خواتین کا تحفظ اور وقار محض نعرہ نہیں، ریاست کی اولین ذمہ داری ہے: ممبئی پریس کلب میں مقررین کا خطاب

خواتین کا تحفظ اور وقار محض نعرہ نہیں، ریاست کی اولین ذمہ داری ہے: ممبئی پریس کلب میں مقررین کا خطاب

ممبئی: 14 مئی(پریس ریلیز)

جماعتِ اسلامی ہند (خواتین ونگ) کے زیر اہتمام آج ممبئی پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین نے "خواتین کا وقار خطرے میں: معاشرہ، میڈیا اور ریاست کی ذمہ داریاں” کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔

آدرش فاؤنڈیشن کی صدر سجاتا ساونت نے سماجی رویوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی حفاظت کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ خالصہ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سریندر کور نے تعلیمی اداروں میں طالبات کے تحفظ اور خود اعتمادی پیدا کرنے پر زور دیا۔ ہتاکشی شاہ نے میڈیا کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سنسنی خیزی کے بجائے اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جائے۔

صابو صدیق ٹیکنیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر زیب النساء ملک نے کام کی جگہوں پر خواتین کے استحصال کی روک تھام اور پیشہ ورانہ وقار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ممتاز سماجی کارکن ورجینیا سالڈانہ نے خواتین کی سیاسی اور سماجی شرکت میں حائل رکاوٹوں پر تشویش ظاہر کی۔ ایڈوکیٹ نرنجنی شیٹی نے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ختم کی جائے۔ ریحانہ دیشمکھ (سیکریٹری حلقہ خواتین، جماعتِ اسلامی ہند ممبئی میٹرو) نے سائبر کرائم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین کی تذلیل کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے مشترکہ طور پر کہا کہ میڈیا ٹرائل متاثرین کے لیے مزید تکلیف کا باعث بنتا ہے، لہٰذا ذمہ دارانہ رپورٹنگ ناگزیر ہے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر مطالبہ کیا گیا کہ ریاست مہاراشٹر خواتین کے خلاف جنسی و معاشی استحصال اور عقیدت کی آڑ میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف سخت ترین محاسبہ کرے۔ ڈاکٹر فریدہ اختر نے کلماتِ شکریہ ادا کیے۔

Comments are closed.