’ماب لنچنگ اِن انڈیا‘

 

پہلی چشم کشا اور جامع دستاویز جس نے بہت سے پوشیدہ حقائق طشت از بام کر دیے

سہیل انجم

ہر ملک میں امن پسند اور شرپسند دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ حکومتوں کی ذمہ داری امن پسندی کو فروغ دینا اور شرپسندی کا قلع قمع کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی معاشرے میں شرپسندوں کو کھلی چھوٹ مل جائے اور وہ اقلیتوں کو نشانہ بنانے لگیں، مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے الزام اور دیگر بہانوں سے ان کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے لگیں او ران کے خلاف کوئی ایکشن نہ ہو تو پھر حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ ہندوستان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران ’ماب لنچنگ‘ کی ایک نئی لہر اٹھی جو رفتہ رفتہ شدید ہوتی چلی گئی۔ آج ملک میں ماب لنچنگ ایک معروف اصطلاح بن گئی ہے۔ جب بھی اس اصطلاح کا استعمال ہوتا ہے تو فطری طور پر ذہن میں اقلیتوں کے قتل کا مفہوم آتا ہے۔ اس کا آغاز 2015 میں اترپردیش کے دادری میں ایک شخص محمد اخلاق کو فریج میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں سرعام پیٹ پیٹ کر قتل کرنے سے ہوا۔ حالانکہ بعد میں جب اس گوشت کی جانچ کی گئی تو وہ گائے کا نہیں نکلا۔ اس کے بعد تواتر کے ساتھ ماب لنچنگ کے اتنے واقعات ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں کہ ان کا شمار کرنا آسان نہیں۔ اس دوران نئے نئے ناموں سے ان گنت تنظیمیں معرض وجود میں آگئیں۔ ایسے نوجوانوں کی ایک پوری فوج سامنے آگئی جس کو ’کاو ویجیلینٹس‘ کہا گیا۔

جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو نئی دہلی کے ایک اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک پروگرام میں وزیر اعظم نریند رمودی نے ایسے لوگوں کو شرپسند قرار دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ایسے عناصر کی تعداد روز بہ روز بڑھتی گئی اور اب تو ہر جگہ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔ بلکہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو گائے کے ذبیحے، اس کی غیر قانونی تجارت یا اسی قسم کے دیگر الزامات کے تحت نشانہ بنائے تو اسے ’کاو ویجیلنٹ‘ کہا جانے لگا۔ یعنی وہ گائے کا محافظ ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے میں آنا کانی کی جاتی ہے یا ان کے خلاف انتہائی ہلکی دفعات کے تحت اس انداز میں ایکشن لیا جاتا ہے کہ انھیں چند روز کے اندر ضمانت مل جاتی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جب وہ جیل سے باہر آتے ہیں تو ان کا ہیرو کی مانند استقبال کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور محافظینِ قانون اس سے چشم پوشی کرکے ان کو کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں۔ ماب لنچنگ کے آغاز کے بعد رفتہ رفتہ انتظامیہ میں اقلیت مخالف ذہنیت پروان چڑھنے لگی اور اعلیٰ حکام جانبدارانہ کارروائی کرنے لگے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ماب لنچنگ ایک معمول بن گیا ہے اور شرپسندوں کے حوصلے اتنے بلند ہو گئے ہیں کہ اب ان کو نشانہ بنانے کا معاملہ گائے کے تحفظ سے دوسرے بہانوں تک پہنچ گیا ہے۔ بلکہ اب کسی بہانے کی بھی ضرورت نہیں۔ کہیں بھی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ہدف بنانا آسان ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ ٹرینوں میں بھی ان کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور یہ کام کسی عام شہری نے نہیں بلکہ پولیس کی وردی میں ملبوس ایک سرکاری اہل کار نے کیا۔ مسلمانوں کے خلاف ایسا نفرت انگیز ماحول بنا دیا گیا ہے کہ اب داڑھی ٹوپی اور کرتا پاجامہ میں ملبوس کسی بھی ایسے شخص کو جو بظاہر مسلمان نظر آئے، ہدف بنانا آسان ہو گیا ہے۔

اخبارات میں ایسے واقعات کی رپورٹیں شائع ہوتی ہیں لیکن بہت سے واقعات نہ تو اخبارات میں آپاتے ہیں اور نہ ہی پولیس میں رپورٹ ہو پاتے ہیں۔ کچھ انصاف پسند صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان واقعات کی دستاویز سازی کی گئی ہے لیکن جیسی جامع دستاویز تیار کرنے کی ضرورت تھی ویسی ابھی تک تیار نہیں ہو سکی تھی۔ اگر کوئی شخص ان واقعات کا مطالعہ کرنا اور اس لعنت کے تمام پہلووں کو جاننا چاہے تو اسے مایوسی ہاتھ لگتی۔ اس کمی کو نئی دہلی کے ایک اشاعتی ادارے ’فاروس میڈیااینڈ پبلشنگ پرائیویٹ لمٹیڈ‘ نے ماب لنچنگ پر ایک جامع دستاویز تیار کرکے پورا کر دیا ہے۔ یہ دستاویز 2014 سے 2024 کے درمیان ماب لنچنگ کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ بڑی تقطیع پر شائع ہونے والی یہ دستاویز 744 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں 1743 واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں صرف مسلمانوں کی ماب لنچنگ کا جائزہ نہیں ہے بلکہ دیگر اقلیتوں کے خلاف قتل عام، ہجومی تشدد اور جادو ٹونے کے نام پر خواتین کی ہلاکتوں کے واقعات کی بھی تحقیق کی گئی ہے۔ اس دستاویز کے مرتب یا تدوین کار ملک کے معروف صحافی، انگریزی اخبار ’ملی گزٹ‘ کے ایڈیٹر، دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین، انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن اور مصنف و کالم نگار ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں ہیں۔ جبکہ اس کو اسپانسر کیا ہے ایسو سی ایشن فار پروٹکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر)، انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر)، کویل فاونڈیشن (کیو اے)، فورم فار ایڈووکیسی اینڈ ریسرچ (ایف اے آر) اور ساوتھ ایشین مائنارٹیز لائرز ایسو سی ایشن (ساملا) نے۔ اس کے ایڈیٹر ایم ضیاءالحق اور شاہین نظر ہیں۔ جبکہ ریسرچ کا کام شاہین نظر، ظفر الاسلام خاں، طلحہ چودھری، سلمان نقوی، غفران اسعدی اور ظل الرحمن حیدر نے کیا ہے۔ ڈاکومنٹیشن ندیم احمد کا ہے۔ دستاویز کے بالکل شروع میں یعنی پہلے صفحے پر شلپا راجپوت بھارتی کا ایک قطعہ ہے: وہ انسانوں کی بھیڑ تھی صاحب، اس لیے گوپال کپل اور گنجا بچ گئے، ہم نے جانوروں کی بھیڑ میں، اخلاق پہلو تبریز کو مرتے دیکھا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی کالم نگار تولین سنگھ کے ایک کالم کا یہ جملہ درج ہے کہ لنچنگ نے بہت سے عام ہندووں کے دل میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ یہ مسلمانوں کے سلسلے میں اوپن سیزن ہے اور اس نے عام مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کے شہری بنا دیے گئے ہیں۔ اسی طرح یکم نوبر 2018 کے اخبار ٹائمز آف انڈیا کے ایڈیٹوریل کے یہ جملے درج ہیں کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد یا لنچنگ کے عام ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ قانون اس کے ذمہ داروں کی شاذ و نادر ہی گرفت کرتا ہے اور اگر اجتماعی طور پر تشدد پھوٹ پڑے تو اسے روکنے کا کوئی موثر طریقہ نہیں ہے۔ دراصل جن کو لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا ہے وہ خود ایسے واقعات کے مرتکب ہو سکتے ہیں جیسا کہ ہاشم پورہ قتل عام میں دیکھا گیا۔

اس دستاویز کے پیش لفظ میں اس معاملے کے تمام پہلووں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں 2014 سے 2024 کے درمیان واقع ہونے والے تمام واقعات کا احاطہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں انھیں حالیہ برسوں میں سڑکوں پر ہونے والے واقعات کی ایک جھلک سمجھا جائے۔ موجودہ حالات اتنے خوفناک ہیں کہ مسلمان بس، ٹرین اور یہاں تک کہ کار سے سفر کرنے میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ماب لنچنگ کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن وہ رک بھی جاتے تھے البتہ اب ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری زندگی کا ایک معمول بن گیا ہے۔ اس کے بعد اس موضوع کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس میں لنچنگ کی تعریف، ہندوستان میں تشدد کے اسباب، ہجومی تشدد کے بعض بڑے اسباب، جہیز، فرقہ وارانہ فسادات، انسانی قربانی، جادو ٹونے کے نام پر قتل، اقلیتوں کا پیچھا کرنا، قتل کی ویڈیو گرافی، بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل گیا، جرائم پیشہ افراد کی اہمیت، قاتلوں کو پولیس کا تحفظ، 2014 کے بعد لنچنگ میں بے تحاشہ اضافہ، بی جے پی وزرا کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی، بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی، مودی: کاوویجلینٹس کے حامی وغیرہ وغیرہ ضمنی عنوانات قائم کیے گئے ہیں اور ان کے تحت تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں ایک جگہ بتایا گیا ہے کہ 2018 میں لنچنگ کے ریکارڈ توڑ واقعات ہوئے۔ ایک ایجنسی نے 27 جولائی 2018 کو رپورٹ کیا کہ اس سال یعنی 2018 کے پہلے سات مہینوں میں قتل کے 24 واقعات ہوئے ہیں۔ اس طرح 2018 سب سے خطرناک سال قرار پایا۔ اس باب میں انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کی جانچ کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ دستاویز کے تعارف کے تحت 17 صفحات پر تفصیلات ہیں۔ دوسرے باب کا عنوان ہے: لنچنگ ہندوستان کا نیا معمول۔ اس کی تفصیلات 34 صفحات پر ہیں۔ تیسرے باب کا عنوان ہے: انڈین سول سوسائٹی ماب لنچنگ پر ریاستوں اور مرکز کے قوانین۔ اس کے تحت 24 صفحات کی تفصیل ہے۔ چوتھا اور آخری باب ڈاکومنٹیشن ہے جو کہ صفحہ 97 سے صفحہ 744 تک پھیلا ہوا ہے۔

ہندوستان میں پہلے فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوتے تھے جن میں مسلمانوں کے جان و مال کا بہت زیادہ نقصان ہوتا تھا۔ مسلمانوں کی گرفتاری ہوتی۔ ان کو جیلوں میں ڈالا جاتا اور مقدمات قائم کرکے انہی کو سزا دلوائی جاتی۔ اب ماب لنچنگ کا دور ہے۔ مقصد وہی ہے البتہ طریقہ کار بدل گیا ہے۔ اب بھی قتل اور تشدد کے ذمہ داروں کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے اور گائے کی اسمگلنگ یا گﺅ کشی کا الزام جن مسلمانوں کے خلاف لگایا جاتا ہے انہی کی گرفتاری ہوتی ہے اور انہی کو سزائیں ملتی ہیں۔ ان الزامات کی وجہ سے بہت سے مسلمان گائے پالنے اور دودھ کی تجارت کے اپنے آبائی پیشے کو خیرباد کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ قانون کو ہاتھ میں لینے اور ہجومی گروہوں کی تعداد اور ان کی سرگرمیوں میں اضافے سے ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ عالمی سطح پر ا س کے وقار و اعتبار کو بھی ٹھیس لگی ہے۔ بہرحال یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ مذکورہ دستاویز دس برسوں کے واقعات کا ایک ایسا ریکارڈ ہے جس کی اہمیت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جائے گی۔ بلا شبہ یہ ایک قابل ذکر کام ہے جس کی ضرورت تھی۔ اس کی قیمت 900 روپے ہے اور اسے فاروس میڈیا ابوالفضل انکلیو جامعہ نگر سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

موبائل: 9818195929

Comments are closed.