زندگی کا خاموش قاتل:
جدید دفتری اور ڈیجیٹل زندگی نے انسان کی بے حرکتی میں اضافہ کر دیا ہے۔ کمپیوٹر، موبائل فون اور ٹیلی ویژن کے استعمال نے جسمانی سرگرمی محدود کر دی ہے۔ عالمی ادارہ ¿ صحت (WHO) کے مطابق غیر متحرک طرزِ زندگی دل کے امراض، ذیابیطس، موٹاپے اور صحت کے دیگر مسائل بڑھاتا ہے۔ مسلسل بیٹھنے سے خون کی گردش متاثر ہوتی ہے، پٹھے کمزور پڑتے ہیں اور جسمانی بڑھاپا تیزی سے ظاہر ہونے لگتا ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف صبح کی ورزش پورے دن کی بے حرکتی کے نقصانات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی، اسی لیے ماہرین وقفے وقفے سے حرکت اور چہل قدمی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔
نیند—جسم اور دماغ کی خاموش مرمت:
نیند صرف آرام نہیں بلکہ انسانی جسم اور دماغ کی اندرونی مرمت کا بنیادی عمل ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات اور ’’علمُ النوم‘‘(Sleep Science)کے مطابق گہری نیند کے دوران دماغ زہریلے مادوں کو خارج کرتا، یادداشت کو منظم کرتا اور جسمانی خلیات کی بحالی کو تیز کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کم یا ٹکڑوں میں نیند لینے والے افراد ذہنی دباؤ، چڑچڑے پن، توجہ کی کمی، یادداشت کی کمزوری اور الزائمر جیسے اعصابی امراض کے خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور بے ترتیب معمولات نے انسانی نظامِ نیند کو متاثر کیا ہے۔لہٰذاصحت مند زندگی کے لیے معیاری نیند ناگزیر ہے۔
تنہائی—ایک نفسیاتی اور جسمانی بیماری:
انسان فطری طور پر ایک سماجی مخلوق ہے، مگر جدیدطرز زندگی نے اسے تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ خاندانوں کا بکھراؤ، مصروفیت، ڈیجیٹل روابط اور حقیقی تعلقات کی کمی نفسیاتی دباؤ بڑھا رہی ہے۔ مسلسل تنہائی جسم میں دباؤ پیدا کرنے والے ہارمون (Cortisol)بڑھاتی ہے، جس سے مدافعتی نظام کمزور اور دل و دماغ متاثر ہوتے ہیں۔ مغربی تحقیقات میں تنہائی کی وبا (Loneliness Epidemic)دل کی بیماریوں اور صحت کے دیگر مسائل پیدا کرتی ہے۔ بڑھاپے میں شریکِ حیات یا قریبی دوستوں کی جدائی تنہائی میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ سماجی روابط ذہنی سکون اور طویل عمر کے لیے ضروری ہیں۔
مستقل فکر اور جسمانی تباہی:
ذہنی دباؤ اور مستقل فکر کو اکثر معمول کی نفسیاتی کیفیت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ جدید طب اسے خاموش جسمانی تباہی قرار دیتی ہے۔ مسلسل ذہنی تناؤ جسم میں کورٹیسول کی سطح بلند رکھتا ہے، جو دل، دماغ اور مدافعتی نظام پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ ایسے افراد میں نیند کی خرابی، بلند فشارِ خون اور قوتِ مدافعت کی کمزوری زیادہ دیکھی گئی ہے۔ بہت سے لوگ مالی طور پر خوشحال ہونے کے باوجود فکری بے چینی کے باعث جسمانی طور پر جلد کمزور ہو جاتے ہیں۔ ’’افراطِ فکر‘‘ (Overthinking) صرف ذہنی سکون نہیں بلکہ جسمانی بیماریوں کی بنیاد بھی بن سکتی ہے، اس لیے عبادت، مراقبہ اور مثبت طرزِ فکر ناگزیر ہے۔
خوراک اور جدید طبی غلط فہمیاں:
گزشتہ کئی دہائیوں میں کم چکنائی والی غذا کو صحت مند تصور کیا جاتا رہا، مگر جدید تحقیقات اس پر سوال اٹھاتی ہیں۔ پروسیسڈ کاربوہائیڈریٹس، میٹھے مشروبات اور مصنوعی غذائیں جسم میں سوزش، موٹاپا اور ذیابیطس کے خطرات بڑھاتی ہیں۔ عمر کے ساتھ میٹابولزم بدلتا ہے اور کاربوہائیڈریٹس ہضم کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔’’طویل العمر علاقوں(Blue Zones) کی تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ سبزیوں، قدرتی غذاؤں اور متوازن طرزِ زندگی کا امتزاج طویل عمر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑھتی عمر میں پروٹین، صحت مند چکنائی اور قدرتی غذا مفید ثابت ہوتی ہے اور صحت کو بہتر بناتی ہے۔
بڑھاپا—صرف عمر نہیں، معیارِ زندگی بھی اہم:
طویل عمر ہمیشہ اچھی زندگی کی علامت نہیں ہوتی۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان بڑھاپے میں کس حد تک خودمختار، ذہنی طور پر متحرک اور جسمانی طور پر فعال رہتا ہے۔ متعدد افراد طویل عمر تو پا لیتے ہیں مگر زندگی کے آخری برس شدید جسمانی کمزوری، ذہنی زوال اور دوسروں پر انحصار میں گزارتے ہیں۔ماہرین کے مطابق صحت مند بڑھاپا اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی عادات میں بروقت تبدیلی لائے۔ روزانہ حرکت، مناسب نیند، متوازن خوراک، ذہنی سکون اور سماجی روابط بڑھاپے کو باوقار بنا سکتے ہیں۔ درحقیقت انسان کی روزمرہ عادتیں ہی اس کے مستقبل کی جسمانی حالت کا تعین کرتی ہیں۔
اسلام میںذہنی سکون اور فکری توازن:
اسلام ذہنی سکون اور فکری توازن پر خاص زور دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:’’خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔(الرعد: 28)۔ اسی طرح توکل کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا گیا: ’’جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے‘‘(الطلاق: 3)۔ جدید نفسیات بھی تسلیم کرتی ہے کہ دائمی ذہنی دباؤ، تنہائی اور افراطِ فکر جسمانی بیماریوں کو جنم دیتے ہیں، جبکہ روحانی سکون، سماجی تعلقات اور مثبت طرزِ فکر انسانی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ اس اعتبار سے جدید میڈیکل سائنس آج انہی اصولوں کی افادیت کو نئے سائنسی اور تحقیقی انداز میں ثابت کر رہی ہے جنہیں اسلام صدیوں پہلے پیش کر چکا ہے۔
اسلامی تعلیمات اور متوازن زندگی:
اسلام نے صدیوں پہلے انسان کو ایسی متوازن اور فطری طرزِ زندگی کی تعلیم دی تھی جسے آج جدید طب اور نفسیات صحت مند زندگی کی بنیاد قرار دے رہی ہیں۔ قرآنِ مجید انسان کو اعتدال، صفائی، متوازن خوراک، جسمانی و روحانی پاکیزگی، ذہنی سکون اور سماجی ہم آہنگی کی تلقین کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’کھاؤ، پیو مگر اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘(الاعراف: 31)۔ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا گیا:’’اور ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا‘‘(البقرہ: 143)۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام انسانی زندگی میں توازن اور اعتدال کو بنیادی اصول قرار دیتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرتِ مبارکہ بھی متوازن اور صحت مند طرزِ زندگی کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے۔ آپؐ سادہ غذا استعمال فرماتے، چہل قدمی کرتے، جسمانی محنت کو معیوب نہیں سمجھتے اور بروقت آرام کا اہتمام فرماتے تھے۔ حدیثِ نبویؐ ہے:’’آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں‘‘(ترمذی:2380)۔ ایک اور حدیث میں فرمایا گیا’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے‘‘(بخاری:5199)۔ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ اسلام جسمانی صحت، آرام اور اعتدال کو دینی ذمہ داری کا حصہ سمجھتا ہے۔
صحت ایک شعوری انتخاب:
جدید طبی اور سماجی تحقیقات واضح کرتی ہیں کہ انسان کی بہت سی بیماریاں اور جسمانی زوال محض تقدیر نہیں بلکہ طرزِ زندگی اور روزمرہ عادتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ بے حرکتی، ناقص نیند، غیر متوازن خوراک، ذہنی دباؤ اور سماجی تنہائی ایسے عوامل ہیں جو رفتہ رفتہ جسم، دماغ اور نفسیات کو کمزور کرتے رہتے ہیں۔ انسان کے لیے اصل خطرہ صرف بیماریاں نہیں بلکہ یہی غیر متوازن عادتیں ہیں جو اسے جسمانی و ذہنی زوال کی طرف لے جاتی ہیں۔ خوش آئند حقیقت یہ ہے کہ ان مسائل کا حل بڑی تبدیلیوں میں نہیں بلکہ مناسب نیند، جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، سماجی تعلقات اور ذہنی سکون جیسی عادتوں میں پوشیدہ ہے۔
Comments are closed.