ندوۃ العلماء کے مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کا انتقال
لکھنؤ، 7 اکتوبر 2026ء: دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے ممتاز عالمِ دین، عربی زبان و ادب کے ماہر، معروف مصنف، ادیب، صحافی، داعی اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے موجودہ مہتمم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ آج انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی اطلاع تقریباً شام 3 بج کر 50 منٹ کے قریب موصول ہوئی۔
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی پیدائش 1935ء میں ہوئی۔ جامعہ مفتاح العلوم مؤ سے فراغت کے بعد 1952ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں مزید علمی تحصیل کے لیے تشریف لائے۔ ندوہ کے ممتاز اساتذہ سے علم و ادب حاصل کیا اور 1954ء میں ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد وہیں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔
مولانا کی علمی زندگی کا بڑا حصہ تدریس، عربی ادب، صحافت، تصنیف و تالیف اور دعوت سے وابستہ رہا۔ 1955ء میں ’’البعث الاسلامی‘‘ کی ادارت میں شریک ہوئے اور بعد میں اس کے مدیر اعلیٰ بھی رہے۔ شعبۂ عربی و ادبیات میں بھی طویل عرصے تک نمایاں خدمات انجام دیں۔
2000ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم منتخب ہوئے اور آج اپنی وفات تک اسی منصب پر فائز رہے۔ یوں تقریباً ربع صدی سے زائد عرصے تک انہوں نے ندوۃ العلماء کے اس اہم علمی و انتظامی منصب کی ذمہ داری نبھائی۔ ندوۃ العلماء کے سرکاری تعارف میں بھی انہیں مہتمم کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی حضرت مولانا کی خدمات نمایاں ہیں۔ ان کی متعدد علمی و ادبی تصانیف منظرعام پر آئیں۔ ان کی معروف کتابوں میں ’’اسلامی ثقافت اور ندوۃ العلماء‘‘ شامل ہے، جبکہ ’’48 سال شفقتوں کے سائے میں‘‘ ان کی اہم تصنیف ہے جس میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی حیات و شخصیت اور ان سے وابستہ یادیں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔
عربی زبان و ادب میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں عالمِ عرب میں بھی قدر و منزلت حاصل تھی۔ انہوں نے مختلف ممالک کے دعوتی و علمی اسفار کیے اور عربی تحریر و تقریر کے ذریعے ہندوستان کے علمی حلقوں کی نمائندگی کی۔
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کا انتقال ندوۃ العلماء اور برصغیر کی علمی و ادبی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی طویل تدریسی، تصنیفی، صحافتی اور انتظامی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور ندوۃ العلماء، ان کے شاگردوں، متعلقین اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین.
Comments are closed.