مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہن کی خاموش پسپائی

 

ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

انسانی تمدن کی تاریخ دراصل ان آلات کی تاریخ بھی ہے جن کے ذریعے انسان اپنی محدود قوتوں کو وسعت دیتا آیا، پہیے نے اس کی رفتار بڑھائی، دوربین نے نگاہ کی رسائی کو آسمانوں تک پہنچایا، چھاپہ خانے نے حافظے کو کتابوں میں محفوظ کیا، صنعتی مشینوں نے جسمانی مشقت کا بوجھ اٹھایا اور کمپیوٹر نے حساب وشمار کی رفتار کو انسانی استعداد سے کہیں آگے نکال دیا؛ لیکن مصنوعی ذہانت ان تمام ایجادات سے بنیادی اعتبار سے مختلف ہے، گزشتہ آلات انسان کے اعضا کی توسیع تھے، مصنوعی ذہانت پہلی ایسی ہمہ گیر ٹیکنالوجی ہے جو اس کے ذہن کے علاقے میں داخل ہو رہی ہے، اب مشین صرف بھاری سامان نہیں اٹھاتی، وہ عبارت لکھتی، دلیل قائم کرتی، معلومات چھانٹتی، خلاصہ مرتب کرتی، تصویر تخلیق کرتی، قانونی مسودہ بناتی، بیماریوں کی نشان دہی کرتی اور انسان کی طرف سے سوالات کے جوابات بھی وضع کرتی ہے، اس تبدیلی کی رفتار بھی غیر معمولی ہے، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی AI Index Report 2026 کے مطابق جنریٹو مصنوعی ذہانت صرف تین برس میں دنیا کی تقریباً 53 فی صد آبادی تک پہنچ گئی، جو پرسنل کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ابتدائی اشاعت سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہے، اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 88 فی صد ادارے کسی نہ کسی درجے میں مصنوعی ذہانت استعمال کر رہے ہیں اور یونیورسٹی کے ہر پانچ میں سے چار طلبہ جنریٹو AI سے فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ اعداد محض نئی مصنوعات کی مقبولیت کا اظہار نہیں؛ یہ اس بات کا اعلان ہیں کہ انسان کے سیکھنے، لکھنے، فیصلہ کرنے اور علم تک پہنچنے کا طریقہ چند ہی برسوں میں بڑی تشکیلی تبدیلیوں سے گزر چکا ہے۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کتنے کام انجام دے سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ جن کاموں کو وہ انجام دے رہی ہے، ان سے دست بردار ہونے کے بعد انسانی ذہن پر کیا گزرے گی، نفسیات میں Cognitive Offloading (ذہنی بوجھ کی منتقلی) کی اصطلاح عرصے سے معروف ہے، جس سے مراد ذہنی محنت کو کسی بیرونی وسیلے کے حوالے کر دینا ہے، انسان نے کاغذ پر لکھ کر حافظے کا بوجھ کم کیا، کیلکولیٹر کے ذریعے حساب کو مشین کے سپرد کیا، موبائل فون نے نمبروں کو یاد رکھنے کی ضرورت گھٹائی اور GPS نے راستوں کا شعور اپنے قبضے میں لے لیا؛ مگر مصنوعی ذہانت کے ساتھ یہ عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے، کیونکہ اب انسان صرف معلومات محفوظ کرنے کا کام نہیں چھوڑ رہا، بلکہ معلومات کو مربوط کرنے، ان سے استدلال اخذ کرنے، تعبیر قائم کرنے اور اظہار کی صورت دینے کی مشقت بھی مشین کے حوالے کر رہا ہے، فرق نہایت باریک مگر انتہائی اہم ہے، کتاب حافظے کی مدد کرتی تھی، AI ذہنی عمل کی جگہ لینے لگی ہے؛ سرچ انجن معلومات کے دروازے دکھاتا تھا، جنریٹو AI خود نتیجہ مرتب کرکے سامنے رکھ دیتی ہے، یوں علم حاصل کرنے والا شخص مواد تک پہنچنے کی دشوار راہوں، متعارض شہادتوں، ناقص دلائل، ذہنی تردد اور نتیجہ اخذ کرنے کی محنت سے بچ جاتا ہے، حالاں کہ انسانی ذہانت کی تشکیل انہی دشوار مراحل سے ہوتی ہے، جس طرح مسلسل سہارا لینے سے عضلات اپنی قوت کھو دیتے ہیں، اسی طرح ہر فکری مرحلے میں فوری مشینی امداد، ذہن کو سہولت تو فراہم کر سکتی ہے، لیکن اگر یہ سہولت مستقل عادت بن جائے تو غور، یادداشت، تحریر اور آزادانہ استدلال کی صلاحیت بتدریج کمزور بھی پڑ سکتی ہے۔

اس اندیشے کو محض تہذیبی بدگمانی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، 2025 میں MIT Media Lab کے محققین نے تحریری سرگرمی کے دوران انسانی دماغ پر بڑے لسانی ماڈل کے استعمال کے اثرات جانچنے کے لیے ایک تجرباتی مطالعہ کیا، شرکا کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا: ایک گروہ نے مضمون لکھنے کے لیے AI استعمال کی، دوسرے نے سرچ انجن، اور تیسرے نے کسی بیرونی مدد کے بغیر تحریر کی، محققین نے دماغی برقی سرگرمی، یادداشت، تحریر سے وابستگی اور اپنے لکھے ہوئے متن کی بازیافت جیسے پہلوؤں کا جائزہ لیا، ابتدائی نتائج میں AI پر انحصار کرنے والے گروہ میں دماغی روابط کی نسبتاً کم فعالیت، اپنے مضمون کے فقروں کو یاد رکھنے میں کمزوری اور تحریر سے ذاتی نسبت کا کم احساس سامنے آیا، خود محققین نے واضح کیا کہ یہ محدود نمونے پر مبنی ابتدائی مطالعہ ہے اور اسے حتمی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے؛ تاہم اس کی معنویت اس لیے کم نہیں ہو جاتی کہ اس نے ایک ایسے امکان کو تجرباتی بنیاد فراہم کی ہے جسے اہلِ تعلیم طویل عرصے سے محسوس کر رہے تھے: مشین فوری طور پر بہتر عبارت فراہم کر سکتی ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ اسے استعمال کرنے والا شخص بھی بہتر مصنف یا زیادہ گہرا مفکر بن رہا ہو، سہولت کے لمحے میں جو ذہنی توانائی بچتی دکھائی دیتی ہے، ممکن ہے طویل مدت میں وہی توانائی علمی قرض بن جائے، یعنی انسان آج سوچنے کی مشقت سے بچ جائے، لیکن کل خود سوچنے کی استعداد کی قیمت ادا کرے اور اس سے کہیں محروم ہی نہ ہوجائے۔

تعلیم کے میدان میں یہ مسئلہ اور زیادہ نازک ہے، کیونکہ تعلیم کا مقصد صرف درست جواب حاصل کرنا نہیں بلکہ جواب تک پہنچنے کے لیے ذہن کو تربیت دینا ہے، طالب علم جب کسی مضمون کے لیے کتابیں کھنگالتا، مختلف آرا کا موازنہ کرتا، الفاظ منتخب کرتا، عبارت کاٹتا اور دوبارہ لکھتا ہے تو بظاہر اس کا وقت زیادہ صرف ہوتا ہے، مگر اسی مرحلہ وار محنت میں اس کی علمی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے، جنریٹو AI چند لمحوں میں ایک منظم مضمون دے کر اسے نتیجہ تو فراہم کر دیتی ہے، مگر اس نتیجے کے پیچھے جو ذہنی سفر ہونا چاہیے تھا، وہ طے نہیں ہوتا، اس کا خطرہ صرف نقل یا علمی دیانت کے فقدان تک محدود نہیں؛ اصل مسئلہ عدمِ تشکیل ہے، ایک طالب علم ایسا متن جمع کرا سکتا ہے جس کا معیار اس کی اپنی علمی سطح سے کہیں بلند ہو، مگر اس بلند عبارت کے پیچھے نہ اس کا مطالعہ ہوتا ہے، نہ اس کی زبان، نہ اس کا استدلال اور نہ اس کی فکری کشمکش، یوں ہمارے تعلیمی ادارے بظاہر زیادہ صاف ستھرے مضامین، بہتر پریزنٹیشنیں اور فصیح جوابات پیدا کریں گے، لیکن ممکن ہے ان کے پیچھے پہلے سے زیادہ کمزور اذہان موجود ہوں، AI کے استعمال اور تنقیدی فکر کے تعلق پر حالیہ مطالعات میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب انسان مشینی جواب پر زیادہ اعتماد کرنے لگتا ہے تو ذہنی مشغولیت اور آزادانہ جانچ کا عمل گھٹ سکتا ہے؛ تاہم وہی ٹیکنالوجی، اگر اس طرح استعمال کی جائے کہ طالب علم سے دلیل کی پڑتال، متبادل رائے، ماخذ کی تحقیق اور جواب کی تنقید کا مطالبہ ہو، تو فکر کو مفلوج کرنے کے بجائے اسے متحرک بھی کر سکتی ہے؛ اس لیے اصل تقسیم AI استعمال کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کے درمیان نہیں ہوگی، بلکہ ان لوگوں کے درمیان ہوگی جو اس سے سوچنے میں مدد لیتے ہیں اور ان کے درمیان جو اسے اپنی جگہ سوچنے دیتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کا دوسرا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جس شے کو عام صارف ایک بے وزن اور غیر مادی خدمت سمجھتا ہے، اس کے عقب میں توانائی، پانی، معدنی وسائل اور وسیع صنعتی ڈھانچے کی ایک غیر معمولی دنیا قائم ہے۔ انسان موبائل کی اسکرین پر ایک سوال لکھتا ہے اور چند ثانیوں میں جواب حاصل کر لیتا ہے، مگر اس جواب کی تیاری کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں قائم ڈیٹا سینٹرز کے ہزاروں طاقت ور پراسیسرز کام کرتے ہیں، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2024 میں عالمی ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی کھپت تقریباً 460 ٹیراواٹ گھنٹے تھی، جو 2030 تک بڑھ کر قریب 945 ٹیراواٹ گھنٹے ہو سکتی ہے؛ گویا صرف چھ برس میں یہ مقدار تقریباً دو گنا ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2024 سے 2030 کے دوران ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب سالانہ تقریباً 15 فی صد بڑھے گی، جو دیگر شعبوں کی مجموعی بجلی کی طلب کی رفتار سے چار گنا سے زیادہ ہے۔ صرف 2025 میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی کھپت میں 17 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خاص طور پر AI کے لیے کام کرنے والے مراکز کی طلب اس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کا ہر جواب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، اس کے پیچھے بجلی گھر، پانی کے نظام، نیم موصل چپس، معدنی کانیں اور کاربن کے اثرات بھی موجود ہیں، ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں یہ گمان دیا تھا کہ معلومات غیر مادی ہوتی ہیں، لیکن AI نے ثابت کر دیا کہ ذہانت کی مشینی نقل بھی زمین کے وسائل پر قائم ہوتی ہے اور اس کی ماحولیاتی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

اس پوری صورتِ حال کا سب سے گہرا پہلو سیاسی اور تہذیبی ہے، مصنوعی ذہانت صرف ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دیتی، وہ ہمارے سوالات، پسند و ناپسند، فکری رجحانات، علمی کمزوریوں اور نفسیاتی عادات کا غیر معمولی ذخیرہ بھی پیدا کرتی ہے، ماضی میں سلطنتیں زمین، بندرگاہوں اور معدنی ذخائر پر قبضے سے قائم ہوتی تھیں؛ مستقبل کی طاقت ان اداروں کے پاس ہو سکتی ہے جو انسانی توجہ، معلومات، زبان اور فیصلوں کے بڑے حصے کو اپنے الگورتھم کے ذریعے منظم کریں گے، جب ایک محدود تعداد میں کمپنیوں کے تیار کردہ ماڈل کروڑوں انسانوں کو یہ بتانے لگیں کہ کسی تاریخی واقعے کو کیسے سمجھا جائے، کسی سیاسی بحران کی تعبیر کیا ہو، کون سی دلیل معتبر ہے اور کون سا متن زیادہ مناسب ہے، تو مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں رہتا بلکہ معرفت کی مرکزیت کا بن جاتا ہے، انسان بظاہر آزادانہ سوال کر رہا ہوتا ہے، لیکن جواب کی ساخت، دستیاب مواد کا انتخاب، ترجیحات کی ترتیب اور زبان کا آہنگ ایسے نظام سے آ رہا ہوتا ہے جس کے تربیتی مواد، تجارتی مفادات اور داخلی ضوابط سے عام صارف پوری طرح واقف نہیں، یہاں خطرہ یہ نہیں کہ مشین ہر مرتبہ کھلا جھوٹ بولے گی؛ اس سے زیادہ لطیف خطرہ یہ ہے کہ وہ بعض تصورات کو نمایاں، بعض کو ثانوی اور بعض کو غیر مرئی بنا دے گی، یہاں تک کہ انسان کی فکری دنیا وہی رہ جائے گی جسے الگورتھم نے اس کے لیے قابلِ مشاہدہ بنایا ہو، یہی ڈیجیٹل استعمار کی نئی صورت ہو سکتی ہے: ملکوں پر فوجی قبضہ نہیں، بلکہ ذہنوں کے علمی راستوں، زبانوں اور تعبیرات پر خاموش اجارہ داری۔

اسلامی علمی روایت اس موقع پر ٹیکنالوجی سے فرار نہیں، بلکہ علم اور حکمت کے درمیان امتیاز کی تعلیم دیتی ہے، قرآن کریم نے انسانی فضیلت کو معلومات کی کثرت سے نہیں بلکہ عقل، تدبر، تفقہ، تزکیہ اور اخلاقی جواب دہی سے وابستہ کیا ہے، أفلا تعقلون، أفلا يتفكرون، أفلا يتدبرون جیسے قرآنی اسالیب محض فکری ترغیب نہیں، بلکہ انسانی وجود کی ذمہ داری کا اعلان ہیں، مصنوعی ذہانت الفاظ کو جوڑ سکتی ہے مگر نیت پیدا نہیں کر سکتی، احتمالات گن سکتی ہے مگر تقویٰ کا وزن نہیں جان سکتی، فقہی اقوال جمع کر سکتی ہے مگر مستفتی کے حال، سماجی مآلات اور جواب کی دینی ذمہ داری کو انسانی وجدان کی طرح محسوس نہیں کر سکتی، وہ کسی المیے پر تعزیتی عبارت لکھ سکتی ہے، مگر غم نہیں رکھتی؛ عدل پر خطبہ مرتب کر سکتی ہے، مگر ظلم کا اخلاقی کرب نہیں سہتی؛ قرآن کے الفاظ نقل کر سکتی ہے، مگر خشیت اور عبودیت سے محروم ہے؛ اس لیے انسان اور مشین کے درمیان حقیقی حد ذہانت کی مقدار نہیں، شعور کی نوعیت اور اخلاقی ذمہ داری ہے، خطرہ اس دن پیدا نہیں ہوگا جب مشین انسان سے زیادہ معلومات رکھنے لگے گی—وہ مرحلہ بڑی حد تک آ چکا—بلکہ اس دن ہوگا جب انسان اپنی عقل کے استعمال، اپنے فیصلے کی ذمہ داری اور اپنے علم کی اخلاقی نگرانی سے دست بردار ہو جائے گا۔

مصنوعی ذہانت کو رد کرنا نہ ممکن ہے اور نہ دانش مندی؛ لیکن اسے بلاشرط قبول کرنا بھی ترقی پسندی نہیں، فکری خودکشی ہو سکتی ہے۔ انسان کو ایسے تعلیمی اور اخلاقی ضابطے درکار ہیں جن میں AI کو مسودہ تیار کرنے، زبان سنوارنے، مواد تلاش کرنے اور احتمالات واضح کرنے کا معاون تو بنایا جائے، مگر دلیل کی جانچ، ماخذ کی تصدیق، اخلاقی فیصلہ اور آخری تحریر کی ذمہ داری انسان ہی کے پاس رہے، طلبہ کو صرف AI چلانا نہیں، اس کے جواب پر اعتراض کرنا، اس کی غلطی پکڑنا، ماخذ پوچھنا اور اس کے مفروضات کو بے نقاب کرنا بھی سکھانا ہوگا، آنے والے زمانے میں سب سے زیادہ قیمتی شخص وہ نہیں ہوگا جو سب سے تیزی سے مشین سے جواب نکلوا لے، بلکہ وہ ہوگا جو اس جواب کے باوجود اپنا ذہن زندہ رکھ سکے، مصنوعی ذہانت انسان کے لیے عظیم نعمت بن سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اس کی صلاحیتوں کو بڑھائے، اس کی جگہ نہ لے؛ اس کے فکر کو مہمیز دے، اسے معطل نہ کرے؛ اس کے اختیار کو وسیع کرے، اور اس کے ضمیر کو بے دخل نہ کرے، موجودہ عہد کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ مشین کب انسان کی طرح سوچنے لگے گی، بلکہ یہ ہے کہ مشینوں کے بڑھتے ہوئے غلبے میں انسان خود سوچتا بھی رہے گا یا نہیں؟

Comments are closed.