باندرہ کا تاریخی مذبح: ممبئی کی گمشدہ تہذیب، قصاب برادری کی ہجرت اور دیونارسلاٹرہاوس تک کا سفر:ایک تحقیقی و تاریخی جائزہ

 

جاوید جمال الدین

ممبئی کی تاریخ صرف بندرگاہوں، کپاس کی ملوں، فلمی صنعت یا فلک بوس عمارتوں کی داستان نہیں، بلکہ اس شہر کی تعمیر میں ایسے بے شمار طبقات، پیشے اور بستیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے خاموشی کے ساتھ اس عظیم شہر کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ باندرہ کا تاریخی مذبح بھی انہی فراموش مگر غیر معمولی اہمیت رکھنے والے ابواب میں شامل ہے، جس نے ایک صدی سے زائد عرصے تک نہ صرف بمبئی کی غذائی ضروریات پوری کیں بلکہ شہر کی آبادی، تجارت، مذہبی اداروں، شہری منصوبہ بندی اور سماجی ڈھانچے کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔

 

اس تعلق سے شہر کی تاریخ سے واقف محققین سلیم قاضی کے مطابق باندرہ کا مذبح صرف جانور ذبح کرنے کی جگہ نہیں تھا،بلکہ یہ ایک مکمل معاشی اور سماجی نظام تھا، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار، رہائش، تجارت اور تہذیبی شناخت وابستہ تھی۔ ان کے مطابق باندرہ کی موجودہ شہری ساخت، خصوصاً مسلم آبادی اور قصاب برادری کی بستیاں، اسی تاریخی مذبح کے گرد تشکیل پائیں۔

ایک تاریخی زمین کی داستان

سلیم قاضی نے اس سلسلہ میں روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ باندرہ مغرب میں جہاں 1867ء میں بمبئی میونسپل کی طرف سے مذبح قائم کیا گیا، وہاں اس سے تقریباً دو صدی قبل جیسوئٹ مشنریوں نے سینٹ این کالج اور چرچ تعمیر کیا تھا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ عمارت 1675ء کے آس پاس قائم ہوئی، لیکن 1737ء میں مراٹھا حملوں کے دوران تباہ کردی گئی۔

بعد ازاں برطانوی حکومت نے اسی زمین کو بمبئی کے مرکزی مذبح کے لیے منتخب کیا۔ دونوں محققین کے مطابق یہ فیصلہ نوآبادیاتی شہری منصوبہ بندی کی ایک واضح مثال تھا، جس کے تحت انگریز حکومت شہر کے مرکزی اور اشرافیہ علاقوں سے “بدبو دار” یا “غیر پسندیدہ” صنعتوں کو مضافاتی علاقوں میں منتقل کررہی تھی۔

اُس وقت باندرہ ایک نیم دیہی علاقہ تھا، جہاں کھلے میدان، کھاڑیاں اور مویشی رکھنے کی وسیع جگہیں موجود تھیں، اس لیے مذبح کے لیے اسے موزوں سمجھا گیا۔

شاہنواز تھانہ والا نے تفصیل پیش کرتے ہوئے کہاکہ قریشی قصاب برادری کی ہجرت اور باندرہ کی نئی شناخت بن گئی ،

1867ء میں بمبئی کے مرکزی مذبح کی باندرہ منتقلی کے بعد دکن ،جی بیڑ، احمد نگر اور اطراف کے علاقوں سے قریشی قصاب برادری کی ایک بڑی تعداد باندرہ منتقل ہوئی۔ اس ہجرت نے باندرہ کے سماجی اور تہذیبی ڈھانچے کو نئی شکل دی۔

سلیم قریشی کے مطابق برطانوی دور کی باندرہ میونسپلٹی اور مقامی دکنی جماعتوں نے قصاب خاندانوں کے لیے مذبح کے اطراف رہائشی بستیاں تعمیر کیں، جنہیں “قصائی واڑے” کہا جاتا تھا۔ یہ بستیاں صرف رہائشی علاقے نہیں تھیں بلکہ قصاب برادری کی معاشی اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔

دونوں محققین کے مطابق باندرہ کی مسلم آبادی میں اضافے اور مقامی تہذیب کی تشکیل میں قریشی برادری کا بنیادی کردار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ باندرہ کے کئی علاقوں میں آج بھی دکنی تہذیب، زبان اور روایات کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔

جاوید جمال الدین کی یادیں اور باندرہ کی منڈی

سینئر صحافی جاوید جمال الدین کے مطابق باندرہ کا مذبح اور اس سے وابستہ مویشی منڈیاں صرف تجارتی مراکز نہیں تھیں بلکہ ممبئی کی مسلم سماجی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ بچپن میں وہ اپنے والد کے ساتھ باندرہ کی مویشی منڈی اور بائیکلہ کے مشہور “بکرا اڈہ” جایا کرتے تھے، جہاں قربانی اور گوشت کے کاروبار کے لیے بکرے خریدے جاتے تھے۔

جاوید جمال الدین کے مطابق اُس زمانے میں باندرہ کی منڈی میں دکن، کنکن، ناسک اور گجرات سے آنے والے مویشی تاجروں کی غیر معمولی رونق ہوتی تھی۔ مختلف نسلوں کے بکرے، بھیڑیں اور مویشی یہاں فروخت کے لیے لائے جاتے تھے، جبکہ قصاب برادری، تاجروں اور خریداروں کی بڑی تعداد اس منڈی کا رخ کرتی تھی۔

ان کے مطابق بائیکلہ کا “بکرا اڈہ” بھی ممبئی کی قدیم تجارتی روایت کا اہم حصہ تھا، جہاں عیدالاضحیٰ کے دنوں میں غیر معمولی گہماگہمی دیکھنے کو ملتی تھی۔ یہ منڈیاں صرف کاروبار کا مرکز نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور سماجی روایت کی علامت تھیں۔

باندرہ جامع مسجد اور قصاب برادری کا کردار

سلیم قاضی کے مطابق قصاب برادری نے مذبح کے عقب میں باندرہ جامع مسجد تعمیر کی، جس کے لیے فنڈز جانوروں کے خون، ہڈیوں اور دیگر باقیات کی فروخت سے حاصل کیے گئے۔

ان کے مطابق یہ صرف ایک مذہبی ادارہ نہیں تھا بلکہ قصاب برادری کی سماجی تنظیم اور اجتماعی شناخت کی علامت بھی تھا۔ بعد ازاں انہی وسائل سے جنوبی ممبئی کے ایس وی پی روڈ کے قریب بڑی جامع مسجد کے قیام میں بھی مدد ملی۔

بھارت نگر: قصائیوں کی بستی سے قیمتی زمین تک

وقت گزرنے کے ساتھ باندرہ مغرب کے مذبح کے اطراف آبادی بڑھنے لگی۔ شہری توسیع، رہائشی منصوبوں اور زمین کی بڑھتی قیمتوں کے باعث قصاب برادری کے ایک بڑے حصے کو باندرہ مشرق منتقل کیا گیا۔

کھاڑی کے اُس پار آباد ہونے والی اس نئی بستی کو “بھارت نگر” کا نام دیا گیا، جہاں قصاب برادری کی بڑی تعداد نے مستقل سکونت اختیار کی۔

دونوں محققین کے مطابق ابتدا میں بھارت نگر ایک پسماندہ اور محنت کش طبقے کی بستی سمجھی جاتی تھی، مگر باندرہ کرلا کمپلیکس (بی کے سی) کے قیام کے بعد اس علاقے کی تقدیر بدل گئی۔ چونکہ بھارت نگر ممبئی کے سب سے بڑے مالیاتی مرکز کے قریب واقع تھا، اس لیے یہاں زمین کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔

بعد ازاں یہاں بڑے پیمانے پر ری ڈیولپمنٹ منصوبے شروع ہوئے۔ پرانی جھونپڑیوں اور بوسیدہ مکانات کی جگہ بلند رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔شاہنواز تھانہ والا کے مطابق یہ تبدیلی دراصل ممبئی کے اُس تیز رفتار شہری ارتقا کی علامت ہے، جس میں محنت کش بستیاں آہستہ آہستہ قیمتی رئیل اسٹیٹ میں تبدیل ہوگئیں۔

1867ء کا جدید ترین مذبح

سلیم قاضی نے کہاکہ باندرہ مذبح کی تعمیر 18 فروری 1867ء کو مکمل ہوئی۔ اُس زمانے میں اس منصوبے پر تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار روپے لاگت آئی، جو برطانوی دور کے لحاظ سے ایک غیر معمولی رقم تھی۔

اس منصوبے کے معمار میونسپل انجینئر مسٹر رسل ایٹکن تھے جبکہ تعمیراتی کام میسرز ویلز اینڈ گلوور نے انجام دیا۔ عمارت پتھریلی چنائی، پوربندر کے پتھروں، لوہے کی ہوادار چھتوں اور باسالٹ کے فرش سے تعمیر کی گئی تھی۔

دونوں محققین کے مطابق اُس دور کے اعتبار سے یہ مذبح نہایت جدید سمجھا جاتا تھا۔ یہاں نکاسی آب، صفائی، ہواداری اور توسیع کی گنجائش کو خصوصی اہمیت دی گئی تھی۔

“میٹ ٹرین” — ممبئی کی پہلی گوشت ریل گاڑی

باندرہ مذبح کی سب سے دلچسپ خصوصیات میں “میٹ ٹرین” شامل تھی۔

20 فروری 1867ء کو پہلی خصوصی میٹ ٹرین صبح ساڑھے تین بجے باندرہ سے روانہ ہوئی اور 4:46 بجے بوری بندر اسٹیشن پہنچی۔ اس ٹرین کے ذریعے فوجی مراکز اور شہری علاقوں تک گوشت سپلائی کیا جاتا تھا۔

دونوں محققین کے مطابق مذبح میں تین الگ حصے تھے، جن میں ایک بیف اور دو مٹن کے لیے مخصوص تھے۔ ہندو مذہبی جذبات کے احترام میں بیف اور مٹن کے حصوں کے درمیان اونچی دیوار تعمیر کی گئی تھی۔

باندرہ مذبح کے زوال سے دیونار تک

بیسویں صدی کے آغاز تک بمبئی کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوچکا تھا۔ سلیم قاضی اور شاہنواز تھانہ والا کے مطابق باندرہ کا مذبح اب ناکافی اور پرانا ہوچکا تھا۔

1920ء اور 1930ء کی میونسپل رپورٹس میں ناقص نکاسی آب، بدبو، فضلے کی صفائی اور بیماریوں کے خدشات جیسے مسائل درج کیے گئے۔ باندرہ کی بڑھتی رہائشی آبادی بھی مذبح کی منتقلی کا مطالبہ کررہی تھی۔

آزادی کے بعد برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے جدید اور سائنسی طرز کے نئے مذبح کی منصوبہ بندی شروع کی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے ماہر این ای ورن برگ نے 1957ء سے 1959ء کے دوران باندرہ مذبح کا جائزہ لے کر دیونار میں جدید مذبح قائم کرنے کی سفارش کی۔

دیونار مذبح: ممبئی کی غذائی شہ رگ

1967ء سے 1971ء کے درمیان تقریباً 64 ایکڑ پر دیونار مذبح تعمیر کیا گیا۔ اُس وقت اس منصوبے پر تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے خرچ ہوئے اور اسے ایشیا کے جدید ترین مذبحوں میں شمار کیا گیا۔

16 اگست 1971ء کو دیونار مذبح نے باضابطہ کام شروع کیا جبکہ 1972ء اور 1973ء کے دوران باندرہ مذبح مرحلہ وار بند کردیا گیا۔

آج دیونار ممبئی کا مرکزی قانونی مذبح ہے

ایشیا کے بڑے مذبحوں میں شمار ہوتا ہے

ممبئی کے گوشت سپلائی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے

ایک فراموش مگر زندہ تاریخ ہے، باندرہ کا تاریخی مذبح دراصل ممبئی کی شہری اور سماجی تاریخ کا ایسا باب ہے، جسے مکمل طور پر کبھی قلم بند نہیں کیا گیا۔ یہ صرف گوشت کی تجارت کی تاریخ نہیں بلکہ ہجرت، محنت، مذہبی ہم آہنگی، شہری منصوبہ بندی اور محنت کش طبقات کی جدوجہد کی داستان بھی ہے۔

آج اگرچہ باندرہ کے تاریخی مذبح کی عمارتیں ماضی کا حصہ بن چکی ہیں، مگر اس کی بازگشت بھارت نگر کی گلیوں، باندرہ کی جامع مسجد، بائیکلہ کے قدیم بکرا اڈہ، دیونار کے مذبح اور ممبئی کی اجتماعی یادداشت میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔

 

javedjamaluddin@gmail.com

9867647741

Comments are closed.