علم و قلم کی دنیا کا بڑا حادثہ:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(حضرت قاری شبیر احمد رحمہ اللہ کی وفات پر صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم کا اظہارِ تعزیت)
مکہ مکرمہ (پریس ریلیز)
میں اس وقت مکہ مکرمہ میں مقیم ہوں ، آج جمعہ کا دن ہے اور آج ہی صبح حضرت مولانا قاری محمد شبیر صاحب کی وفات کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعہ پڑھی، بہت دکھ ہوا؛ کیوں کہ میرا ان سے قدیم تعلق تھا ، میں جب اپنے بچپن میں والد صاحب کے ساتھ رہتا تھا، اور اُن سے فارسی کی کتابیں پڑھتا تھا ، وہ نستہ میں ایک گورنمنٹ ہاسپٹل میں مقیم تھے تو اس وقت قاری صاحب گا ہے گا ہے تشریف لاتے تھے اور زیادہ تر والد صاحب سے اُن کی بات ہوتی تھی ، وہ عمر میں مجھ سے اچھے خاصے بڑے تھے ، ان کی گفتگو سے ان کی ذہانت ، ان کے بیان کی صلاحیت اور سلیقہ اظہار ظاہر ہوتا تھا، پھر جب میں دیو بند گیا تو اُس وقت وہ دیو بند میں مقیم تھے، دیو بند ہی میں اُن سے قریبی رابطہ ہوا، ساتھ میں اٹھنا بیٹھنا بھی ہوتا تھا، مولانا صفی الرحمن صاحب اور میں ہم کمرہ تھا، مولانا صفی الرحمن صاحب ان کے میزبان ہوتے تھے، پھر اسی زمانہ میں وہ مدرسہ دینیہ غازی پور میں تدریس کی خدمت سے وابستہ ہوئے اور ان ہی کے اشارہ پر مولا نا صفی الرحمن صاحب بھی وہاں منتقل ہوئے ، وہ مدرسہ بھی بہت با فیض مدرسہ تھا ، اسی ادارے سے مفتی نسیم صاحب مرحوم اور معروف عالم مولا نا اختر امام عادل صاحب وغیرہ نے کسب فیض کیا ، پھر قاری صاحب کو بہار کی علمی ویرانی کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ہوا کہ وہاں ایک ادارے کی داغ بیل ڈالی جائے ، ایک مکتب جو پہلے سے شکر پور میں تھا، وہ جگہ ان کو دستیاب ہوئی ، اس کو انھوں نے ایک مدرسہ دارالعلوم کی شکل دی اور بہت کم وقت میں اس نے ترقی پائی، یہاں تک کہ پورے علاقے کے لئے منبع فیض بن گیا، آج اس کے فضلا بڑی تعداد میں مختلف علاقوں میں دینی خدمت انجام دے رہے ہیں ، اور وہ بہار کا ایک ممتاز ترین مدرسہ سمجھا جاتا ہے، اور وہاں کے پڑھے ہوئے طلبہ دیو بند میں بھی داخلہ امتحان میں عمومی طور پر کامیابی حاصل کرتے ہیں، اللہ تعالی نے اُن کو غیر معمولی ذہانت سے نوازا تھا؛ حالاں کہ وہ بینائی سے محروم تھے ، لیکن اس کا متبادل اُن کو بصیرت کی آنکھوں کی صورت میں حاصل ہو گیا تھا ، وہ بہت تیز رفتاری سے مطالعہ کرتے تھے، اور ایک دفعہ ان کے سامنے کوئی عبارت پڑھ دی جائے تو اُن کو از بر ہو جاتی تھی، حافظہ ان کا بہت قوی تھا، اللہ تعالی نے بات کرنے کا اور اپنے موقف کو مدلل طور پر پیش کرنے کا انہیں غیر معمولی سلیقہ عطافرمایا تھا، آج جب یہ اطلاع ملی، بڑا قلق ہوا اور حرم شریف میں ان کی بلندی درجات اور مغفرت کے لئے دعا بھی کی، اللہ تعالی ان کے درجات کو بلند فرمائے ، ان کے صاحبزادوں کو ان کے نقش قدم پر قائم رکھے اور تعلیم و تربیت کا جو چراغ انھوں نے روشن کیا ہے، اس کی لو مدھم نہ ہونے پائے ، میں ان کی وفات کے غم میں ان کے ورثاء اور ان کے متعلقین کے ساتھ برابر کا شریک ہوں ۔
Comments are closed.