ایثار کی خوشبو سے مہکتا معاشرہ
محمد دلشاد قاسمی
ابتدائے آفرینش سے روز ازل تک قائم رہنے والی سلطنت ومملکت کے مالک ومختار نے اس طلسماتی کارخانۂ عالم میں مختلف عادات و اطوار اور طبائع ومزاج کے حامل افراد کو عدم سے وجود بخشا، اور ان کی انفرادیت کو اجتماعیت کے سانچے میں ڈھالنے کی غرض سے ان کے مابین اُلفت ومحبت کا بیج بویا، جس کے ساتھ منسلک قرابت، اُخوت ورفاقت جیسے گراں قدر رشتوں کی پاسداری اور انہیں نبھانے کا تاکیدی حکم صادر کیا۔ اس نظامِ اجتماعیت کے قیام کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی حسنِ سلوک اور رواداری کا درس دیا، جس نے ایک ایسے معاشرے وسوسائٹی کو وجود بخشا جس میں ایثار وہمدردی کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور عملی زندگی کا حصہ بنایا جاتا تھا۔
اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے اور اس گلدستۂ رنگ وبو میں مزید حسن و نکھار پیدا کرنے کے لیے اپنے اصحاب کو احسان وایثار کا حکم دیا، چوں کہ
’ایثار و احسان‘‘ یہ دو ایسی صفت ہے جو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ نوع انسانی کا خاصہ ہونی چاہیے
ہماری زندگی مختصر ہے، بہت ہی مختصر۔ اس زندگی میں اگر ہم ہر مقام پر دوسروں کو ترجیح دیں، ایثار و قربانی سے کام لیں ،اپنے اوپر دوسروں کو فوقیت دیں، تو یہ جہاں ہمارے لیے باعث سکون و اطمینان ہے۔ وہیں ایک مثالی معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں بھی انتہائی مؤثر اور مددگار ہوگا۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایثار اور ہمدردی کی جو مثالیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قائم فرمائیں،ان کی نظیر ملنا بھی مشکل ہے۔ چناںچہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور سیرتِ طیبہ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جب بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مجلس میں کوئی پھل، دودوھ یا کوئی کھانے کی چیز پیش کی جاتی توآپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مجلس میں موجود صحابۂ کرام کو دیتے اور آخر میں خود تناول فرماتے۔یہی وہ خوبصورت تعلیمات ہیں، جنہیں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خوب اپنایا۔ چناں چہ غزوۂ اُحد کی تاریخ پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جب مسلمانوں پر عارضی طور پر حالات ناگفتہ بہ ہوئے، تو ہر صحابی کے دل میں یہ اشتیاق پیدا ہوا کہ میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لئے بطور دیوار کام کروں۔ ہر ایک عاشق رسول آپ کی خاطر جان دینے کو تیار تھا۔دیگر مواقع پر بھی صحابۂ کرام ایثار و ہمدردی کی شاندار مثالیں پیش کی ہیں۔ آج جائے صد افسوس و مقام حیرت و تأسف ہے کہ ہم نے ان مثالی تعلیمات کو یکسر بھلا دیا۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
وہ تھے اسلاف تمہارے، تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے، منتظر فردا ہو
ایک اور موقع پر جب شدیدجنگ کا معرکہ برپا تھا، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہورہے تھے تو بیک وقت کئی زخمی صحابہ پانی طلب کرنے لگے۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ پانی پلانے والا جب پہلے کے پاس گیا تو اس نے دوسرے صحابی کی طرف اشارہ کیا کہ وہ زیادہ ا س پانی کے حقد ار ہیں،دوسرے نے تیسرے کی طرف جبکہ تیسرے نے پہلے کی طرف پانی لے جانے کا کہا۔ایثار و ہمدردی کا یہ عالم تھا کہ جب پانی پلانے والا پہلے کی طرف لوٹا تو وہ شہید ہو چکے تھے۔ دوسرے کی طرف لوٹا تو وہ بھی جام شہادت نوش کر جاچکے تھے۔ تیسرے کے پاس آئے تو وہ بھی اپنی جان جان آفرین کے سپرد کرچکے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیا ایثار تھا صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کا۔
مگر افسوس! آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ بازار سے مسجد تک، بس اسٹاپ سے ریلوے اسٹیشن تک، اشیائے خوردونوش کی دکانوں سے لے کر دفاتر کی قطاروں تک ہر جگہ نفسا نفسی کا عالم ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے، تلخ کلامی، بدزبانی اور لڑائی جھگڑا ہمارے روزمرہ کے معمولات بن چکے ہیں۔ ایثار اور ہمدردی تو دور کی بات، ہم تو اپنے بنیادی اخلاقیات بھی فراموش کر بیٹھے ہیں۔ یہ وہ زوال ہے جو صرف مادی نہیں بلکہ اخلاقی و روحانی پستی کی گہری کھائی ہے۔
آج کے پُرآشوب دور میں، جب ہر شخص جلدبازی اور خودغرضی کی بھٹی میں تپ رہا ہے، ایثار اور ہمدردی کا رویہ اپنانا نہ صرف ایک اخلاقی فریضہ ہے بلکہ ایک سماجی ضرورت بھی ہے۔ اگر ہم دوسروں کو ترجیح دینا سیکھ لیں، محبت اور شفقت سے پیش آئیں، اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کو قربان کر کے دوسروں کی راحت کا سامان کریں، تو نہ صرف معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا، بلکہ دلوں میں محبت اور بھائی چارگی کے چراغ روشن ہوں گے۔
ایثار و ہمدردی کوئی خشک مذہبی نعرہ نہیں، بلکہ ایک ایسی روحانی طاقت ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو مٹاتی ہے، اور انسان کو اُس کی اصل منزل یعنی انسانیت کے مقامِ بلند پر فائز کرتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں وہی خوشبو دوبارہ مہکنے لگے جو صحابۂ کرام کے کردار سے آتی تھی، تو ہمیں ایثار و ہمدردی کو اپنی زندگی کا شعار بنانا ہوگا۔
یاد رکھیے! ایک مہذب، منظم اور با اخلاق قوم کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے مفادات پر دوسروں کی بھلائی کو ترجیح دیتی ہے، اور یہی وہ جوہر ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے ۔
Comments are closed.