جذبات کی سیاست یا ملت کی تعمیر؟

 

از قلم: محمد شاہد ناصری حنفی

 

ایک صاحبِ دانش نے بڑی پتے کی بات کہی ہے کہ تقریریں عموماً جذباتی اور کم تعلیم یافتہ لوگوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، جب کہ باشعور اور صاحبِ علم انسان کسی شخص کی خطابت سے زیادہ اس کے عمل، کردار اور نتائج کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس بات میں غور و فکر کا بڑا سامان ہے۔ کسی مقرر کی زبان میں جوش، لہجے میں کاٹ اور الفاظ میں تاثیر ہوسکتی ہے، لیکن محض ان خوبیوں کی بنیاد پر اس کی سیاسی بصیرت اور قومی خدمات کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی باتوں سے قوم کو کیا حاصل ہوا، اس کے کردار نے کیا ثابت کیا اور اس کی جدوجہد کے نتیجے میں اجتماعی زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔ قوموں کی تقدیر محض تقریروں سے نہیں بدلتی؛ اس کے لیے علم، کردار، حکمت، عمل اور نتیجہ خیز جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

اسدالدین اویسی صاحب کے طرزِ سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے بھی اسی معیار کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اعظم گڑھ کے ایک جلسے میں آنجہانی گاندھی جی اور مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کے تعلق سے ان کا بیان، نیز مسلمانوں کو اپنی قیادت خود پیدا کرنے کی تلقین، غور و فکر کی متقاضی ہے۔ مسلمانوں کا اپنی قیادت پیدا کرنا یقیناً ان کا حق ہے، لیکن اس مقصد کے لیے تاریخ کی شخصیات اور واقعات کو جس انداز سے پیش کیا جائے، اس میں انصاف اور اعتدال کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ گاندھی جی اور مولانا آزاد رحمۃ اللہ علیہ کے تعلقات، تحریکِ آزادی میں ان کے کردار اور ان کے سیاسی فیصلوں کا جائزہ ان کی پوری تاریخی جدوجہد کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ کسی تاریخی شخصیت کے کردار کو چند واقعات تک محدود کرکے موجودہ سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرنا تاریخ کی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے۔

 

مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ محض کسی سیاسی جماعت کے مسلمان رہنما نہیں تھے، بلکہ تحریکِ آزادی کے ممتاز قائد، صاحبِ علم مفکر اور متحدہ ہندوستان کے تصور کے علم بردار تھے۔ ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور ان کے فیصلوں پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے، لیکن ان کی پوری جدوجہد کو سامنے رکھے بغیر ان کے کردار کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا علمی دیانت کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ اسدالدین اویسی صاحب اگر مسلمانوں کو اپنی قیادت پیدا کرنے کی دعوت دیتے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس قیادت کا مقصد کیا ہوگا، اس کا لائحۂ عمل کیا ہوگا اور وہ ملت کو کن عملی منزلوں تک پہنچائے گی؟ محض جذباتی اپیل سے قیادت کا حق ثابت نہیں ہوتا؛ اس کے لیے عملی کارکردگی بھی درکار ہوتی ہے۔

 

اسدالدین اویسی صاحب کا خطیبانہ انداز پُراثر ہے۔ ان کی تقریریں نوجوانوں کے جذبات کو چھوتی ہیں اور ان کے اندر اپنی شناخت کا احساس بیدار کرتی ہیں، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اس جوش کا حاصل کیا ہے؟ کیا اس سے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور ہورہی ہے؟ کیا نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں؟ کیا ان کی معاشی حالت بہتر ہورہی ہے؟ کیا ان کے قانونی اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی ایسی مؤثر جدوجہد سامنے آرہی ہے جس کے نتائج واضح طور پر دیکھے جاسکیں؟ اگر تقریروں سے جذبات تو بھڑک اٹھیں، لیکن ملت کے بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں تو قیادت کی کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے۔ نوجوانوں کے خون میں جوش پیدا کرنا آسان ہے، لیکن اس جوش کو علم، شعور، تعلیم، معاشی استحکام اور تعمیری جدوجہد کی قوت میں تبدیل کرنا ہی اصل امتحان ہے۔

 

ہندوستان کی سرزمین، اس کی جغرافیائی وسعت، تہذیبی تاریخ اور معاشرتی مزاج کو سامنے رکھے بغیر یہاں کی سیاست کو صحیح طور پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ وہ وطن ہے جہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، جین، بدھ اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے آباد ہیں۔ اختلافِ عقیدہ کے باوجود باہمی میل جول، ایک دوسرے کے مذہبی وجود کا احترام اور مشترکہ زندگی ہندوستانی معاشرے کی نمایاں خصوصیات رہی ہیں۔ ہمارے آئین نے بھی ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور مذہبی امور انجام دینے کی آزادی دی ہے، اگرچہ یہ آزادی قانون اور امنِ عامہ کی مقررہ حدود کے تابع ہے۔

 

جب ہمارا دستور تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی شعائر ادا کرنے اور عبادت گاہیں قائم کرنے کا حق دیتا ہے تو پھر کسی مسجد پر مندر کا دعویٰ ہو یا کسی مندر پر مسجد کا، ایسے معاملات کو جذبات، سیاسی نعروں اور مذہبی تصادم کے بجائے مستند تاریخی شواہد اور قانون کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے۔ مذہبی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی دوسرے کی زمین پر قبضہ کرلیا جائے، کسی محفوظ تاریخی یادگار کو نقصان پہنچایا جائے یا غیر مصدقہ تاریخی دعووں کی بنیاد پر کسی مقام کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔

 

چارمینار کے قریب بھاگیہ لکشمی مندر کا معاملہ بھی اسی تناظر میں غور طلب ہے۔ اس مقام کی قدامت کے بارے میں مختلف دعوے موجود ہیں اور اس کی تاریخی حیثیت پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ اسدالدین اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی رحمۃ اللہ علیہ اسی چارمینار اسمبلی حلقے سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اسی تاریخی چارمینار کی بالائی منزل پر موجود مسجد طویل عرصے سے بند ہے۔ اگر اس کی بندش تاریخی ورثے کے تحفظ اور زائرین کی آمدورفت کے پیشِ نظر ہے تو مندر میں زائرین کی آمدورفت اور لوبان، اگر بتی وغیرہ کے دھویں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ بھی اسی اصول کے تحت لیا جانا چاہیے۔ سلطان صلاح الدین اویسی رحمۃ اللہ علیہ کے طویل سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود اس معاملے میں قانونی چارہ جوئی اور باہمی مکالمے کے ذریعے کوئی مؤثر پیش رفت کیوں نہ ہوسکی؟ ہمارا مطالبہ کسی مذہب یا عبادت گاہ کے خلاف نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تاریخی ورثے کے تحفظ، قانونی ضابطوں اور مذہبی حقوق کے معاملے میں یکساں اصول اپنائے جائیں اور کسی بھی فریق کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔

 

چارمینار کے قریب تاریخی مکہ مسجد بھی واقع ہے، جہاں آصف جاہی خاندان کے بعض حکمرانوں کے مقابر موجود ہیں۔ یہ علاقہ تاریخی، تہذیبی اور مذہبی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے اور یہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی بھی آباد ہے۔ ایسے میں بھاگیہ لکشمی مندر کی تاریخی حیثیت، وہاں مذہبی سرگرمیوں کی نوعیت اور تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیا اس معاملے کا جائزہ تاریخی شواہد، قانونی ضابطوں اور تمام فریقوں کے مذہبی حقوق کو یکساں اہمیت دیتے ہوئے نہیں لیا جانا چاہیے؟ یہ یقیناً ایک قابلِ توجہ سوال ہے۔

 

حیدرآباد کی تاریخ میں مسلمانوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی اور دردناک واقعات کے کئی ادوار دیکھے ہیں۔ تاریخی مکہ مسجد میں ۱۸ مئی ۲۰۰۷ء کو ہونے والا بم دھماکا بھی اسی شہر کی تاریخ کا ایک المناک واقعہ تھا، جس میں نو افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ ان حالات کے پس منظر میں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ طویل سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ، تعلیم، روزگار، معاشی استحکام اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے کیا ٹھوس نتائج حاصل کیے؟ سیاسی قیادت کو صرف اپنی مقبولیت اور انتخابی کامیابی سے نہیں، بلکہ اپنی قوم کے مسائل کے حل اور اس کی اجتماعی حالت میں بہتری سے بھی جانچا جانا چاہیے۔

 

اسدالدین اویسی کی سیاست ایک طویل عرصے تک بنیادی طور پر حیدرآباد تک محدود رہی، لیکن ۲۰۱۴ء میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد ان کی قومی سطح پر شناخت اور سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں وسعت پیدا ہوئی۔ اس تبدیلی کے پس منظر میں کون سے عوامل کارفرما رہے، اس کی حقیقت کا پورا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے؛ تاہم حالات و قرائن کی روشنی میں یہ سوال ضرور اٹھایا جاسکتا ہے کہ ان کی اس قومی توسیع سے ملتِ اسلامیہ کو بحیثیتِ مجموعی کیا فائدہ پہنچا؟ کیا اس سے مسلمانوں کی اجتماعی قوت میں اضافہ ہوا، ان کے بنیادی مسائل کے حل میں کوئی نمایاں پیش رفت ہوئی اور ان کے مستقبل کے لیے کوئی مؤثر راستہ کھلا؟ یا بعض سیاسی حالات میں ووٹوں کی تقسیم اور فرقہ وارانہ صف بندی کے خدشات زیادہ نمایاں ہوئے؟ ان سوالات کا جواب نعروں سے نہیں، بلکہ عملی نتائج کے غیر جانب دارانہ جائزے سے ملنا چاہیے۔

 

جب حیدرآباد میں طویل سیاسی اثر و رسوخ کے باوجود مسلمانوں کے تمام بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکے، اور اویسی صاحب اپنے والد اور بھائی کا رعب و دبدبہ قائم رکھنے کے باوجود وہاں مسلمانوں کے مسائل حل نہیں کرسکے، تو یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پورے ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کی قیادت کے ان کے دعوے کو کس بنیاد پر پرکھا جائے؟ مشہور کہاوت ہے: ’’اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔‘‘ آخر کیا پورے ہندوستان میں صرف اویسی صاحب ہی عقل و بصیرت کے حامل ہیں؟ کیا ملت کے اندر دوسرے اہلِ علم، اہلِ فکر، دانش ور، سیاسی رہنما اور تجربہ کار افراد موجود نہیں، جن کی آرا اور خدمات سے فائدہ اٹھایا جاسکے؟ کیا مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل کسی ایک فرد کی سوچ، ایک جماعت کے دائرے اور ایک مخصوص طرزِ خطابت میں منحصر ہے؟ اپنی قیادت پیدا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے رہنماؤں کو بے وقعت کردیا جائے یا اپنی رائے کو پوری ملت کے لیے واحد قابلِ قبول راستہ قرار دے دیا جائے۔ ملت کی تعمیر اجتماعی مشاورت، باہمی تعاون اور وسیع تر بصیرت سے ہوتی ہے۔

 

ہمیں اپنے اکابر کی تاریخ سے بھی سبق لینا چاہیے۔ تقسیمِ ہند کے پُرآشوب دور میں، جب جذبات اپنے عروج پر تھے اور سیاسی نعروں کی گونج میں دوراندیشی کی آواز دب رہی تھی، اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ، مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی رحمۃ اللہ علیہ جیسے اکابر نے ملت کو سنبھالنے اور اپنے فہم و بصیرت کے مطابق راستہ دکھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے وقتی جذبات کے بجائے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھا۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کون زیادہ پُرجوش تقریر کرسکتا ہے، بلکہ یہ تھا کہ حالات کے طوفان میں ملت کو کس طرح سنبھالا جائے اور اس کے لیے کون سا راستہ زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ تاریخ کا یہ سبق آج بھی اتنا ہی اہم ہے کہ قوموں کی تقدیر محض خطابت سے نہیں، بلکہ تدبر، علم، کردار اور مستقل مزاجی سے بدلتی ہے۔

 

ملت کے نوجوانوں سے ہماری مخلصانہ اپیل ہے کہ وہ سیاسی رہنماؤں کی تقریروں سے متاثر ضرور ہوں، لیکن اپنی عقل و بصیرت کو معطل نہ کریں۔ ہر بیان کے بعد یہ سوال کریں کہ اس سے ملت کے تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی مستقبل کو کیا فائدہ پہنچا؟ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، لیکن اپنے جذبات کو کسی بھی سیاسی مصلحت کی نذر نہ ہونے دیں۔ اسدالدین اویسی صاحب سے بھی یہی سوال ہے کہ ان کی قومی سیاست کا عملی حاصل کیا ہے اور وہ ملت کو جذباتی وابستگی سے آگے بڑھا کر کس تعمیری منزل تک لے جانا چاہتے ہیں؟

 

ملت کو ایسی قیادت چاہیے جو صرف نوجوانوں کا خون گرم نہ کرے، ان کے ذہن بھی روشن کرے؛ صرف مخالفین کو للکارے نہیں، بلکہ اپنی قوم کی تعمیر کا راستہ بھی دکھائے؛ صرف انتخابی کامیابی حاصل نہ کرے، بلکہ مسلمانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔ تقریر کا اثر چند لمحوں میں ختم ہوسکتا ہے، لیکن عمل اور کردار کے نتائج نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ اس لیے قیادت کا اصل معیار یہ نہیں کہ کتنے لوگ اس کی تقریر پر تالیاں بجاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی جدوجہد کے بعد قوم کتنی مضبوط، کتنی باشعور اور اپنے مستقبل کے لیے کتنی زیادہ تیار ہوئی ہے۔

Comments are closed.