مدارس کی اصل روح
محمد نفیس خان ندوی
(27/ستمبر2026)
۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکومت نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے والے علماء اور اہل دین کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا۔ ہزاروں علماء قتل کیے گئے، دینی مراکز کمزور ہوئے اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی ایسے مسائل سے دوچار ہوئی کہ دینی تعلیم کی اشاعت اور اسلامی شعائرکا تحفظ خود ایک بڑا سوال بن گیا۔
دوسری طرف مغربی تہذیب کی ایسی یلغار تھی کہ مسلمانوں کے اندر ایک ایسا طبقہ پیدا ہو رہا تھا جو مغربی چمک سے متاثر ہوکر مذہب بیزار ہوتا جارہا تھا۔
اس صورت حال میں علماء نے حالات کی نزاکت کو محسوس کیا اور اپنی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی پیدا کی۔ سیاسی محاذ کے بجائے ایسے مستقل چھوٹے برے ادارے قائم کرنے پر توجہ دی گئی جہاں دینی علوم کی حفاظت ہو، نسل نو کو دین سے وابستہ کیا جائے اور ایسے افراد تیار ہوں جو آگے چل کر دین کے علمبردار اور معاشرے کے رہنما بن سکیں۔
ان اداروں کی اصل قوت ان کی عمارتوں اور وسائل میں نہیں، بلکہ ان کے پیچھے کارفرما اخلاص، قربانی، دینی غیرت اور اسلامی تربیت میں تھی۔ اسی روح نے ایسے علماء پیدا کیے جنہوں نے علمی خدمت کے ساتھ اصلاح معاشرہ، فکری رہنمائی اور دینی بیداری کا فریضہ انجام دیا۔
آج مدارس کی تعداد، عمارتوں اور وسائل میں یقیناً نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اندر وہی روح، وہی اخلاص اور کردار سازی کا جذبہ بھی باقی ہے؟ کیا آج بھی طلبہ اسی طرح صاحب کردار، صاحب بصیرت اور دین و امت کے مخلص خادم بن کر نکل رہے ہیں؟
مدارس کا مقصد صرف کتابیں پڑھا دینا یا طالب علم کو کسی خاص علمی مرحلے تک پہنچا دینا نہیں، بلکہ اس کی شخصیت کی ایسی تعمیر ہے جس میں علم اس کے کردار میں جلوہ گر ہو، اس کے اندر تقویٰ و اخلاص، تواضع و تحمل اور، وسعت نظر پیدا ہو۔
ماضی کے مدارس کی ایک بڑی خصوصیت یہی تھی کہ وہاں علم و عمل، تعلیم و تربیت اور استاد و شاگرد کے تعلق کے ذریعے ایک نسل دوسری نسل کو صرف معلومات منتقل نہیں کرتی تھی، بلکہ اسے زندگی کا سلیقہ اور دین کی روح بھی عطا کرتی تھی۔
اس تربیت میں استاد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ طالب علم صرف اپنے استاد کی کتاب نہیں پڑھتا، اس کی زندگی بھی پڑھتا ہے۔ اگر استاد خود اخلاص وللہیت، سادگی اور دینی غیرت کا نمونہ ہو تو اس کی شخصیت خاموشی سے شاگردوں کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے ماضی کے علماء کی زندگیوں میں ایسے واقعات بکثرت ملتے ہیں جن میں تعلیم و تدریس محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ ایک امانت اور ذمہ داری تھی۔ مولانا عبدالرحیم رامپوریؒ کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک مثال ہے کہ انہوں نے دنیاوی منصب کے مقابلے میں اپنے علمی فرض اور آخرت کی جواب دہی کو ترجیح دی۔
آج مدارس کے طلبہ کے سامنے بھی سب سے اہم سوال یہی ہے کہ وہ مدرسے میں کس مقصد کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اورکیا حاصل کرکے نکلنا چاہتے ہیں؟ اگر تعلیم کا مقصد صرف سند، ملازمت یا معاشی استحکام بن جائے تو مدرسہ اپنی اصل روح سے محروم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر طالب علم کے دل میں دین سیکھنے، اپنی اصلاح کرنے، امت کی خدمت کرنے اور اپنے زمانے کے فکری و اخلاقی مسائل کا جواب دینے کی طلب پیدا ہوجائے تو یہی طالب علم بڑی سے بڑی قربانی کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔لیکن یہ طلب خود بخود پیدا نہیں ہوتی؛ اس کے لیے ایسا ماحول، ایسی تربیت اور ایسے اساتذہ بھی ضروری ہیں جو طلبہ کے دلوں میں دین کی عظمت اور امت کا درد پیدا کرسکیں۔
اسی لیے آج مدارس کے ذمہ داران کے سامنے اصل چیلنج یہ نہیں کہ طلبہ کی تعداد کتنی ہو یا وسائل کتنے ہوں؛ اصل چیلنج یہ ہے کہ مدرسے میں وہ زندگی اور روح کیسے پیدا کی جائے جو علم کو کردار اور تعلیم کو عمل میں تبدیل کرسکے۔
اس لیے موجودہ دور میں مدارس کی تجدید کا راستہ صرف نصاب کی تبدیلی یاوسائل کی فراوانی سے نہیں گزرتا، بلکہ فکرہ تعمیر،اخلاقی تربیت، کردار اور مقصد زندگی کی تجدید سے گزرتا ہے۔ مدارس کی بقا صرف اس بات میں نہیں کہ وہ قائم رہیں، بلکہ اس میں ہے کہ ان کے اندر وہ روح بھی زندہ رہے جس کے لیے وہ قائم کیے گئے تھے۔ یہی روح ان اداروں کو محض درس گاہ سے ایک مؤثر مرکز اصلاح و تعمیر بناتی ہے اور آنے والی نسلوں تک دین کی امانت صحیح صورت میں منتقل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
Comments are closed.