چھوڑو کل کی باتیں۔۔۔
سچ تومگرکہنے دو!
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
17 ستمبر کو ہر سال سقوطِ حیدرآباد کا غم اور ہزاروں شہیدوں کی یاد منائی جاتی ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ 13 ستمبر تا 17 ستمبر 1948ء آپریشن پولو کے نام پر حیدرآباد میں جو تباہی مچائی گئی، اس کے عینی شاہدین شاید ہی باقی رہ گئے ہوں گے۔ اگر کچھ ہیں بھی تو انہوں نے شاید ہی کچھ دیکھا ہوگا یا پھر انہیں کچھ یاد ہوگا۔ کچھ کتابوں کے اوراق اور کچھ اپنے بزرگوں کی زبانی جو کچھ ہم نے پولیس ایکشن کے نام پر سنا ہے، وہ یقیناً تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ یقیناً ماضی کی غلطیوں اور سانحات سے سبق لے کر ہمیں پہلے حال اور پھر مستقبل کو سدھارنا چاہئے۔78 برس پہلے کے واقعات اور آج کے حالات میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ پولیس ایکشن سے پہلے کے جو حالات تھے، وہ اس وقت کے جذباتی، جوشیلے قائدین کی حماقتوں کا نتیجہ تھے، جنہوں نے حالات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، نہ اپنی اصل طاقت سے واقف تھے اور نہ ہی حیدرآباد کو ہندوستان میں شامل کرنے والی فوج کی طاقت کا ان کو اندازہ تھا۔ جذباتی نعروں نے دوسروں کو مشتعل کیا اور ہم خود اپنی عظمت، شان و شوکت، حکومت سے محروم ہوگئے۔78 برس کے دوران ہم نے کوشش کی کہ دوبارہ اپنے پیروں پر آپ کھڑا ہو سکیں، کامیاب بھی ہوئے، اللہ تعالیٰ نے نئے راستے مہیا کئے، وسائل سے نوازا، مگر ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔ خود کو ماضی کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا چھوڑ دیا، جس کا فائدہ 78 برس کے دوران ہماری مذہبی اور سیاسی قیادت نے خوب اٹھایا اور آج کے حالات کو اگر 1948ء اور 1947ء سے کہیں زیادہ بدتر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ملک کی تقسیم کے نام پر شمالی ہند کے مسلم فسادات، ایک برس بعد پولیس ایکشن کے نام پر مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا، جاگیریں چھین لی گئیں، ملازمتیں برخاست کردی گئیں اور پھر 70 برس کے بعد کا جائزہ لیتے ہیں تو لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ڈنکے کی چوٹ پر مسلمانوں کے خلاف ہر شعبہ حیات میں کارروائی کی جارہی ہے۔ انہیں غیر ملکی قرار دینے کی سازشیں کامیاب ہو رہی ہیں اور انہیں پہلے بے گھر اور پھر ملک بدر کیا جارہا ہے۔ مذہبی تشخص، تہذیب، زبان کو مٹانے کی طاقت کے زور پر کوشش کی جارہی ہے۔تازہ مثال مغربی بنگال کی مسلم خاتون آئی پی ایس عہدیدار بشریٰ بانو ہیں، جنہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ سے آن لائن خطاب کے دوران ”السلام علیکم“ اور ”جزاک اللہ“ کہنے پر دوسرے مقام پر نہ صرف تبادلہ کردیا گیا بلکہ ان کے عہدے کو گھٹا دیا گیا۔ یہ ہندوستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، کیونکہ ”السلام علیکم“، ”ان شاء اللہ“ اور ”جزاک اللہ“ تو بیشتر غیر مسلم حضرات بھی کہتے ہیں اور یہ مسلمانوں کا مذہبی معاملہ ہے۔ ان سے ان کا یہ حق چھینا نہیں جاسکتا، مگر یہ اندھیر نگری، چوپٹ راج کا دور ہے۔ چونکہ ہم تعداد اور ملک میں دوسری بڑی اکثریت ہونے کے باوجود بے وزن ہیں، ہماری قیادت بے دم ہے، جس کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے۔ہندو پولیس عہدیدار لاؤڈ اسپیکر پر اذان، نماز، اجتماعات پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔ علی الاعلان مسلمانوں کو دھمکی دی جارہی ہے اور خود ہندو دھارمک جلسوں اور جلوسوں میں خاکی وردی پہن کر شرکت کر رہے ہیں، ناچ رہے ہیں اور ان کے رتبے بلند کئے جارہے ہیں۔ مذہبی منافرت پھیلانے والے غنڈوں کو دیش بھگت قرار دیا جارہا ہے اور تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو دیش دروہی قرار دے کر مقدمہ چلائے بغیر برسوں سے جیلوں میں سڑایا جارہا ہے۔ایک طرف وزیر اعظم عرب اور مسلم دیشوں کا دورہ کرکے وہاں کے حکمرانوں سے اس طرح گرم جوشی سے گلے ملتے ہیں، گویا برسوں پہلے کسی میلے میں بچھڑے ہوئے دو بھائی اچانک مل جاتے ہیں اور ملک میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم، ناانصافیوں پر خاموش رہتے ہیں۔سب سے برا حال یوپی، آسام، اتراکھنڈ، بہار کا ہے، جہاں جنگل کا راج ہے۔ پولیس کی موجودگی میں سابق ایم پی اور ایم ایل اے رہنے والے کو گولی ماردی جاتی ہے اور چیف منسٹر دوسروں کو دھمکی دیتا ہے کہ ان کا حال بھی عتیق احمد جیسا کرے گا۔ پولیس کی موجودگی میں ہونے والے اس سفاکانہ قتل کی کوئی تحقیقات نہیں اور نہ ہی عدالتوں کے فیصلے پر کسی قسم کی عمل آوری۔دہلی کے چیف منسٹر سے سوال پوچھنے والی دو مسلم خاتون صحافیوں کو پولیس اسٹیشن لاکر مارپیٹ کی جاتی ہے۔ یوگی سے سوال کرنے والی غیر مسلم خاتون صحافی کو اس ٹی وی چینل سے نکال دیا جاتا ہے، جس کے لئے وہ کام کرتی رہی، اسے مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔یاد رہے کہ 1994ء میں پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کے پی ایس گل کے باڈی گارڈس نے دی اسٹیٹسمن انگلش اخبار کے دو صحافیوں کو بری طرح سے مارا پیٹا تھا، کیونکہ انہوں نے کے پی ایس گل سے ہاکی فیڈریشن کے بارے میں سوال کیا تھا، جس کے وہ صدر تھے۔ کے پی ایس گل نے آپریشن بلو اسٹار کیا تھا اور ان کے خلاف کئی مقدمات درج تھے۔ حالات سے لگتا ہے کہ ذہنی طور پر کمزور سیاستدان ہو یا سرکاری عہدیدار، ان سے سوال کرنا خود کی شامت کو دعوت دینا ہے۔اتر پردیش کے چیف منسٹر کا محاسبہ کرنے والا کوئی نہیں، کیونکہ وہ خود بھی وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار ہے۔ اس کا یہ خیال ہے کہ جتنا ظلم وہ مسلمانوں پر کرے گا، اتنا ہندو خوش ہوں گے۔ چنانچہ بلڈوزر کارروائی اس کا مزاج بن گئی ہے۔غازی آباد کے لونی علاقے کے ”حاجی سلمان“ کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے، اس پر ساری دنیا مذمت کر رہی ہے۔ حاجی سلمان لونی، غازی آباد کی عوام کا چہیتا سوشل میڈیا انفلوئنسر ہے، کھاتے پیتے گھرانے کا ہے، مجاہدانہ صفات کا مالک ہے، اس لئے کسی سے ڈرتا نہیں۔ اس نے لونی کی ایک سڑک کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس سے لونی کے ایم ایل اے نند کشور کی بدترین کارکردگی کا ثبوت ملتا ہے۔ جس پر حاجی سلمان کے گھر پر غنڈے بھیجے گئے۔ حاجی سلمان نے ویڈیو کلپ کے ذریعے ایم ایل اے کو چیلنج کیا، جس کے بعد ایف آئی آر درج کرواکے جیل بھیج دیا گیا، جہاں مبینہ طور پر 12 ستمبر کو بعض قیدیوں نے حاجی سلمان پر جان لیوا حملہ کیا۔ جو پہلے سے ہی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تھا۔ اندیشہ ہے کہ حاجی سلمان کو جیل میں نقصان پہنچایا جائے گا۔ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں حالات سازگار نہیں ہیں۔ امت مسلک کی جھڑپوں میں اور مسلکی اور سیاسی قیادت اپنے مفادات کے لئے آپس میں لڑ جھگڑ رہی ہے۔ اتنی طاقت، تعداد کے باوجود کوئی مقام نہیں۔ ہم ماضی کے سانحات کا غم منانے سے زیادہ ان سے سبق لیں اور موجودہ حالات میں خود کو مضبوط بنائیں۔SIR کے نام پر لاکھوں مسلمان ووٹر لسٹ سے باہر ہوچکے ہیں۔ مستقبل میں وہ سرکاری مراعات اور بہت ممکن ہے کہ شہری حقوق سے محروم ہوجائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ ایمانداری سے خود کا جائزہ لیں۔ ہم نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری اور اپنی قبر خود کھودی ہے۔تمام سہولتیں اور مسائل ہونے کے باوجود ہم نے ووٹ کی قدر نہیں کی اور ہر الیکشن کے موقع پر 50 فیصد بالغ مسلم آبادی پولنگ بوتھ سے دور رہی۔ مذہبی سیاسی قائدین اپیل کرتے رہے کہ ہمارے ووٹ، ہمارے دستوری حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہے، مگر ہم نے پرواہ نہیں کی۔ آج ہم میں سے اکثر اس دستوری حق سے محروم ہو رہے ہیں۔ اگر اب بھی اس نقصان کی تلافی کا موقع ہے تو وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ایک ایسے وقت جب ہمارا وجود خطرے میں ہے، ہماری نئی نسل گمراہی کا شکار ہے، مستقبل سے بے پرواہ ہے، جس کے ذمہ دار ان کے والدین اور سرپرست ہیں، جنہوں نے جانوروں کی طرح پیدا کرکے اولاد کو آوارہ گردی کے لئے سڑکوں پر چھوڑ دیا۔ ان کی بیہودگی، بے حیائی دیکھ کر کون ایک اچھے مستقبل کی امید کرے گا؟موجودہ حالات میں صرف تعلیم اور ڈگری کافی نہیں ہے، ذہنی، فکری اور اخلاقی تربیت زیادہ ضروری ہے۔ہم آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عروج کے دور میں ہیں، نوجوان نسل کو اس میں دلچسپی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے عصری وسائل اور سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کا مثبت اور تعمیری انداز میں استعمال کریں۔ توتو میں میں، نوک جھونک کی بجائے سنجیدگی سے دیگر برادرانِ وطن کو اسلام کی اصل تعلیم سے واقف کروایا جائے۔ ہمارا کردار، زبان، لب و لہجہ، معاملہ داری، ہماری پہچان ہے۔ اس میں اگر ہم کامیاب ہیں تو ہمارے دشمن آہستہ آہستہ دوست بن جائیں گے۔بشرطیکہ ہماری دوستی غیر مذہب کی لڑکیوں سے نہ ہو، کیونکہ ہماری کمائی، بربادی کی وجہ یہ بھی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ماضی کی عظمت پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ حال کی حقیقتوں کا بھی بے لاگ جائزہ لیں۔ صرف اپنے تباہی کا ماتم کرنے سے حالات نہیں بدلیں گے، بلکہ علم، اتحاد، کردار، شعور اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے اپنا مستقبل تعمیر کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ فکری، اخلاقی اور دینی تربیت دینی ہوگی، اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا ہوگا اور اختلافات سے بالاتر ہوکر باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، مایوسی حل نہیں؛ بیداری، اصلاح اور مسلسل جدوجہد ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ماضی ہمارے لئے سبق ہے، حال ہماری ذمہ داری اور مستقبل ہماری امانت ہے۔
مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
اپنے خورشید پہ پھیلا دیے سائے ہم نے…
Comments are closed.