امتیاز احمد ہندوستانی خلائی سائنس کا روشن ستارہ
محمد انعام الحق قاسمی ، ریاض ، سعودی عرب
بہار کا دوسرا عبد الکلام
اِنڈین خلائی تحقیقی ادارہ (ISRO) گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی سطح پر خلائی تحقیق کا ایک مضبوط اور معتبر نام بن چکا ہے۔ اس ادارے کی کامیابیوں کے پیچھے بے شمار ذہین، محنتی اور باصلاحیت سائنسدانوں کی شب وروز کی کوششیں شامل ہیں۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک نام امتیاز احمد کا بھی ہے، جنہوں نے نہ صرف انڈیاکے خلائی پروگرام میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ اپنی غیر معمولی قیادت اور سائنسی مہارت کے ذریعے ملک کو ایک نئی بلندی عطا کی۔ امتیاز احمد کو ان کی شاندار خدمات کے باعث عوامی سطح پر "بہار کا دوسرا عبدالکلام” بھی کہا جا رہا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر
امتیاز احمد کا تعلق ریاست بہار کے ضلع دربھنگہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ریوڑھاسے ہے۔ اُن کے والد اِنڈین فوج کے ایک ریٹائرڈ سپاہی ہیں، اِسی تنظیمی ماحول نے اُن میں نظم وضبط، محنت اور خدمتِ وطن کا جذبہ پیدا کیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مدرسہ اور اسکول میں حاصل کی، پھر دربھنگہ ڈسٹرکٹ اسکول اور پٹنہ سائنس کالج سے اپنی علمی بنیاد مضبوط کی۔ بعد ازاں انہوں نے BIT سندری (دھنباد) سے الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، جو اُن کے سائنسی سفر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔
اِسرو میں شمولیت اور 28 سالہ خدمات
امتیاز احمد نے 1998 میں اسرو میں شمولیت اختیار کی۔ گزشتہ 28سالوں میں انہوں نے خلائی سائنس کے کئی اہم ترین منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کیا۔
← INSAT-3DSمشن کے سیٹلائٹ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر رہے۔
← GSAT-20، GSAT-2 اور GISAT-1 جیسے اہم منصوبوں میں نمایاں ذمہ داریاں نبھائیں۔
ان کی مسلسل محنت، تکنیکی مہارت اور قیادت نے انہیں اسرو کے بہترین سائنسدانوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔
EOS-05 تاریخی کامیابی کا سنگِ میل
4 ستمبر 2026 کو امتیاز احمد نے اسرو کے جدید ترین ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ EOS-05 کے مشن میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر مرکزی قیادت سنبھالی۔ یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی تھا:
1- سب سے بھاری سیٹلائٹ کا کامیاب لانچ
EOS-05 کا وزن 2,367 کلوگرام ہے، جو GSLV-F17راکٹ کے ذریعے جیو اسٹیشنری مدار میں بھیجا گیا اب تک کا سب سے بھاری سیٹلائٹ ہے۔
2- تکنیکی پیچیدگی اور جدید خصوصیات
امتیاز احمد نے اسے "ایک منفرد، ایک قسم کا سیٹلائٹ” قرار دیا جس میں ملٹی بینڈ آپریٹنگ صلاحیتیں موجود ہیں۔ یہ ترتیب، مواد اور صلاحیت کے لحاظ سے انتہائی پیچیدہ سیٹلائٹ ہے۔
3- قومی سلامتی اور دفاع میں انقلاب
EOS-05 کو "آسمان میں ایک آنکھ” بھی کہا گیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ:
• 24 گھنٹے ہائی ریزولوشن ملٹی اسپیکٹرل امیجنگ فراہم کرتا ہے،
• سرحدی سلامتی، دراندازی کی نشاندہی، دہشت گردانہ سرگرمیوں کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے،
• قدرتی آفات، سیلاب، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی پیشگی معلومات فراہم کرتا ہے۔
یہ سیٹلائٹ انڈیا کے دفاعی اور ماحولیاتی نظام میں ایک انقلابی اضافہ ہے۔
قیادت، ٹیم ورک اور سائنسی وژن
لانچ کے بعد اسرو کے سربراہ وی نارائنن نے اعلان کیا کہ GSLV-F17 نے EOS-05 کو مطلوبہ مدار میں کامیابی سے پہنچا دیا ہے۔ مشن ڈائریکٹر تھامس کورین نے بتایا کہ یہ GSLV کے ذریعے لانچ ہونے والا سب سے بھاری سیٹلائٹ ہے۔ امتیاز احمد نے اس سیٹلائٹ کو "انتہائی پیچیدہ اور ملٹی بینڈ آپریٹنگ صلاحیتوں کا حامل” قرار دیا۔
یہ کامیابی اسرو کے سینکڑوں سائنسدانوں اور انجینئروں کی مشترکہ محنت کا نتیجہ تھی، مگر اس کی قیادت امتیاز احمد نے جس اعتماد، مہارت اور وژن کے ساتھ کی، وہ انہیں خلائی سائنس کے ممتاز رہنماؤں میں شامل کرتی ہے۔
بہار سے خلا تک : ایک متاثر کن سفر
"ریاست بہار کے ضلع دربھنگہ کے ایک انتہائی چھوٹے اور گمنام گاؤں ’ریوڑی‘ سے نکل کر خلائی بلندیوں کو چھونے والے امتیاز احمد نے اپنی انتھک محنت، لگن اور بے پناہ قابلیت کے بل بوتے پر ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کردیا ہے۔”یہ سفر انڈیا کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے امید، حوصلے اور جدوجہد کی روشن مثال ہے۔
قومی سطح پر پذیرائی
امتیاز احمد کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے میڈیا اور عوام نے انہیں "بہار کا دوسرا عبدالکلام” قرار دیا ہے۔ یہ لقب نہ صرف اُن کی سائنسی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ انڈیا کی اقلیتی اور دیہی آبادی میں بھی عالمی معیار کی صلاحیتیں موجود ہیں۔
آخری اور سبق آموز بات
امتیاز احمد کا سفر ایک سائنسدان کی کہانی سے بڑھ کر ایک تحریک ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ:
• چھوٹے گاؤں سے نکلنے والا نوجوان جس نے اپنے گاؤں کے مدرسہ سے قرآن پڑھا ، اپنے علمائے کرام سے اخلاق عالیہ اور دین اسلام کی تعلیمات حاصل کی بھی عالمی خلائی مشن کی قیادت کر سکتا ہے۔
• محنت، علم اور لگن انسان کو کسی بھی مقام تک پہنچا سکتی ہے۔
• انڈیا کا خلائی مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
EOS-05 سیٹلائٹ کی کامیابی نہ صرف اسرو (ISRO) بلکہ پورے ملک کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے، اور اس سنگِ میل پر امتیاز احمد کا نام سنہری حروف میں لکھا جا چکا ہے۔
محمد انعام الحق قاسمی
ریاض ، سعودی عرب
16 ستمبر 2026ء
Comments are closed.