علم کی بستی پر ظلم : رام پور مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی بلڈوزر کارروائی پر لجنہ علمیہ کا احتجاجی بیان
ریاض سعودی عرب سے خصوصی رپورٹ
احتجاجی بیان برائے لجنہ علمیہ – تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم، ریاض
عنوان: مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور پر بلڈوزر کارروائی : ایک علمی و انسانی سانحہ
بیان
الحمدُ للّٰہِ ربِّ العالمین، والصلاةُ والسلامُ علی سیدِ المرسلین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔
معزز اراکینِ لجنہ علمیہ، محترم اساتذہ، فضلاء، اور علم و دانش کے قدردان حضرات۔
آج ہم ایک ایسے سانحے پر گفتگو کے لیے جمع ہوئے ہیں جس نے نہ صرف ہندوستان کے علمی حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ پوری دنیا کے انصاف پسند انسانوں کے دلوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ رام پور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی جو علم، تحقیق اور روشن خیالی کی علامت ہے ،اس پر حالیہ بلڈوزر کارروائی کا فیصلہ ایک ایسا قدم ہے جسے اخلاقی، انسانی اور علمی زاویے سے کسی طور درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ ادارہ صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں ہے؛ یہ مولانا محمد علی جوہرؒ جیسے عظیم مجاہدِ آزادی کے نام پر قائم ایک علمی ورثہ ہے۔ یہاں ہزاروں طلبہ نے علم کی شمع روشن کی، سینکڑوں اساتذہ نے اپنی زندگیاں تعلیم کے لیے وقف کیں، اور یہ یونیورسٹی ایک پورے خطے کے لیے امید کا چراغ ہے۔
لیکن افسوس کہ آج اس چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ علم کی بستی پر طاقت کے بلڈوزر چلائے جانے کی ظالمانہ اقدام کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ کتابوں کے شہر کو مٹی میں ملانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور یہ سب کچھ ایسے انداز میں ہورہا ہے کہ انصاف، شفافیت اور انسانی وقار کے بنیادی اصول مجروح ہو کر رہ گئے ہیں۔
ہم یہاں کسی سیاسی بحث کے لیے جمع نہیں ہوئے ۔ ہمارا مقصد کسی حکومت یا جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں۔ ہم صرف ظلم کے خلاف کھڑے ہیں، اور علم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ:
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ لوگوں کے حقوق اور ان کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
انصر أخاک ظالماً أو مظلوماً اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ مظلوم کی مدد تو ظاہر ہے، اور ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔
ہم اسی نبوی تعلیم کی روشنی میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ:
ہم علم پر ہونے والے ہر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
ہم تعلیمی اداروں کے خلاف طاقت کے استعمال کو اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں۔
ہم انصاف، شفافیت اور قانونی عمل داری کے بغیر کی جانے والی کارروائیوں کو انسانی اقدار کے خلاف سمجھتے ہیں۔
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی پر ہونے والی کارروائی کے فیصلہ نے ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ صرف ایک عمارت گرانے کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ علم کی حرمت کو ٹھیس پہنچانے کی ناجائز کوشش ہے ۔ یہ تعلیم کے وقار پر ضرب ہے۔ یہ قوم کے مستقبل پر حملہ ہے۔
ہم لجنہ علمیہ – تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم، ریاض – کی جانب سے یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ:
علم کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تعلیمی اداروں کو سیاسی تنازعات کا میدان نہیں بننا چاہیے۔
طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے، بگڑتے ہیں۔
ہم عالمی انسانی حقوق کے اداروں، علمی تنظیموں، اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تعلیمی اداروں کی حرمت آئندہ کبھی پامال نہ ہو۔
آخر میں ہم دعا کرتے ہیں:
اے اللہ! علم کے چراغوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! مظلوموں کو انصاف عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے معاشروں کو عدل، امن اور احترامِ انسانیت کا گہوارہ بنا دے۔
وآخر دعوانا أن الحمدُ للّٰہِ ربِّ العالمین۔
Comments are closed.