فکرِ اسلامی اور جدیدیت کا تقابلی جائزہ

 

محمد دلشاد قاسمی

عصرِ حاضر میں عالمِ اسلام کو جن فکری چیلنجوں کا سامنا ہے، ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسلامی فکر کا جدید دنیا کے ساتھ تعلق کس نوعیت کا ہو؟ کیا مسلمان اپنے ماضی کے علمی ذخیرے ہی میں سمٹ کر رہ جائیں؟ کیا مغربی تہذیب اور اس کے فکری تصورات کو بلا تنقید قبول کرلیا جائے؟ یا پھر کوئی ایسا متوازن راستہ اختیار کیا جائے جس میں اسلامی اصول و ثوابت بھی محفوظ رہیں اور زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کا سامنا بھی کیا جاسکے؟

اس سوال کے جواب میں عالمِ اسلام کے فکری منظرنامے کو مجموعی طور پر تین بڑے رجحانات میں دیکھا جاسکتا ہے: جمود و تقلید، مغربیت و جدیدیت، اور احیاء و تجدید۔

*جمود و تقلید: ماضی میں ٹھہر جانے کا رجحان*

پہلا رجحان وہ ہے جو اسلامی علمی ورثے، قدیم فقہی ذخیرے اور ماضی کی تعبیرات سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ اس میں دین کے قدیم علمی سرمایہ کو محفوظ رکھنے کا جذبہ بلاشبہ قابلِ قدر ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ماضی کی فقہی تعبیرات کو ہر زمانے اور ہر صورتِ حال کے لیے حرفِ آخر سمجھ لیا جائے اور بدلتے ہوئے حالات، نئے مسائل اور ان کے تقاضوں کو نظر انداز کردیا جائے۔

اسلامی شریعت کے بنیادی نصوص اپنی جگہ قطعی اور اٹل ہیں، لیکن ان نصوص سے متعلق فہم، اجتہاد اور فقہی تطبیق کا دائرہ اپنی جگہ موجود ہے۔ ہر زمانے میں ایسے نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب محض سابقہ جزوی صورتوں کو دہرا کر نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ نصوص کے ساتھ ان کے مقاصد، علل اور زمانے کے واقعی حالات کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔

حقیقی دینی وابستگی کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان ہر نئی صورتِ حال سے آنکھیں بند کرلے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دین کے اصولوں کی روشنی میں نئی صورتِ حال کو سمجھے اور اس کا شرعی حل تلاش کرے۔

*مغربیت اور جدیدیت: انسان کو مرکز بنانے کا تصور*

دوسرا رجحان مغربی جدیدیت اور سیکولر و وضعی فکر کا ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے اپنی فکری تشکیل میں انسانی عقل، تجربے اور مادی مشاہدے کو بنیادی حیثیت دی۔ اس تصور میں کائنات کو اس کے مادی اسباب کے ذریعے سمجھنے اور انسانی زندگی کے اجتماعی معاملات کو انسانی عقل و تجربے کی بنیاد پر منظم کرنے پر زور دیا گیا۔

اس فکر کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ دین کو اجتماعی زندگی سے الگ کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔ سیاست، قانون، معاشرت اور ریاست کے معاملات میں وحی اور آسمانی ہدایت کی حاکمیت کے بجائے انسانی عقل اور اجتماعی معاہدے کو بنیادی حیثیت دی گئی۔

یہاں اسلامی تصور اور مغربی وضعی تصور کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ اسلام انسان کو بااختیار ضرور قرار دیتا ہے، لیکن اسے مطلق خود مختار نہیں سمجھتا۔ وہ عقل رکھتا ہے، اختیار رکھتا ہے، زمین میں تصرف کرسکتا ہے، لیکن اس کا اختیار اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور شریعت کی حدود کے اندر ہے۔

اسلامی تصورِ کائنات اور انسان

اسلامی نقطۂ نظر میں اللہ تعالیٰ صرف کائنات کا خالق نہیں بلکہ اس کا مالک، حاکم، مدبر اور ہادی بھی ہے۔ انسان بھی اسی کی مخلوق ہے اور اسی کا بندہ ہے۔ اسے زمین میں خلافت اور آبادکاری کی ذمہ داری عطا کی گئی ہے۔

قرآنِ کریم کا ارشاد ہے:

أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْر

’’خبردار! پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکم دینا بھی اسی کا اختیار ہے۔‘‘

(الأعراف: 54)

یہ آیت اسلامی تصورِ حیات کی بنیاد کو واضح کرتی ہے کہ جس ذات نے کائنات کو پیدا کیا، حکم اور اختیار بھی اسی کا ہے۔ لہٰذا اسلام میں دین کو انسانی زندگی سے کاٹ کر ایک محدود مذہبی دائرے تک محصور نہیں کیا جاسکتا۔

انسان زمین پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے، لیکن خلافت کا مطلب خود مختاری نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ اسے جو اختیار دیا گیا ہے وہ امانت ہے، اور اسے اپنی زندگی، معاشرت اور اجتماعی معاملات میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ملحوظ رکھنا ہے۔

قرآنِ کریم نے یہ بھی واضح کیا کہ قدیم مشرکین اللہ تعالیٰ کو خالق مانتے تھے، لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو شریک قرار دیتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کا خالق تو تسلیم کرتے تھے، مگر اپنے عملی معاملات میں دوسروں کو واسطہ، سفارشی اور شریک بناتے تھے۔

اسلام نے اس تصور کی اصلاح کی اور انسان کو یہ حقیقت سمجھائی کہ خالق بھی اللہ ہے، مالک بھی اللہ ہے، حاکم بھی اللہ ہے اور تدبیر کرنے والا بھی اللہ ہے۔

یہی اسلامی تصورِ توحید کی جامعیت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صرف عبادت کا مستحق ماننا کافی نہیں، بلکہ زندگی کے بنیادی اصولوں میں بھی اس کی ہدایت اور حاکمیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

 

*احیاء و تجدید*

ان دونوں انتہاؤں کے مقابلے میں تیسرا رجحان احیاء و تجدید کا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ماضی کی دینی میراث سے وابستگی اور حال کے تقاضوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے

تجدید کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دین کے بنیادی اصولوں، قطعی نصوص یا ثابت احکام کو زمانے کے مطابق بدل دیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو یہ تجدید نہیں بلکہ تحریف ہوگی۔ حقیقی تجدید کا مطلب یہ ہے کہ:

دین کے ثوابت محفوظ رہیں، لیکن متغیر حالات میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رہے۔

نئے مسائل پیدا ہوں تو ان کا حل قرآن و سنت، اصولِ شریعت اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں تلاش کیا جائے۔ زمانہ بدلتا رہے، حالات تبدیل ہوتے رہیں، انسانی زندگی کے مسائل نئی صورتیں اختیار کرتے رہیں، لیکن دین کے بنیادی اصول اپنی جگہ قائم رہیں۔

اس اعتبار سے تجدید دراصل دین کی تجدید نہیں بلکہ دین کے فہم، تطبیق اور اجتہادی عمل کی تجدید ہے۔

اسلامی فکر کے لیے سب سے اہم ضرورت یہی توازن ہے کہ ثوابت کو ثوابت سمجھا جائے اور متغیرات کو متغیر۔

عقائد، قطعی نصوص اور بنیادی دینی اصولوں میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں؛ لیکن ان اصولوں کی روشنی میں پیش آنے والے نئے مسائل اور جزوی معاملات میں اجتہاد اور غوروفکر کا دائرہ وسیع ہے۔

اگر جمود ہر نئی چیز کو رد کردے تو دین کے وسیع اور زندہ نظامِ شریعت کو محدود کردیا جائے گا، اور اگر مغربی جدیدیت کے نام پر ہر دینی اصول کو زمانے کے تابع کردیا جائے تو دین کی اپنی شناخت باقی نہیں رہے گی۔

اس لیے صحیح راستہ وہ ہے جہاں اصول مضبوط ہوں، فروع میں وسعت ہو؛ بنیادیں ثابت ہوں، تطبیقات میں اجتہاد ہو؛ اور دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کا جواب دیا جائے۔

آج عالمِ اسلام کو نہ ایسے جمود کی ضرورت ہے جو اسے ماضی میں قید کردے اور نہ ایسی مغربیت کی ضرورت ہے جو اسے اپنی تہذیبی و دینی شناخت سے محروم کردے۔ ضرورت ایک ایسی اصیل اسلامی تجدید کی ہے جو قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں سے مضبوطی سے وابستہ ہو، دینی ورثے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو، عصرِ حاضر کی حقیقتوں سے واقف ہو اور نئے مسائل کے حل کے لیے اجتہاد و تحقیق کا راستہ اختیار کرے۔

تجدید کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ نہ ماضی سے رشتہ توڑتی ہے اور نہ حال سے آنکھیں چراتی ہے؛ وہ ثوابت کو محفوظ رکھتے ہوئے متغیرات کا سامنا کرتی ہے، اصولوں کی حفاظت کرتے ہوئے نئی صورتِ حال میں ان کی تطبیق کرتی ہے، اور یوں اسلام کو زمانے کے تابع بنانے کے بجائے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھنے اور سنوارنے کی کوشش کرتی ہے۔

یہی جمود اور مغربیت کے درمیان اعتدال کی راہ، اور اسلامی فکر کی حقیقی تجدید ہے۔

Comments are closed.