وفاق المدارس کی ضرورت
محمد نفیس خان ندوی
گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سطح پر اوڑ خصوصاً اتر پردیش میں، مدارسِ اسلامیہ کے حوالے سے جو فضا بنائی جا رہی ہے، وہ اہلِ ایمان کے لیے تکلیف اور اضطراب کا باعث ہے۔ مختلف مقامات پر مدارس کے خلاف کارروائیاں، قانونی پیچیدگیاں، انتظامی دباؤ اور بعض جگہوں پر بلڈوزر کارروائیوں نے یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ مدارس کو اپنے تحفظ، بقا اور مؤثر نمائندگی کے لیے ایک مضبوط اور متحدہ پلیٹ فارم کی اشد ضرورت ہے۔
مدارسِ اسلامیہ صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ علمی، تہذیبی، دینی اور اخلاقی ورثے کے امین و محافظ ہیں۔ یہی وہ مراکز ہیں جو مسلمانوں کی دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور ان کی ملی شناخت کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں مذہب محض انفرادی زندگی تک محدود نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی میدانوں میں بھی اس کے اثرات بالکل نمایاں ہیں۔ مذہبی معاملات اکثر سیاسی مباحث کا حصہ بنتے ہیں اور پھر مختلف مذہبی طبقات کے درمیان فکری و نظریاتی کشمکش پروان چڑھتی ہے جو اکثر تشدد کی راہ اختیار کرجاتی ہے..
ایسے ماحول میں مدارس کا تحفظ اور استحکام صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ ایک ملی ضرورت بن جاتا ہے.
یاد رہے! صدیوں سے قائم ان دینی اداروں کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ انفرادی سطح پر کرنا نہ صرف دشوار ہے بلکہ بعض اوقات نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے اجتماعی جد وجہد ہی ضروری ہے..
چنانچہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام مرکزی مدارس باہمی تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھیں، اور ایک مضبوط وفاق کے قیام کو یقینی بنائیں…
ایک ایسا وفاق جو :
– مدارس کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو فروغ دے۔
– قانونی معاملات میں رہنمائی اور ضروری معاونت فراہم کرے۔
– حکومت اور انتظامیہ کے سامنے مدارس کا مشترکہ اور مؤثر موقف پیش کرے۔
– مدارس کے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم اور قانونی جدوجہد کرے۔
– تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور نصابی و انتظامی اصلاحات میں معاون بنے۔
– مدارس کا مستند ڈیٹا مرتب کرے اور ان کی حقیقی تعداد و خدمات کو منظم انداز میں پیش کرے۔
– قدرتی آفات، قانونی مشکلات یا ہنگامی حالات میں مدارس کی فوری مدد کا نظام قائم کرے۔
– علماء، اساتذہ اور منتظمین کی تربیت اور صلاحیت سازی کا اہتمام کرے۔
– جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مدارس کا صحیح تعارف عوام تک پہنچائے۔
– مختلف صوبوں اور علاقوں کے مدارس کے درمیان تجربات کے تبادلے کا مؤثر نظام قائم کرے۔
اس کے علاوہ اس وفاق کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی، ہوگی وہ فرضی، غیر معیاری اور غیر قانونی اداروں کی نشاندہی کر سکے گا، جس سے اصل مدارس کی ساکھ محفوظ رہے گی۔
اس کے نتیجے میں عوام، میڈیا اور سرکاری اداروں کے سامنے مدارس کا صحیح اور حقیقی تعارف پیش کیا جا سکے گا۔
آج مدارس کے بارے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں۔ ایک منظم وفاق ہی علمی، قانونی اور مؤثر انداز میں ان کا جواب دے سکتا ہے، مدارس کی قومی و ملی خدمات کو اجاگر کر سکتا ہے اور یہ واضح کر سکتا ہے کہ مدارس ملک کے ذمہ دار، پر امن اور تعمیری شہریوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس اپنے مسلکی، علاقائی اور انتظامی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملت کی خیرخواہی کی طرف پیش قدمی کریں، اور قوم کے مشترکہ مفادات اور ترقی کے لیے ایک مضبوط وفاقی نظام قائم کریں۔
اتحاد، تنظیم اور مشترکہ حکمتِ عملی ہی موجودہ چیلنجز کا مؤثر جواب اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
(امیٹھی)
5/جون 2026
Comments are closed.