٨ ذی الحجہ منی میں حاضری اوراعمال حج کاآغاز
مفتی احمد نادر القاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن اورفریضہ ہے۔ جس کاآغاز اصلا ٨ ذ ی الحجہ سے ہوتاہے۔ جسے یوم ترویہ کہاجاتاہے۔آج کے دن حجاج کرام حج کااحرام باندھ کر نماز فجرکے بعد اپنی اپنی قیام گاہ سے منی کے لئے روانہ ہوتےہیں۔اورمنی میں پانچ نمازیں ظہر۔عصر۔مغرب ۔عشا اورفجر ادکرتے ہیں ۔جس کاوقت آن پہونچاہے۔منی ٩ ذی الحجہ نماز فجرکے بعد وقوف عرفہ کے لئے روانگی ہوگی ۔عرفہ میں شام ۔یعنی غروب آفتاب تک قیام کرناہے۔ اس کے بعد مزدلفہ کے لئیے روانہ ہوناہے۔ اوروہاں مغرب اورعشا ایک ساتھ جمع کرکے اداکرنی ہے۔ جسے جمع تاخیر کہاجاتاہے۔مزدلفہ میں رات گزارنے کے بعد ۔نمازفجر بھی مزدلفہ میں ہی۔اداکرناہے اسکے بعد جمرہ عقبی کی رمی کےلئے منی جاناہے۔ پھر وہاں سے دس ذی الحجہ کوہی حرم آناہے۔ طواف زیارت۔ سعی اورپھر قربانی ہوجانے کے بعد حلق یاقصر ۔کرناہے۔ *وادی منی* آج آٹھ ذی الحجہ ہے ۔ اسلئے ہم بات آج صرف منی کی کریں گے۔ منی وہ وادی ہے جواللہ اوربندے کی اطاعت ۔کا مظہر اورایثار وقربانی کی عظیم داستان کی گواہ ہے۔ جس نے اسے شعائر اللہ میں شامل کروادیا۔ اورجس کی تعظیم وتکریم کو تقوے کی علامت بنادیا۔”ومن یعظم شعائرالل فانھا من تقوی القلوب“۔ ایام حج میں حاجیوں کو سب سے زیادہ اسی مقام منی میں قیام کا حکم ہے۔ جو مسجدحرام سے آٹھ کلو میٹرکے فاصلے پہ واقع ہے۔ جب حاجی اس مقام پہ جاتاہے ۔تکبر اوراللہ وحدہ لاشریک کی گواہی کی فلک شغاف بندگان خدا اورملائکہ کی طرف سے بلندہوتی ہے۔ اوراس کے ساتھ پوری دنیاکے فرزندان توحید تکبیر بلندکرتےہیں۔ ”اللہ اکبر۔اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ اللہ الحمد۔ ۔یہ صرف ایک دن کا عمل نہیں ۔بلکہ پانچ دنوں تک ایک خدا۔ایک خالق ۔ اورایک مالک کی بڑائی جوتنہاعبادت وبندگی کے لائق ہےاور اس کی گواہی کے ترانے پوری کائنات میں گونجتےہیں جس کا آغاز منی کی وادی سے ہوتاہے۔یہ کوئی معمولی عمل نہیں۔ہے۔ یہ صرف سنت ابراہیمی نہیں ۔بلکہ معرکہ حق وباطل اور توحید وشرک کی جنگ میں حق اورتوحید کے غلبہ پر اللہ کی بڑائی کا اعلان ہے۔ ۔ ایک تکبیری عید ہے جس میں اللہ کے ذکر اورنام کو بلند کرنے ۔اورشرک وشیاطین کو سرنگوں کردینے کا ابدی سبق اورپیغام ہے۔اس لئے”فاذکروااللہ فی ایام معلومات “ ۔یعنی اس کی یاد میں پانچ دنوں تک تکبیرواذکار یہی کرنے ہیں۔۔وادی منی دو جان ابراہیم واسماعیل کے اپنے خالق کے آگے جبین نیاز خم کردینے کی دائمی نشانی ہے۔منی ہی وہ مقام ہے خلافت ارضی اورروئے زمین پہلے دو انسانوں آدم وحواکی ملاقات کے جذبات اورانسانی الفت وانس کوعملی جامہ پہنانے ذریعہ بنا اورمیدان عرفہ شناسائی کامقام۔منی یہ صرف ایک وادی نہیں ۔بلکہ آتش نمرود اوربنی آدم کے ازلی دشمن ابلیس کی پسائی۔کی سرزمین ہے۔جس نے بتایاکہ قیامت ابلیس چاہے کتناہی چالاک کیوں نہ ہووہ اولاد آدم کے ہاتھوں سنگسار کیاجائےگا۔وادی منی وہ نشیبی وادی ہے جہاں توحید چنگاری بھڑکی اورجہان شرک اوراوثان پرستوں کے محلات کو خاکسترکرگئی۔ جہاں نورکی چمکی اورتجلیات ربانی کاظہورہوا اورپورے بقعہ ارض کو منورکرگیا۔اس وادی نے بتایا کہ آج یہاں سے تکبیر بلندہواہے تو قیامت آغازبلندی تکبیریہیں سےہوگا ۔یہی وجہ ہےکہ حجاج اپنے عمل حج کا آغاز یہیں سے کرتےہیں۔اللہ نے توحیدی مشن کاآغاز یہیں سے فرمایا اوریہ دنیاکے کونےکونے تک پہونچے گا۔ان شاء اللہ ۔ابھی رکئیے اس پیغام کودنیاکے ہرکچے پکے مکان تک پہونچناہے:”نورتوحیدکااتمام ابھی باقی ہے“ وقوف عرفہ۔ اورعرفہ کی کہانی کل ۔ان شاء اللہ ۔
Comments are closed.