یہ مسلمانوں کے کام ہیں؟

یہ مسلمانوں کے کام ہیں؟

ودود ساجد

 

(روزنامہ انقلاب میں شائع ہنگامی کالم ” نوائے امروز”)

 

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے مالیگاؤں سینٹرل اسمبلی حلقہ (مہاراشٹر) کے سماجوادی پارٹی کے شکست خوردہ امیدوار’شان ہند نہال احمد‘ کی ایک اپیل خارج کردی۔ یہ اپیل ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں عدالت نے انتخابی مہم کے دوران موجودہ ممبر اسمبلی مفتی اسماعیل عبد الخالق کے ذریعہ اپنی انتخابی مہم کے اختتام پر دعا مانگنے اور سامعین کے ذریعہ ان کی دعا پر آمین کہنے کو درست قرار دیا تھا۔

 

2024 کے اسمبلی الیکشن میں مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار مفتی اسماعیل کو ایک لاکھ نو ہزار 653 ووٹ ملے تھے۔ ان کے قریبی حریف’ انڈین سیکیولر لارجسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر (ISLAM) کے امیدوار شیخ آصف شیخ راشد کو ایک لاکھ نو ہزار 491 ووٹ ملے تھے۔ یعنی مفتی صاحب 162 ووٹوں کے فرق سے جیت گئے تھے۔ جبکہ سماجوادی پارٹی کے امیدوار نہال احمد کو محض نو ہزار 624 ووٹ ملے تھے۔

 

شیخ آصف نے مفتی اسماعیل کی فتح کو ممبئی ہائی کورٹ میں یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا تھا کہ انہوں نے ’غلط طرز عمل‘ کے ذریعہ الیکشن جیتا ہے کیونکہ انہوں نے دوران مہم دعا مانگی اور سامعین نے اس پر بلند آواز سے اجتماعی طور پر آمین کہا۔ ممبئی ہائی کورٹ نے اس احمقانہ دلیل کو مسترد کردیا اور مفتی اسماعیل کے الیکشن کو درست قرار دیا۔

 

اب سماجوادی پارٹی کے اس مسلم امیدوار نے سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی جسے محض 624 ووٹ ملے تھے۔ لیکن 25 ستمبر کو جسٹس وکرم ناتھ کی سہ رکنی بنچ نے بھی یہ اپیل خارج کردی اور دعا‘ آمین اور الیکشن میں مفتی اسماعیل کی کامیابی کو درست قرار دیا۔

 

معلوم ہوا ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے میں دونوں ایک دوسرے کے معاون تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دونوں نے مفتی اسماعیل کے سیاسی دبدبہ کے خلاف بلدیاتی انتخابات بھی متحد ہوکر لڑے۔ لہذا اب وہاں میئر اور ڈپٹی میٹر کے عہدوں پر مفتی اسماعیل کے حمایت یافتہ لوگ نہیں ہیں اور ان دونوں عہدوں پر انہی دونوں سیاستدانوں کے لوگ فائز ہیں۔

 

اب دو لطیف نکتے ملاحظہ فرمائیے :

منتخب مسلم ممبر اسمبلی کے خلاف پہلا مقدمہ کلیدی طور پر ممبئی ہائی کورٹ میں اُس شکست خوردہ مسلم امیدوار نے کیا جس کی پارٹی کا نام خود کمال ہوشیاری سے ایسا رکھا گیا کہ جب انگریزی کے نام کا مخفف (Short form) استعمال کیا جائے تو زبان سے لفظ ’اسلام‘ نکلے۔ یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ مالیگاؤں کی مذکورہ نشست کے حلقہ میں مسلمان ووٹرس اکثریت میں ہیں۔ ان کے ووٹ 78 فیصد سے زائد ہیں۔

 

دوسرا نکتہ:

ممبئی ہائیکورٹ سے شکست کھانے کے بعد کلیدی طور پر اس تیسرے مسلم امیدوار نے سپریم کورٹ میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا جو ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے ہار گیا تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ دونوں مسلم سیاستداں کس سیارہ کی مخلوق ہیں۔ ملک میں مسلمانوں اور اسلامی شعائر کے خلاف کیا فضا بنی ہوئی ہے اور یہ دونوں دعا جیسے مقدس عمل اور آمین جیسی خالصتاً اسلامی اصطلاح کے استعمال کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جارہے ہیں۔ فقط کس لئے؟ تاکہ مفتی اسماعیل کی کامیابی کو کالعدم کرادیا جائے۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔

 

تسلیم کہ اس دور کی سیاست ہے ہی ایسی۔ لیکن ایک ایسے حلقہ میں کہ جہاں مسلم ووٹرس کی تعداد 78 فیصد سے بھی زائد ہے اور جہاں ایک نمبر سے تین نمبر تک کے امیدوار بھی مسلمان ہی ہیں‘ دعا مانگنے اور آمین کہنے کے خلاف صرف اس لئے عدالتوں میں مقدمات قائم کردینا کہ جیتے ہوئے ممبر اسمبلی کا الیکشن کالعدم کردیا جائے کہاں کی دانشمندی ہے۔

 

ہمیں مفتی صاحب کی سیاسی ترجمانی مقصودنہیں ہے۔ سیاسی حریف ایک دوسرے کے خلاف لڑتے ہی ہیں۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ حیرت اس پر ہے کہ یہ دونوں مسلم سیاستداں اور ان میں بھی ایک وہ کہ جس کی پارٹی کے نام کا مخفف ’اسلام‘ ہے‘ اور دوسرا وہ کہ جس کی پارٹی یوپی میں مسلمانوں کے دم پر ہی قائم ہے‘ دعا اور آمین کے خلاف عدالتوں میں جارہے ہیں۔

 

حیرت ان کی حساسیت پر بھی ہے کہ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اگر اعلی عدلیہ نے ‘انتخابات کے دوران ہی سہی‘ دعا اور آمین کے استعمال کو ناجائز قرار دیدیا تو مسلمانوں کی مذہبی زندگی پراس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔۔۔۔

Comments are closed.