قاری شبیر احمد حافظ ۔فصاحت وبلاغت کا بولتا فرشتہ

 

ڈاکٹر عمر فاروق قاسمی

9525755126

قاری شبیر احمد حافظ کی پیدائش دربھنگہ ضلع کی مشہور و معروف بستی ’’ بھروارہ‘‘ میں ہوئی ، ان کی تاریخ پیدائش یکم جنوری ۱۹۵۷ء ہے ۔قاری صاحب اس جہان و رنگ وبو میں بصارت کے ساتھ آئے تھے ؛ مگر چند ہی دنوں میں قدرت کے ذریعے بصارت چھین لی گئی ۔ شاید خدا ئے تعالی کو یہی منظور تھا کہ وہ اس جہان رنگ وبو کا اپنی ظاہری آنکھوں کے بجائے دل ودماغ کی آنکھوں سے مشاہدہ کریں ،اسی لیے انھیں بہ ظاہر نابینا، بہ باطن ’’بینا‘‘ بنا دیا ۔ آنکھوں کے کے آپریشن کے لیے بمبئی لے جایا گیا ؛مگر گھر والوں کی ساری کوششوں کے باوجود اُن کی بینائی نہیں لوٹ سکی ۔ والد صاحب چوں کہ بہ غرض تجارت بمبئی میں رہا کرتے تھے ، اس لیے ابتدائی تعلیم کے لیے ناخدا مسجد بمبئی کے مکتب میں داخلہ کرادیا ، حفظ قران کریم کی تکمیل اسی مسجد میں ہوئی ،اس کے بعد دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا ، آنکھوں کی روشنی کھوجانے کے باوجود قدرتی ذہانت کی وجہ کر آپ ہمیشہ اعلی نمبرات سے کامیاب ہوتے رہے ۔ کچھ دنوں تک تشکیک و فلسفہ کی طرف مائل رہے ۔الحاد و ارتداد نے انھیں اسلام کے صراط مستقیم سے پھیر کر ظلمت و گمراہی کے پگڈنڈیوں کی طرف رخ کو پھیر دینا چاہا لیکن قران کریم کی محبت نے انھیں پھر شاہرہ اسلام پر لا کھڑا کیا ۔

دار العلوم دیوبند کی زمانہ ٔ طالب علمی میں عربی اور اردو زبان کے مایہ ناز ادیب مولانا نور عالم خلیل امینی کے چند مخلص رفقا، اصحاب ِ با صفا اور جگری دوستوں کی جو ٹیم تھی اس میں قاری شبیر احمد حافظ بھی تھے ۔ دوستی اور ہم نشینی ، رفاقت اور مصاحبت فکر ونظر ، رہن سہن ،طریقۂ زندگی اور طرزِ رہایش میں یکسانیت اور ہم آہنگی کا پتہ دیتی ہے ، اس لیے مولاناامینی ، قاری شبیر احمد اوران کے دگر رفقاء کے افکاروخیالات میں کافی حد تک یکسانیت تھی ، چناں چہ مولاناامینی لکھتے ہیں :

’’دارالعلوم دیوبند میں میرے چند رُفقا کی ایک جماعت تھی، خیالات و رجحانات کی یکسانیت اور زبان وادب سے مناسبت کے قدرِ اشتراک نے ہم لوگوں میں ایسا تعلّق ِ خاطر پیدا کردیاتھا ، جسے اِنشاء اللہ موت ہی ختم کرسکتی ہے ۔ ہماری اِس جماعت کے سربراہ اردو زبان کے ممتاز اور صاحب ِ طرز اہلِ قلم اور دارالعلوم سبیل السلام حیدر آباد کے بانی و سرپرست برادرِ معظم مولانا رضوان القاسمیؒ تھے ۔ اِس کے ممبران میں اردو کے فطری شاعر و ادیب و انسان ودنیاوی زندگی کا بصیرت مندانہ تجربہ رکھنے والے حافظ قاری شبیر احمد دربھنگوی مہتمم مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھروارہ ضلع دربھنگہ ؛ ممتاز عربی داں وعربی انشاپردازبراد رِمحترم مولانابدالحسن قاسمی ( حال مقیم کویت ) زمیلِ مکرم مولاناحافظ ابرار احمد دربھنگوی ( امام وخطیب جامع مسجد لہریا سرائے دربھنگہ) اور حافظ دستگیراحمد قاسمی جالوی دربھنگوی وغیرہ تھے ۔‘‘(۱)

اردو زبان وادب میں ان سبھی یارانِ باصفا کی دل چسپی کی وجہ کر مولانا حافظ ابرار احمد قاسمیؒ کے کمرہ باب الظاہر ۴۲ میں جمعرات کی درمیانی شب کو ان سبھوں کا اجتماع ہوتا اور ادبی و ثقافتی عناوین پر کھل کر تبادلۂ خیال ہو اکرتا، جس کے میر مجلس قاری شبیر صاحب ہی ہو اکرتے تھے ۔ مولاناامینی اس حوا لے سے رقم طراز ہیں :

’’دارالعلوم میں طالب علمی کے زمانے میں ہم لوگ جمعرات وجمعہ کی درمیانی شب میں اپنے ایک باذوق، نستعلیق ساتھی مولاناابرار احمد سدھولوی دربھنگوی … کے کمرے ۴۲ میں باب الظاہر ( دار جدید) میں اکٹھا ہوتے ، اِس مجلس کے میر تو مولاناقاری شبیر دربھنگوی ( حال مقیم و ذمہ دار مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ )ہوتے ؛ لیکن اِس کے روح رواں مولانا رضوان القاسمی ہوا کرتے تھے۔ اُس کے شرکا میں اکثر مولانا دستگیر احمد دربھنگوی اور میرے ہم سبق مولانابدرالحسن قاسمی ہوا کرتے تھے …یہ مجلس جو عموماً ضلعی انجمنوں کے ہفتہ واری پر گرام کے اختتام کے بعد ( نصف شب کے بعد) ہوتی تھی ، ہم لوگ اِس میں ادبی و ثقافتی موضوعات پر آزادانہ تبادلہ ٔ خیال کرتے تھے ؛ لیکن جو موضوع بھی چھڑ جاتا، دیر تک مُسَجّع ومُقَفّی عبارت میں اُسی کی پیروی ہوتی ۔ مسجّع اور موزوں عبارتوں میں ، ہماری طالب علمانہ نو آموزی ، ونا تجربہ کاری کی وجہ سے بہت سی دفعہ ’’ہمارا قافیہ ‘‘ تنگ ہوجایا کرتا تھا؛بل کہ بعض دفع ہم محسوس کرتے تھے کہ ہم ’’ مسدود راہ ‘‘پر پہنچ گئے ہیں ، جس کو کھولنا ہمارے لیے دشوار گزار ہے ؛ لیکن بھلا کرے قاری شبیر احمد اور مولانا رضوان ؒ کا کہ یہ دونوں حضرات اپنی مہارتِ لسانی ، ذہانت اور طالب علمی کے باوجود ، نثری قدرت کے ساتھ ساتھ ، شعر و سخن کاماہرانہ مذاق رکھنے کی وجہ سے ، جاری موضوع کی رعایت کرتے ہوے ،پہلے سے زیرِ استعمال ’’ وزن وقافیہ ‘‘ کی بند راہ اِس طرح کھول دیتے کہ ہم لوگ عش عش کرنے لگتے ، اِس مجلس میں ایمان لاناپڑا کہ مولانا محمد رضوان اور قاری شبیر کو اللہ نے لفظی صنعت کے استعمال ، دو یا اُس سے زیادہ معنوں والے اَلفاظ کی رعایت اور محاورہ وروزمرہ میں ،اِس نوعمری میں بھی خاص کمال سے نوازا ہے ۔‘‘ ( ۲)

فراغت کے بعد تدریسی خدمت انجام دینے کے لیے ’’ مدرسہ محمودیہ ‘‘ میرٹھ کا انتخاب کیا ۔ اس کے بعد یوپی کا مشہور مدرسہ ریاض العلوم گورینی آپ کا عملی اور علمی میدان بنا ۔ مدرسہ دینیہ غازی پور کے ذمہ داروں نے جب آپ کی صلاحیت کو سمجھا تو یہاں کا مسند تدریس انھیں سونپ دیا ، یہاں آپ نے اپنی زندگی کے قیمتی ۱۲ سال گزارے ۔ یہاں کی فضا میں آپ کی صلاحیت اور قابلیت کو مزید پرواز کرنے کا موقع ملا اور آپ کی شہرت آہستہ آہستہ ملک کے طول و عرض میں پھیلتی گئی ۔ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒاور علاقائی ذمہ داران نے آپ سے درخواست کی ’’ شکر پور ‘‘ بھروارہ میں ایک ’’ مدرسہ اسلامیہ ‘‘ انتہائی خستہ حالت میں چل رہا ہے ، آپ غازی پور چھوڑ کر اس علاقے کو سیراب کیجئے ۔ چناں چہ آپ اپنے دوست اور اس وقت میں مدرسہ دینیہ کے استاد حضرت مولانا صفی الرحمن کے ساتھ مدرسہ اسلامیہ شکر پور بھروارہ تشریف لے آئے اور مدرسہ کی باگ ڈو ر اپنے ہاتھ میں لی آپ کی شب وروز کی محنت سے حوادثات ِ زمانہ کے باد سموم سے جھلستا ہوا یہ درخت دوبارہ برگ و بار لانے لگا ۔ اور بہت جلد تناور اور ثمر آور ہو گیا ۔ الحمد للہ آج یہ مدرسہ شمالی بہار کے چند گنے چنے مدرسوں میں شمار ہوتا ہے ۔

قاری شبیر احمد حافظ کو زمانہ ٔ طالب علمی ہی سے شعر وشاعری سے دل چسپی تھی ، زبان ان کی بہت سلیس ہے ، گفتگو میں شائستگی اور روانی ہے ، ان کے خزانہ ٔ شعور میں الفاظ کی کمی نہیں ، اس لیے موقع اور مناسبت کے لحاظ سے الفاظ کا استعمال ان کی تقریر اور گفتگو میں جاذبیت اور دل کشی پیدا کرتے ہیں ، اپنی تقریروں میں عام مقرروں کی طرح نہ وہ چیختے ہیں اور نہ چلاتے ہیں ۔ ان کی تقریر کی روانی ذہن و دماغ کو سیراب کرتی ہوئی اپنی منزل تک پہنچتی ہے ۔ اگر وہ بینا ہوتے تو ان کی نثر مولانا ابو الکلام آزاد ؒکے نثری معیار سے کم نہیں ہوتی ۔ کاش مختلف مجلسوں میں ان کی تقریر وں کے رکا رڈ کرنے کا اہتمام ہوتا تو ان کی تقاریر کا یہ مجموعہ اردو ادب کی الماریوں میں خوب صورتی و رعنائی کا ذریعہ بنتا ۔زمانہ ٔ طالب علمی میں ان کے خطوط کے کاتب مولانا اعجاز احمد اعظمی ان کے اسلوب نگارش کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’ان دنوں قاری صاحب اپنے بعض احباب کو بہت اہتمام کے ساتھ خطوط لکھواتے تھے ، بازار سے عمدہ سے عمدہ کاغذ خطوط لکھنے کے لئے لاتے ، پھر فرماتے لکھو ، کاتب قلم کاغذ لے کر بیٹھ جاتا ، کاتب میں ہی ہوتا ، ان کی زبان پر فصاحت و بلاغت کافرشتہ بولتا رہتا اور میں قلم بند کرتا چلا جاتا ، الفاظ ، معلومات ،برجستہ اشعار ،برمحل فقروں کاایک سیل رواں ہوتا اور میں انھیں کاغذ پر سمیٹتا رہتا ۔ قاری صاحب کے مکاتیب کو جمع کیا جاتا تو ’’ غبار ِ خاطر ‘‘ کا ایک دوسرا جلوہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ، مگر اس وقت وہ طالب علم تھے اور مخاطب بھی طلبہ ہی تھے ، میں نے ان خطوط کا ایک مجموعہ تیار کیا تھا ، مگر اللہ ہی جانتا ہے کہ کون مجھ سے مانگ کر لے گیااور اب تک واپس نہیں کیا ،میں نے بہت تلاش کیا مگر کہیں پتہ نشان نہ ملا۔ قاری صاحب نے بھی قلم رکھ دیا ہے ، اور زبانی مخاطبہ پر اکتفا کرتے ہیں ، حالانکہ اگر وہ لکھیں تو ادب عالیہ کا شہ پارہ وجود میں آئے ۔ ‘‘ ( ۳)

اُن کی طرزِ گفتگو اور زبان کی نظافت کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں :

’’ راستے میں مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے رہتے ، گفتگو کی زبان اتنی شستہ اور فصیح ہوتی ، جیسے مولانا آزاد کا قلم چل رہا ہو ، مولانا آزاد کی تحریر اور قاری صاحب کی تقریر ، ہوبہو باہم دگر مشابہ ہوتی ۔ ‘‘(۴)

وہ شعر وشاعری کے حوالے سے نہ تو کسی اسٹیج کی زینت بنے اور نہ ہی اس حوالے سے انھوں نے اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کی ، پھر بھی ایک مکمل دیوان تیار ہو چکا تھا۔۔شایدکہ وہ محفوظ ہو۔۔۔ ، جس میں وہ تمام اشعار موجود تھے جو ایک باکمال شاعری کی پہچان ہوتی ہے ۔ امید ہے کہ اگروہ محفوظ ہے تو ان کے فرزند ارجمند مولانا دبیر احمد قاسمی اپنی تگ ودو سے اسے منظر عام پر لانے کی کوشش کریں گے ۔ ڈاکٹر مفتی اعجاز ارشد قاسمی ؒاپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ میںان کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’ قاری شبیر احمد حافظ ایک ایسے فاضل دیوبند ہیں ، جن کی فطرت میں شعر و سخن شامل ہے ،ایک ایسے باکمال شاعر ہیں ،جنھوں نے میرتقی میر اور عصر حاضر کے ڈاکٹر کلیم عاجز جیسے قد آور شعرا کی اتباع کی ہے اور غزل گوئی میں اپنا منفرد مقام بنایا ہے ۔ تخلیقی بصیرت اور آداب فن جس نظم و ضبط کا مطالبہ کرتے ہیں وہ حافظ کی صلاحیت کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔ ان کی شاعری میں تشبیہوں اور استعاروں کی ندرت پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قوت تخیل کس قدر بے پناہ ہے اور لفظوں کی رنگا رنگی پر توجہ دیں ، تو صاف پتہ چلتا ہے کہ الفاظ کا خزانہ ان کے پاس ہے ، وہ طبعاً وصال اور لطف کے شاعر ہیں ، مگر بسا اوقات نامساعد حالات کی وجہ سے ان کی فنکاری کا بلند ترین زینہ وہاں پہنچ جاتا ہے ، جہاں وہ ہجر اور درد کے احساسات کا اظہار کرتے ہیں ‘‘ ( ۵)

ان کی شاعری کے دو دور ہیں ایک دور جواں سال بیٹے ضمیر احمد کی وفات سے پہلے کا ہے ۔ دوسرا دور بیٹے کی وفات کے بعد کا ہے ۔ دونوں دور کی شاعری میں فرق نظر آتا ہے اسی حوالے سے مفتی اعجاز ارشد قاسمیؒ لکھتے ہیں :

’’ کبھی کوئی حادثہ انسان کے ذہن و دماغ کو اس قدر متاثر کر دیتا ہے کہ اس کی شاعری سراپا درردبن جاتی ہے ۔ قاری شبیر احمد حافظ کی شاعری میں یاس و غم کا اظہار زیادہ اس وجہ سے ملتا ہے کہ ایک جواں سال لڑکے کی موت نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا ۔ اپنی کوشش طبعی اور خوش مزاجی سے مجلس کو زعفران زار بنانے والے حافظ کی زندگی میں ایسا انقلاب آگیا کہ ان کی شااعری سرا پا درد بن گئی ، اسے ہم ان کی شاعری کا دوسرا عہد قراردے سکتے ہیں ، ان کے پہلے عہد کی شاعری میں ایسی غزل ہمیں دیکھنے ہیں جن میں تغزل ہی تغزل ہے ‘‘ ( ۶)

پہلے عہد کی شاعری میں ان کا تغزل انتہا کو پہنچا ہوا ہے ۔ اس عہد کی غزلوں میں گلشن و چمن ، گل بدن ، حسن و عشق ، گل وبلبل ، نظر وچشم، بیمار ومحبت ،شباب وصحرا ، وغیرہ کا تذکرہ ملتاہے ۔ پہلے عہدکی شاعری کے چند نمونے ملاحظے ہوں ۔یہ تمام اشعاراور اس کے بعد آنے والے تمام اشعار بھی مفتی صاحب مرحوم کی کتاب ’’علمائے دیوبند کی اردو شاعری ‘‘ سے لیے گئے ہیں :

ہاں کوچہ ٔ رقیب سے آیا نہ ہو کہیں

دکھتے بہت ہیں آج بت گل بدن کے پاؤں

تارمزِحسن وعشق سے کردے وہ آشنا

پڑتے ہیں اس خیال سے ہم کوہ کن کے پاؤں

صحرا بھی ان کے واسطے حافظ ہے آج تنگ

رکھتے نہیں تھے جو کبھی باہر چمن کے پاؤں

 

بیچ زلفوں کے ترے روئے حسیں کا عالم

چہرہ ٔ چاند ترا ابر چھپا ہو جیسے

اب تو بیمارِ َمحبت پہ عنایت ہو تری

اب تو ہر وقت مرا وقت ِ قضا ہو جیسے

اس کی ہربات پہ یوں ہوتا ہے حافظ مسجود

حکم جاناں بھی غرض حکم خدا ہو جیسے

 

زمانہ ہو چکا دیکھا تھا تم کو ایک نظر ہم نے

تصور جس کا اب تک دل کو میرے شاد کرتا ہے

دوسرے عہد کی شاعری میں غم والم ، درد و کسک ، اشک و ہجر ،تیرگی وتاریکی ، خوشی و نشاط کا ختم ہوجانا اور خون ِدل جیسے الفاظ کا ذکر خوب ملتا ہے ۔ ملاحظہ ہو چند اشعار :

بیٹے کی وفات پر غزل کے اشعار

کبھی تیرے ہجر کا خوف بھی میرے دل پہ بار گراں رہا

پھر عجیب کیا وہی دل اگر تیرے بعد وقف خزاں رہا

میں تمام شب تیری یاد میں کبھی یوں بھی اشک فشاں رہا

کہ غموں سے دل تھا لہو لہو ترا نام وردِ زباں رہا

اس عہد کی دگر غزلیہ اشعار کے نمونہ اس طرح ہیں:

تیری داستاں میں اے دل ابھی دل کشی نہیں ہے

کہ ابھی تک اس میں شامل غمِ زندگی نہیں ہے

میں چراغ ِزندگانی وہاں کر رہا ہوں روشن

جہاں تیرگی ہے لیکن ، غم ِتیرگی نہیں ہے

تب وتاب زندگی تھی دمِ آرزو سے قائم

ہو وصال بھی مقدر تو مجھے خوشی نہیں ہے

 

اٹھی سوئے چرغ سے اک ہوا ، جو چراغ خانہ تھا بجھ گیا

ذرا دیکھ کتنی ہے تیرگی ، کوئی کب تلک نہ جلائے دل

میرے ساتھ مشق ستم رہا ، مرا غم ہر اک ترا غم رہا

مرے حال ِزار کو دیکھ کر ترا اضطراب یہ ہائے دل

 

ان کی غزلوں میں درد ،کسک اور سوز ش ِدل کے ساتھ موسیقیت اور نغمگی بھی خوب سے خوب تر پائی جاتی ہے ۔ملاحظہ ہو ان کی یہ غزل :

میرے عہدِحسن و شباب کی بڑی مختصرہیں کہانیاں

کبھی بھول کر بھی اگر ہنسے ، تو ملی ہیںاشک فشانیاں

بڑی جاں گداز تھی ہم نفس میرے سوزغم کی کہانیاں

ہوئی خیردل کی ، جو ہو گئیں مجھے سہل اشک فشانیاں

میرے لوح دل پر جو نقش ہیں تری دکھ بھری وہ کہانیاں

یہی راز ہے کہ نہ کم ہوئیں میرے آنسوؤں کی روانیاں

کبھی دردِدل کبھی سوزِغم کبھی ہم سفر کوئی الم

مجھے راحتوں سے عزیز تر تری دی ہوئی یہ نشانیاں

کہیں کہیں انھوں نے بہار کے مشہور ومعروف شاعر ڈاکٹر کلیم عاجز کی اتباع میں میر تقی میر کی پیروی بھی کی ہے ۔ ملاحظہ ہوں یہ اشعار :

ہاتھوں سے تواپنے جسے برباد کرے ہے

کب پیر فلک بھی اسے آباد کرے ہے

اب بھی وہی ہے حسرت ِدید ار کا عالم

اب بھی تجھے دیوانہ بہت یاد کرے ہے

ہم اس کے وہ میرا ہے جو چاہے سو کریں ہم

کیا شٰخ حرم ہم سے تو ارشاد کر ے ہے

دونوں برابر ہیں قفس ہو کہ نشیمن

پھر کیا تو عبث شکوۂ صیاد کرے ہے

ہیں بازو پر اور نہ اب جرأت پرواز

یوں اپنے اسیروں کو وہ آزاد کرے ہے

کل جن کا ستم بھی تھا سکونِ دل مضطر

ا ب ذکر بھی ان کا مجھے ناشادکرے ہے

رہ رہ کے لرز جاوے ہے صیاد بھی حافظ

جب قید سے تو نالۂ وفریاد کرے ہے

(۱) نور عالم خلیل امینی ۔پس مرگ زندہ ،ص ۲۳۲-۲۳۳، مضمون حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒ

(۲)حواالہ سابق ،ص ۶۷۳-۶۷۴)

( ۳)کتاب ہستی ( خود نوشت ) ص ۲۳۷،طبع دوم ۲۰۱۵،ناشر : مکتبہ ضیاء الکتب خیرآباد ضلع مئو (یوپی ) پن کوڈ 276403

(۴) حوالہ سابق

( ۵)مفتی اعجاز ارشد قاسمی ۔ علمائے دیوبند کی اردو شاعری ۔ ص ۱۵۵-۱۵۶،ناشر : کریٹیو اسٹار پبلی کیشینزجامعہ نگر نئی دہلی سن اشاعت جون ۲۰۱۷

( ۶)حوالہ سابق ۔ص ۱۵۶

Comments are closed.