مہکتی کتابیں "کلیسا”

 

نام کتاب: کلیسا

مصنف: مولانا محمد نفیس خاں ندوی

ناشر: سید احمد شہید اکیڈمی، تکیہ، رائے بریلی

مبصر : ناصرالدین مظاہری

سن دو ہزار عیسوی کے بعد سے مسلسل تعمیرِ حیات، بانگِ درا، البعث الاسلامی، الرائد وغیرہ رسائل و جرائد میں حضرت مولانا سید محمد واضح رشید ندویؒ کے مضامین پڑھنے کا موقع ملا۔ البعث الاسلامی میں وہ ’’صور و اوضاع‘‘ کے عنوان سے باقاعدگی کے ساتھ لکھتے تھے۔ مسلسل لکھتے تھے، مدلل لکھتے تھے اور کمال کا لکھتے تھے۔ ’’صور و اوضاع‘‘ کے معنی ہیں: مختلف حالات و واقعات کی صورتیں، کیفیات اور بدلتے ہوئے اوضاع۔

اسی فکری سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تعمیر حیات لکھنؤ اور پیامِ عرفات، تکیہ، رائے بریلی میں محترم مولانا محمد نفیس خاں ندوی نے بھی اسلام، عالمِ اسلام، عیسائیت، یہودیت اور حالاتِ حاضرہ جیسے اہم موضوعات پر لکھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا قلم اپنے مخصوص رنگ و آہنگ کے ساتھ اہلِ علم کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

مولانا محمد نفیس خاں ندوی بڑا نفیس لکھتے ہیں؛ ان کی تحریر میں نفاست ہے، طبیعت میں نفاست ہے اور مزاج میں بھی ایک خاص نفاست جھلکتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ پاکیزہ انفاس اور نفیس النفوس بزرگوں کی صحبت و تربیت سے فیض یاب ہوئے ہیں۔ ان ہی نفوسِ قدسیہ کے انفاس نے ان کی تربیت کی، ان کی صحبت نے ان کے اندر نفاست پیدا کی اور انہیں نفسانیت سے محفوظ رکھا۔ چنانچہ ان کے قلم میں دوسروں سے تنافس ضرور ہے، مگر منافست نہیں؛ بلندیِ فکر کی جستجو ہے، مگر نفس کی بڑائی نہیں؛ ان کا قلم نفسانی کشمکش سے نہیں، بلکہ نفیس فکر، پاکیزہ نفس اور مبارک انفاس سے متنفس ہے۔

مجھے یاد نہیں کہ میرا ان سے یا ان کا مجھ سے تعارف کب ہوا، البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ وہ مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی تقریباً تمام تحریروں کے قاری ہیں اور اپنے معاصرین میں ایک بھاری علمی شخصیت رکھتے ہیں۔ مطالعہ ان کا سرمایہ ہے، فکر ان کی قوت اور قلم ان کا ترجمان ہے۔

مولانا برجستہ بھی لکھتے ہیں اور قلم برداشتہ بھی۔ ان کا اسلوب سادہ، شستہ، رواں اور بے تکلف ہے۔ وہ مشکل موضوع کو بھی اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ قاری پر بوجھ نہیں بنتا، بلکہ اسے اپنے ساتھ لیے چلتا ہے۔ عبارت میں سلاست ہے، استدلال میں متانت ہے اور بیان میں ایک ایسی شگفتگی ہے جو تحریر کو خشک علمی مضمون بننے سے محفوظ رکھتی ہے۔

کئی کتابیں ان کے قلم سے نکل چکی ہیں اور ہر کتاب اپنے موضوع اور مضمون میں چندے آفتاب، چندے ماہتاب دکھائی دیتی ہے۔

مجھے بھی چند سال قبل ان کی ایک تازہ ترین تجزیاتی، تاریخی اور لطیف تالیف ’’کلیسا‘‘ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

تاریخ صرف بادشاہوں کے عروج و زوال، تاج و تخت کی کشمکش، جنگوں کی گھن گرج اور سلطنتوں کی شکست و فتح کا نام نہیں؛ تاریخ کے سینے میں فکر و نظر کے انقلاب، عقیدہ و مذہب کی کشمکش، علم و جہالت کی آویزش اور تہذیبوں کے عروج و انحطاط کی داستانیں بھی محفوظ ہوتی ہیں۔ خصوصاً یورپ کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے کلیسا کے کردار، اقتدار اور اثرات سے واقفیت لابدی و ناگزیر ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں مولانا محمد نفیس خاں ندوی کی کتاب ’’کلیسا‘‘ ایک اہم، فکر انگیز اور قابلِ مطالعہ تصنیف کی حیثیت سے سامنے آتی ہے۔

کلیسا محض ایک عبادت گاہ یا مذہبی ادارے کا نام نہیں رہا؛ ایک طویل تاریخی دور میں وہ یورپی معاشرے کی مذہبی رہنمائی کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی، علمی اور اخلاقی زندگی پر بھی اثر انداز رہا۔ پھر حالات نے کروٹ لی، سوالات نے جنم لیا، فکری بغاوتوں نے سر اٹھایا، اصلاحی تحریکیں برپا ہوئیں اور یورپ بتدریج ایک ایسے دور میں داخل ہوگیا جہاں مذہبی اقتدار کی گرفت کمزور اور عقلی و سائنسی فکر کی قوت مضبوط ہوتی چلی گئی۔ اٹھارہویں صدی تک پہنچتے پہنچتے یورپ کے مذہب، معاشرت، سیاست اور ثقافت کے تصورات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوچکی تھیں۔

مولانا نفیس خاں ندوی نے ’’کلیسا‘‘ کے موضوع کو محض تاریخی واقعات کی خشک ترتیب کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اس کے پسِ پردہ کارفرما فکری، مذہبی اور تہذیبی محرکات کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کا مطالعہ قاری کو ان بنیادی سوالات تک لے جاتا ہے کہ آخر وہ کون سے حالات تھے جنہوں نے یورپ میں مذہبی اقتدار کے خلاف ردِعمل پیدا کیا؟ کلیسا کی کمزوری کے اسباب کیا تھے؟ مذہب اور سیاست کے باہمی اختلاط نے کیا نتائج پیدا کیے؟ اور وہ کون سی فکری لہریں تھیں جنہوں نے جدید مغربی ذہن کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا؟

کتاب کا ایک بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ قاری کو مغرب کی موجودہ فکری ساخت کے تاریخی پس منظر سے آشنا کرتی ہے۔ آج مغرب میں سیکولرزم، مذہبی آزادی، عقل پرستی اور مذہب و ریاست کی علیحدگی جیسے تصورات کو سمجھنے کے لیے اس تاریخی سفر سے واقفیت ضروری ہے؛ کیونکہ یہ تصورات یکایک وجود میں نہیں آئے، بلکہ ایک طویل کشمکش، ردِعمل اور فکری تغیر کا نتیجہ ہیں۔
’’کلیسا‘‘ دراصل ایک ادارے کی داستان نہیں، ایک عہد کی داستان ہے؛ ایک ایسا عہد جس میں مذہب اور اقتدار کا امتزاج بھی ہے اور اس کے نتائج بھی؛ فکری جمود بھی ہے اور بغاوت کی چنگاری بھی؛ اصلاح کی صدائیں بھی ہیں اور جدیدیت کے سیلاب کی چکا چوند بھی۔ مولانا نے اس پورے تاریخی منظرنامے کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ قاری ماضی کے واقعات پڑھتے پڑھتے حال کے فکری سوالات تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ کتاب بالخصوص ان قارئین کے لیے مفید ہے جو مغربی تہذیب، یورپی تاریخ، مذہب و سیاست کے تعلق اور جدید مغربی فکر کے تاریخی ارتقا کو محض نتائج کی سطح پر نہیں، بلکہ ان کے اسباب، محرکات اور پسِ منظر کی گہرائی میں اتر کر سمجھنا چاہتے ہیں۔

یوں ’’کلیسا‘‘ ماضی کے اوراق پلٹنے کے ساتھ ساتھ حال کے فکری منظرنامے کو سمجھنے کی ایک روزن، کھڑکی اور دریچہ بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ کتاب قاری کو صرف یہ نہیں بتاتی کہ یورپ میں کیا ہوا، بلکہ اس سوال پر بھی غور کی دعوت دیتی ہے کہ وہ کیوں ہوا، کیسے ہوا اور اس کے دور رس نتائج کیا نکلے۔

مختصر یہ کہ مولانا محمد نفیس خاں ندوی کی ’’کلیسا‘‘ یورپ کی مذہبی تاریخ کے پردے پر ابھرنے والی ان تصویروں کا مطالعہ ہے جن میں کلیسا کا اقتدار، مذہبی کشمکش، فکری بیداری اور جدید مغرب کی تشکیل ایک دوسرے سے مربوط دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو تاریخ کو محض واقعات نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے فکر کا آئینہ بنا دیتی ہے؛ اور شاید یہی ایک صاحبِ قلم کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ ماضی کو بیان کرتے ہوئے قاری کو حال سمجھنے اور مستقبل کے بارے میں سوچنے پر آمادہ کردے۔

ناصرالدین مظاہری
مظاہرعلوم وقف سہارنپور

(پچیس ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

Comments are closed.