مراٹھی کی شرط اور ایک سال کی مہلت: اتر پردیش الیکشن پرنظر!
جاوید جمال الدین
مہاراشٹر میں آٹو رکشہ، ٹیکسی اور کیب ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان سیکھنے کی شرط اچانک ایک ایسے سیاسی موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں زبان پیچھے اور ووٹ آگے نظر آنے لگے ہیں۔ حکومت نے کہا کہ مراٹھی سیکھنا ضروری ہے، آخری تاریخ مقرر کی، کلاسیں شروع کیں، امتحان لیے، ہزاروں ڈرائیوروں کو نوٹس جاری کیے اور کارروائی کا راستہ ہموار کیا؛ لیکن ابھی نفاذ کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ایک سال کی مہلت کا اعلان کردیا۔ اس ایک سال کے دوران مراٹھی نہ جاننے والے ڈرائیوروں کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوگیا کہ جو شرط کل تک اتنی ضروری تھی، آج اس کے نفاذ کے لیے پورا ایک سال درکار ہوگیا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ مراٹھی زبان کی شرط کوئی اچانک پیدا ہونے والا انتظامی فیصلہ نہیں تھی۔ اس کے پیچھے مہاراشٹر کی طویل سیاسی تاریخ ہے، مراٹھی مانوس کا تصور ہے، شیو سینا کی کئی دہائیوں پر محیط سیاست ہے، راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا کا سیاسی وجود ہے اور اب ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کے درمیان اصل شیو سینا اور اصل مراٹھی ورثے کی جنگ بھی ہے۔ ایسے میں آٹو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی زبان کو سیاسی میدان کا موضوع بنانا محض زبان سکھانے کا منصوبہ نہیں ہوسکتا۔
اور پھر ایک اور حقیقت بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اترپردیش اسمبلی انتخابات۔
فڑنویس کا فیصلہ اگر صرف ڈرائیوروں کی عمر اور تعلیمی پس منظر کو دیکھ کر کیا گیا ہے تو سوال ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر اسے مہاراشٹر کی موجودہ سیاست، مہایوتی کے اندرونی اختلافات، ہندی بولنے والی آبادی اور آنے والے اترپردیش انتخابات کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی واقعات کی ترتیب کم از کم اتنے سوال ضرور پیدا کرتی ہے کہ کیا مراٹھی زبان کے نفاذ پر اچانک لگائی گئی یہ بریک صرف انتظامی تھی یا اس کے پیچھے انتخابی حساب کتاب بھی تھا؟
وزیراعلیٰ فڑنویس کا موقف اپنی جگہ قابل فہم ہے۔ آٹو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی تنظیموں کے نمائندوں نے ان سے ملاقات کرکے کہا کہ وہ مراٹھی زبان سیکھنے کے مخالف نہیں ہیں۔ ان کی شکایت یہ ہے کہ ڈرائیوروں کی عمریں مختلف ہیں، تعلیمی قابلیت مختلف ہے اور بہت سے لوگ برسوں پہلے رسمی تعلیم سے دور ہوچکے ہیں۔ مختصر مدت میں زبان سیکھنا ان کے لیے مشکل ہے۔ اس لیے ایک سال کا وقت دیا جائے۔
حکومت نے کہا کہ اس دوران مراٹھی کی کلاسیں چلائی جائیں گی، مطالعاتی مواد فراہم کیا جائے گا اور ڈرائیوروں کو روزمرہ مسافروں سے مراٹھی میں بنیادی گفتگو کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔
یہ انتظامی منطق ہے۔ لیکن سیاست کی منطق کچھ اور کہتی ہے۔اگر یہی منطق ابتدا میں موجود تھی تو پھر 15 اگست کی آخری تاریخ کیوں مقرر کی گئی؟ اگر ڈرائیوروں کی عمریں اور تعلیمی پس منظر معلوم تھے تو پھر ہزاروں افراد کو امتحان کے کٹہرے میں کھڑا کرنے سے پہلے مناسب تربیتی مدت کیوں نہیں دی گئی؟ اور اگر حکومت کا مقصد صرف مسافروں سے بنیادی مراٹھی میں گفتگو کرانا تھا تو کیا اس مقصد کے لیے زبان کی سخت شرط اور کارروائی کا خوف ضروری تھا؟
انگریزی روزنامہ ‘دی انڈین ایکسپریس‘ کی 27 اور 28 اگست کی اشاعت کی رپورٹس نے اس فیصلے کے سیاسی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ اخبار نے مراٹھی زبان کے نفاذ کو مہایوتی کے اندر بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان سیاسی مسابقت اور مراٹھی ووٹ کی سیاست کے تناظر میں دیکھا ہے۔ خاص طور پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ کی ایک سال کی مہلت کا اعلان اس وقت ہوا جب شیو سینا کے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سارنائک اس معاملے کو پوری قوت سے آگے بڑھا رہے تھے اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا تقریباً 20 ہزار ڈرائیوروں کو مراٹھی کورس مکمل کرنے پر سرٹیفکیٹ دے چکی تھی۔
یعنی ایک طرف شندے سینا مراٹھی زبان کے میدان میں سیاسی پرچم لہرا رہی تھی، دوسری طرف وزیراعلیٰ نے اچانک نفاذ کی رفتار کم کردی۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے؟
سیاست میں بعض اوقات اتفاقات بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ایکناتھ شندے کے لیے مراٹھی مانوس کی سیاست خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ خود آٹو رکشہ چلاچکے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر بھی عام آدمی، محنت کش اور مقامی شناخت کے بیانیے سے جڑا رہا ہے۔ اس لیے رکشہ ڈرائیوروں کے درمیان مراٹھی زبان کی مہم ان کے لیے صرف سرکاری پروگرام نہیں بلکہ سیاسی علامت بھی تھی۔
شیوسینا کی تاریخ میں مراٹھی مانوس کا تصور بنیادی ستون رہا ہے۔ بال ٹھاکرے نے 1966 میں شیوسینا قائم کی تو ممبئی میں مراٹھی نوجوانوں کے روزگار اور مقامی لوگوں کے حقوق اس سیاست کے مرکزی موضوع تھے۔ بعد میں ہندوتوا نے اس سیاست کو ایک وسیع قومی رنگ دیا، مگر مراٹھی شناخت کبھی مکمل طور پر غائب نہیں ہوئی۔
آج صورت حال یہ ہے کہ شیوسینا دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا (یو بی ٹی) اور ایکناتھ شندے کی شیوسینا دونوں بال ٹھاکرے کی وراثت پر اپنا حق جتاتی ہیں۔ دونوں کے لیے مراٹھی مانوس کی حمایت محض جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی بقا کا سوال بھی ہے۔
اور اس دوڑ میں راج ٹھاکرے کی ایم این ایس بھی موجود ہے۔راج ٹھاکرے کے لیے مراٹھی شناخت کوئی نیا انتخابی نعرہ نہیں۔ ان کی پوری سیاست اسی محور کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اگر ادھو اور راج ٹھاکرے مراٹھی ووٹ کو کسی حد تک متحد کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو شندے سینا کے لیے اس میدان میں اپنی جگہ بنائے رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ چنانچہ شندے سینا کے لیے مراٹھی زبان کا مسئلہ ایک ایسا سیاسی میدان بن گیا جہاں وہ ادھو اور راج دونوں کو چیلنج کرسکتی تھی۔
لیکن یہاں بی جے پی کی مجبوری شروع ہوتی ہے۔مہاراشٹر صرف مراٹھی ووٹروں کی ریاست نہیں۔ ممبئی تو اس سے بھی آگے کی حقیقت ہے۔ یہ شہر اترپردیش، بہار، گجرات، راجستھان، جنوبی ہندوستان اور ملک کے تقریباً ہر خطے سے آنے والے لوگوں کی محنت سے بنا ہے۔ آٹو رکشہ اور ٹیکسی چلانے والوں میں شمالی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے بہت سے ہندی بولنے والے ہیں اور ایک بڑا طبقہ بی جے پی کا سیاسی حامی بھی سمجھا جاتا ہے۔
بی جے پی کے لیے یہ ووٹر معمولی نہیں ہیں،مراٹھی شناخت کی سیاست میں ایک حد تک جانا مہاراشٹر میں سیاسی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن اگر یہی سیاست ہندی بیلٹ میں ’مہاجر مخالف مہاراشٹر‘ کے طور پر پیش ہونے لگے تو اس کے اثرات مہاراشٹر سے بہت دور تک جاسکتے ہیں۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں اترپردیش سامنے آتا ہے۔
اترپردیش اسمبلی انتخابات بی جے پی کے لیے ہمیشہ انتہائی اہم رہے ہیں۔ ایسی صورت میں مہاراشٹر سے ہندی بولنے والے باشندوں کے خلاف سخت زبان پالیسی کا پیغام جانا بی جے پی کے لیے ایک غیر ضروری سیاسی بوجھ بن سکتا تھا۔ اگر یہ تاثر پیدا ہوجاتا کہ مہاراشٹر میں روزگار حاصل کرنے والے اترپردیش اور بہار کے لوگوں کو زبان کے نام پر نشانہ بنایا جارہا ہے تو اس کا سیاسی ردعمل صرف ممبئی یا مہاراشٹر تک محدود نہیں رہتا۔یہی وجہ ہے کہ فڑنویس کی ایک سال کی مہلت کو محض ایک انتظامی رعایت سمجھنا شاید سیاسی حقیقت کو بہت سادہ بنا دینا ہوگا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت کی جانب سے فڑنویس کو سخت ہدایت دیے جانے کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اس لیے اسے قطعی حقیقت کے طور پر پیش کرنا صحافتی اصولوں کے خلاف ہوگا۔ لیکن سیاسی ذرائع کی طرف سے ایسے دعوے ضرور سامنے آئے ہیں اور واقعات کی ترتیب ان قیاس آرائیوں کو تقویت دیتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے مراٹھی کی شرط واپس نہیں لی۔ صرف اس کے نفاذ کو مؤخر کیا۔اسے ایک نہایت سوچا سمجھا سیاسی فرق کہاجاسکتاہے۔
اگر بی جے پی مراٹھی شرط مکمل طور پر ختم کردیتی تو مہاراشٹر میں مراٹھی شناخت کے حامی اس کے خلاف صف آرا ہوسکتے تھے۔ اگر اسے اسی شدت سے نافذ کرتی رہتی تو ہندی بولنے والی آبادی ناراض ہوسکتی تھی۔ چنانچہ درمیانی راستہ اختیار کیا گیا: مراٹھی سیکھنی ہوگی، مگر ابھی نہیں؛ ایک سال بعد۔نہ مراٹھی کو مکمل طور پر ناراض کرو، نہ ہندی بیلٹ کو۔
لیکن اس درمیانی راستے میں سب سے زیادہ راحت کس کو ملی؟جواب صاف ہے: ان غیر مراٹھی ڈرائیوروں کو جن کے سر پر بیج منسوخ ہونے اور روزگار چھن جانے کی تلوار لٹک رہی تھی۔
انہوں نے مراٹھی سیکھنے سے انکار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے وقت مانگا تھا۔ وقت مل گیا۔انہوں نے کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی۔ ایک سال کے لیے کارروائی روک دی گئی۔
انہوں نے تربیت کی بات کی تھی۔ حکومت نے کلاسیں اور مطالعاتی مواد دینے کا وعدہ کیا۔
تو سیاسی اعتبار سے فی الحال بازی کس کے ہاتھ ہے؟
ہندی بیلٹ کے باشندوں کے۔
اور یہی بات مراٹھی نواز حلقوں کو سب سے زیادہ کھل رہی ہے۔مراٹھی ایککرن سمیتی کے صدر گووردھن دیشمکھ نے حکومت کے فیصلے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مراٹھی عوام ایک بار پھر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت مہاجرین کو خوش کرنے کی کوشش کررہی ہے اور مراٹھی زبان کے نفاذ کو سیاسی مصلحت کی نذر کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق مراٹھی بولنے والی اکثریت کو متحد ہوکر حکومت سے زبان کے فوری نفاذ کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
راج ٹھاکرے بھی اس تنازع میں خاموش نہیں رہے،
انہوں نے بی جے پی کی مرکزی قیادت کو ’اقتدار کے نشے میں مغرور‘ قرار دیتے ہوئے فڑنویس کو نشانہ بنایا۔ راج ٹھاکرے کے حملے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انہیں ایک سال کی مہلت پسند نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ بی جے پی کی اس سیاسی حکمت عملی کو چیلنج کررہے ہیں جس میں مراٹھی جذبات اور ہندی ووٹ کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
راج ٹھاکرے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مہاراشٹر میں مراٹھی زبان کا مسئلہ اتنا اہم ہے تو پھر اس کے نفاذ کے وقت حکومت پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے؟
اور یہی سوال شندے سینا کے سامنے بھی کھڑا ہے۔
جس مہم کو شندے سینا نے اپنی مراٹھی شناخت کے احیا کا ذریعہ بنایا، اس پر آخری فیصلہ وزیراعلیٰ نے اپنی شرائط پر کیا۔ اس سے سیاسی کریڈٹ کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر ڈرائیور مراٹھی سیکھتے ہیں تو اس کا کریڈٹ کس کو ملے گا؟ اگر ایک سال بعد شرط نافذ ہوتی ہے تو کیا اسے شندے سینا کی کامیابی کہا جائے گا یا بی جے پی کی؟
یہی مہایوتی کی اندرونی سیاست ہے: حکومت ایک، مگر سیاسی مفادات متعددہیں،شیوسینا کا وزیر سختی چاہتا ہے، وزیراعلیٰ نرمی دکھاتا ہے۔ شندے سینا مراٹھی مانوس کے درمیان اپنی جگہ مضبوط کرنا چاہتی ہے، بی جے پی ہندی ووٹروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ اور دونوں کے درمیان مراٹھی زبان ایک بار پھر سیاسی رسہ کشی کا میدان بن گئی ہے۔
اس تنازع کو صرف مہاراشٹر تک محدود کرکے دیکھنا بھی غلط ہوگا۔ ہندوستان کا لسانی مسئلہ اس سے کہیں وسیع ہے۔
ہندوستان ایک کثیر لسانی ملک ہے۔ آئین کی آٹھویں جدول میں 22 زبانوں کو تسلیم کیا گیا ہے، جبکہ ملک میں سیکڑوں زبانیں اور بولیاں استعمال ہوتی ہیں۔ آزادی کے بعد کئی ریاستوں کی تشکیل ہی زبان کی بنیاد پر ہوئی۔ علاقائی زبانوں نے سیاسی اور انتظامی شناخت حاصل کی، مگر ساتھ ہی ہندی کو قومی سطح پر فروغ دینے کی کوششوں نے غیر ہندی ریاستوں میں حساسیت بھی پیدا کی۔ جنوبی ہندوستان میں ہندی کے خلاف تحریکوں کی تاریخ اسی لسانی سیاست کا حصہ ہے۔ دوسری طرف انگریزی اعلیٰ تعلیم، عدلیہ، تجارت اور روزگار کے میدان میں آج بھی طاقتور حیثیت رکھتی ہے۔
اردو کا معاملہ بھی اسی پیچیدہ لسانی سیاست کا ایک اہم باب ہے۔ اردو آئینی طور پر تسلیم شدہ زبان ہے اور کئی ریاستوں میں اسے دوسری سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل ہے، لیکن عملی طور پر اردو تعلیم، سرکاری استعمال اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے متعدد مشکلات سے دوچار ہے۔
اس پورے پس منظر میں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: ہندوستان میں زبان شناخت ہے، مگر زبان دیوار نہیں بننی چاہیے۔
مہاراشٹر میں مراٹھی کا احترام ہونا چاہیے۔ کیوں نہ ہو؟ جو شخص مہاراشٹر میں رہتا ہے، کام کرتا ہے اور معاشرے کا حصہ بنتا ہے، اگر وہ مراٹھی سیکھتا ہے تو اس سے رابطہ بہتر ہوگا، مقامی ثقافت سے قربت بڑھے گی اور سماجی فاصلے کم ہوں گے۔ لیکن زبان سیکھنے کی ترغیب اور زبان نہ آنے پر روزگار چھیننے کی دھمکی دو مختلف چیزیں ہیں۔
ایک طرف مراٹھی سیکھنے کی سہولت دیجیے، دوسری طرف کسی غریب ڈرائیور کو یہ خوف نہ دیجیے کہ اگر وہ چند مہینوں میں زبان کا امتحان پاس نہ کرسکا تو اس کی روزی ختم ہوجائے گی۔
یہاں حکومت کی ذمہ داری بھی بنتی ہے۔ایک سال کی مہلت صرف سیاسی ٹائم آؤٹ نہ بن جائے۔ اس ایک سال میں واقعی تربیت ہونی چاہیے۔ ڈرائیوروں کے اوقات کار کو دیکھتے ہوئے کلاسیں ہوں، آسان کورس ہو، عمر رسیدہ اور کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے الگ طریقہ ہو اور امتحان بھی عملی ضرورت کے مطابق ہو۔
ڈرائیور کو مراٹھی ادب کا ماہر بنانے کی ضرورت نہیں۔ اسے مسافر سے پوچھنا ہے: کہاں جانا ہے؟ کتنے مسافر ہیں؟ کرایہ کتنا ہے؟ راستہ کون سا ہے؟ انتظار کرنا ہے یا نہیں؟ یہ بنیادی جملے اگر وہ مراٹھی میں بول سکے تو حکومت کا اصل مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
لیکن اگر مقصد زبان نہیں بلکہ سیاسی طاقت کا مظاہرہ ہے تو پھر یہ مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ایک سال بعد پھر سوال اٹھے گا۔ پھر ٹیسٹ ہوں گے۔ پھر نوٹس ہوں گے۔ پھر مظاہرے ہوں گے۔ پھر شندے سینا مراٹھی مانوس کی بات کرے گی۔ راج ٹھاکرے سڑک پر آنے کی دھمکی دیں گے۔ ادھو ٹھاکرے حکومت کو گھیرنے کی کوشش کریں گے اور بی جے پی کو دوبارہ ہندی اور مراٹھی ووٹ کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست میں مراٹھی شناخت کو کوئی بھی جماعت نظرانداز نہیں کرسکتی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ممبئی اور مہاراشٹر کی معیشت مہاجر محنت کشوں کے بغیر مکمل نہیں۔ اس لیے سیاست دانوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ مہاراشٹر کی شناخت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں یا شناخت کے نام پر سماجی تقسیم کو گہرا کرنا چاہتے ہیں۔
فڑنویس کا ایک سال کا فیصلہ اس سوال کا حتمی جواب نہیں دیتا۔ بلکہ اس نے اسے ایک سال کے لیے آگے بڑھا دیا ہے۔
اگر سیاسی زاویے سے فیصلہ سنایا جائے تو شندے سینا کو فوری طور پر نقصان ہوا ہے۔ اس کی مراٹھی مہم کی رفتار کم ہوئی ہے۔ مراٹھی نواز تنظیموں کو مایوسی ہوئی ہے۔ راج ٹھاکرے کو حکومت پر حملہ کرنے کا ایک نیا موضوع مل گیا ہے۔ لیکن غیر مراٹھی ڈرائیوروں کو فوری راحت ملی ہے اور بی جے پی کو ایک اہم سیاسی خطرہ ٹالنے کا موقع مل گیا ہے۔
خصوصاً اترپردیش اسمبلی انتخابات کے تناظر میں یہ فیصلہ زیادہ معنی خیز ہوجاتا ہے۔
اگر مہاراشٹر کا یہ مسئلہ ہندی بیلٹ میں اس طرح پہنچتا کہ ’مہاراشٹر میں اترپردیش اور بہار کے لوگوں کو مراٹھی نہ آنے پر روزگار سے محروم کیا جارہا ہے‘ تو بی جے پی کے لیے دفاع کرنا مشکل ہوسکتا تھا۔ ایک سال کی مہلت نے فی الحال اس بیانیے کی شدت کم کردی ہے۔
اسی لیے یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ مراٹھی شرط برقرار رہنے کے باوجود اس مرحلے پر سیاسی فتح ہندی بیلٹ کے باشندوں کی ہوئی ہے۔
لیکن یہ مکمل فتح نہیں ہے،کیونکہ ایک سال بعد مراٹھی پھر دروازے پر کھڑی ہوگی۔
اس وقت اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا حکومت نے ڈرائیوروں کو واقعی مراٹھی سکھادی؟ کیا کلاسیں مؤثر رہیں؟ کیا زبان کا امتحان عملی رکھا گیا؟ کیا مراٹھی سیکھنے والے ڈرائیوروں کو سہولت ملی؟ اور سب سے اہم، کیا زبان کو احترام اور رابطے کا ذریعہ بنایا گیا یا پھر اسے دوبارہ سیاسی طاقت کے مظاہرے میں تبدیل کردیا گیا؟
یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سال بعد سیاسی حالات آج سے بالکل مختلف ہوں۔ انتخابات کا وقت گزرچکا ہوگا، سیاسی ترجیحات بدل چکی ہوں گی اور مراٹھی زبان کا مسئلہ ایک نئے انداز میں سامنے آئے گا۔جبکہ ایک سال میں شمالی ریاستوں سے ایک دو نئی کھیپ پہنچ جائیں۔
لیکن آج کے لمحے کا سیاسی خلاصہ زیادہ مشکل نہیں۔
مراٹھی کی شرط واپس نہیں ہوئی، مگر اس کی تلوار میان میں ڈال دی گئی ہے۔
شندے سینا نے مراٹھی کا جھنڈا بلند کیا، مگر فڑنویس نے اس کے نفاذ پر بریک لگا دی۔مراٹھی نواز تنظیمیں سڑک پر آنے کی بات کررہی ہیں، مگر غیر مراٹھی ڈرائیور سکون کا سانس لے رہے ہیں۔
بی جے پی مراٹھی جذبات کو مکمل طور پر ناراض نہیں کرنا چاہتی، مگر ہندی بیلٹ کو بھی یہ پیغام نہیں دینا چاہتی کہ مہاراشٹر میں اس کے ہم زبان اور ہم وطن نشانے پر ہیں۔
اور یہی وہ سیاسی توازن ہے جس نے ایک سال کی مہلت کو جنم دیا ہے۔
اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ مراٹھی کون سیکھے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ مراٹھی کی سیاست سے فائدہ کون اٹھائے گا؟
شندے سینا؟بی جے پی؟ادھو ٹھاکرے؟راج ٹھاکرے؟
یا وہ ڈرائیور جو روزانہ ممبئی کی سڑکوں پر اپنے رکشے اور ٹیکسی کے ذریعے اس شہر کی زندگی کو رواں رکھتے ہیں؟
فی الحال تو جواب سامنے ہے: ڈرائیور جیتے ہیں، مراٹھی سیاست ایک سال کے لیے رکی ہے اور بی جے پی نے ایک مشکل انتخابی سوال کو وقتی طور پر ٹال دیا ہے۔
ویسے یہاں مراٹھی زبان کی ممتاز ماہر، ادیب اور ماہرِ لسانیات پروفیسر یاسمین شیخ کا حوالہ دے سکتے ہیں،جن کا 24 اگست 2026 کو پونے میں 101 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ وہ ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں اور ان کا اصل نام ‘جیروشا روبن’ تھا۔ 1950 میں عزیز احمد ابراہیم شیخ سے شادی کے بعد انہوں نے اپنا نام بدل کر یاسمین شیخ رکھ لیا۔انہوں نے تقریباً 34 برس تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ وہ ممبئی کے ایس آئی ای ایس کالج میں مراٹھی شعبے کی صدر رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ‘بال بھارتی’ کے مراٹھی درسی کتب کے نصاب کی تیاری میں 7 سال تک بطور ایڈیٹر کام کیا۔گرائمر کی ماہر: مراٹھی زبان کے قواعد ،گرامر، پر انہیں غیر معمولی مہارت حاصل تھی اور وہ آئی اے ایس کے امیدواروں کو بھی مراٹھی لسانیات پڑھاتی تھیں۔
اور اگر اترپردیش اسمبلی انتخابات کو اس پورے کھیل کا پس منظر مان لیا جائے تو تصویر اور صاف ہوجاتی ہے: مہاراشٹر میں مراٹھی کے نام پر سختی کا جو سیاسی سفر شروع ہوا تھا، اسے بی جے پی نے اتنی جلدی روک دیا کہ سوال اٹھنا لازمی ہوگیا کہ کہیں ووٹ نے زبان کو تو شکست نہیں دے دی؟
شاید یہی اس پورے تنازع کا سب سے بڑا طنز ہے۔
جس مراٹھی کو سیاست نے شناخت کی طاقت بنایا تھا، آخرکار اسی زبان کے نفاذ کا فیصلہ بھی سیاست ہی نے مؤخر کردیا۔
اور ایک سال کی یہ مہلت شاید صرف ڈرائیوروں کے لیے مہلت نہیں؛ یہ مہاراشٹر کی سیاست کے لیے بھی ایک مہلت ہے کہ وہ طے کرے کہ زبان کو محبت سے پھیلانا ہے یا خوف سے نافذ کرنا ہے۔
کیونکہ زبان دل میں جگہ بنائے تو نسلوں تک زندہ رہتی ہے، لیکن اگر اسے ووٹ کی لاٹھی بنا دیا جائے تو ہر انتخاب کے ساتھ اس کی سمت بدلنے لگتی ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
Comments are closed.