مدلل مسائلِ قربانی

 

محمد ہاشم القاسمی

(خادم دارالعلوم پاڑا، ضلع پرولیا مغربی بنگال)

رابطہ نمبر9933598528

قربانی کی اہمیت، حقیقت اور فضائل

​قربانی محض کوئی رسم یا روایتی رواج نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور خلیل، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ عظیم الشان سنت ہے جس پر خود نبی کریم ﷺ نے مداومت کے ساتھ عمل فرمایا۔ یہ قربانی اللہ رب العزت کی عبادت کا ایک مستقل اور مخصوص طریقہ ہے۔ اس کا کوئی متبادل نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی دوسرا نیک کام (مثلاً غرباء و مساکین کو اس کی قیمت صدقہ کر دینا) اس کے قائم مقام یا ثواب میں اس کے برابر ہو سکتا ہے۔

​حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:”مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا”

ترجمہ: "جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ اس کے باوجود قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔” (سنن ابن ماجہ)

​اس حدیثِ مبارکہ میں قربانی کی استطاعت کے باوجود اسے ترک کرنے پر آپ ﷺ نے سخت وعید ارشاد فرمایا ہے؛ اور چونکہ شرعی اصول کے مطابق وعید ہمیشہ "ترکِ واجب” پر ہوتی ہے، اس سے یہ واضح معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ استطاعت پر قربانی کرنا واجب ہے۔

​قربانی کا باطنی رخ اور حقیقت

​ہم جو جانوروں کی قربانی کرتے ہیں، یہ قربانی کی ایک ظاہری صورت ہے؛ جبکہ اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو اس کی اصل حقیقت اور باطنی صورت ہے، اور وہ ہے: ایثارِ نفس کا جذبہ پیدا کرنا اور تقرب الٰہی کا حصول۔

​اصل میں قربانی کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ عاشق خود اپنی جان کو خدا کے حضور پیش کرے، مگر اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت دیکھیے کہ اس نے بندوں پر یہ بوجھ نہیں ڈالا، بلکہ حکم دیا کہ تم جانور کو ذبح کرو، ہم یہی تسلیم کریں گے کہ تم نے میری رضا کے لیے خود کو قربان کر دیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کا اصل مقصد "جانِ عزیز” کو پیش کرنا ہے۔ اس عمل سے انسان میں جاں سپاری اور جاں نثاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور یہی اس کی روح ہے۔ یہ روح مال کے صدقہ کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی؛ کیونکہ قربانی کی حقیقت جان دینا ہے اور صدقہ کی حقیقت مال دینا ہے۔ نیز صدقہ کے لیے کوئی دن مقرر نہیں، جبکہ قربانی کے لیے سال کے مخصوص ایام متعین ہیں، جن کا نام ہی ‘یوم النحر’ اور ‘یوم الاضحی’ رکھا گیا ہے۔

​قربانی کا ثواب

​جب انسان اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان کی بازی لگاتا ہے اور خوشنودیِ الٰہی کے لیے قربانی پیش کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی جھولی نیکیوں سے بھر دیتا ہے۔

​حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحابِ رسول ﷺ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا چیز ہے؟” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔” صحابہ نے عرض کیا: "اس قربانی سے ہمیں کیا ثواب ملے گا؟” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ہر بال کے عوض ایک نیکی۔” صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اگر اون ہو؟” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اون کے ہر بال کے عوض بھی ایک نیکی ملے گی۔” (سنن ابن ماجہ، کتاب الاضاحی)

​قربانی کا اصل فلسفہ تقویٰ اور رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ اگر اسی پاکیزہ جذبے سے قربانی کی جائے تو یقیناً وہ بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ریاکاری، دکھاوے، نمود و نمائش اور اپنی دولت کا رعب ڈالنے کے لیے قربانی کی جائے، تو ایسی قربانی محشر کے دن ثواب سے محروم کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو قربانی کے جانور کا خون یا گوشت مطلوب نہیں، بلکہ قربانی دینے والے کی نیت مطلوب ہوتی ہے۔

​لہذا، جانور خریدتے وقت سے لے کر اسے ذبح کرنے تک یہی نیت رہنی چاہیے کہ اس کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہے۔ جو جانور خالص نیت سے ذبح کیا جاتا ہے، اس کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے۔

​ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:” اللہ تعالیٰ کو عید الاضحی کے دن قربانی سے بڑھ کر کوئی بھی عمل زیادہ محبوب نہیں ہوتا۔ بے شک روزِ قیامت قربانی کا جانور اپنے سینگوں, بالوں اور کھروں سمیت (بارگاہِ الٰہی میں) آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل ہی اللہ کے ہاں مقامِ قبولیت پا لیتا ہے، لہذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔” (سنن ترمذی، کتاب الاضاحی)

​رسول اللہ ﷺ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں دس سالہ قیام کے دوران ہر سال باقاعدگی سے قربانی فرماتے تھے اور مسلمانوں کو بھی اس کی تاکید کرتے تھے۔ (سنن ترمذی)

​شرائطِ وجوب (قربانی کس پر واجب ہے؟)

​دارالافتاء دارالعلوم دیوبند (فتویٰ نمبر: 56163) کے مطابق:

​وجوب کی شرائط: جو مسلمان عاقل، بالغ اور مقیم ہو، اور قربانی کے دنوں میں اس کی ملکیت میں حاجتِ اصلیہ (بنیادی ضرورت) سے زائد اور قرض سے فارغ اتنا مال یا سامان ہو جس کی مالیت ساڑھے باون (52.5) تولہ چاندی کے برابر ہو، تو اس شخص پر قربانی واجب ہے۔ خواہ وہ مال تجارتی ہو یا نہ ہو، اور اس پر سال گزرا ہو یا نہ گزرا ہو۔

​اهلِ خانہ کی قربانی: اگر گھر کے تمام افراد صاحبِ نصاب ہیں، تو ہر ایک پر الگ الگ قربانی واجب ہے۔ ایک جانور (بکرا/دمبہ) پورے اہل خانہ کی طرف سے کافی نہیں ہوگا۔ (حوالہ: شامی، ہندیہ، بدائع الصنائع)

​جانوروں سے متعلق احکام (اقسام، عمریں اور شراکت)

​۱۔ جانوروں کی اقسام اور عمریں

​جمهور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صرف تین قسم کے چوپایوں (بہیمۃ الانعام) کی قربانی درست ہے:

​بھیڑ، بکری، دنبہ (نر و مادہ): کم از کم عمر ایک سال مکمل ہو۔ (البتہ ایسا دنبہ یا مینڈھا جو چھ ماہ کا ہو لیکن اتنا فربہ اور تندرست ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہو، تو اس کی قربانی بھی جائز ہے)۔

​گائے، بیل، بھینس (نر و مادہ): کم از کم عمر دو سال مکمل ہو۔

​اونٹ، اونٹنی: کم از کم عمر پانچ سال مکمل ہو۔(حوالہ: بدائع الصنائع)

​۲۔ بڑے اور چھوٹے جانوروں میں شراکت

​چھوٹے جانور (بکری، بکرا، بھیڑ، دنبہ) میں صرف ایک آدمی کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے۔ ادائے فریضہ کی نیت سے ایک بکرے میں ایک سے زائد افراد کی شرکت ناجائز ہے۔ ہاں، حصولِ ثواب کے لیے ایک بکرے کے ثواب میں متعدد افراد یا تمام امت کو شریک کرنا نہ صرف جائز بلکہ سنتِ رسول ہے۔

​بڑے جانور (گائے، بھینس، اونٹ) میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، مسلم شریف)

​مختلف ائمہ کی آراء: فقہاء احناف و شوافع کے نزدیک واجب قربانی کے لیے بڑے جانور میں سات حصے اور چھوٹے میں ایک ہی حصہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، امام مالک، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق اور اصحابِ ظواہر رحمہم اللہ کی رائے یہ ہے کہ ایک بکرا یا ایک بھیڑ ایک (غیر صاحبِ نصاب) گھرانے کے تمام افراد کی طرف سے ادائے فریضہ کے لیے بھی کافی ہو سکتا ہے۔ (نیل الاوطار)

​۳۔ نیت اور شراکت کے مسائل

​نیت کی شرط: بڑے جانور کے ساتوں شرکاء میں سے کسی ایک کی نیت بھی اگر محض گوشت حاصل کرنے کی ہو (عبادت یا تقرب کی نہ ہو)، تو کسی بھی شریک کی قربانی صحیح نہیں ہوگی۔ (فتاویٰ عالمگیریہ)

​عقیقہ کی شرکت: اگر بڑے جانور میں کچھ حصے قربانی کے ہوں اور کچھ حصے عقیقہ کے ہوں، تو شرعاً اس کی اجازت ہے۔ (شامی) اموات کو ثواب پہنچانا: ایک حصے یا ایک جانور کا ثواب متعدد اموات (مرحومین) کو پہنچانا بالکل جائز ہے۔ (مسند احمد) شرکاء کی تلاش: بڑے جانور میں قربانی کرنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ پہلے ساتوں حصہ دار طے کر لیے جائیں، پھر جانور خریدا جائے۔ تاہم، اگر کسی نے پہلے جانور خرید لیا اور بعد میں دیگر شرکاء کو شامل کیا، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ (بدائع الصنائع)

​جانوروں کے عیوب کا شرعی بیان

​قربانی کا جانور عیوب سے پاک ہونا چاہیے۔ درج ذیل عیوب کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

​لنگڑاپن: ایسا لنگڑا جانور جو ذبح خانے (مذبح) تک اپنے پیروں پر چل کر نہ جا سکتا ہو، یا جس کا پیر اس قدر زخمی ہو کہ اسے زمین پر رکھ ہی نہ سکتا ہو، اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر لنگڑا کر چلتا ہو لیکن لنگڑے پیر کا سہارا لے کر زمین پر رکھتا ہو، تو قربانی درست ہے۔ (ابوداؤد)

​سینگ کا مسئلہ: جس جانور کے پیدائشی طور پر سینگ نہ ہوں، یا سینگ آدھا یا اس سے زیادہ ٹوٹ گیا ہو مگر اس کا اثر گودے اور دماغ تک نہ پہنچا ہو، تو اس کی قربانی جائز ہے۔ لیکن اگر سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ گیا ہو یا اس کا اثر دماغ تک پہنچا ہو، تو قربانی جائز نہیں ہے۔ (طحاوی شریف)

​کان اور دم کا کٹنا: جس جانور کا کان یا دم ایک تہائی (1/3) یا اس سے زیادہ کٹ چکی ہو، اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ اگر ایک تہائی سے کم کٹی ہو تو جائز ہے۔ اگر کان صرف بیچ سے چیرا ہوا ہو، تو قربانی جائز ہے۔ اگر دونوں کانوں کا کچھ کچھ حصہ کٹا ہو، تو دونوں کو ملا کر دیکھا جائے؛ اگر مجموعہ ایک تہائی تک پہنچ جائے تو قربانی ناجائز، ورنہ جائز ہے۔ (شامی، بدائع الصنائع)

​تھن کے عیوب: بھیڑ یا بکری کے تھن کا ایک تہائی یا اس سے زیادہ حصہ کٹ گیا ہو، یا ایک تھن بالکل خشک ہو گیا ہو، تو قربانی درست نہیں۔ گائے، بھینس اور اونٹنی میں اگر دو تھن خراب یا خشک ہو گئے ہوں، تو قربانی درست نہیں ہے۔ (فتاویٰ ہندیہ)

​بینائی کا جانا: جس جانور کی ایک یا دونوں آنکھوں کی روشنی بالکل چلی گئی ہو، اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ (ابوداؤد)

​دانتوں کا گرنا: جس جانور کے دانت اس قدر گر چکے ہوں کہ وہ چارہ چبانے کے قابل ہی نہ رہا ہو، اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ (اعلاء السنن)

​زائد اعضاء: جس جانور کے اعضاء زائد ہوں، مثلاً چار کے بجائے پانچ ٹانگیں ہوں، تو یہ عیبِ فاحش ہے اور اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ (المحیط البرہانی)

​ذبح کے وقت عیب پیدا ہونا: اگر جانور کو ذبح کرنے کے لیے گراتے وقت (بغیر کسی لاپروائی کے) اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے، تو اس سے قربانی پر فرق نہیں پڑتا، قربانی جائز و درست ہوگی۔ (بدائع الصنائع)

​ذبح کا مسنون طریقہ اور دعائیں

​قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ پہلے چھری کو خوب تیز کر لیا جائے۔ جانور کو قبلہ رخ لٹائیں اور ذبح کرنے والا بھی قبلہ رو ہو کر پہلے یہ دعا پڑھے: "إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ”

​پھر "بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ” کہہ کر جانور کو ذبح کریں۔ ذبح کرنے کے فوراً بعد یہ دعا پڑھیں: "اللَّهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ وَخَلِيلِكَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ”

​اگر آپ کسی دوسرے کی طرف سے ذبح کر رہے ہوں، تو لفظ "مِنِّي” (مجھ سے) کی جگہ "مِنْ” کہہ کر اس شخص کا نام لیں۔

​اہم نوٹ: یہ دعائیں پڑھنا مستحب اور بہتر ہے، ضروری نہیں۔ اصل شرط ذبح کے وقت نیت کا ہونا اور زبان سے "بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ” کہنا ہے۔

​ذبح کے آداب اور ممنوعات

​ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ہرگز ذبح نہ کیا جائے۔

​ذبح کرتے وقت چاقو کو اتنا گہرا نہ لے جائیں کہ گردن کی ہڈی ٹوٹ جائے یا حرام مغز کٹ جائے۔ جانور کو جلدی ٹھنڈا کرنے کے لیے اس کا حرام مغز کاٹنا مکروہ ہے۔

​جب تک جانور پوری طرح ٹھنڈا نہ ہو جائے (یعنی اس کی روح مکمل طور پر نہ نکل جائے)، تب تک کھال اتارنے یا گوشت کے ٹکڑے کرنے کی جلدی نہ کریں۔ (بدائع الصنائع)

​قربانی کے وقت سب شرکاء کا وہاں موجود رہنا مستحب ہے، تاہم ضروری نہیں; محض ان کی اجازت اور نیت کافی ہے۔ ذبح کے وقت شرکاء کے نام زبان سے پکارنا ضروری نہیں، نیت میں ان کا خیال رکھنا کافی ہے۔ اگر یاد دہانی کے لیے نام پکار دیے جائیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔ (جامع الفتاویٰ)

​گوشت، چرم (کھال) اور دیگر متفرق مسائل

​۱۔ گوشت کی تقسیم کے احکام

​مستحب یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں: ایک حصہ فقراء و مساکین کے لیے، دوسرا حصہ رشتہ داروں اور دوست احباب کے لیے، اور تیسرا حصہ اپنے اہل و عیال کے لیے۔ اگر کوئی شخص اپنے عیال کی کثرت کی وجہ سے سارا گوشت خود رکھنا چاہے، تو بھی شرعاً جائز ہے۔ (فتاویٰ ہندیہ)

​قربانی کا گوشت غیر مسلم پڑوسیوں یا جاننے والوں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ (فتاویٰ ہندیہ)

​۲۔ جانور کی حرام اور مکروہ اشیاء

​جانور کی درج ذیل سات (7) چیزیں کھانا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے:

​بہتا ہوا خون

​نر و مادہ کی شرمگاہ

​کپورے (خصیے)

​مثانہ (پیشاب کی تھیلی)

​پتہ (پت کی تھیلی)

​غدود (گٹھلی کی صورت میں جما ہوا خون)

​حرام مغز (پشت کے مہروں کے درمیان سفید ڈوری) (حوالہ: سنن کبریٰ للبیہقی، کنز الدقائق)

​نوٹ: اوجھڑی، انتڑیاں اور بٹ (بوٹی) وغیرہ کو اچھی طرح صاف کر کے کھانا شرعاً حلال و جائز ہے، کیونکہ احادیث میں ممنوعہ اشیاء میں یہ داخل نہیں ہیں۔ (المعجم الکبیر للطبرانی)

​۳۔ کھال (چرمِ قربانی) کے احکام

​قربانی کرنے والا اپنے جانور کی کھال کو خود اپنے استعمال میں لا سکتا ہے (مثلاً اس کا مصلّٰی، مشکیزہ یا دسترخوان بنا لے)۔ لیکن اگر اس نے کھال کو پیسوں کے بدلے بیچ دیا، تو ان پیسوں کو اپنے استعمال میں لانا ناجائز ہے، بلکہ ان کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ (شامی)

​ساتوں حصہ دار جس طرح گوشت میں اپنے حصے کے مطابق شریک ہوتے ہیں، اسی طرح کھال کی مالیت میں بھی سب برابر کے شریک ہیں۔ کسی ایک شریک کے لیے باقیوں کی اجازت کے بغیر کھال اپنے پاس رکھنا یا کسی کو دینا جائز نہیں ہے۔ (مجمع الانہر)

​۴۔ متفرق فقہی مسائل

​واجب قربانی بنام مرحومین: جو شخص خود صاحبِ نصاب ہو، اس کے لیے اپنے ذمے کی واجب قربانی چھوڑ کر صرف مرحومین (والدین وغیرہ) کے نام پر قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے اس کے اپنے ذمے کا واجب ادا نہیں ہوگا اور وہ ترکِ واجب کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔ پہلے اپنی واجب قربانی ادا کرے، پھر استطاعت ہو تو مرحومین کی طرف سے نفل قربانی کرے۔ اس نفلی قربانی کا گوشت وہ خود بھی کھا سکتا ہے۔ (اعلاء السنن)

​اطلاع کے بغیر قربانی: کسی صاحبِ نصاب شخص کی طرف سے (خواہ وہ باپ ہو یا بیٹا) اس کی اجازت یا اطلاع کے بغیر کوئی دوسرا قربانی کر دے، تو اس صاحبِ نصاب کی واجب قربانی ادا نہیں ہوگی۔ پہلے سے اجازت یا علم ہونا ضروری ہے۔ (فتح الباری)

​جانور سے منافع اٹھانا: قربانی کے لیے متعین جانور سے کسی بھی قسم کا منافع اٹھانا (مثلاً اس کا دودھ نکالنا، اس کے بال کاٹ کر بیچنا یا استعمال کرنا) ناجائز ہے۔ اگر ضرورت کے تحت بال کاٹے یا دودھ نکالا، تو اس کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ (فتاویٰ عالمگیریہ)

​خصی جانور: خصی جانور کی قربانی نہ صرف جائز ہے بلکہ اس کا گوشت زیادہ لذیذ ہونے کی وجہ سے یہ افضل اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت ہے۔ (مسند احمد)

​گابھن جانور: ایسی گابھن گائے یا بھینس جو بچے کی ولادت کے بالکل قریب ہو، اس کی قربانی کرنا مکروہ ہے۔ اگر ذبح کے بعد پیٹ سے بچہ زندہ نکل آئے، تو اسے بھی ذبح کر کے کھایا جا سکتا ہے یا زندہ صدقہ کر دیا جائے۔ لیکن اگر ایامِ قربانی گزر گئے، تو اب اسے زندہ صدقہ کرنا ہی لازم ہے، اسے اگلے سال کے لیے رکھنا درست نہیں۔ اور اگر بچہ مردہ نکلے، تو اسے کھانا جائز نہیں، وہ ضائع کر دیا جائے۔ (شامی، سنن ترمذی)

​وزن کے حساب سے خرید و فروخت: جانور کو وزن کر کے (بیس کے حساب سے) خریدنا اور بیچنا شرعاً بالکل جائز ہے۔ (فتاویٰ عثمانی)

​جانور کا ضائع ہونا یا مر جانا: صاحبِ نصاب شخص کا خریدا ہوا جانور اگر مر جائے، بھاگ جائے یا عیب دار ہو جائے، تو اس پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا واجب ہے۔ اس کے برعکس، اگر غریب (غیر صاحبِ نصاب) کا جانور گم یا عیب دار ہو جائے، تو اس پر نیا جانور لازم نہیں؛ عیب دار ہونے کی صورت میں وہ اسی جانور کی قربانی کر سکتا ہے۔ (شامی)

​ایامِ قربانی کا گزر جانا: اگر کوئی شخص ایامِ قربانی (10، 11، 12 ذی الحجہ) میں کسی وجہ سے خریدا ہوا جانور ذبح نہ کر سکا، تو اب اس زندہ جانور کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ اگر ناواقفیت میں ذبح کر دیا، تو پورا گوشت اور کھال صدقہ کرے۔ اگر خود کھا لیا ہو، تو اس کی قیمت صدقہ کرے؛ اور اگر زندہ جانور کی قیمت گوشت کی قیمت سے زیادہ تھی، تو وہ زائد رقم بھی صدقہ کرے۔ (شامی)

​قضاء قربانی کا فدیہ: اگر کسی شخص پر گزشتہ سالوں کی قربانی واجب تھی جو اس نے ادا نہیں کی، اور اب وہ توبہ کر کے بری الذمہ ہونا چاہتا ہے، تو وہ گزشتہ ہر سال کے عوض ایک درمیانی بکرے یا بکری کی قیمت کسی مسکین کو بطورِ فدیہ دے۔ گائے کے ساتویں حصے کی قیمت دینے سے قضاء ادا نہیں ہوگی۔ (احسن الفتاویٰ)

​غلطی سے ذبح ہونا: اگر غلطی سے ایک شخص نے دوسرے کا جانور اور دوسرے نے پہلے کا جانور ذبح کر دیا، تو دونوں کی قربانی صحیح ہو جائے گی۔ ذبح کے بعد دونوں اپنے اپنے جانور کا تبادلہ کر لیں یا ایک دوسرے کو حلال کر دیں۔ (فتاویٰ ہندیہ)

​علماء، خطباء اور ائمہ مساجد کے لیے خصوصی سماجی و قانونی ہدایات

​موجودہ نازک حالات، ملی مصلحتوں اور ملک و ریاست کے قوانین کے پیشِ نظر، وعظ و تقریر کرنے والے علمائے کرام اور ائمہ مساجد سے پرزور گزارش ہے کہ وہ عید الاضحی کے موقع پر اپنے خطبات میں قربانی کے احکام کے ساتھ ساتھ درج ذیل سماجی، انتظامی اور قانونی نکات کی سختی سے تاکید فرمائیں:

​ریاستی قوانین کی پاسداری اور بڑے جانور سے اجتناب: مغربی بنگال کے موجودہ بدلے ہوئے حالات اور نئی ریاستی حکومت کی جانب سے بڑے جانور کی قربانی پر عائد کردہ سخت ترین قانونی پابندی کے پیشِ نظر، تمام مسلمان حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور قانون کی مکمل پاسداری کریں۔ کسی بھی ایسے عمل سے سخت پرہیز کیا جائے جو قانون کے دائرے سے باہر ہو، تاکہ ملتِ اسلامیہ کسی بڑی آزمائش یا بدامنی کا شکار نہ ہو۔

​شرعی متبادل اور رخصت پر عمل: جن علاقوں یا اضلاع میں بڑے جانور کی قربانی پر قانونی پابندی ہے، وہاں کے صاحبِ نصاب مسلمان قانون سے ٹکرانے یا اصرار کرنے کے بجائے، شریعت کے دیے ہوئے متبادل پر عمل کریں۔ یعنی وہ چھوٹے جانوروں (بکری، دنبہ، مینڈھا وغیرہ) کی قربانی کا اہتمام کریں یا پھر ان مقامات/اضلاع میں اپنے حصے بھیجیں جہاں قانوناً اس کی اجازت ہے۔ یاد رکھیں، اسلام ہمیں اپنے جان و مال کی حفاظت اور امن برقرار رکھنے کا حکم دیتا ہے۔

​گزرگاہوں سے اجتناب: قربانی کرنے والے حضرات راستوں، عام شاہراہوں اور گزرگاہوں پر جانور ذبح کرنے سے مکمل پرہیز کریں۔ قربانی کا اہتمام بند اور وسیع احاطوں میں کیا جائے۔

​صفائی کا خاص خیال: ذبح کے بعد خون کو بہتا ہوا نہ چھوڑیں اور نہ ہی اوجھڑی و دیگر زائد اجزاء کو کھلے عام سڑکوں یا نالیوں میں پھینکیں۔ ان تمام چیزوں کو زمین میں گہرا گڑھا کھود کر دفن کرنے کا لازمی اہتمام کریں۔ صفائی نصف ایمان ہے، اس کا مظاہرہ عملی طور پر نظر آنا چاہیے۔

​برادرانِ وطن کا لحاظ: اپنے کسی بھی طرزِ عمل، نعرے یا طریقے سے عام لوگوں، بالخصوص برادرانِ وطن (غیر مسلم پڑوسیوں) کو شکایت یا تکلیف کا کوئی موقع نہ دیا جائے۔ مذہبی رواداری اور پڑوسیوں کے حقوق کا پورا خیال رکھا جائے تاکہ کسی کو فتنہ یا بدامنی پھیلانے کا موقع نہ ملے۔

​مقامی کمیٹیوں کی تشکیل: عید سے چند روز قبل بستی کے سنجیدہ، ذی ہوش اور چیدہ افراد پر مشتمل ایک "قربانی انتظامی کمیٹی” قائم کی جائے۔ یہ کمیٹی حالات پر نظر رکھے، صفائی کے نظام کو دیکھے، اور مقامی حکام (پولیس و انتظامیہ) سے رابطہ رکھ کر امن و امان بحال رکھنے میں تعاون کرے۔

​افواہوں کا سدِ باب: ایامِ قربانی میں کسی بھی قسم کی افواہوں کو پھیلنے نہ دیا جائے۔ کوئی بھی تشویشناک یا مشکوک خبر ملنے پر خود کوئی قدم اٹھانے کے بجائے فوری طور پر مذکورہ کمیٹی اور ذمہ داروں کے علم میں لائیں، اور مکمل تحقیق کے بعد ہی قانونی دائرے میں رہ کر ضروری کارروائی کریں۔

​اللہ تعالیٰ تمام امتِ مسلمہ کو قربانی کے ظاہری و باطنی احکامات پر عمل کرنے، حالات کی نزاکت کو سمجھنے اور حکمتِ عملی کے ساتھ فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

Comments are closed.