برے پھنسے گیانیش کمار

 

پسِ آئینہ: سہیل انجم

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے متنازع فیصلوں کو چیلنج کرنے والی عرضداشتوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد فریقوں کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اب چیف الیکشن کمشنر خود کو بچا پانے اور یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے کہ تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے ہیں۔ جب انڈین ایکسپریس کی دھماکہ خیز رپورٹ شائع ہوئی اور اس پر ایک طوفان برپا ہو گیا تو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک پریس نوٹ جاری کرکے یہ دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے ہیں اور الیکشن کمشنروں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اب جبکہ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے حکومت ہند، الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ اور ڈائرکٹر جنرل (آئی ٹی) سیما کھنہ کے نام نوٹس جاری کرکے ایک ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے تو کیا اب بھی چیف الیکشن کمشنر یہ کہنے کی پوزیشن میں ہوں گے کہ ان کا کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنے لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں وہ سب الگ الگ جواب داخل کریں گے اور چونکہ یہ جواب حلف نامہ کی شکل میں ہوگا لہٰذا اس میں غلط بیانی کا کوئی امکان نہیں۔ جب اس معاملے پر سماعت آگے بڑھے گی تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عدالت کہے کہ تمام ریکارڈ اور فائلیں بینچ کے سامنے پیش کی جائیں۔ اخبار کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ باقی دونوں کمشنروں نے دس ماہ کے اندر چودہ مرتبہ اختلافی نوٹ لگایا تھا۔ ظاہر ہے یہ اختلافی نوٹ کسی رجسٹر پر درج ہوگا اور ان کا باقاعدہ ریکارڈ بھی ہوگا، لہٰذا جب وہ تمام ثبوت پیش کیے جائیں گے تو معاملہ یکسر واضح ہو جائے گا اور گیانیش کمار کا دعویٰ درست ہے یا اخبار کا یہ بھی صاف ہو جائے گا۔ عرضی گزاروں نے عدالت عظمیٰ سے اپیل کی تھی کہ وہ گیانیش کمار کو معطل کر دے لیکن بینچ نے کہا کہ وہ اخباری رپورٹ کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں سنائے گی۔ یعنی وہ گیانیش کمار کو معطل نہیں کرے گی۔

بینچ نے ایک اہم بات یہ کہی کہ اس نے فارم۔6 میں ترمیم کی منظوری نہیں دی تھی۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے پریس نوٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے فارم۔6 کے ساتھ جس ڈکلریشن فارم کا اضافہ کیا ہے اس کو سپریم کورٹ نے مانا ہے۔ لیکن اب جبکہ عدالت نے اس سے انکار کیا تو کمیشن کی دروغ بیانی سامنے آگئی۔ کپل سبل نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اب جبکہ الیکشن کمیشن نے فارم۔ 6 میں ترمیم کا فیصلہ واپس لے لیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فیصلہ غلط تھا اور اگر اسے سپریم کورٹ سے منظور کرایا گیا تھا تو کورٹ اس غلط فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔ قابل ذکر ہے کہ فارم۔6 میں ترمیم سے نئے ووٹروں کے لیے مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ان کو نہ صرف اپنی شہریت ثابت کرنی پڑ رہی ہے بلکہ دادا دادی اور نانا نانی کے کاغذات بھی پیش کرنے پڑ رہے ہیں۔ادھر ووٹر لسٹ سے جائز ووٹروں کے نام بھی حذف کیے جانے لگے۔ اب تک 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام ڈرافت لسٹ سے خارج کیے جا چکے ہیں۔ یاد رہے کہ 13 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر ہو چکا ہے اور18 ریاستوں میں ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کا عمل جاری ہے۔ بینچ نے جو زبانی تبصرہ کیا اس میں اس نے الیکشن کمشنروں کو تاحیات استثنیٰ دیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ سبکدوشی کے بعد تو صدر اور ججوں کو بھی استثنیٰ حاصل ہے۔ یعنی جب صدر اور ججوں کو بھی حاصل نہیں ہے تو الیکشن کمشنروں کو کیسے استثنیٰ دیا گیا۔ یاد رہے کہ حکومت نے 2023 میں ایک قانون منظور کرکے الیکشن کمشنروں کو تاحیات استثنیٰ دے دیا۔ یعنی ان کے انتظامی فیصلوں کے سلسلے میں کبھی بھی کوئی کیس نہیں چل سکتا۔ واضح رہے کہ مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں ججوں کے ذریعے جو زبانی تبصرے کیے جاتے ہیں ان میں کچھ بہت سخت ہوتے ہیں۔ لیکن وہ تبصرے فیصلے کا حصہ نہیں بنتے۔ حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے بعض ججوں نے حکومت کے خلاف انتہائی سخت تبصرے کیے لیکن وہ فیصلے میں شامل نہیں ہوئے۔ اس لیے اس معاملے میں بھی زبانی تبصروں پر بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بہرحال اس سماعت کی روشنی میں دو بہت اہم باتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ سپریم کورٹ نے فارم۔6 میں ترمیم کی اجازت نہیں دی اور دوسرے اس نے متعدد فریقوں کو نوٹس جاری حقیقت حال جاننا چاہا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت حلف نامے کے ذریعے گیانیش کمار کو بچانے کی کوشش کرے گی لیکن اگر اسے یہ محسوس ہوا کہ انھیں بچانے کے چکر میں وہ خود پھنس رہی ہے تو وہ انھیں بیچ منجدھار میں تنہا چھوڑ دے گی اور خود ساحل کی تماشائی بن جائے گی۔

گیانیش کمار کے من مانے اور یکطرفہ فیصلوں نے کئی تنازعات پیدا کیے ہیں۔ ان میں ایک تنازع بی جے پی سے وابستہ لوگوں کے ذریعے فارم۔7 کا استعمال کرکے مسلمانوں کے ووٹ کٹوانے کا بھی ہے۔ کرناٹک اور تلنگانہ میں مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کے نام کٹوانے کے متعدد معاملے سامنے آئے ہیں۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے تو ریاستی الیکشن دفتر کے سامنے اس کے خلاف دھرنا بھی دیا۔ انھوں نے بڑی تعداد میں فارم۔7 کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کی اپیل کی تھی۔ ایسے لوگوں کا تعلق بی جے پی سے ثابت ہوا ہے۔ انھوں بے بیلگاوی کی مثال پیش کی جہاں بعض بوتھ لیول ایجنٹس (بی ایل اے) نے فارم۔7 واپس لے لیے اور معافی بھی مانگی۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق وجے پورہ میں تقریباً 13 ہزار مسلم ووٹروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد بڑی تعداد میں فارم۔7 داخل کرنے کی کوشش کا مقصد مزید پچاس لاکھ ووٹروں کے نام کٹوانا تھا۔ دیہی ترقیات کے وزیر ایشور کھانڈرے نے بتایا کہ بھالکی حلقے میں ایک ہی روز 3244 ووٹروں کے نام کٹوانے کے لیے فارم۔7 داخل کیے گئے۔ ایک شخص نے تو پیشگی چھپے ہوئے 241 فارم جمع کیے۔ یہی صورت حال تلنگانہ میں بھی دیکھنے کو ملی۔ وہاں کے چیف الیکٹورل آفیسر سی سدرشن ریڈی نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کمشنر، حیدرآباد کے ضلع ایجوکیشن آفیسر، تمام کلکٹروں اور تمام اضلاع کے ایجوکیشن افسروں کو حکم جاری کیا ہے کہ جنھوں نے ایس آئی آر سے غلط طریقے سے جائز ووٹروں کے نام کٹوانے کے لیے فارم۔7 جمع کرائے ہیں ان سب کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بعض بی ایل او نے غلط طریقے سے فارم۔7 جمع کرانے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے ایسے فارم لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے ان پر ان فارموں کو قبول کرنے کا دباو ڈالا جا رہا ہے۔لیکن بہرحال یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کوئی ایسا انفرادی شخص جس کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہ ہو فارم۔7 جمع کراکے لوگوں کے نام کیسے کٹوا سکتا ہے۔ یہ کام تو الیکشن دفتر کے ذمہ داروں کا ہونا چاہیے کہ وہ پتہ کریں کہ کہاں کہاں غلط ووٹر ہیں۔ دریں اثنا بنگلورو میں بی جے پی اور جنتا دل ایس پر مشتمل ایک وفد نے سی ای او سے مل کر مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کے الزام اور دھرنا پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جن لوگوں نے فارم7 جمع کرایا ہے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ گویا بی جے پی اور جنتا دل ایس اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نام کٹوانے کی کوشش ہوئی ہے۔ بلا شبہ اس غلط کام کا کریڈٹ بھی گیانیش کمار کے کھاتے میں جائے گا۔

موبائل: 9818195929

Comments are closed.