ہڑتال اور اسلامی نقطۂ نظر

 

شمع فروزاں

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف الله رحمانی دامت برکاتہم

صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

 

احتجاج جمہوری نظام میں اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کا راستہ بھی ہے اوراگر احتجاج و مظاہرہ حدود و قیود سے آزاد ہو جائے ، تو سماج کے لئے نقصاندہ اور مضرت رساں بھی ہے ، ہڑتال کا اصل مقصد ظلم و ناانصافی پر احتجاج کرنا ہے ، ظلم پر احتجاج اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے کسی بات پر ناراضگی کا اظہار یقیناً انسان کے بنیادی حقوق میں سے ہے ، اسلام بھی اس حق کو تسلیم کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

لاَ یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَہْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَنْ ظُلِمَ وَکَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا (النساء : ۱۴۸ )

اللہ بُری بات کے زور سے کہنے کو پسند نہیں کرتے ، سوائے اس شخص کے جس پر ظلم ہوا ہو ، اور اللہ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے ظلم و نا انصافی کے خلاف مناسب طریقہ پر احتجاج ومظاہرہ کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے ، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں عدالت سے چارہ جوئی ، احتجاجی جلسہ ، پرامن احتجاجی ریلی تو شامل ہے ہی ، آج کے ذرائع ابلاغ کے پس منظر میں اخبارات ، ریڈیو اور دوسرے ذرائع سے اپنے موقف کی وضاحت اور حکومت کے ناروا رویہ سے اختلاف کا اظہار بھی اس میں داخل ہے ، اسی طرح حکومت سے نمائندگی اور دوسرے قانونی ذرائع سے اپنی خفگی اور برہمی کا اظہار بھی اس میں شامل ہے ۔

احتجاج کے لئے ایسے ذرائع کا اختیار کرنا ’ جس سے عام لوگوں کو نقصان نہ پہنچے ‘ کی بھی گنجائش ہے ، حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک صاحب خدمت ِاقدس ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا ایک پڑوسی ہے ، جو مجھے اذیت پہنچاتا رہتا ہے ، آپ ﷺنے اس سے ارشاد فرمایا کہ اپنا سامان نکال کر راستہ پر رکھ دو ، اس شخص نے اپنا سامان لیا اور راستہ پر ڈال دیا ، جو بھی وہاں سے گذرتا ، استفسارِ حال کرتا ، وہ شخص کہتا کہ میرا پڑوسی مجھے اذیت دیتا ہے ، اس لئے میں نے یہ سامان باہر نکال رکھا ہے ، گذر نے والا کہتا : اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ، اللہ اسے رُسوا کرے ، آخر پڑوسی آیا اور اس نے درخواست کی کہ اپنے گھر لوٹ چلو ، اب میں تم کو کبھی اذیت نہیں دوں گا ، (تفسیر ابن کثیر : ۱ ؍ ۵۷۱ ) یہ بھی گویا احتجاج کا ایک طریقہ ہے ، فقہاء نے بیوی کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ اگر مہر فوراً قابل ادائیگی تھا اور شوہر نے ادا نہیںکیا تو جب تک شوہر مہر ادا نہ کردے عورت کے لئے یہ درست ہے کہ وہ شوہر کو اپنے نفس پر قدرت نہ دے ، یا شوہر کے گھر نہ جائے ، اس کے باوجود اس کا حق نفقہ شوہر سے متعلق رہے گا ، یہ بھی گویا احتجاج ہی کی ایک صورت ہے ۔

آج کل احتجاج کی اکثر صورتیں ایسی ہیں جو بیک وقت کئی طبقوں کے لئے سخت نقصان اور مضرت کا باعث ہوتی ہیں اور وہ قومی اور اجتماعی نقصان کا سبب بنتی ہیں ، مثلاً یہی گاڑی کی ہڑتال ہے ، یونین ہڑتال کا فیصلہ کرتی ہے ؛ لیکن ہڑتال میں جو ڈرائیور اور متعلقین شریک ہوتے ہیں ، وہ عام طور پر نہایت قلیل آمدنی کے اُصول پر ان کی زندگی گذرتی ہے ، خود ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آجاتی ہے ؛ لیکن اجتماعی فیصلہ کی وجہ سے وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتے ، دوسرا نقصان کاشت کاروں اور صنعت کاروں کا ہو تا ہے ، مال کی پیدائش جاری رہتی ہے اور اس کی ترسیل اور فروخت رُکی رہتی ہے ، بعض زراعتی اشیاء تو ایسی ہوتی ہیں کہ سڑنے لگتی ہیں اور بالکل ہی ضائع ہو کر رہ جاتی ہیں اور ان دونوں سے بڑھ کر نقصان عوام کا ہوتا ہے ؛ چوں کہ بازار میں طلب بڑھ جاتی ہے اور سامان کی رسد کم ہو جاتی ہے ؛ اس لئے قیمتیں غیر متوازن ہو جاتی ہیں ، دو روپے کی چیز سو روپے میں فروخت ہوتی ہیں ، اور لوگ اسے لینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

اسلام کے نظام تجارت میں اس بات کو ملحوظ رکھاگیا ہے کہ قیمتوں میں توازن کو متاثر نہ ہونے دیا جائے ، اسی لئے ’’ احتکار ‘‘ سے منع کیا گیا ، احتکار کے معنی ذخیرہ اندوزی کے ہیں ، یعنی تاجر اشیاء ضروریہ کو خرید کر روک لے ، بازار میں نہ لائے ؛ تاکہ مصنوعی قلت پیدا کی جا سکے ، اس طرح قیمتیں بڑھ جائیں اور دو کی چیز دس میں فروخت کی جائے ، رسول اللہ ﷺ نے اس طریقہ کی سخت مذمت فرمائی ہے اور شدت سے منع کیا ہے ، اسی طرح حدیثوں میں ’’ تلقیٔ جلب ‘‘ سے منع فرمایا گیا ہے ، ’’ تلقیٔ جلب ‘‘ کا مطلب یہ ہے پہلے زمانہ میں عام طور پر ایک شہر سے دوسرے شہر تجارتی قافلے جایا کرتے تھے ، یہی ایک مارکٹ سے دوسری مارکٹ میں سامان کے پہنچنے کا ذریعہ تھا ، ہوتا یہ تھا کہ جب کسی شہر کو کوئی قافلہ آنے والا ہوتو چند سرمایہ کار شہر سے باہر نکل کر پہلے سامان خرید کرلیتے اور کھلے بازار میں سامان پہنچ نہیں پاتا ، اس طرح اشیائِ ضرورت پر چند تاجروں کی اجارہ داری قائم ہوجاتی ، اور گرانی میں اضافہ ہوتا ، یہ بھی ایسی صورت ہے جو قیمتوں کے فطری توازن کو متاثر کردیتی ہے ، اس لئے آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ، اسی طرح کی ایک اور صورت بھی ہے جس سے منع فرمایا گیا ہے اور وہ یہ کہ دیہات کے لوگ اپنی پیداوار فروخت کر نے کے لئے شہر آتے اور جلد واپس جانا چاہتے ہیں ، اس لئے وہ اپنا سامان نسبتاً سستا فروخت کرے : عوام کو یہ فائدہ ہوتا کہ سامان سستا ملتا اور کاشت کاروں کو یہ فائدہ ملتا کہ درمیانی شخص اور بچو لئے کے نہ رہنے کی وجہ سے ان کو پوری قیمت براہِ راست مل جاتی ، وہ دیہات سے مال لانے والوں کو کہتے تھے کہ تو اپنا مال ہمارے حوالے کردے ، ہم کچھ دنوں ٹھہر کر اسے بہتر قیمت میں فروخت کردیں گے ، مقصد یہ ہوتا تھا کہ قیمتوں کے فطری اُتار کو روکا جائے ، اس سے بھی آپ ﷺ نے منع فرمایا ، جس کو حدیث میں ’’ بیع حاضر للبادي‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

ان احکام سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام نے طلب و رسد میں توازن بر قرار رکھنے اور قیمتوں میں غیر فطری اُتار چڑھاؤ کو روکنے کی کیا کچھ تدبیریں کی ہیں ؟ ذرائع مواصلات یاکسی خاص شعبہ کی تجارت کی ہڑتال سے سب سے بڑا نقصان یہی ہوتا ہے کہ اشیاء کی قیمتیں غیر متوازن ہوجاتی ہیں ، جہاں سامان کی پیدائش ہوتی ہے وہاں کاشت کاروں اور صنعت کاروں کو اصل لاگت بھی حاصل نہیں ہوتی اور دوسرے مقامات پر عوام کو وہی چیز اصل قیمت سے دو چند ؛ بلکہ کئی چند قیمتوں میں خرید کرنا پڑتا ہے ، یہ بہت بڑا اجتماعی نقصان اور قومی خسارہ ہے ۔

اس سے زیادہ نازک صورتِ حال اس وقت پیدا ہو جاتی ہے جب لازمی خدمات کے کسی شعبہ میں احتجاج ہوتا ہے ، جیسے ڈاکٹروں کی ہڑتال ، پوسٹ آفس کی ہڑتال و غیرہ ، ان شعبوں سے انسان کی ناگزیر ضروریات متعلق ہیں ، جن سے عوام کو محروم رکھنا نہایت ہی شقاوتِ قلبی اور ظلم کی بات ہے ، اسلام میں انسان کی لازمی ضروریات کی بڑی اہمیت ہے ؛ بلکہ خدا کی عبادت اور بندگی پر بھی اس کو ترجیح حاصل ہے ، اگر کوئی شخص نماز کی حالت میں ہو اوراندیشہ ہو کہ اگر وہ نماز نہیں توڑے گا تو کوئی شخص جل یا ڈوب جائے گا ، یا گر جائے گا ، تو نماز کا توڑنا اور اس شخص کی مدد کرنا واجب ہے ، کم و بیش یہی احکام مال و عزت و آبرو کی حفاظت سے متعلق بھی ہیں ، اس لئے ازراہِ احتجاج عام لوگوں کو لازمی خدمات سے محروم کردینا قطعاً جائزنہیں ۔

احتجاج کی جو روایت ہمارے سماج میں پڑ چکی ہے ، اس میں دونوں پہلو تکلیف دہ ہیں ، احتجاج کرنے والے اوّل تو ناروا مطالبات پر اصرار کرتے ہیں ، دوسرے احتجاج کے لئے تکلیف دہ اور اجتماعی سطح پر مضرت رساں طریقۂ کار اختیار کرتے ہیں ، دوسری طرف حکومت کا رویہ بھی ناقابل فہم ہوتا ہے ، آخر حکومت صلح کرتی ہے ’’ لو اور دو ‘‘ کی بنیاد پر معاملہ طے کرتی ہے ؛ لیکن ’’ بعد از خرابی بسیار ‘‘ ، اس طرح خود حکومت بھی عوام کو نقصان اور تکلیف میں مبتلا رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے ، اسلام کا اُصول یہ ہے کہ ضرر و نقصان بہر قیمت دفع کیا جائے ’’ الضرر یزال‘‘ نیز اسلام کی نگاہ میں ایک شخص کے نقصان کے مقابلہ ایک جماعت اور ایک طبقہ کے نقصان کے مقابلہ پورے سماج کا نقصان زیادہ اہم اور زیادہ قابل لحاظ ہے ، فقہاء لکھتے ہیں : ’’ إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمہما ضررا بارتکاب أخفہما (الاشباہ : ۴۴ ) احتجاج ایک جائز حق ہے ؛ لیکن ضروری ہے کہ اس کے لئے کچھ حدد و قیود ہوں ، وہ ایسا عفریت نہ بن جائے کہ غریب عوام کو نگل جائے اور قوم و ملک کو اجتماعی سطح پر ضرر پہنچنے کا باعث بن جائے !

 

Comments are closed.