چر اغ تلے اندھیرا ۔۔۔؟!
ڈاکٹر عابد الرحمن (چاندور بسوہ)
2؍اپریل شام خبر آئی کہ وزیر اعظم نریندر مودی جی ۳،اپریل کو صبح نو بجے دیش کی جنتا کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کریں گے۔ ہمیں لگا کہ مودی جی کورونا سے بچاؤ کے لئے کئے گئے اور کئے جانے والے اقدامات کے متعلق کچھ کہیں گے ۔PM Care فنڈ میں دی جانے والی ہزاروں کروڑ کی رقم کے استعمال کے بارے میں کچھ بتائیں گے ، ڈاکٹرس کی حفاظت کے لئے مہیا کئے گئے سامان کے بارے میں بتائیں گے ،بیمار اور فوت ہوجانے والوں کے متعلق کچھ کہیں گے ، کورونا کے علاج اور آئسولیشن کے لئے ضروری اشیاء مہیا کر نے کی من صوبہ بندی کے متعلق کچھ کہیں گے ، غریبوں کی ضروریات کی تکمیل کے بارے میں کوئی پلان بتائیں گے ، ان لوگوں کے متعلق کچھ کہیں گے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جن کے روزگار چلے گئے ، مجبور ہوکر وہ شہروں سے اپنے گاؤں کے لئے جو بنا اس سے نکل گئے ٹینکروں کنٹینروں ٹرکوں میں یا پھر پیدل۔ان لوگوں کے متعلق کہیں گے جو پیدل مسافت کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے یا جنہیں گاڑی نے کچل دیا ، یا ان لوگوں کے متعلق کچھ کہیں گے جو اپنے اپنے گاؤں میں ہی ہیں لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اتنے قلاش ہوگئے کہ ان کے کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ، ان لوگوں کے متعلق کچھ کہیں گے جو کورونا پھیلاؤ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں ملک کی یکجہتی کو سبوتاژ کر رہے ہیں جنہوں نے کورونا پھیلاؤ کی پوری ذمہ داری دہلی مرکز نظام الدین میں ہوئے پروگرام ،تبلیغی جماعت اور مسلمانوں پر ڈال دی ہے ،ان میڈیا چینلوں کے متعلق بھی کچھ کہیں کہ جو اپنی ہر خبر کو مرکز اور تبلیغی جماعت کا تڑکا لگا رہے ہیں ، سوشل میڈیا کے ان ’دھرم یودھاؤں‘ کو بھی کچھ نصیحت کریں گے جو اسے مسلمانوں کا ’کورونا جہاد‘ بتانے والے پیغامات پھیلا رہے ہیں ۔ لیکن جب ہم نے مودی جی کے ٹویٹر ہینڈل پر ان کے ویڈیو پیغام کے ٹویٹ اور اس پر لوگوں کا ردعمل پڑھا تو ہم سمجھ گئے کہ اس بار بھی تھالی ہی بجوائی جائے گی ، یا نوٹ بندی اور لاک ڈاؤن جیسا بغیر کسی منصوبہ بندی کا کوئی فیصلہ جنتا پر تھوپ دیا جائے گا ۔ کیونکہ مودی جی کے مذکورہ ٹویٹ پر آئے زیادہ ترکمینٹس نفرت انگیز، مسلم مخالف ،کورونا جہاد ، مسلمانوں پر دیش دروہ کا الزام لگانے والے اور سیکولرازم کا مذاق بنانے والے ہی ہیں اور مودی جی کی طرف سے یا ان کے ہینڈل کی طرف سے ان جوابات کے خلاف کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا نہ ایسا کرنے والوں کو روکا گیا نہ ہی خود کو ان سے الگ کیا گیا ۔ مطلب؟ مطلب صاف ہے کہ مودی جی خود بھی ان سے متفق ہیںجو مسلمانوں کو مورد الزام تھہرا رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ماحول بنارہے ہیں ۔ مودی جی کو چاہئے تھا کہ اپنے ویڈیو پیغام میں ان تمام مسلم لوگوں کو یہ بتاتے کہ دلی مرکز نظام الدین میں ہوا پروگرام اور وہاں سے گئے یا وہاں پھنسے لوگ ہی ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کی ایک ماتروجہ نہیں ہیں ، یہ بھی بتاتے کہ دہلی انتظامیہ اور پولس بھی مرکز معاملے میں برابر کی ذمہ دار ہے کہ انہوں نے مرکز کی درخواست کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا ۔ میڈیا کو اور دیش کی جنتا کو بتاتے کہ مرکز کے متعلق بہت کچھ کہا جا چکا اب بند کیا جائے مرکز کے ذمہ داروں پر پولس کارروائی شروع ہو چکی ہے تحقیقات میں جلد ہی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔یہ کہہ دیتے کہ اگر مرکز کے ذمہ داران پر جرم ثابت ہو گیا تو ان پر کٹھور کارروائی کی جائے گی ۔ یہ بھی نصیحت کرتے کہ مرکز کو بنیاد بناکر سب مسلمانوں کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے ۔ ایسی خبروں کا بھی نوٹس لیتے جن کے ذریعہ معلوم ہوا کہ مرکز سے واپس آئے ہوئے لوگوں کی چھان بین اور چیک اپ کے نام پر ان لوگوں کو بھی مع اہل و عیال ہراساں کیا جارہا ہے جن کا مرکز سے کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ، ہم تو مودی جی کا ویڈیو بروقت نہیں سن پائے لیکن ایک ہندو مریض نے ہمیں خبر دی کہ دیکھئے موجی اتوار کو دیے جلانے کا کہہ کر پورے دیش سے رام نومی منوارہے ہیں ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دیے جلانے سے نہ کورونا ختم ہوگا اور نہ ہی اس کا پھیلاؤ رکے گا لیکن ہاں تھالی بجانے کے بعددیے جلاکرلوگ کورونا مخالف لڑائی کو مذہب کا ایک اور رنگ دینے میں اتنے مگن ہو جائیں گے کہ کورونا کے خلاف مودی سرکار کے اقدامات پر سوال کر نے کی کسی کو نہیں سوجھے گی اور جو سر پھرا سوال کرے گا وہ مذہب مخالف اور دیش دروہی قرار دیا جائے گا ۔یوں تو مودی جی نے دیے جلانے کے اس فیسٹیول کو دیش کے ۱۳۰ کروڑ لوگوں کی اجتماعیت اور اتحاد کا سنکلپ قرار دیا لیکن کون بے وقوف نہیں سمجھ سکتا کہ اس سے ہندو مسلم کی تقسیم الٹ مزید مضبوط ہو جائے گی ،اور ہندو مسلم کرنے والے بھی بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دراصل انہیں مودی جی کی حمایت اور آشیرواد ہے ۔اور ویسے بھی مودی جی نے دیے جلانے کی کوئی سائنسی وجہ نہیں بتائی بلکہ خود ہی پر’کاش کی مہا شکتی‘ اور اخیر میں رامائن کے شلوک پڑھ کر بین السطور پیغام دیا ہے کہ یہ دراصل ایک ہندو طریقہ یا مذہبی رسم ہے ، جس کی ہندو مذہب میں کوئی خاص اہمیت بھی ہے ۔سو ہندو دھرم سے متعلق کسی رسم کو وہ لوگ کیوں کریں گے جو ہندو نہیں ہیں ؟ گو کہ اس کے لئے کسی کو مجبور کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن وہ جو دیے نہیں جلائیں گے خود بخود دیے جلانے والوں سے الگ ہوجائیں گے نظر آئیں ،الگ سمجھیں گے اور پھر میڈیا اور سوشل میڈیا کے زور سے الگ تھلگ کر دئے جائیں گے ۔ یعنی ہندو مسلم پولرائزیشن کی وہ سیاست مودی جی جس کے شہسوار ہیں وہ کورونا کی مہاماری کے نام بھی پوری شدو مد اور کامیابی کے ساتھ اپنی چال چل جائے گی اور ملک کا سیکولر تانا بانا اس کی پر زور آندھی میں تنکوں کی طرح بکھر جائے گا ۔ یعنی اتنے سارے چراغ جلنے کے بعد بھی چراغ تلے جو گھپ اندھیرا ہے نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوگا بلکہ مزید بڑھ جائے گا ۔
Comments are closed.