علم و پارسائی کا درخشندہ سورج غروب: قاری شبیر احمد صاحب کی رحلت ایک عہد کا خاتمہ

 

 

تحریر: ایس ایم ضیاء

 

کہتے ہیں کہ کسی عالم کی موت صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتی، بلکہ پورے عالم کی موت ہوتی ہے۔ گذشتہ دنوں علم و عمل، زہد و تقویٰ اور سادگی و سرفرازی کا ایک روشن مینار اس وقت زمین بوس ہو گیا، جب ریاستِ بہار کی ممتاز تعلیمی، ملی اور مذہبی شخصیت حضرت مولانا قاری محمد شبیر احمد صاحب اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کا انتقال نہ صرف ضلع دربھنگہ بلکہ پورے خطے کے تعلیمی اور سماجی منظرنامے کے لئے ایک ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی شاید مدتوں ممکن نہ ہو سکے۔حضرت قاری شبیر احمد صاحبؒ نے 1957 میں ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جہاں علم کی قندیلیں روشن تھیں۔ انہوں نے بچپن ہی سے قرآنی علوم کی طرف خصوصی رغبت دکھائی اور انتہائی کم عمری میں ہی حفظِ قرآن اور تجوید و قراءت کی تکمیل کی۔ ان کا حافظہ اور قرآن کریم کی تلاوت کا انداز اس قدر مسحور کن تھا کہ سننے والے وجد میں آ جاتے۔ انہوں نے دینی علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور علم کی پیاس بجھانے کے بعد اپنی پوری زندگی کو اسی نورِ الٰہی کو پھیلانے کے لئے وقف کر دیا۔

قاری شبیر احمد صاحبؒ کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ مدرسہ اسلامیہ شکرپور، بھروارہ (دربھنگہ) کی تعلیمی اور تعمیری ترقی اور اس کی مثالی نظامت ہے۔ انہوں نے جب اس دیہی اور پس ماندہ علاقے میں تعلیمی کام شروع کیا، تو وسائل انتہائی محدود تھے، لیکن ان کے ارادے چٹان کی طرح مضبوط تھے۔ انہوں نے اس ادارے کو ایک چھوٹے سے پودے سے شجرِ سایہ دار بنا دیا۔ان کی سرپرستی میں ہزاروں بچوں نے حفظِ قرآن اور تجوید کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے مدرسے میں صرف روایتی تعلیم پر زور نہیں دیا، بلکہ طلبہ کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی پر کڑی نظر رکھی۔

دور دراز کے غریب اور محروم طبقے کے بچوں کے لئے مفت قیام و طعام اور اعلیٰ تعلیم کا انتظام ان کا طرۂ امتیاز تھا۔

قاری صاحبؒ محض ایک مدرسے کے ناظم نہیں تھے، بلکہ وہ علاقے کے مسلمانوں کے لئے ایک مضبوط پناہ گاہ اور مصلح کی حیثیت رکھتے تھے۔ جب بھی ملت پر کوئی مشکل وقت آیا یا مقامی سطح پر کوئی سماجی تنازع کھڑا ہوا، انہوں نے ہمیشہ اپنی حکمت، تدبر اور غیر جانبدارانہ موقف سے دلوں کو جوڑا۔ ان کی شخصیت تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں کے لئے لیے قابلِ احترام تھی اور لوگ اپنے پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔

سادگی، زہد اور اخلاقِ حسنہ

آج کے اس مادی دور میں جہاں نمود و نمائش کا دور دورہ ہے، قاری شبیر احمد صاحبؒ اسلاف کی سادگی کا نمونہ تھے۔ ان کی زندگی تقویٰ، عاجزی اور انکساری سے عبارت تھی۔ نمود و نمائش سے دور، خاموشی کے ساتھ اپنے مشن میں مگن رہنا ان کا شیوہ تھا۔ ان سے ملنے والا ہر شخص ان کے اخلاقِ کریمانہ کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔

ان کی رحلت سے دربھنگہ اور بہار کا تعلیمی و مذہبی حلقہ ایک شفیق سرپرست اور عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔ مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کے در و دیوار اور ہزاروں تلامذہ آج اپنے اس مخلص ناظم کو رو رہے ہیں۔ یقیناً ان کا مشن، ان کے قائم کردہ ادارے اور ان کے تربیت یافتہ شاگرد ان کے لئے صدقہ جاریہ بنے رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ حضرت قاری صاحبؒ کی جملہ تعلیمی و ملی خدمات کو قبول فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان و تلامذہ کو صبرِ جمیل دے۔

Comments are closed.