دنیا میں کروناCovid19کے پھلاو کی وجوہات اور انکشافات—اس پر ضرور توجہ فرمائیں

مفتی احمدنادرالقاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا،نئی دہلی
سوشل میڈیا پر اس تعلق سے بہت خبریں اور معلومات نشر ہوئیں اورشئیر کی گئیں ان میں ایسی بھی آڈیو آئی جس نے دنیا میں فوڈ انڈسٹریز،میڈسین کمپنیوں اور دنیا میں سیال مشروبات جیسے مختلف پھلوں کے ڈبہ بند عصیرات اورجوس وکولڈرنکس وغیرہ جو بازاروں میں سستے داموں میں بکتے ہیں ان میں سبتھیٹکس اور بعض پر نیچرل بھی لکھے ہوتے ہیں، سے متعلق بھی ہیں ۔جن کو دنیا میں بڑبھتی ہوئی آبادی کو مالتھیسی نظریہ کے مطابق کم کرنے اور ماحولیات کے توازن کے نام پر لونگ ڈرم منصوبہ کے تحت تیار کیاجاتا اور انسانی جسم میں کیمیکل کے ذریعہ بارآور کئے جانے یا ازخودجسم میں پیدا ہونے والے وائرس بھی ہیں۔ جوفوری طور پر تو انسانی جان کے لئے خطرہ نہیں بنتے۔ تاہم انسانی جسم کے اندر جگہ ضرور بنالیتے ہیں اور رفتہ رفتہ پروان چڑھتے رہتے ہیں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان بازاروں میں فروخت ہونے والے سیال مشروبات کو استعمال کرنے والی اس وقت دنیا میں موجود یہ تیسری جنریشن ہے ۔اسی آڈیو سے پتہ چلتاہے کہ اگر دنیا کی پوری آبادی کا میڈیکل ٹسٹ کروا جائے تو میرے اندازے کے مطابق تیس فیصد ایسے لوگ ملیں گے جن کے جسم کے اندر پہلے سے ہی Covid-19 وائرس موجود ہے خواہ انکا اختلاط کسی وائرس زدہ شخص سے ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔
اس تناظر میں اگر دیکھاجائے تو اس وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ منہ سے نکلنے والے سانس کو تو قرار دیا جاسکتاہے مگر ہاتھ ملانے یا ایک دوسرے کے جسم سے مس کرجانے کو قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ان لوگوں کے مطابق جو اس کو متعدی اور انفیشنبل مانتے ہیں ۔اسی سے یہ بھی نکل کے آیا کے وہ شہری زندگی جینے والے جو ان چیزوں سے دورہیں اور فطری غذا پھل فروٹ استعمال کرتے رہے ہیں ان میں کووڈ 19 کاوائرس نہیں ہوگا اسی طرح دہی اور گاوں میں رہنے والے لوگوں میں بھی یہ وائرس نہیں ہوگا ۔نیز دنیا کے وہ ممالک جہاں زیادہ بند ڈبہ سیال مشروبات کثرت سے استعمال کی جاتی ہے بہ شراب اور لکویڈ وہاں زیادہ متاثر لوگ ہوں گے اور جہاں کم استعمال ہوتے ہیں کم ہوں گے یہی تناسب ہوگا ۔اسی طرح یہ بھی سامنے آتاہے کہ یہ وبائی مضر نہیں بلکہ انسانی کارستانی اور فطرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ ہے۔
مذکورہ بالا پوری تمہید کے بعد اب ہم اس موضوع پر آنا چاہتے ہیں کہ اس وقت پوری دنیاجس چیلنج اور موت کے سنگین خطرات کا سامنا کر رہی ہے ۔دنیا کے تمام انصاف پسند رہنماووں کےلئے فوری طور پر یہ ضروری ہوگیا ہے کہ فورا سر جوڑ کر بیٹھے اور دنیا کے طبی اور تشخیصی ماہرین کی عالمی ٹیم تشکیل دے جو غیر جانبداری کے ساتھ پہلے اس پر غور کرے کے یہ وائرس کیسے وجود میں آیااور کیسے اور کیوں اور کتنے عرصہ میں انسان اور جاندار کے لئے اورجان لیوا ۔نیزمہلک مرحلہ تک پہونچا ۔صرف وبائی مرض قرار دینا اور جانور سے انسان میں منتقل ہونے کے مفروضہ تک اپنی تفتیش کو محدود نہ رکھے ۔کیوں یہ چیز مرحلہ وار اور سلوپوائزن کی طرح پروان چڑھا ہے ۔اور جوان ہوکر اب انسانیت کے لئے موت کا سامان بناہے اور وہ تمام ذرائع واسباب جو اس کا سبب بنے ہیں ان کو دنیا سامنے اجاگر کرتے ہوئے عالمی پیمانے کا تحفظ انسانیت کا جدید ایجنڈا کریٹ کیاجائے۔پوری ڈری اور سہمی ہوئی دنیا امیدوں کے ساتھ انسانیت کے ہمدرد ماہرین اور ارباب اقتدار کی طرف دیکھ رہی ہے۔ان گزارشات کے بعد پھر بھی ہم رب کریم سے دعاگو ہیں کہ اللہ انسانیت کو اس مہلک اور مشکل صورت حال سے جلد نجات عطا کرے۔ اللہ کی ذات پر پھروسہ ہے کہ وہ ضرور انسانیت کو فلاح کی راہ دکھائےگا ۔کیوںکہ وہی رب ہے جو ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتاہے ۔باقی آئندہ ۔لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔ وماذلک علی اللہ بعزیز۔

Comments are closed.