انڈیا اتحاد سے کانگریس کے لیے کیا ہیں امکانات؟
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
بھارت کی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلسل انتخابی کامیابیوں کے ذریعے اپنی سیاسی برتری کو مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں اپنی بقا اور مؤثر سیاسی کردار کے لیے نئے راستے تلاش کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں انڈیا اتحاد (INDIA Alliance) کی حالیہ میٹنگ نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا یہ اتحاد مستقبل میں بی جے پی کے مقابلے میں کوئی مضبوط متبادل بن سکے گا یا نہیں۔
انڈیا اتحاد 2023 میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد بی جے پی کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا۔ اس کے سرخیل نتیش کمار سب سے پہلے اس سے الگ ہوئے ۔ انہیں کی پیروی راشٹریہ لوک دل کے جینت چودھری نے کی ۔ دونوں نے ایں ڈی اے کی شان اور طاقت بڑھائی ۔ گزشتہ چند برسوں میں اتحاد کے اندر کئی تضادات اور اختلافات سامنے آئے۔ مختلف ریاستوں میں اتحاد میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑتی رہیں، جس کے باعث اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور کانگریس ایک دوسرے کی حریف رہیں، ممتا بنرجی نے مغربی بنگال میں انڈیا اتحاد کو کھڑا ہی نہیں ہونے دیا ۔ اسی طرح عام آدمی پارٹی نے دہلی میں تو کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا لیکن پنجاب میں دونوں کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوا، جبکہ کیرالہ میں کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار رہیں۔ ان حالات نے انڈیا اتحاد کو ایک مضبوط سیاسی محاذ کے بجائے ایک عارضی انتخابی بندوبست کے طور پر پیش کیا۔اس کے باوجود حالیہ اجلاس میں 23 جماعتوں کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ اپوزیشن ابھی بھی ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔
اپوزیشن کے کئی علاقائی لیڈران اور جماعتوں کو گزشتہ برسوں میں شدید انتخابی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جماعت کو مشکلات کا سامنا ہے، مہاراشٹر میں شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کی سیاسی قوت کمزور ہوئی ہے ، جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں عام آدمی پارٹی بھی دباؤ میں نظر آتی ہے۔ ان حالات نے کانگریس کو دوبارہ قومی اپوزیشن کی مرکزی قوت بننے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ماضی میں علاقائی جماعتیں کانگریس کی قیادت کو چیلنج کرتی تھیں اور بعض حلقوں میں یہ مطالبہ بھی اٹھتا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کسی علاقائی رہنما کو سونپی جائے، لیکن اب صورت حال تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سیاسی تبدیلی میں کانگریس کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا ایک اہم موقع ملا ہے۔
اگرچہ کانگریس نے بھی کئی ریاستوں میں شکست برداشت کی ہے، لیکن جنوبی بھارت میں اس کی موجودگی مضبوط ہوئی ہے۔ کیرالہ میں حکومت سازی اور تمل ناڈو میں اقتدار کا حصہ بننے کے بعد کانگریس کی سیاسی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا اتحاد کے اندر اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔کانگریس کے امکانات کا سب سے اہم پہلو راہل گاندھی کی سیاسی سرگرمیاں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں راہل گاندھی نے خود کو ایک زیادہ فعال اور جارح اپوزیشن رہنما کے طور پر پیش کیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ذات پر مبنی مردم شماری، تعلیمی مسائل، کسانوں کے مسائل اور دیگر عوامی موضوعات پر ان کی مسلسل مہم نے انہیں اپوزیشن سیاست کا نمایاں چہرہ بنا دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کے اندر فیصلہ سازی کے عمل میں بھی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ مختلف ریاستوں میں نئی قیادت کو آگے لانے اور تنظیمی اصلاحات کی کوششوں نے پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ اگر یہ عمل جاری رہتا ہے تو کانگریس دوبارہ ایک متحرک اور منظم جماعت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔انڈیا اتحاد کے تناظر میں بھی راہل گاندھی کا کردار اہم ہے، کیونکہ وہ مختلف نظریات اور علاقائی مفادات رکھنے والی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض رہنماؤں نے کانگریس کو اتحاد کو جوڑے رکھنے والی "گوند” قرار دیا ہے۔
کانگریس کے لیے انڈیا اتحاد تبھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جب یہ صرف رہنماؤں کی ملاقاتوں تک محدود نہ رہے بلکہ عوامی سطح پر ایک مؤثر سیاسی تحریک میں تبدیل ہو۔موجودہ سیاسی حالات جے پرکاش نارائن، منڈل یا انا تحریک جیسے کسی بڑے آندولن کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ اس وقت وہ تمام عوامل موجود ہیں جیہوں نے اول الذکر تحریکوں کو کھڑا کیا تھا ۔ انڈیا اتحاد کو زمین پر اتر کر ان بنیادی نکات پر توجہ دینی ہوگی :
- مشترکہ سیاسی ایجنڈاے کی تیار ی۔
- ریاستی سطح پر سیٹوں کی تقسیم میں اتحاد کا مظاہرہ ۔
- ایک دوسرے کے خلاف عوامی بیانات سے گریز۔
- پیپر لیک، نیٹ امتحان ، بے روزگاری ، مہنگائی ، ایس آئی آر، ڈی لمیٹیشن جیسے عوامی مسائل پر پورے ملک میں مشترکہ تحریکیں چلائی جائیں ۔ بی جے پی ترنمول کی طرح دوسری سیاسی جماعتوں کو توڑ کر ان کے ملبے سے اپنی عمارت تعمیر کرنا چاہتی ہے ۔ وہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی بل کو پاس کرا سکتی ہے ۔
یہ سلسلہ آج شروع کرنا ہوگا تبھی اس بات کا امکان ہےکہ 2029 کے انتخابات تک عوام اس اتحاد کو بی جے پی کا متبادل ماننے لگیں ۔ اگر یہ شرائط پوری نہ ہو سکیں تو اتحاد محض ایک علامتی سیاسی پلیٹ فارم بن کر رہ جائے گا۔ اور اس میٹنگ کی حیثیت چائے پارٹی سے زیادہ نہیں رہ جائے گی ۔
۔
اگرچہ موجودہ حالات کانگریس کے لیے مواقع پیدا کر رہے ہیں، لیکن چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کئی ریاستوں میں کانگریس کی تنظیمی بنیاد کمزور ہو چکی ہے۔ اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال اور اوڈیشہ جیسی بڑی ریاستوں میں پارٹی کو اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔اسی طرح علاقائی جماعتیں بھی اپنی سیاسی خودمختاری چھوڑنے پر آسانی سے آمادہ نہیں ہوں گی۔ سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور دیگر جماعتیں اپنے اپنے علاقوں میں مضبوط حیثیت رکھتی ہیں اور وہ مکمل طور پر کانگریس کی قیادت قبول کرنے سے ہچکچا سکتی ہیں۔ اس کا کانگریس کو راستہ نکالنا ہوگا ۔ مزید برآں، بی جے پی کی مضبوط تنظیم، وسائل اور انتخابی حکمت عملی بھی اپوزیشن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت اور پارٹی کا وسیع تنظیمی نیٹ ورک ابھی بھی بی جے پی کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
2029 کے عام انتخابات سے پہلے ہونے والے اسمبلی انتخابات کانگریس اور انڈیا اتحاد کے لیے ایک بڑا امتحان ہوں گے۔اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور گجرات کے انتخابات یہ طے کریں گے کہ اپوزیشن واقعی ایک متبادل سیاسی قوت بن سکتی ہے یا نہیں۔خصوصاً اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے تعلقات انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر دونوں جماعتیں متحد ہو کر مؤثر کارکردگی دکھاتی ہیں تو اس کا قومی سیاست پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح کرناٹک، تلنگانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کی کارکردگی بھی اس کی قومی قیادت کے دعوے کو مضبوط یا کمزور کر سکتی ہے۔ اسے کرناٹک ، تلنگانہ ، ہماچل کی اپنی سرکاروں کو بچانا ہوگا ۔ جبکہ پنجاب ، چھتیس گڑھ ، راجستھان ، اترا کھنڈ اور مدھیہ پردیش میں جیت حاصل کرنی ہوگی ۔ کانگریس کو گجرات میں بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا ۔ موجودہ حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے بیشتر علاقائی مراکز کمزور ہونے کی وجہ سے کانگریس کے پاس دوبارہ قومی سیاست کے مرکز میں آنے کا موقع ہے۔
یہ موقع صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ دوسری جماعتیں کمزور ہوئی ہیں، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ کانگریس اب خود کو ایک زیادہ متحرک اور جارح سیاسی جماعت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تاہم صرف مواقع کافی نہیں ہوتے۔ کانگریس کو اپنی تنظیم مضبوط کرنی ہوگی، عوامی تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم رکھنا ہوگا۔
انڈیا اتحاد کی حالیہ میٹنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اب بھی بی جے پی کے مقابلے میں ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کرتی ہیں۔لیکن دو ماہ بعد دوبارہ ملنے کے فیصلے نے ان کی سنجیدگی پر سوال کھڑا کیا ہے ۔ ایس آئی آر کے مسئلہ پر ثیف جسٹس کو خط لکھنے کی بات بھی مضحکہ خیز لگتی ہے ۔ یہ خط لکھنے کے بجائے عوامی تحریک چلانے کا مسئلہ ہے ۔
کانگریس کو اتحادیوں سے امید کرنے کے بجائے اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پانے پر توجہ دینی چاہئے ، ساتھ ہی اسے اتحادی جماعتوں کے ساتھ بہتر تال میل پیدا کرکے عوامی مسائل پر مستقل جدوجہد کرنی ہوگی۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو انڈیا اتحاد نہ صرف اس کے لیے ایک سیاسی موقع ثابت ہو سکتا ہے بلکہ 2029 کے عام انتخابات میں ایک مضبوط قومی متبادل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
Comments are closed.