جمعیۃ علماء کے تربیتی اجلاس میں ہندو مسلم اتحاد اور باہمی اخوت کے فروغ پر زور
ملک کی مسموم فضا کو تبدیل کرنے کے لئے جمعیۃعلماء کے کارکنان آگے آئیں: مولانا سید اسجد مدنی
ممبئی: جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے زیر اہتمام منعقدہ تربیتی اجلاس میں باہمی اخوت، ہندو مسلم اتحاد، سماجی خدمت اور مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اجلاس میں ریاست بھر سے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران، اراکین اور نمائندہ افراد نے شرکت کی۔
تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں ناظمِ تربیتی اجلاس مفتی محمد یوسف قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر، نے اجلاس کے اغراض و مقاصد اور اس کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کی۔ انہوں نے تربیتی پروگرام کی مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے منعقد کیا جارہا ہے۔ صدرِ محترم مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ کی ہدایت پر مرکزی مجلسِ عاملہ کے چار ارکان پر مشتمل کمیٹی برائے ہندو مسلم اتحاد و باہمی اخوت تشکیل دی گئی ہے، جس کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ہیں۔
مولاناسید اشہد رشیدی مدظلہ نے کمیٹی کے طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم کے تحت منعقد ہونے والے پروگراموں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی مؤثر شرکت ضروری ہے۔ اگر کسی پروگرام میں سو افراد ہوں تو کم از کم پچاس افراد دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی شریک ہوں، تاکہ باہمی تعارف، مکالمے اور اخوت کا ماحول پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام بڑے میدانوں یا وسیع اجتماعات کی شکل میں منعقد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ہندو مسلم اتفاقِ رائے سے منعقد کیے جائیں۔ پروگرام کے اسٹیج پر سیاسی شخصیات کو مدعو نہ کیا جائے، جبکہ برادرانِ وطن میں سنجیدہ، باشعور اور سماجی میدان میں فعال افراد کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی جائے۔
کمیٹی کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نائب صدر جمعیۃعلماء ہند و کنوینر تحریک ہندو مسلم اتحاد نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی اور جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ریاست کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران اور نمائندہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
اپنے خطاب میں مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے تاریخی موقف ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں، مذاہب سے نہیں‘‘ کو عصرِ حاضر کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی دلنشیں تشریح کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اس لیے بلا تفریقِ مذہب و ملت مظلوموں، مجبوروں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا جمعیۃ علماء کا روزِ اول سے بنیادی مشن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء کے اسی مشن پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوئے دلوں کو جیتا جاسکتا ہے اور ملک کی مسموم فضا کو محبت، اعتماد اور باہمی اخوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی جمعیتوں کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ ضلعی اور ریاستی سطح کی جمعیتوں کا کام نگرانی، رہنمائی اور سرپرستی فراہم کرنا ہے۔
مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء کے دستورِ اساسی کی روشنی میں مقامی جمعیتوں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ مقامی جمعیت کے علاوہ دیگر سطحوں کی جمعیتیں ایک مقررہ مدت کے لیے تشکیل دی جاتی ہیں، جبکہ مقامی جمعیۃ کی تشکیل کے لیے کوئی متعین مدت نہیں رکھی گئی۔ دستور میں ہر سال کم از کم دو مقامی جمعیتیں قائم کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے، جس سے مقامی سطح پر تنظیمی و سماجی کام کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
مولانامدنی کی ہدایت پر اجلاس کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے تمام شرکائے اجلاس سے عہد لیا کہ وہ اپنی اپنی مقامی سطح پر جمعیۃ علماء کے بینر تلے برادرانہ اخوت، ہندو مسلم اتحاد، باہمی اعتماد اور خدمتِ خلق کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
آخر میں مولانا سید اسجد مدنی مدظلہ کی دعا کے ساتھ تربیتی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ بعد ازاں شرکائے اجلاس نے نمازِ ظہر ادا کی اور ظہرانے میں شرکت کی۔
Comments are closed.