ایک باوقار عالم اور باکمال استاذحضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ

 

(ولادت: 2 ربیع الاول 1380 مطابق 5 اگست 1962 وفات: بروز اتوار21 ربیع الآخر 1448 مطابق 4 اکتوبر 2026 )

ازقلم: راشد اسعد فاضل جامعہ ڈابھیل ثم ندوی

(امام و خطیب مسجد عمر فاروق کھڈے کی باڑی ڈونگری ممبئی)

 

صرف اتنا ہی نہیں میت اٹھا نے تک تجھے

اہل دل رویا کریں گے ایک زمانے تک تجھے

 

خدائے حی و قیوم کی عجیب قدرت اور اس کا متعین فیصلہ جس سے ہم کو کوئی گلہ شکوہ ہے نہ اس پر اعتراض کا کوئی حق ; بروز اتوار 4 اکتوبر 2026 کے سورج کو تنہا غروب ہونا گوارا نہ ہوا اور بقضاء الہی ہمارے مہربان استاذ اور مشفق مدرس آسمان علم کے آفتاب اور تدریس کی دنیا کے ماہتاب حضرت مولانا الیاس صاحب رحمة الله علیه کو بھی ساتھ لے گیا سورج تو اپنی ڈیوٹی انجام دیتا رہے گا روزانہ طلوع ہوگا اور غروب ہوگا مگر مرحوم واپس نہیں آئیں گے ہاں مگر! ان کے تذکرے تازہ رہیں گے اور باتیں ان کی یاد رہیں گی

 

 

*وقار و رعب ، سنجیدگی و متانت ، خوش اسلوبی اور اصول پسندی استاذ مرحوم کی انفرادی شان تھی اور فن میں با کمال اور تدریس میں بے مثال ہونا امثال و اقران میں آپ کو نمایاں و ممتاز مقام عطا کرتا تھا* یہی وجہ ہے کہ مرحوم و مغفور مشکل کتابوں کے استاذ تھے ہم نے ان سے بالترتيب اصول الشاشی، دروس التاريخ الاسلامی ،شرح وقایہ، مختصر المعانی،ہدایہ ثالٹ اور مؤطا امام مالک پڑھیں ہیں

چنانچہ مولانا مرحوم کا کوئی شاگرد اس بات کی تائید کیے بغیر نہیں رہ سکے گا کہ مولانا مشکل سے مشکل کتاب کو بآسانی حل فرمادیتے اور پیش آمدہ عبارتوں اور مسئلوں کی تقریر اس شرح و بسط کے ساتھ فرماتے کہ حل کتاب کے ساتھ فن کے مالہ و ما علیہ سے بھی طالب علم کو اچھی خاصی واقفیت ہو جاتی ، قابل ذکر بات یہ ہے کہ فقہ اور اصول فقہ جیسے خشک موضوع کی کتابوں کا درس بھی ادب کی چاشنی اور زبان کی مٹھاس سے بھرپور ہوتا اور سننے والے گوش بر آواز سر دھنتے اور مولانا مرحوم کی زیرلب مسکراہٹ باصرہ نواز ہوکر روح کی آسودگی کا سامان مہیا کرتی بسا اوقات آنکھوں آنکھوں میں، اشاروں کنایوں میں دفع دخل مقدر ہو جاتا اور ناظر و منظور ہنستے مسکراتے رہتے اور اس طرح درس کا وقت مکمل بھی ہوجاتا

*اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں*

*کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں*

 

نیز مولانا مرحوم کی ایک انتہائی اہم خصوصیت حضور نبئ کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی ذات والا صفات اور آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ کرم رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ محبت و وارفتگی کا تعلق تھا جس کا مشاہدہ ہم نے دروس التاريخ الاسلامی کے درس میں کیا جبکہ استاذ مکرم واقعہ حرہ جنگ صفین اور جنگ جمل کی تفصیلات بیان فرما رہے تھے دریں اثنا اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر آیا اور آپ رضی اللہ عنہا کو تکلیف پہنچنے کا ذکر آیا تو حضرت مرحوم پر اس قدر صدمہ و غم کی کیفیت طاری ہوئی کی ضبط کا دامن ہاتھوں سے چھوٹ گیا اور آنکھیں ابل پڑیں بالآخر سبق موقوف کرنا پڑا

مولانا مرحوم سے حدیث شریف کا درس لینے والے خوش نصیب احباب تو بار بار ایسے روح و قلب کو مضطرب و بے چین کرنے والے مناظر کا مشاہدہ کرتے ہوں گے فطوبى لهم .

واقعی مرحوم کے چلے جانے سے جامعہ ڈابھیل کی علمی فضا میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے اللہ تعالٰی اپنے فضل سے اس کو ملا فرمائے آمین

وما ذالك على الله بعزيز

Comments are closed.