جمشید کا ساغر

 

محمد نفیس خان ندوی

ایران کی دیومالائی تاریخ میں ایک افسانوی بادشاہ گذرا ہے جس کا نام "جمشید” تھا..

مشہور ہے کہ جمشید کے پاس ایک پیالہ یا ساغر تھا جسے "جام جم”، "جام جہاں نما” اور "جمشید کا ساغر” کہا جاتا تھا..

جمشید کا یہ پیالہ عجیب اساطیری قوت سے لبریز تھا، جمشید اس میں شراب بھی پیتا تھا اور ضرورت پڑنے پر دنیا بھر کے احوال بھی دیکھ لیتا تھا. دنیا میں کہاں کیا واقع ہو رہا ہے اور کیا واقع ہونے والا ہے، یعنی ماضی کے احوال، حال کے واقعات اور مستقبل کے امکانات سب اس کی نظروں کے سامنے تھا، گویا پوری دنیا اپنی تمام گردشوں کے ساتھ اس کے اس چھوٹے سے پیالہ میں سمائی ہوئی تھی..

 

بعد کے ادوار میں اس لفظ نے مختلف جہات سے شہرت حاصل کی، فارسی ادب میں "علم و بصیرت” اور ” اسرار کائنات سے آگہی” کے لیے "جمشید کا ساغر” ایک کنایہ کے طور پر استعمال ہونے لگا، یعنی اگر کسی کو صحیح علم، حقیقی معرفت اور گہری بصیرت حاصل ہوجائے تو گویا اسے "جمشید کا ساغر” حاصل ہوگیا..

 

اہلِ تصوف نے اس لفظ کو "معرفت باطن” اور "عرفان حقیقت” کے گہرے رمز کے طور پر استعمال کیا۔ ان کے نزدیک "جمشید کا ساغر” کوئی افسانوی پیالہ نہیں، بلکہ "عارف کا دل” ہے؛ وہ دل جو تزکیہ، مجاہدہ اور سلوک کی منزلیں طے کرتا ہوا "عرفان ذات” تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔اور پھر "عارف باللہ” ” ولی اللہ” اور "بندہ مؤمن” جیسے القاب سے پکارا جاتا ہے.

ریاضت و مجاہدے کے تسلسل، ذاتِ باری تعالیٰ میں گہرے انہماک اور مراقبہ کے بعد جب "دل مؤمن” پر سے غفلت کے پردے اٹھتے ہیں اور اندرون دل سے نور معرفت کی کرنیں پھوٹنے لگتی ہیں تو گویا پوری کائنات اپنی تمام تر وسعت کے ساتھ روشن ہو کر ایک نقطۂ دل میں سما جاتی ہے۔

پھر عالم ظاہر کے پیچھے پوشیدہ عالم باطن بھی اس کے لیے منکشف ہونے لگتا ہے اور ظاہری حوادث کے پردے میں کارفرما حقائق بھی اس کی نگاہ بصیرت کے سامنے وا ہونے لگتے ہیں۔

 

یہی وہ "اہل دل” ہیں جو حالات کی سنگینی کے سامنے مرعوب نہیں ہوتے اور نہ حوادث روزگار کے طوفان ان کی ہمتیں پست کر تے ہیں، کیونکہ ان کی نگاہ حالات کے اتھل پتھل کے بجائے مسبب الاسباب کی مشیت پر ہوتی ہے۔ وہ ہر حادثے اور ہر واقعہ کے پس پردہ قدرت الٰہی کا تصرف اور مشیت ایزدی کی جلوہ نمائی دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک روز مرہ کے واقعات محض اتفاقات نہیں ہوتے، بلکہ ہر واقعہ قدرت کے کسی نہ کسی راز کی طرف اشارہ اور مشیت الٰہی کی کسی نہ کسی تجلی کا مظہر ہوتا ہے۔

 

اہلِ تصوف کے نزدیک قلب کی پاکیزگی، روح کی صفائی، تزکیہ باطن اور اطاعت باری کا یہ وہ مقام ہے جہاں کبھی کبھی قدرت خداوندی ظاہری اسباب کی محتاج نہیں رہتی اور پردہ اسباب کے پیچھے کارفرما حقیقت اپنے بعض جلوے دکھانے لگتی ہے۔ ایسے مقام پر ماضی کے پردوں میں چھپے بعض حقائق اور مستقبل کے حجاب میں پوشیدہ بعض اسرار بھی "کشف” و "تجلی” کے ذریعہ منکشف ہونے لگتے ہیں۔

اور پھر اہل ارادت جب اس مرد مؤمن کے باطن سے پھوٹنے والی معرفت، بصیرت اور کشف کے آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اسے اپنی اصطلاح میں "کرامت” کا نام دیتے ہیں۔ اور یہی وہ باطنی دولت، جام معرفت اور ساغر حقیقت ہے جسے صوفیانہ رنگ میں "جمشید کا ساغر” کہا گیا ہے۔

 

لیکن اگر علامہ اقبال کے فکری زاویہ سے دیکھا جائے "جمشید کا ساغر” اپنی وسعت نظر اور آفاقیت کے باوجود بہت تنگ دکھائی دیتا ہے. علامہ کو اس پیالہ میں عالم ہستی کے مختلف اسرار نظر آئے، ماضی کے حقائق اور مستقبل کے اندیشے بھی دکھائی دیے لیکن ایک شیئ تھی جو اس پیالہ میں کہیں نظر نہ آئی اور وہ شیئ تھی "خودی”!

 

اقبال کی نظر میں یہی وہ مقام ہے جہاں "جام جہاں نما” بھی اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ نظر آتا ہے، یہ "ساغر” اسرار کائنات پر سے پردے تو اٹھا سکتا ہے لیکن "اسرار خودی” تک اس کی رسائی ممکن نہیں، اس پیالہ میں انسان ظاہری دنیا کو تو دیکھ سکتا ہے لیکن اپنی ذات میں پوشیدہ جہاں میں جھانک نہیں سکتا. کائنات کے بے شمار مناظر کا مشاہدہ تو کر سکتا ہے مگر اندرون کا سراغ نہیں پا سکتا!

 

 

اقبال کے نزدیک ’’مرد مؤمن‘‘ وہ نہیں جس کے سامنے کائنات کے پردے چاک ہو جائیں اور اس کے اسرار و رموز منکشف ہو جائیں بلکہ اصل "مرد مؤمن” وہ ہے جس پر "عرفان نفس” کا دروازہ کھل جائے، اور وہ اپنی ذات کے نہاں خانے میں پوشیدہ اس قوت کو پہچان سکے جو اس کے باطن میں وہ عشق مسلسل، یقین محکم اور عمل پیہم بیدار کردے جو اسے غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرا سکے۔

 

جمشید کا ساغر جہاں بینی اور جہاں شناسی کا ایک استعارہ ہے جبکہ اقبال کی خودی وہ آئینہ ہے جس میں انسان خود اپنی عظمت اور اپنی تقدیر کا راز دیکھتا ہے اسی لیے اقبال اپنے آپ کو جمشید کے ساغر کا محتاج نہیں سمجھتے، ان کی نگاہ کائنات کے ظاہری انکشاف سے نکل کر انسان کے باطن کی دریافت تک پہنچتی ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں :

جہاں بینی مری فطرت ہے لیکن

کسی جمشید کا ساغر نہیں میں

Comments are closed.