بِہار: علم کی صدیوں پر پھیلی ہوئی داستان!
از: محمد شاہد ناصری حنفی
ایڈیٹر ماہنامہ مکہ میگزین ممبئی
ہندوستان کی علمی تاریخ صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس سرزمین کے مختلف حصوں میں مختلف ادوار میں علم و فن کے مراکز نے جنم لیا، جہاں اہلِ علم نے چراغ روشن کیے، طلبہ نے ان سے روشنی حاصل کی اور علمی روایت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہی۔ مگر ہندوستان کے اس وسیع علمی نقشے پر بہار کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ خطہ محض ایک جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ صدیوں سے علم، فکر، تہذیب اور معرفت کا ایک ایسا مرکز رہا ہے جس نے ہندوستان کی علمی تاریخ پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
قدیم بہار کا ذکر آتا ہے تو نالندہ کا نام نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ نالندہ اپنے زمانے میں برصغیر کا ایک عظیم علمی مرکز تھا، جہاں ہندوستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی طلبہ اور اہلِ علم آتے تھے۔ وکرم شِلا، اودنت پوری اور تلہڑہ جیسے مراکز نے بھی اس علمی فضا کو وسعت دی۔ فلسفہ، منطق، طب، مذہب اور مختلف علوم و فنون کے مباحث یہاں پروان چڑھے اور بہار کی علمی آواز اپنی جغرافیائی حدود سے نکل کر دور دور تک پہنچی۔
اس قدیم علمی روایت کے ساتھ بہار مختلف مذہبی اور روحانی روایتوں کے لیے بھی اہم سرزمین رہی۔ سیتامڑھی ہندو روایت میں سیتا جی کی نسبت سے معروف ہے، بودھ گیا گوتم بدھ کی معرفت و نروان کی نسبت سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، جب کہ ویشالی اور پاواپوری جین روایت میں بھگوان مہاویر کی زندگی سے گہری نسبت رکھتے ہیں۔ پاٹلی پتر نے سمراٹ اشوک کے عہد میں ایک عظیم سیاسی و تہذیبی مرکز کی حیثیت اختیار کی۔ اسی طرح دربھنگہ اور اس کے گرد و نواح میں متھلا کی سنسکرت، نیائے، ویدانت، فلسفہ اور دوسرے علوم کی مضبوط روایت قائم رہی۔ بھاگلپور اور اس کے اطراف میں وکرم شِلا کی علمی یادیں باقی رہیں، جب کہ گیا، بودھ گیا، راج گیر، پاواپوری اور سیتامڑھی اپنی اپنی مذہبی و تہذیبی نسبتوں کے ساتھ اس تاریخی نقشے کو مکمل کرتے رہے۔
پھر وقت نے کروٹ لی اور اسلام کی آمد کے ساتھ بہار کی علمی تاریخ میں ایک نیا باب کھلا۔ پٹنہ، بہار شریف، منیر، پھلواری شریف، گیا، بھاگلپور اور شمالی بہار کے مختلف علاقوں میں علماء، محدثین، فقہاء، صوفیہ اور اہلِ قلم نے اپنے اپنے میدان میں علمی چراغ روشن کیے۔ پٹنہ کے علمائے صادق پور نے علمی و اصلاحی جدوجہد کی ایک نمایاں روایت قائم کی، خانقاہِ منعمیہ پٹنہ نے روحانی و علمی فیض جاری رکھا اور بھاگلپور کی خانقاہِ شہبازیہ نے بھی اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ یوں بہار کی زمین پر علم نے ایک نئی صورت اختیار کی؛ درس گاہوں کے ساتھ خانقاہیں بھی علم، تربیت، تزکیہ، اصلاح اور تصنیف و تالیف کے مراکز بنتی گئیں۔
اس دور کی درخشاں شخصیات میں حضرت مخدوم الملک، شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کا نام نمایاں ہے، جو ۶ شوال ۷۸۲ھ/۱۳۸۱ء میں وصال فرما گئے۔ آپ نے علم و معرفت کی طلب میں اسفار کیے، اہلِ علم و اہلِ دل کی صحبتوں سے فیض اٹھایا اور بالآخر بہار شریف کو اپنی علمی و روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ آپ کے یہاں علم اور سلوک دو الگ راستے نہیں تھے؛ عبادت، تزکیہ، معرفت اور اصلاحِ خلق ایک ہی جامع تصور کے مختلف پہلو تھے۔
بہار شریف میں قائم ہونے والی آپ کی خانقاہ نے اسی جامع علمی مزاج کو آگے بڑھایا۔ اہلِ علم، اہلِ سلوک، طالبانِ حق اور عام لوگ اس مرکز سے وابستہ ہوئے۔ آپ کے مکتوبات نے خانقاہ کے فیض کو اس کی حدود سے نکال کر دور دراز علاقوں تک پہنچایا اور مکتوباتِ صدی، مکتوباتِ بست و ہشت اور دوسرے رسائل و ملفوظات نے برصغیر کی اصلاحی اور صوفیانہ نثر میں اپنی جگہ بنائی۔ یہاں کتاب محض پڑھنے کی چیز نہ تھی، بلکہ کردار کی تعمیر کا وسیلہ بھی تھی؛ درس صرف ذہن کو نہیں، زندگی کو بھی مخاطب کرتا تھا۔
صدیاں گزرتی رہیں، مراکز کی صورتیں بدلتی رہیں، مگر یہ علمی سلسلہ منقطع نہ ہوا۔ ایک طرف قدیم درس گاہوں کی یادیں باقی رہیں تو دوسری طرف مدارس اور خانقاہوں نے اس روایت کو اپنے عہد کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا۔ مونگیر میں حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمۃ اللہ علیہ (متوفیٰ ۹ ربیع الاول ۱۳۴۶ھ/۱۳ ستمبر ۱۹۲۷ء) نے جامعہ رحمانی اور خانقاہ رحمانی کی بنیاد رکھی۔ حضرت مولانا محمد عارف ہرسنگھ پوری رحمۃ اللہ علیہ (متوفیٰ ۹ صفر ۱۳۶۳ھ) نے اپنے مرشد حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے مدرسہ رحمانیہ سوپول قائم فرمایا۔ اسی علمی و روحانی سلسلے میں حضرت مولانا حاجی منور علی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے رسول پور نستہ میں مدرسہ امدادیہ قائم کیا، جو بعد میں دربھنگہ منتقل ہوا۔ یوں خانقاہ اور مدرسہ دونوں علم کے تحفظ کے ساتھ تربیت اور اصلاح کے مراکز بنتے گئے۔
حضرت مولانا محمد عارف ہرسنگھ پوری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اس روایت میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جفاکشی، اخفائے حال، تواضع اور انکسار ان کے مزاج کے نمایاں اوصاف تھے۔ انہوں نے علمِ دین کی اشاعت اور اصلاحِ معاشرہ کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادگان نے بھی اسی چراغ کو مختلف علاقوں میں روشن رکھا۔ حضرت مولانا عبدالرحمن ہرسنگھ پوری رحمۃ اللہ علیہ نے مدرسہ رحیمیہ گاڑھا قائم فرمایا، حضرت مولانا حکیم عبدالمنان صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے مدرسہ عارفیہ سنگرام اور مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوہدی قائم فرمائے، حضرت مولانا لطف الرحمن ہرسنگھ پوری رحمۃ اللہ علیہ نے مدرسہ اسلامیہ عربیہ مالدہ، بنگال قائم فرمایا، جب کہ حضرت مولانا ولی الرحمن ہرسنگھ پوری رحمۃ اللہ علیہ نے مدرسہ عربیہ چھٹہی ہنومان نگر اور مدرسہ اسلامیہ رحمانی پرتاب گنج قائم فرمایا۔ یوں ایک خانوادے کی مسلسل علمی جدوجہد بہار کی حدود سے نکل کر مغربی بنگال تک پہنچی اور علم و تربیت کی یہ روایت مختلف علاقوں اور نسلوں تک پھیلتی چلی گئی۔
اسی خطے میں حضرت مولانا بشارت کریم گڑھولوی رحمۃ اللہ علیہ جیسے بلند پایہ عالمِ دین اور شیخِ طریقت نے بھی رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس طرح اس دیار کو تصوف و طریقت اور خانقاہی روایت کے ساتھ علم و فضل اور دینی مراکز سے بھی گہرا ربط حاصل رہا۔
غیر منقسم بہار کے علاقے چترا میں بھی علم کی یہی روایت ایک اہم ادارے کی صورت میں جلوہ گر ہوئی۔ حضرت مولانا محمد رحمت اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں جامعہ رشید العلوم قائم فرمایا، جو بعد میں اس خطے کا ایک معروف دینی و علمی مرکز بن گیا۔ حضرت مولانا محمد رحمت اللہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا عبدالرشید رانی ساگری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد و تربیت یافتہ تھے؛ چنانچہ جامعہ رشید العلوم کی علمی روایت میں حضرت رانی ساگریؒ کے علم و تربیت کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ آج یہ ادارہ اپنی تقریباً ایک صدی پر پھیلی علمی و دینی خدمات کے ساتھ اس روایت کی ایک زندہ یادگار ہے۔
اسی علمی تسلسل کی ایک اور کڑی رانچی میں نظر آتی ہے، جہاں حضرت مولانا قاری فخرالدین گیاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مرشد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت سے مدرسہ حسینیہ قائم فرمایا۔ یہ ادارہ اس خطے میں دینی تعلیم کا ایک بافیض مرکز ثابت ہوا اور ایک طویل عرصے تک اس کے اہتمام کی ذمہ داری حضرت مولانا محمد ازہر صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد رہی۔ یوں بہار کے علمی مراکز کا دائرہ صرف قدیم معروف شہروں تک محدود نہ رہا بلکہ جھارکھنڈ کے ان علاقوں تک بھی پھیلتا گیا جہاں اہلِ علم نے نئی نسلوں کی دینی تربیت کا سامان کیا۔
گیا کا مدرسہ قاسمیہ اسلامیہ بھی اسی علمی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ حضرت مولانا قاری محمد فخرالدین گیاوی رحمۃ اللہ علیہ کی طویل علمی و انتظامی خدمات سے اس ادارے کو نمایاں مقام حاصل ہوا اور وہ تقریباً سینتالیس برس تک اس کے سربراہ رہے۔ اس ادارے میں حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب اور حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری رحمۃ اللہ علیہ جیسے اہلِ علم نے بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس طرح مدرسہ قاسمیہ اسلامیہ محض ایک درس گاہ نہیں رہا بلکہ متعدد اہلِ علم کی تدریسی و تربیتی خدمات کا مرکز بھی بنا۔
بہار کے علماء کی ایک نمایاں خصوصیت یہی رہی کہ ان کی علمی سرگرمیاں اپنے جغرافیائی دائرے میں محصور نہیں رہیں۔ کسی نے مدرسہ قائم کیا، کسی نے خانقاہ سنبھالی، کسی نے کتاب لکھی، کسی نے شاگرد تیار کیے اور کسی نے ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں جاکر درس و تدریس کا سلسلہ جاری کیا۔ اس طرح بہار کا علمی اثر اس کی سرحدوں سے کہیں آگے پھیلتا چلا گیا۔
علم کا یہ مزاج صرف فرد کی اصلاح تک محدود نہیں رہا بلکہ اجتماعی زندگی تک بھی پہنچا۔ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ نے دینی علم کو اجتماعی نظم اور ملی رہنمائی سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔ انجمن علماء بہار، جو بعد میں جمعیت علماء ہند کے نام سے موسوم ہوئی، اور امارتِ شرعیہ کا قیام اسی وسیع تر فکر کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اس طرح بہار میں علم نے مدرسے اور خانقاہ سے آگے بڑھ کر ملت کی اجتماعی زندگی میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔
پھلواری شریف کی خانقاہِ مجیبیہ اس علمی و روحانی روایت کا ایک اور اہم مرکز ہے۔ اس کی نسبت حضرت تاج العارفین مخدوم شاہ مجیب اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ (متوفیٰ ۱۱۹۱ھ/۱۷۷۷ء) کی طرف ہے۔ بعد کی نسلوں میں اس خانقاہ نے علم، سلوک اور اصلاح کی روایت کو جاری رکھا۔ امارتِ شرعیہ کے معروف امرائے شریعت حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین قادری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سید شاہ محی الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا سید شاہ قمرالدین قادری رحمۃ اللہ علیہ اسی خانقاہ کے سجادہ نشین رہے۔ آج بھی خانقاہِ مجیبیہ کی یہ علمی و روحانی روایت جاری ہے اور موجودہ سجادہ نشین بھی علم و فضل، شرافت و مروت، تواضع، خوش اخلاقی اور وسعتِ ظرف کے اوصاف کے ساتھ اس خانوادۂ علم و سلوک کی ایک روشن کڑی ہیں۔
پھلواری شریف ہی میں تعلیم کے ایک دوسرے میدان میں بھی ایک قابلِ ذکر سفر شروع ہوا۔ ڈاکٹر محمد احسن رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً ساٹھ سال پہلے بڑھتی ہوئی ناخواندگی کے احساس کے ساتھ ایک چھوٹی سی جگہ پر اسلامیہ اسکول قائم کیا۔ خلوص سے شروع ہونے والی یہ کوشش آگے بڑھتی گئی اور اسلامیہ انٹر اسکول، اسلامیہ کالج، اسلامیہ بی ایڈ کالج کے بعد اب بات یونیورسٹی تک پہنچ رہی ہے۔ یہ سفر اس حقیقت کی ایک روشن مثال ہے کہ بڑے ادارے ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں بنتے؛ کبھی ایک مخلص انسان کا چھوٹا سا قدم آنے والی نسلوں کے لیے وسیع راستہ کھول دیتا ہے۔
بہار کی علمی روایت میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہاں علم نے محض ماضی کو محفوظ نہیں کیا بلکہ نئے زمانے کے لیے بھی اپنے دروازے کھولے۔ قدیم نالندہ کی یاد کو جدید دور میں زندہ کرنے کے لیے نالندہ یونیورسٹی کا قیام اسی تاریخی تسلسل کی ایک نئی صورت ہے۔ اس کے قیام میں بہار حکومت کی عملی معاونت اور زمین کی فراہمی کا کردار رہا، جب کہ سابق وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کی حکومت کا تعاون بھی اس مرحلے میں قابلِ ذکر ہے۔ یوں صدیوں پہلے جس سرزمین پر نالندہ علم کا مرکز تھا، اسی نسبت کو جدید جامعات کی صورت میں آگے بڑھانے کی کوشش ہوئی۔
اس پورے سفر کو دیکھا جائے تو بہار کی تاریخ محض قدیم آثار، مذہبی مقامات، مدارس یا خانقاہوں کی الگ الگ تاریخ نہیں رہتی؛ یہ دراصل علم کی ایک مسلسل داستان بن جاتی ہے۔ نالندہ اور وکرم شِلا سے متھلا تک، بودھ گیا اور ویشالی سے پاٹلی پتر تک، پھر بہار شریف، منیر، پٹنہ، پھلواری شریف، مونگیر، چترا، رانچی اور گیا تک، زمانے بدلتے رہے، علمی مراکز کی صورتیں بدلتی رہیں، مگر اس سرزمین پر علم کی طلب اور اسے آگے منتقل کرنے کا جذبہ باقی رہا۔
یہی تسلسل اس داستان کی اصل روح ہے۔ ایک عہد میں نالندہ اور وکرم شِلا جیسے مراکز علم کا چراغ روشن کرتے ہیں، دوسرے عہد میں بہار شریف کی خانقاہیں علم و سلوک کو یکجا کرتی ہیں، پھر مدارس اور جامعات اسی روایت کو نئے زمانے کی ضرورتوں کے مطابق آگے بڑھاتے ہیں۔ کبھی ایک بزرگ کی خانقاہ مرکز بنتی ہے، کبھی ایک مدرسے کی چار دیواری، کبھی ایک استاد کی مجلس اور کبھی کسی شاگرد کی زندگی؛ مگر اصل چیز وہ علمی امانت ہے جو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔
اسی طویل سفر میں بہار نے ایسے رجالِ علم بھی پیدا کیے جن کے نام اپنے اپنے میدان میں ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان رجالِ علم کی فہرست اگر میں اس مضمون میں شامل کرنے کی کوشش بھی کروں تو وہ بہار کے علمی سرمایہ کا احاطہ نہیں کر پائے گی۔
ع
سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے
اس سرزمین نے ہر دور میں ایسے چراغ پیدا کیے جن کی روشنی اپنے زمانے سے آگے تک پہنچتی رہی۔ کبھی علم نے درس گاہ کی صورت اختیار کی، کبھی خانقاہ کی، کبھی کتاب کی، کبھی مدرسے کی اور کبھی کسی ایسے شاگرد کی صورت میں جو اپنے استاد کی محنت کو کسی دوسرے خطے تک لے گیا۔
بہار کا علمی شجر نہ کبھی بانجھ تھا، نہ آج ہے اور نہ ان شاء اللہ کل ہوگا۔
اس کی جڑیں صدیوں کی علمی و تہذیبی روایت میں پیوست ہیں، اس کی شاخیں مدارس، خانقاہوں، جامعات اور علمی مراکز میں پھیلی ہوئی ہیں اور اس کے پھل وہ نسلیں ہیں جو علم، دین اور انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ شجر اپنی صورتیں بدلتا ہوا آج بھی برگ و بار لا رہا ہے۔
بہار کی اصل شناخت یہی ہے کہ اس نے علم کو کبھی ایک زمانے کی ملکیت نہیں بننے دیا۔ یہاں ایک استاد کی محنت دوسرے استاد تک پہنچی، ایک مدرسے کی شمع سے دوسری شمع روشن ہوئی اور ایک نسل نے دوسری نسل کے ہاتھ میں علم کی امانت تھمائی۔ اسی تسلسل نے اس سرزمین کو محض تاریخ کا حصہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک زندہ علمی روایت بنا دیا۔
اور اس لیے بہار کی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی؛ اس کا اگلا باب بھی اسی مٹی سے اٹھنے والے ان چراغوں کے ہاتھوں لکھا جائے گا جو علم کو محض اپنی ملکیت نہیں بلکہ امانت سمجھ کر اگلی نسل تک پہنچانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
Comments are closed.