مسلم پرسنل لا بورڈ کا جنتر منتر پر 17 ستمبر کا احتجاج:چند علمی و فکری زاویے
از: محمد شاہد ناصری حنفی
ایڈیٹر ماہنامہ مکہ میگزین، ممبئی
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے 17 ستمبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستانی مسلمان متعدد دینی، آئینی، قانونی اور سماجی مسائل سے دوچار ہیں۔ مساجد و مدارس سے متعلق تنازعات، مذہبی مقامات کے بارے میں اٹھنے والے سوالات، اوقافی املاک کے مسائل، مذہبی آزادی اور مسلم پرسنل لا کے سلسلے میں جاری بحث، نفرت انگیز بیانات اور اشتعال انگیز نعروں کے علاوہ بعض علاقوں میں تشدد، انہدامی کارروائیوں اور مسلم نوجوانوں کے خلاف قائم ہونے والے مقدمات نے صورتِ حال کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں محض ردِعمل کافی نہیں، بلکہ سنجیدہ غور و فکر اور منظم اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
یہ مسائل اگرچہ اپنی نوعیت میں مختلف ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک سوال مشترک ہے: کیا ہمارے پاس ان سے نمٹنے کے لیے ایسا مستقل، منظم اور مؤثر اجتماعی نظام موجود ہے جو کسی واقعے کے رونما ہونے کے بعد محض ردِعمل ظاہر کرنے کے بجائے پہلے سے حالات کا مطالعہ کرے، ممکنہ خطرات کی نشان دہی کرے اور ضرورت کے وقت قانونی، سیاسی اور اجتماعی سطح پر بروقت اقدام کرسکے؟
یہ سوال کسی ایک ادارے کے سامنے نہیں، پوری ملی قیادت اور اجتماعی اداروں کے سامنے ہے۔
یہاں یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی اپنے اجتماعی مسائل سے بے اعتنائی نہیں برتی۔ جمعیت علماء ہند نے ایک طویل تاریخی دور میں دینی، ملی، سیاسی، قانونی اور سماجی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ نے بھی دینی رہنمائی، شرعی معاملات اور اجتماعی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے ایک وسیع اور متحد پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس ہوئی تو مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ کی فکرِ بالغ اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ کی حکمت و تدبر سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد دوسرے مسلم ادارے بھی تعلیم، دعوت، رفاہ، قانون اور ملی خدمت کے میدان میں اپنی اپنی بساط کے مطابق سرگرمِ عمل ہیں۔
لہٰذا موجودہ حالات پر گفتگو کا مقصد ان اداروں کی خدمات کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ حالات کی موجودہ پیچیدگیوں نے اجتماعی جدوجہد سے مزید کیا تقاضے پیدا کیے ہیں۔ ماضی کے تجربات ہماری قوت اور سرمایہ ہیں، لیکن ہر نئے دور کے اپنے تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ آج ضرورت صرف موجودہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی نہیں، بلکہ ان کے درمیان بہتر ربط، تخصص اور ادارہ جاتی تعاون کی نئی صورتیں پیدا کرنے کی بھی ہے۔
میرے خیال میں اس سلسلے میں سب سے اہم تبدیلی یہ ہونی چاہیے کہ ہماری اجتماعی سوچ ردِعمل سے پیش بندی کی طرف منتقل ہو۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے، اس کے بعد بیانات جاری ہوتے ہیں، وفود ملاقاتیں کرتے ہیں، قانونی ماہرین تلاش کیے جاتے ہیں اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہوسکتا ہے، لیکن جب مستقل نظام موجود نہ ہو تو ہر واقعے کے ساتھ تقریباً ازسرِنو تیاری کرنا پڑتی ہے۔
مثلاً کسی مسجد یا مدرسے کے بارے میں تنازع پیدا ہونے کے بعد قانونی دفعات تلاش کرنے کے بجائے ملک بھر میں مذہبی مقامات سے متعلق قوانین، عدالتی فیصلوں اور انتظامی ضوابط کا پہلے سے مطالعہ موجود ہونا چاہیے۔ کسی نوجوان پر سنگین مقدمہ قائم ہوجانے کے بعد اس کے خاندان کی مدد کے لیے متحرک ہونے کے بجائے ایسا قانونی نظام ہونا چاہیے جو ابتدائی مرحلے ہی میں معاملے کی نوعیت کو سمجھ سکے۔ کسی نئی قانون سازی کے بعد اس کے اثرات پر گفتگو کرنے کے بجائے اس کے مسودے ہی کے مرحلے میں اس کا علمی اور قانونی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اسی ضرورت کے پیشِ نظر ایک مستقل قانونی و تحقیقی اکیڈمی یا مرکز قائم کیا جاسکتا ہے۔ اس کا دائرۂ کار صرف عدالتوں میں مقدمات کی پیروی تک محدود نہ ہو، بلکہ یہ ایک ایسا علمی و عملی ادارہ ہو جو ملک بھر میں مسلمانوں سے متعلق قانونی اور انتظامی معاملات کا مسلسل مطالعہ کرتا رہے۔
یہ مرکز نئے قوانین، سرکاری ضوابط اور انتظامی فیصلوں کا جائزہ لے؛ اوقافی املاک، مساجد، مدارس، قبرستانوں اور دیگر مذہبی مقامات سے متعلق اہم معاملات کی دستاویز سازی کرے؛ مسلم نوجوانوں کے خلاف درج ہونے والے اہم مقدمات اور ان میں عائد دفعات کا قانونی تجزیہ کرے؛ جہاں کسی قانون یا دفعہ کے غلط استعمال کا شبہ ہو وہاں ماہرینِ قانون سے فوری رائے لے؛ اور ضرورت کے مطابق عدالتوں میں قانونی کارروائی کے لیے مواد اور ماہرین فراہم کرے۔
اس کام کی اہمیت آج اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ جدید ریاستی نظام میں کسی دعوے کو مؤثر بنانے کے لیے صرف جذباتی اپیل کافی نہیں ہوتی۔ عدالت دلیل اور دستاویز دیکھتی ہے، حکومت مستند معلومات چاہتی ہے، ذرائع ابلاغ کو قابلِ اعتماد اعداد و شواہد درکار ہوتے ہیں، اور عام معاشرہ بھی اسی وقت کسی معاملے کو سنجیدگی سے لیتا ہے جب اسے حقائق کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو جذباتی ردِعمل کے بجائے تحقیق، قانون اور دستاویز کی بنیاد پر اجتماعی مسائل کو سامنے لاسکیں۔
حکومت سے رابطے کے معاملے کو بھی درست زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت سے ملاقات اور اربابِ اقتدار تک اپنے مسائل پہنچانا کسی کمزوری کی علامت نہیں؛ جمہوری نظام میں یہ اجتماعی نمائندگی کا ایک فطری ذریعہ ہے۔
ہمیں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں، وزرائے اعلیٰ، متعلقہ وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ اور انتظامی ذمہ داران سے بھی باقاعدہ رابطہ رکھنا چاہیے۔ اس رابطے کا مقصد محض شکایت پیش کرنا نہیں، بلکہ مسائل کو دلیل، اعداد و شمار اور قانونی حوالوں کے ساتھ سامنے رکھنا ہونا چاہیے۔ حکومت کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو پہلے اس کے اسباب کو سمجھا جائے، مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، قانونی پہلو دیکھا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں پارلیمانی و عوامی سطح پر مسئلہ اٹھایا جائے۔
عدالت کو بھی ہماری اجتماعی حکمتِ عملی کا ایک مستقل ستون بنانا ہوگا۔ بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جہاں جذباتی احتجاج سے زیادہ مؤثر راستہ قانونی چارہ جوئی ہوتا ہے۔ بعض معاملات میں عدالت ہی وہ فورم ہے جہاں کسی انتظامی فیصلے یا قانونی اقدام کو آئینی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ اس لیے قانونی تیاری واقعہ پیش آنے کے بعد شروع نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ماہرینِ قانون، محققین اور دستاویز ساز افراد کی ایک ٹیم مستقل بنیادوں پر کام کرتی رہے۔
ذرائع ابلاغ اور اہلِ دانش کا میدان بھی اس سلسلے میں کم اہم نہیں۔ آج کسی مسئلے کی اجتماعی تفہیم بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ عوام کے سامنے کس زبان اور کس مواد کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اگر ہماری طرف سے مستند معلومات بروقت فراہم نہ ہوں تو پیدا ہونے والا خلا کسی نہ کسی دوسرے بیانیے سے پُر ہوجاتا ہے۔ اس لیے ایک ایسا میڈیا اور تحقیقاتی شعبہ بھی ہونا چاہیے جو واقعات کی تصدیق کرے، اعداد و شمار جمع کرے، مختصر اور جامع رپورٹس تیار کرے اور انہیں ملک کے سنجیدہ صحافیوں، دانش وروں، وکلا اور سول سوسائٹی تک پہنچائے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ مسلمانوں کے بعض مسائل ایسے ہیں جنہیں صرف مذہبی مسئلہ بنا کر پیش کرنے سے ان کی وسعت محدود ہوجاتی ہے، حالاں کہ ان کے اندر دستور، قانون کی حکمرانی، شہری مساوات، مذہبی آزادی اور انسانی وقار جیسے وسیع تر اصول بھی شامل ہوتے ہیں۔ جہاں معاملہ واقعی آئینی حقوق کا ہو، وہاں اسے اسی وسیع تناظر میں پیش کیا جانا چاہیے۔ اس سے انصاف پسند غیر مسلم دانش وروں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ذمہ دار افراد کے ساتھ بھی بامعنی مکالمے کی گنجائش پیدا ہوگی۔
احتجاج کے بارے میں بھی متوازن رویہ ضروری ہے۔ پُرامن اور آئینی احتجاج جمہوری معاشرے میں اپنی جگہ ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اسے ترک کرنا درست نہیں، لیکن اسے واحد ذریعہ سمجھ لینا بھی حکمت نہیں۔ مذاکرات، قانونی چارہ جوئی، پارلیمانی رابطہ، علمی تحقیق، ذرائع ابلاغ اور عوامی احتجاج—یہ سب اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ مسئلے کی نوعیت کے مطابق صحیح وقت پر صحیح ذریعہ اختیار کیا جائے۔
17 ستمبر کا یہ احتجاج بھی اسی وسیع پس منظر میں قابلِ توجہ ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس میں مسلمانوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف زیادتیوں، نفرت انگیز بیانات، اشتعال انگیز نعروں، مساجد و مدارس سے متعلق انہدامی کارروائیوں، اوقافی معاملات اور بعض دیگر مسائل کو موضوع بنایا جائے گا۔
اس کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اس سے آگے بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں مستقل اجتماعی سرگرمی کا ایک مربوط سلسلہ قائم ہو۔ اجتماع کے بعد مطالبات کی پیروی کے لیے کمیٹیاں فعال ہوں، حکومت سے مذاکرات جاری رہیں، متعلقہ مقدمات کی قانونی نگرانی ہو، واقعات کی دستاویز سازی کی جائے اور متاثرہ افراد کی معاونت کا نظام قائم رہے تو احتجاج ایک بڑے اجتماعی عمل کا حصہ بن سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اس کا اثر ایک محدود وقتی سرگرمی تک رہ جانے کا اندیشہ ہے۔
اس موقع کو ایک منظم اجتماعی منصوبے کی ابتدا کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بڑی مسلم تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مستقل مشاورتی مجلس ہو؛ قانونی، تحقیقی، اوقافی، سیاسی رابطے اور ذرائع ابلاغ کے الگ الگ شعبے قائم ہوں؛ ہر ریاست میں قابلِ اعتماد قانونی رابطہ کار مقرر کیے جائیں؛ اہم مقدمات اور انتظامی کارروائیوں کا مرکزی ریکارڈ رکھا جائے؛ نئے قوانین اور پالیسیوں کا مسلسل جائزہ لیا جائے؛ حکومت اور پارلیمنٹ سے رابطے کے لیے باقاعدہ ذمہ داران ہوں؛ اور ضرورت کے وقت ماہرینِ قانون و دانش کے مشورے سے پُرامن آئینی احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے۔
اس پورے منصوبے میں ایک بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے: ذمہ داری کو افراد سے اداروں کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ شخصیات کی اپنی اہمیت ہے، ان کی بصیرت اور تجربہ قیمتی سرمایہ ہے، لیکن کوئی بھی اجتماعی کام صرف چند افراد کی مسلسل محنت پر قائم نہیں رہ سکتا۔ افراد آتے اور چلے جاتے ہیں، ادارے باقی رہتے ہیں۔ اس لیے ایسے ادارہ جاتی نظام کی تعمیر ضروری ہے جس میں تجربہ محفوظ ہو، معلومات جمع ہوں، ذمہ داریاں واضح ہوں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل بھی اسی کام کو آگے بڑھا سکے۔
اسی طرح مسلم تنظیموں کے درمیان باہمی مسابقت کے بجائے باہمی تعاون کا ماحول پیدا ہونا چاہیے۔ ہر ادارہ اپنی شناخت اور دائرۂ کار برقرار رکھتے ہوئے بڑے ملی مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ معلومات اور تجربات کا تبادلہ کرے۔ ایک تنظیم کے پاس قانونی تجربہ ہے تو دوسری کے پاس تعلیمی و تحقیقی وسائل، کسی کے پاس عوامی رابطے کا وسیع نظام ہے تو کسی کے پاس ذرائع ابلاغ سے تعلق۔ اگر یہ صلاحیتیں ایک دوسرے کی معاون بن جائیں تو اجتماعی قوت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ یہ احتجاج صرف ایک تاریخ بن کر نہ رہ جائے، بلکہ اس کے بعد اجتماعی سطح پر یہ طے ہو کہ آئندہ ہمارے پاس کون سا مستقل نظام ہوگا۔ کون قانون کا مطالعہ کرے گا؟ کون واقعات کی دستاویز تیار کرے گا؟ کون حکومت سے رابطہ رکھے گا؟ کون پارلیمانی سطح پر مسئلہ اٹھائے گا؟ کون عدالت میں قانونی تیاری کرے گا؟ کون ذرائع ابلاغ اور اہلِ دانش تک مستند معلومات پہنچائے گا؟ اور کون متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑا ہوگا؟
اگر ان سوالات کے عملی جواب تلاش کرلیے جائیں تو یہ احتجاج محض احتجاج نہیں رہے گا، بلکہ ایک بہتر اجتماعی نظم کی طرف ایک قدم بن سکتا ہے۔
موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کو نہ بے جا خوف کی ضرورت ہے اور نہ غیر ضروری جذباتیت کی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کو سمجھا جائے، مسائل کو ترجیح دی جائے، اداروں کو مضبوط کیا جائے، ماہرین کو ساتھ لیا جائے اور آئینی و جمہوری ذرائع کو منظم طریقے سے استعمال کیا جائے۔ ہماری اصل ضرورت صرف آواز بلند کرنے کی نہیں، بلکہ اس آواز کے پیچھے ایک ایسا مضبوط نظام پیدا کرنے کی ہے جو دلیل بھی رکھتا ہو، دستاویز بھی، قانونی تیاری بھی، سیاسی بصیرت بھی اور مسلسل عمل کا حوصلہ بھی۔
Comments are closed.