اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے!

 

نور اللہ نور

دینِ اسلام اس قدر کامل، مکمل اور خوبصورت ہے کہ ایک درست فہم و فراست کا حامل شخص اس پر فریفتہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کا خدائی منشور، پیغمبرِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمدہ تعلیمات اور اس کا عالمی مسائل کے لیے شافی حل ہونا ہی اس پر فریفتگی کا اصل باعث ہے۔

اسلام نے اپنی ہمہ گیر تعلیمات اور دلکش طریقہِ تعلیم سے ناخواندہ اور درماندہ افراد کو ہمیشہ اپنی طرف مائل کیا ہے؛ اس کی منظم تعلیم کی جذب و کشش کے سامنے عالی دماغ، روشن خیال اور نہایت متکبر و مغرور ہستیوں نے بھی شکست تسلیم کی ہے اور اس کے دامنِ رحمت میں پناہ لی ہے۔

اس حقیقت پر حبشہ کے بلالؓ کے دل ہارنے کی داستان ہنوز تابندہ ہے، اور اس کی بقا کی خاطر معاذؓ و معوذؓ کی جاں نثاری آج بھی زبانِ زدِ خاص و عام ہے۔ اسلام کا یہ پائیدار شجرِ سایہ دار آج بھی گم گشتہ راہوں کو چھاؤں فراہم کر رہا ہے اور اس کی یہ تابندگی تا قیامت سلامت رہے گی۔

اسلام کے ارتقا اور انسانوں تک اس کی رسائی کی راہ میں ہمیشہ بہت سے روڑے اٹکائے گئے۔ اس کی تعلیمات کو فرسودہ، متزلزل اور ناکافی ثابت کرنے کی بے دریغ کوششیں کی گئیں، مگر اسلام اپنے منظم نظامِ زندگی، مستحکم اصولوں اور پائیدار راہنمائی کی وجہ سے ابتداء ہی سے انسانی دنیا پر حاوی رہا۔

وسطی صدی اور حالیہ برسوں میں نئے نئے نظریات اور بودی (کمزور) تحریکوں کے ذریعہ اسلام پر یلغار کی گئی، مگر وہ کوہِ گراں کی طرح ثابت قدم رہا۔ میڈیا کے منفی پروپیگنڈوں اور تخریبی عوامل کی بہتات کے باوجود ایک امریکی رپورٹ کے مطابق عیسائیت کے بعد دنیا کا سب سے زیادہ مقبول اور تیزی سے پھیلنے والا مذہب، مذہبِ اسلام ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سالانہ تقریباً دو ہزار لوگ (صرف ایک مخصوص دائرے میں) دامنِ اسلام میں پناہ لیتے ہیں۔

"نیویارک رپورٹ” کے مطابق امریکہ میں مقیم نو مسلموں کی تعداد کل مسلم آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے، جو دامنِ اسلام سے وابستہ ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایک فرانسیسی رپورٹ کے مطابق وہاں نو مسلمین کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہو چکی ہے، جو اسلام کی جامعیت، ہمہ جہتی اور ایک مکمل ضابطہِ حیات ہونے پر واضح دلیل ہے۔

حالیہ دنوں میں اسلام کے دامن میں پناہ لینے والی عظیم عالمی شخصیات کے اعتراف و اقرار نے اس کی جامعیت اور حقانیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ ان کے قبولِ اسلام نے دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اس دین میں قطع و برید کی تمام انسانی کوششیں رائگاں اور بے سود رہیں گی۔

ڈچ (نیدرلینڈز) کے ایک مشہور فٹبالر نے 2023 میں قبولِ اسلام کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"تلاشِ حق کا میرا طویل سفر اسلام کے سائے میں آکر مکمل ہوا۔ اس کی تعلیمات میں مساوات، اخوت اور توحید کا عنصر اس قدر نمایاں ہے جس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا اور یہی میرے قبولِ اسلام کی وجہ بنا۔”

اسی طرح 2023 ہی میں مشرف بہ اسلام ہونے والے ایک مشہور امریکی فائٹر اپنے قبولِ حق کی تفصیل کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

"قبولِ حق سے قبل میری زندگی اضطراب، خوف اور بے کیفی کا شکار تھی، مگر اسلام کی منظم تعلیمات اور انسانی زندگی کو خوب تر بنانے والے اس کے معیاری اصولوں نے میری زندگی کو مکمل طور پر پُرسکون کر دیا۔”

یہ تو صرف چند واضح اور نمایاں واقعات ہیں، ورنہ اس کے علاوہ بھی لاکھوں ایسی زندگیاں ہیں جنہیں اسلام نے سنوارا ہے اور دنیا کے سامنے اپنی حقانیت و ابدیت کو تسلیم کرایا ہے۔

ہندوستان کی موجودہ فضا سے ہر شخص واقف ہے، مگر ایسے ناگفتہ بہ حالات میں بھی (مثال کے طور پر) محمد علی اسلام کے سحر میں گرفتار ہو گئے۔ ہزاروں مخالفتوں، بے جا الزامات اور مسلسل میڈیا ٹرائل کے باوجود وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور اپنے اسلام کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ میڈیا کے سامنے تمام تر خوف اور تردد سے بے پروا ہو کر اپنے ایمان کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ تمام حقائق اور شواہد اس مشہور شعر کی عملی اور مکمل تشریح ہیں!

Comments are closed.