اندھی محبت کے المیے
محمد عارف انصاری
رابطہ:9572908382
محبت انسانی زندگی کا ایک فطری، خوبصورت اور ناگزیر جذبہ ہے۔ یہی جذبہ انسان کو قربانی، ایثار، وفاداری اور باہمی تعلق کی قوت عطا کرتا ہے، لیکن جب محبت عقل، اخلاقی شعور، سماجی ذمہ داری اور نفسیاتی توازن سے محروم ہو جائے تو یہی جذبہ تباہ کن صورت اختیار کر لیتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندُستان میں پیش آنے والے بعض ہولناک جرائم نے اس تلخ حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ اندھی محبت، جذباتی انحصار، معاشی محرومی اور سماجی دباؤ مل کر انسان کو ایسے فیصلوں تک پہنچا سکتے ہیں جو نہ صرف خاندان بلکہ پورے معاشرے کو ہلا دیتے ہیں۔ شبنم–سلیم قتل کیس، روہتک کا سونم مقدمہ اور مرادآباد ڈکیتی کیس اسی سماجی و نفسیاتی بحران کی نمایاں مثالیں ہیں، جنہوں نے یہ سوال کھڑا کیا کہ آخر محبت کب اور کیوں تباہی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
سن 2008 میں اتر پردیش کے ضلع امروہہ کے بھاون کھیڑی گاؤں میں پیش آنے والا شبنم–سلیم قتل کیس پورے ملک کے لیے ایک ہولناک صدمہ بن گیا تھا۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ (ڈبل ایم اے) خاتون شبنم اور اس کے عاشق سلیم پر شبنم کے ہی خاندان کے سات افراد کے قتل کا الزام ثابت ہوا۔ استغاثہ کے مطابق دونوں ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے، مگر خاندانی مخالفت ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ یہی کشمکش بالآخر محبت کو ایک خوفناک جرم میں بدل گئی۔ الزام تھا کہ دونوں نے پہلے گھر والوں کو دودھ میں نشہ آور یا زہریلی دوا ملا کر پلائی، پھر ماں باپ، بھائی، بھابھی اور ایک شیر خوار بچے سمیت سات افراد کو کلہاڑی سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد 2009 میں ہریانہ کے ضلع روہتک میں سونم کیس سامنے آیا، جہاں ایک نوجوان لڑکی پر اپنے خاندان کے سات افراد کے قتل کا الزام لگا۔ بتایا گیا کہ وہ اپنے ہی گوتر کے ایک نوجوان سے محبت کرتی تھی، لیکن خاندان اس رشتے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔
اسی طرح 11 مئی 2026 کی رات مرادآباد میں ایک نئی نوعیت کا جرم سامنے آیا، جہاں ناگ پھنی علاقے کے پیتل کاروباری محمد عمران کے گھر مسلح بدمعاشوں نے اہلِ خانہ کو یرغمال بنا کر تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ روپے نقد اور چھ تولہ سونا لوٹ لیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس پوری واردات کی اصل منصوبہ ساز تاجر کی بیٹی ”عریبہ“ نکلی، جس نے اپنے عاشق ”ارشد“ کے ساتھ مل کر دولت حاصل کرنے اور پُرتعیش زندگی گزارنے کے لیے اپنے ہی گھر میں ڈکیتی کی سازش تیار کی۔ عریبہ اور ارشد شادی کرنا چاہتے تھے، مگر ارشد کی کمزور معاشی حالت کے باعث دونوں نے یہ راستہ اختیار کیا۔ یہ تینوں واقعات اگرچہ نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں، مگر ان کے پس منظر میں اندھی محبت، شدتِ جذبات، سماجی دباؤ، نفسیاتی بغاوت اور بے قابو خواہشات جیسے مشترک عناصر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق جب انسان کسی ایک فرد سے اس حد تک وابستہ ہو جائے کہ اس کی پوری شناخت، مستقبل اور ذہنی سکون اسی رشتے سے جڑ جائے تو محبت ”نفسیاتی انحصار“ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مشہور ماہرِ نفسیات’’سگمنڈ فرائڈ‘‘(Sigmund Freud)نے کہا تھا: ”دبائے گئے جذبات کبھی مرتے نہیں، وہ زندہ دفن ہو جاتے ہیں اور بعد میں زیادہ بھیانک شکل میں سامنے آتے ہیں“۔ یہی کیفیت ان واقعات میں بھی دکھائی دیتی ہے، جہاں خاندانی مخالفت، سماجی رکاوٹوں اور احساسِ محرومی نے جذبات کو انتقامی اور مجرمانہ ذہنیت میں بدل دیا۔ انسان جب یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی خواہشات کی تکمیل ممکن نہیں تو بعض اوقات اس کے اندر نفسیاتی بغاوت جنم لیتی ہے اور وہ درست و غلط کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اندھی محبت محض ایک رومانوی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی بحران بن جاتی ہے۔
جرمن مفکر’’ایرک فروم‘‘(Erich Fromm)نے اپنی معروف کتاب’’محبت کا فن‘‘ (The Art of Loving)میں محبت اور ملکیت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے لکھا تھا: ”نادان محبت کہتی ہے: میں تم سے محبت کرتا ہوں کیونکہ مجھے تمہاری ضرورت ہے، جبکہ پختہ محبت کہتی ہے: مجھے تمہاری ضرورت ہے کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں“۔ اس قول میں محبت کی اصل نفسیات پوشیدہ ہے۔ جب محبت میں ”ضرورت“، ”ملکیت“ اور ”ضد“ غالب آ جائے تو انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ مطلوبہ رشتہ نہ ملا تو زندگی بے معنی ہو جائے گی۔ یہی سوچ بعض اوقات انتقام، تشدد اور جرم کو جنم دیتی ہے۔ شبنم–سلیم اور سونم کے مقدمات میں یہی جذباتی شدت نمایاں نظر آتی ہے، جبکہ مرادآباد کیس میں محبت کے ساتھ دولت کی خواہش بھی شامل ہو گئی، جس نے جرم کو ایک منظم سازش میں تبدیل کر دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب محبت اخلاقی حدود اور سماجی ذمہ داری سے آزاد ہو جائے تو وہ تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ان واقعات کے پس منظر میں جنوبی ایشیا کے سماجی ڈھانچے کی پیچیدگیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ذات، برادری، گوتر، خاندانی عزت، طبقاتی فرق اور معاشی ناہمواری جیسے عوامل نوجوانوں کے جذباتی فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ فرانسیسی ماہرِ عمرانیات’’ ایمائل دورکھئیم‘‘(Émile Durkheim)کے مطابق ”معاشرہ صرف بیرونی قوت نہیں بلکہ انسانی ذہن کے اندر بھی اثر انداز ہوتا ہے“۔ یہی وجہ ہے کہ فرد جب اپنی ذاتی خواہشات اور سماجی بندشوں کے درمیان شدید کشمکش محسوس کرتا ہے تو اس کا ردِ عمل بعض اوقات غیر معمولی اور خطرناک ہو جاتا ہے۔ روہتک کے سونم کیس میں ہم گوتر شادی کے خلاف سماجی سختی اور شبنم–سلیم مقدمے میں طبقاتی تفاوت اسی کشمکش کی مثالیں ہیں۔ کئی مرتبہ خاندان اور نوجوانوں کے درمیان مکالمے کی کمی بھی نفسیاتی تنہائی پیدا کر دیتی ہے، جو بعد میں ضد، بغاوت اور انتقامی سوچ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ مقدمات اس حقیقت کو بھی واضح کرتے ہیں کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اخلاقی اور ذہنی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ شبنم ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھی، مگر اس کے باوجود وہ ایک ایسے جرم میں ملوث پائی گئی جس نے پورے ملک کو لرزا دیا۔ہندُستانی مفکرڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے ذہنی و فکری تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا: ”ذہن کی نشوونما ہی انسانی زندگی کا آخری اور سب سے بڑا مقصد ہونا چاہیے“۔ اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ اگر تعلیم کے ساتھ اخلاقی شعور، جذباتی توازن اور شخصیت سازی نہ ہو تو اعلیٰ تعلیم بھی انسان کو تباہ کن فیصلوں سے نہیں روک سکتی۔ جدید دور میں سوشل میڈیا، صارفیت اور ظاہری کامیابی کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے نوجوانوں میں فوری کامیابی اور پُرتعیش زندگی کی خواہش کو بھی بڑھا دیا ہے۔ مرادآباد ڈکیتی کیس اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں دولت کے حصول کے لیے خاندانی اعتماد کو ہی قربان کر دیا گیا۔
امریکی ماہرِ نفسیات ’’رولو مے‘‘ (Rollo May)نے لکھاتھا : ”محبت محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک فیصلہ اور ایک وعدہ ہے“۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے موجودہ معاشرہ تیزی سے فراموش کرتا جا رہا ہے۔ حقیقی محبت ذمہ داری، صبر، برداشت اور اخلاقی شعور کا نام ہے، جبکہ اندھی محبت خواہش، ضد اور نفسیاتی بے اعتدالی کی علامت بن جاتی ہے۔اسلامی فکر میں بھی محبت کو اخلاق، عقل اور حدود کے تابع رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔کے مطابق محبت صرف جذبہ نہیں بلکہ ذمہ داری اور اخلاقی شعور کا نام ہے۔ اسلامی فکر میں بھی خواہشات کو عقل اور اخلاق کے تابع رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔امام غزالیؒ کے مطابق جب خواہشات عقل پر غالب آ جائیں تو انسان اپنی تباہی کا سامان خود کرنے لگتا ہے۔اسی طرح شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؔ نے انسانی خواہشات کے بے قابو ہو جانے کو روحانی زوال سے تعبیر کرتے ہوئے کہا تھا:’’عقل عیار ہے، سو بھیس بنا لیتی ہے‘‘۔ یہ اقوال دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جذبات اگر اخلاق اور حکمت سے محروم ہو جائیں تو انسان کو تباہی کے راستے پر لے جاتے ہیں۔
ان تمام واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سنگین جرائم کا حل صرف سخت سزاؤں یا قانونی کارروائیوں میں نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی اصلاح میں بھی پوشیدہ ہے۔ خاندانی مکالمے کو فروغ دینا، نوجوانوں کی ذہنی رہنمائی، تعلیمی اداروں میں کونسلنگ کا نظام، اخلاقی تعلیم، سماجی برداشت اور جذباتی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل کو محض بغاوت یا نافرمانی سمجھنے کے بجائے ان کے جذبات اور ذہنی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی یہ شعور دینا ضروری ہے کہ حقیقی محبت ذمہ داری، احترام اور توازن کا نام ہے، نہ کہ ضد، انتقام یا دولت کے حصول کا ذریعہ۔ اگر معاشرہ عقل، اخلاق اور جذبات کے درمیان متوازن رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ایسے ہولناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
Comments are closed.