جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی شادی کروائی!
مولانا محمد شاہد ناصری حنفی
مدیر، ماہنامہ مکہ میگزین ممبئی
بعض اوقات مطالعے کے دوران قرآنِ کریم کی کوئی آیت نگاہ سے گزرتی ہے، ہم اسے تلاوت کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر اس کے الفاظ پر اس طرح غور و فکر نہیں کر پاتے جس طرح ان کا حق ہے۔ آیاتِ قرآنی کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ کبھی ایک ہی آیت برسوں سے ہماری زبان پر ہوتی ہے، مگر کسی خاص لمحے اس کا کوئی ایک لفظ دل و دماغ پر ایسا اثر ڈالتا ہے کہ آدمی رک کر اس کے معنی اور مفہوم پر غور کرنے لگتا ہے۔
اتفاق سے آج نمازِ مغرب کے بعد حسبِ معمول اوراد و وظائف، مسنون دعاؤں اور تلاوت کے درمیان سورۂ توبہ کی ان آیات کی تلاوت کررہا تھا کہ دیر تک اس کی ایک آیت دل و دماغ میں گردش کرتی رہی۔ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے آج ہی اس آیت کے دو الفاظ میرے دماغ کی اسکرین پر بار بار آئے ہوں، اور ہر بار ذہن انہی الفاظ پر آکر ٹھہر جاتا ہو:
حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ۔
میرا معمول ہے کہ ہر نماز کے بعد سورۂ فاتحہ، آیت الکرسی اور سورۂ توبہ کی یہ آیت پڑھتا ہوں:
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔
ترجمہ: “یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول تشریف لائے ہیں، تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں، اور ایمان والوں کے لیے نہایت شفیق، بے حد مہربان ہیں۔”
آج بھی یہ آیت تلاوت ہی کا حصہ تھی، مگر نہ جانے کیوں اس مرتبہ “حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ” نے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ ذہن میں سوال ابھرا کہ قرآنِ کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے امت کے تعلق سے “حریص” کا لفظ کیوں اختیار فرمایا؟ حریص کا عام مفہوم کسی چیز کی شدید خواہش رکھنے والا ہے، لیکن یہاں اس لفظ کا تعلق کسی ذاتی منفعت یا خواہش سے نہیں، بلکہ امت کی خیر خواہی سے ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کی ہدایت، ایمان، بھلائی اور نجات کی اس قدر فکر تھی کہ کسی شخص کا خیر سے محروم رہ جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گراں تھا۔ “عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ” میں امت کی تکلیف کا احساس ہے، “حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ” میں اس کی بھلائی کے لیے مسلسل فکر و طلب ہے، اور پھر “بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ” میں اس تعلق کی شفقت و رحمت اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے۔
غور کیا تو محسوس ہوا کہ قرآنِ کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ اس غیر معمولی تعلق کو چند الفاظ میں بیان کردیا، لیکن سیرتِ طیبہ کے واقعات میں اس کیفیت کی بے شمار عملی تصویریں بکھری ہوئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف لوگوں کی آخرت کی فکر نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کی جائز دنیوی ضرورتوں، ان کی تنہائی، ان کے گھریلو مسائل اور ان کی معاشرتی زندگی کے معاملات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ سے باہر نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ “حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ” کو محض ایک قرآنی وصف کے طور پر پڑھ کر گزر جانا اس لفظ کے حقیقی مفہوم کو پوری طرح محسوس کرنا نہیں؛ اسے سمجھنے کے لیے سیرت کے کسی ایک واقعے کے سامنے بیٹھ جانا کافی ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کا ہے، جو مسند احمد میں تفصیل کے ساتھ منقول ہے۔ یہ واقعہ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ “حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ” کسی لغت کی کتاب میں درج ایک لفظ نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں چلتا پھرتا ایک کردار ہے۔
حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے تھے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ اسی خدمت میں گزرتا تھا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: “اے ربیعہ! کیا تم شادی نہیں کرو گے؟”
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔ میرے پاس اتنا سامان نہیں کہ ایک بیوی کے اخراجات برداشت کرسکوں، اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی مصروفیت پیدا ہو جائے جو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے ہٹا دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کوئی اصرار نہیں فرمایا۔ کچھ عرصہ گزرا تو دوبارہ دریافت فرمایا: “اے ربیعہ! کیا تم شادی نہیں کرو گے؟” حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی جواب دیا کہ میرے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ بیوی کے اخراجات اٹھا سکوں اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے غافل ہونا نہیں چاہتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی انہیں مجبور نہیں کیا۔
لیکن حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی۔ انہوں نے اپنے آپ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے کہیں زیادہ جانتے ہیں کہ میرے لیے دنیا اور آخرت میں کیا بہتر ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری مرتبہ شادی کا حکم دیں گے تو میں عرض کروں گا: یا رسول اللہ! آپ جو چاہیں مجھے حکم فرمائیں۔
چنانچہ کچھ عرصے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: “اے ربیعہ! کیا تم شادی نہیں کرو گے؟”
اس مرتبہ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ جو حکم فرمائیں، میں حاضر ہوں۔”
اب معاملہ صرف مشورے تک محدود نہ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے نکاح کا انتظام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انصار کے ایک خاندان کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ ان سے کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے اور حکم فرمایا ہے کہ تم اپنی فلاں لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کردو۔
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔ ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ربیعہ کون ہیں، ان کے پاس کتنا مال ہے، ان کا گھر کیسا ہے یا ان کی معاشی حیثیت کیا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو اعتماد کے لئے کافی سمجھا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو ہم خالی واپس نہیں بھیج سکتے۔ انہوں نے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کا نکاح کردیا، ان کی عزت و تکریم کی اور حسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کیا۔
لیکن حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو خوشی کے بجائے ان کے چہرے پر پریشانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: “اے ربیعہ! کیا بات ہے، تم پریشان کیوں ہو؟”
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایک نہایت شریف اور کریم خاندان کے پاس گیا تھا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پر میرا نکاح کردیا، میری عزت کی، میرے ساتھ حسنِ سلوک کیا، مگر اب میرے پاس مہر ادا کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ پریشانی بھی اپنے ذمے لے لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ربیعہ کے لیے سونے کی ایک نواة کے برابر سونا جمع کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے مل کر اتنا سونا جمع کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا کہ اسے لے جاؤ اور ان لوگوں سے کہو کہ یہ اس لڑکی کا مہر ہے۔
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ وہ مہر لے کر دوبارہ اس خاندان کے پاس پہنچے۔ انہوں نے مہر پیش کیا تو انہوں نے اسے قبول کرلیا اور کہا کہ یہ بہت اچھا اور کافی ہے۔
ظاہری طور پر نکاح کا مرحلہ مکمل ہوچکا تھا، مگر حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو ان کے دل میں ایک اور فکر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ اب بھی پریشان ہیں، فرمایا: “ربیعہ! اب کیا بات ہے؟”
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایسے کریم لوگوں کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے میرے ساتھ بہت اچھا معاملہ کیا، مہر کو بھی خوش دلی سے قبول کیا، لیکن میرے پاس ولیمہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
یہاں ایک عام آدمی شاید یہ کہتا کہ اب جو ہوگیا سو ہوگیا، ولیمہ بعد میں ہوجائے گا، یا جس کے پاس مال نہیں وہ شادی ہی کیوں کرتا ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں معاملہ اس طرح نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کی اس ضرورت کو بھی محسوس کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ربیعہ کے لیے ایک بکری کا انتظام کرو۔ چنانچہ ایک موٹا تازہ مینڈھا جمع کردیا گیا۔
اب کھانے کا مسئلہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ ان سے کہنا کہ وہ گھر میں موجود وہ ٹوکری بھیج دیں جس میں کھانے کا سامان رکھا ہے۔
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ ٹوکری نکالی اور بتایا کہ اس میں تقریباً نو صاع جو موجود ہیں، اور اللہ کی قسم! اس وقت ہمارے گھر میں اس کے علاوہ کوئی کھانا موجود نہیں۔ لیکن چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے، اسے لے جاؤ۔
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ وہ جو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات بھی عرض کردی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ان لوگوں کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ اس سے ہمارے لیے روٹیاں تیار کردیں، اور یہ مینڈھا بھی لے جاؤ تاکہ اس کا کھانا تیار کیا جائے۔
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ مینڈھا لے کر انصار کے اس گھر پہنچے اور ان کے ساتھ اسلم کے چند لوگ بھی تھے۔ گھر والوں نے کہا کہ روٹی کا انتظام ہم کرلیں گے، البتہ مینڈھے کا انتظام آپ لوگ کرلیجیے۔ چنانچہ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ آنے والے لوگوں نے مینڈھا ذبح کیا، اسے کھال اتاری، گوشت تیار کیا اور پکایا۔ دوسری طرف جو کا آٹا تیار کرکے روٹیاں بنائی گئیں۔ یوں ایک ایسے شخص کا ولیمہ تیار ہوگیا جس کے پاس نکاح کے وقت مہر تک ادا کرنے کے لیے کچھ نہ تھا۔
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے ولیمہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دی۔ اس طرح ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا نکاح صرف اس لیے نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شادی کا مشورہ دیا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو ابتدا سے انتہا تک اپنی توجہ میں رکھا۔ نکاح کا ارادہ سامنے آیا تو شادی کی ترغیب دی، مہر کا مسئلہ آیا تو مہر کا انتظام فرمایا، ولیمہ کی فکر سامنے آئی تو اس کا بھی بندوبست فرمایا۔
یہاں آکر “حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ” کا مفہوم کسی تشریح کا محتاج نہیں رہتا۔ ایک شخص کی زندگی کا ایک معمولی سا دکھ، ایک ایسی ضرورت جسے شاید آج ہم معاشرتی زندگی کے بے شمار مسائل میں معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی فکر میں جگہ دی۔ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کو صرف یہ نہیں کہا گیا کہ شادی کرلو؛ ان کے حالات دیکھے گئے، ان کی استطاعت کا خیال رکھا گیا، ان کے مہر کا انتظام کیا گیا، ان کے ولیمے کا سامان کیا گیا اور انہیں اس وقت تک تنہا نہیں چھوڑا گیا جب تک ان کی یہ ضرورت پوری نہ ہوگئی۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج تھا کہ آپ انسان کو محض ایک مسئلہ یا ایک ضرورت کے عنوان سے نہیں دیکھتے تھے۔ آپ اس کی پوری زندگی کو سامنے رکھتے تھے۔ اس کے ایمان کی فکر بھی تھی، اس کی آخرت کی فکر بھی، اس کی گھریلو زندگی کی فکر بھی اور اس کی معاشرتی ضرورتوں کا احساس بھی۔ اسی لیے قرآن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا:
عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ۔
تمہاری تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری بھلائی کے نہایت خواہش مند ہیں۔
یہ واقعہ نکاح کے حوالے سے ہمارے لیے ایک اور پہلو بھی سامنے رکھتا ہے۔ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کے پاس نہ مال تھا، نہ ظاہری معاشرتی اعتبار سے کوئی بڑی حیثیت، نہ شادی کے اخراجات کا انتظام۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کے معاملے میں اصل توجہ ان کی ضرورت اور ان کی شخصیت پر رکھی۔ دوسری طرف جس خاندان کو پیغام بھیجا گیا، اس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو اس قدر اعتماد کے ساتھ قبول کیا کہ مال و دولت کی تفصیل پوچھنے کے بجائے نکاح کے لیے آمادگی ظاہر کردی۔
آج ہمارے معاشرے میں صورت حال اس سے مختلف نظر آتی ہے۔ تعلیم، پیشہ، آمدنی، مکان، خاندان، سماجی حیثیت اور مستقبل کی معاشی ضمانتیں اپنی جگہ اہم ہیں؛ نکاح کوئی غیر ذمہ دارانہ فیصلہ نہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ تمام چیزیں دین، کردار، اخلاق اور باہمی موافقت پر اس طرح غالب آجائیں کہ ایک دیندار، شریف اور بااخلاق نوجوان صرف اس لیے نظر انداز کردیا جائے کہ اس کی آمدنی معمولی ہے، اس کا مکان اپنا نہیں، اس کا کاروبار بڑا نہیں یا اس کا خاندان ہماری سماجی توقعات کے مطابق نہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض لڑکیاں مناسب رشتوں کے انتظار میں عمر کے ایسے مرحلے تک پہنچ جاتی ہیں جہاں انتخاب کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں، اور دوسری طرف بعض نوجوان محض معاشی معیار پر پرکھے جانے کے سبب نکاح کے دروازے سے دور ہوجاتے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ مال و معاش کا اعتبار کیا جائے یا نہ کیا جائے؛ سوال یہ ہے کہ ترجیحات کی ترتیب کیا ہو۔ کیا معاشی استطاعت دین و اخلاق کے ساتھ دیکھی جائے گی یا دین و اخلاق ہی معاشی معیار کے سامنے ثانوی بن جائیں گے؟
حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ اسی مقام پر ہمارے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت مند صحابی رضی اللہ عنہ کو شادی کی ترغیب دی، ان کے لیے رشتہ تلاش کیا، نکاح کرایا، مہر کا انتظام کیا اور ولیمے تک ان کی مدد فرمائی۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ ایک مسلمان کی زندگی کا ایک جائز اور اہم تقاضا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر سے اوجھل نہ تھا۔
اور شاید اس واقعے کو پڑھتے ہوئے آج ہمیں اپنے معاشرتی رویوں پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ اگر کوئی معمولی حیثیت رکھنے والا مگر دین دار اور بااخلاق نوجوان کسی معتبر عالم، مفتی یا بزرگ کے ذریعے کسی گھرانے میں نکاح کا پیغام لے کر جائے تو کیا ہمارے دروازے بھی اسی اعتماد سے کھلیں گے جس اعتماد سے اس انصاری خاندان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پر اپنے دروازے کھولے تھے؟ یا ہم سب سے پہلے اس کی آمدنی، مکان، کاروبار، خاندان اور معاشرتی حیثیت کا حساب لگائیں گے؟ اور کیا خود علماء و مشائخ، منبر و محراب سے وابستہ اہلِ علم اور خطباء، جو دعوت و اصلاح کے میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں، اس سنت کو اپنی عملی زندگی میں بھی جگہ دینے کے لیے تیار ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کی شادی کرائی؛ لیکن اس واقعے کی اصل معنویت صرف یہ نہیں کہ ایک نکاح ہوگیا۔ اس کے اندر نبوی رحمت کا وہ مزاج پوشیدہ ہے جسے قرآن نے ایک مختصر مگر جامع لفظ میں محفوظ کردیا: حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے ایمان و ہدایت کے لیے بھی حریص تھے اور ان کی جائز دنیوی ضرورتوں کے لیے بھی فکر مند۔ کسی کی تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوجھل نہ تھی، کسی کی جائز حاجت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں معمولی نہ تھی۔ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ کا نکاح اسی حقیقت کی ایک روشن تصویر ہے۔
شاید محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خاموش تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم “حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ” کو صرف تلاوت کے دوران نہ پڑھیں، بلکہ اس کے معنی کو اپنے گھروں اور معاشرتی فیصلوں میں بھی سمجھنے کی کوشش کریں؛ تاکہ نکاح جیسے اہم معاملے میں ہماری نگاہ صرف ظاہری آسائشوں پر نہ ٹھہرے، بلکہ دین، کردار، اخلاق اور انسان کی حقیقی ضرورت بھی ہماری نظر میں اپنی جگہ پیدا کرسکے۔
نزیل، مدرسہ صفۃ الصحابہ وادی عمر شاہین نگر حیدرآباد
7 ربیع الآخر ۱۴۴۸ھ
19 ستمبر ۲۰۲۶ء
Comments are closed.