کوروناقہر: تنبیہ ِربّانی کامظہراورانسانی خیرخواہی کا رہبر۔اسلامی نقطہ نظرسے
ڈاکٹر آصف لئیق ندوی(ارریہ)
گیسٹ لیکچرر،مانو۔حیدرآباد۔موبائل:8801589585
آج انسانیت پھرا سی طرح سسکتی اور بلکتی نظر آرہی ہے!! انہیں اسوقت لذیذ کھانے، بہترین لباس اور شاندار عمارت کی حاجتوں سے زیادہ قلبی اور روحانی سکون کی ضرورت ہے!! انکو دو نوالہ کھانا جوکہ انکی رمقِ حیات کو باقی رکھ سکے اور ایسا صبر و سکون جو اسے دن میں چین اور رات میں آرام پہنچا سکے اور ایسی چھاؤں جس کے سائے تلے وہ بلا خوف وخطر اپنی محنت و مشقت سے کچھ روزی وروٹی کما سکے جو اسکے لیے اور اس کے خاندان والوں کے لئے کافی ہو جائے، کتنے ایسے تلخ واقعات اور دلخراش مناظر ہیں جو ناقابل بیان ہیں اور یہاں ابھی اسکے ذکر کا موقع نہیں! خلاصہ یہ کہ آج ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل لائف منقطع کردیا ہے اور اسکی وجہ سے اپنے لئے ساری دکھ تکلیف برداشت کر رہا ہے،قدرت کی طرف سے انسانی زندگی کا نظام ہی ایسا ہے کہ جس سے ایک انسان دوسرے انسان کی زندگی سے جڑا رہ سکے اور اسکی مددکرتا رہے،کیونکہ پوری مخلوق اللہ کے ایک کنبے کا نام ہے، جس طرح آج ہم اپنے مضر اثرات سے دوسروں کو محفوظ رکھنے کی احتیاطی تدابیر اختیار کررہے ہیں، کل ہمیں اسی طرح دوسرے انسان کو اپنے مفید اثرات سے مستفیض کرنے کا سبق حاصل کرلینا چاہیے اور آپسی اختلافات کو نفرت و عداوت اور خونی نزاع کا سبب نہ بنانا چاہیے! غیروں کے ظالمانہ رویے، بہیمانہ سلوک اور ناشائستہ برتاؤ نے آج ہمیں قہرِ خداوندی کا وہ بوجھ اٹھانے پر مجبور کردیا ہے،جسکی وجہ سے نیک و بدسب اپنے گھروں میں محبوس و مقید ہو کر رہ گئے ہیں، اس طرح غیروں کے جرائم ومظالم اور خشکی و تری میں بدکار لوگوں کے گناہوں اور کرتوتوں نے انسانیت کو بھی شرمسار کر کے رکھ دیا ہے، اور رب کائنات کو ناراض بنادیا ہے، گناہوں پرانسانیت کی خاموشی اورمظالم و جرائم پر روک ٹوک کا سلسلہ بند کر دینا ہی پوری انسانیت کا اصلی قصور اور بھاری جرم ہے۔فرمان خداوندی ہے:ترجمہ:”ڈرو اس فتنے سے جو اترے گا تو کسی برے یا بھلے کی تمیز نہیں کرے گا“بلکہ سب کو اپنی لپیٹ اور گرفت میں لے لے گا، جیسا کہ آج ایک بے قصور انسان بھی قوت وطاقت رکھتے ہوئے کمانے کے لئے گھر سے نکل نہیں سکتا!! ظالموں کی ظلم و زیادتی اور قتل و غارت گری کی سزا اور غفلت سے بیداری کی وہ تنبہ ربانی ہے، جو ہم سبھوں کوبڑی سزا و عقاب سے متنبہ کررہی ہے اور انسانیت کو مستقبل میں صحیح زندگی بسر کرنی کی بھر پورتلقین کر رہی ہے، کیونکہ ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز نہ اٹھانااور مظلوم و کمزور کو یوں ہی بے سہارا چھوڑ دینااورہندو مسلم خونی نزاع کے خاتمہ کی فکر نہ کرنا ہر ذی شعور انسان کا جرم ہے۔جس کی سزا ہم اور آپ آج بھگت رہے ہیں۔ارباب حل و اقتدار،فرقہ پرست تنظیموں اور آر ایس ایس جیسی لابیوں کا قصور بتا کر اپنا دامن جھاڑ لیناہمارا جرم نہیں تو اور کیا ہے۔
اس لئے ظلم خواہ سرکار کرے یا شر پسند عناصر وتنظیم اسکا روکنا ہم سبھوں پر فرض عین ہے،اسی طرح مصیبتوں میں سب کے کام آنا، ظالموں اور مجرموں سے نفرت کرنا، ان کے ظالمانہ اور بہیمانہ سلوک کے خلاف آواز حق بلند کرنا، بے کسوں کی مدد کرنا، مظلوموں کی فریاد سننا، کمزوروں کی قوت بازو بننا اور اندھوں کی بصارت بن جانا،حق اور حقانیت کی راہ دکھانا یہی انسانیت کا پیغام ہے، اسکے مطابق زندگی گزارنا اور مل جل کر رہنا سہنا ہر مسلم اور غیر مسلم پر فرض ہے، اس کی خلاف ورزی کرنا عذاب الہی اور قہر خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، ہمیں پوری زندگی نیز قہرخدا سے پہلے بھی اور قہر خداکے بعد بھی یہی اصول اپنانا اور انکے مطابق خدمات انجام دیتے رہنابہت ضروریہے، یہی ہماری اور آپکی انسانیت اور ضمیر کی آوازبھی ہے، علاوہ ازیں دین اسلام اور رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تلقین کیمطابق ہرمسلمان کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے۔ ہم مسلمانوں کو بھائی چارے، محبت و اخوت اور انسانی خدمات کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہنا چاہیے۔ کیونکہ ظالم و جابر افراد و اشخاص سے انسانیت کی کسی طرح کی خیرخواہی اور بھلائی کی امید رکھنا ہماری بڑی خام خیالی ہوگی!!
دنیا کے قائدین اور حکمراں اپنی تمام تر ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقیات کے باوجود اخلاقی و روحانی اور انسانی و سماجی میدان میں بہت پیچھے ہوکر رہ گئے ہیں اور خستہ حال واوصاف ثابت ہو گئے ہیں، اسی طرح وہ انسانوں کی صحیح اخلاقی رہنمائی کرنے میں بھی نکما اور ناکارہ ثابت ہوئے ہیں، اسکی کئی وجہ ہے: ایک تو یہ کہ ایک طرف عالیشان تخت و تاج اور دولت و ثروت کے انبار نے جہاں انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے، تو دوسری طرف نئے نئے ایجادات و انکشافات نے انہیں بیجا غرور و تکبر میں ملوث کر دیا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا کی دولت ان کے قدموں تلے ہے اور بڑے بڑے تاج و تخت ان کی ٹھوکروں میں ہیں اور سب ان کے آگے سب سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں، بعض تو انکے آگے رکوع و سجود کی حالت میں ہیں وہ اپنے دنیوی آقا اور ظالم فرمانروا کے اشاروں کے غلام ہیں، آج کہاں گئی ان کی سرداری؟اور کیا ہوا انکے غرور کو!! کہ وہ سب کے سب اپنے بادشاہ حقیقی اور پروردگار ِعالم کے آگے گھٹنے ٹیکے اور ہاتھ باندھے ہوئے کھڑے ہیں!!! آج جب کہ معمولی کورونا وائرس نے انکی نیندحرام کردی ہے اوربے شمار جانی و مالی نقصان سے انکی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، سب حکمراں ادنی مخلوق ِخدا یعنی”کوروناوائرس“ کے سامنے بے بس اور لاچار دکھائی دے رہے ہیں اور اپنی رعایاا ور عوام کو اپنے اپنے گھروں میں مقید زندگی گزارنے پر مجبور کردئے ہیں، دولت و ثروت کی ریل پیل اور انکشافات وایجادات کی بھرمار کے باوجود اس وبااور وائرس کی صحیح دوا بنانے پر بھی بلند بانگ دعوی کرنے والے لوگ اسکی قدرت وطاقت نہیں رکھتے! اس سے بڑھ کر ان کی بے بسی اور کم مائیگی کی دلیل اور کیاہو سکتی ہے! قرآن نے ایسے لوگوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ ”ضعف الطالب و المطلوب” ”دنیاوی آقا بھی کمزور اور انکے مریدین بھی کمزور”، بادشاہی صرف اس پاک پردگارعالم کی قائم و دائم رہنے والی ہے، جس کے سلسلے دنیا کے قائدین اور حکمراں خود بھی دھوکے میں ہیں اور اپنی رعایا کوبھی بڑے دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں، اگر اللہ انکے ہر ظلم وستم کے سبب انہیں پکڑنا شروع کردے توروئے زمین پرکسی کا ایک قدم چلنا بھی دشوار ہوجائے! مگر وہ ہے جو بہت سی باتوں اور چیزوں کو در گزر فرمادیتا ہے اوراپنے غافل بندوں کومہلت بھی عطا کرتا ہے،”وما أصابکم من مصیبۃ فبما کسبت أیدیکم ویعفوا عن کثیر”۔ ترجمہ: اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو اْس (بداعمالی) کے سبب سے ہی (پہنچتی ہے) جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی ہوتی ہے، حالانکہ بہت سی (کوتاہیوں) سے تو وہ تم کو درگزر بھی فرما دیتا ہے۔ (الشّْورٰی، 42: 30)اسی لئے کبھی کبھی چھوٹی موٹی تنبیہ سے دنیا داروں کواللہ اسلئے آگاہ کرتا ہے۔تاکہ وہ راہ راست کیطرف لوٹ آئیں۔دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”وَان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو، وان یردک بخیر فلا رآدّ لفضلہ، یصیب بہ مں یشاء من عبادہ وھو الغفور الرحیم” ترجمہ: اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس کے فضل کو ردّ کرنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ (سورۃ یونس، 10: 107)۔وہ وہی پروردگارہے جو بیماریوں کی شفا بھی نازل کرتا ہے اور اسکے لئے کسی خاص بندے کے دل میں دوائی کا الہام کرتا ہے۔مگر اکثر لوگ اس کی حکمت ودانائی سے غافل ہیں۔ وہ وہی اللہ ہے جو اپنے بندوں کو دولت و ثروت اور عقل و حکمت کا انباربھی عطا کرتا ہے، بعض ان میں سے اسکا شکرادا کرتا ہے اور بعض ناشکرا بن کر اپنا ایمان و یقین گنواں بیٹھتا ہے۔ اللہ ہمیں مال و دولت کے فتنوں اور سیم و زر کے ذخیروں کی بلاؤں سے محفوظ رکھے۔آمین
تاریخ سے حوالے سے ہم مسلمان قوم کا ایک سچاواقعہ بطور عبرت بتانا چاہتے ہیں، جب مسلمانوں کا عروج تھاانکی خلافت و حکومت کے زوال کو کوئی شک و شبہ بھی نہیں تھا،مگر جب اہل بغداداخلاق وکردار کے اوصاف سے عاری ہوتے چلے گئے، دنیاداری میں غرق ہوکر رہ گئے، عیش و عشرت میں محوومست ہوگئے حتی کہ معدود چند کے سب اپنے اللہ اوراسکے رسول کو ہی بھلا بیٹھے تو ان کے ساتھ بھی ماضی میں وہی ناقابل بیان قہر نازل ہوا اور پوری دنیائے انسانیت میں وہ کہرام مچا،جیسا کہ آج پوری دنیا میں ایک معمولی وبا سے کہرا م مچا ہوا ہے، لاشوں کی لمبی قطاریں ہیں، ملین متاثرین کی فہرست ہے، جو ہم تمام انسانیت کے لئے درس عبرت ونصیحت سے کم نہیں ہے! فرق یہ ہے کہ وہاں بے رحم ہلاکو خان اور اسکی بے رحم فوج کا سنگدلانہ،ظالمانہ اور سفاکانہ معاملہ اور برتاؤتھا اور یہاں نظر نہ آنے والی وبایعنی کورونا وائرس کاقہر۔آج اگر ہم اپنے خالق کورونا کے مطالبات پوراکرنے والے بن جائیں توستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والاہمارا وہ اللہ اور عالم کا پروردگار۔ ہم پر فوری رحم و کرم کا معاملہ کرسکتا ہے، اگرچہ ہلاکو خان کے پاس لاکھ التجا اور درخواست رحم کی گئی کہ ہم آپ کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کو تیار ہیں! مگر اسکے باوجود ہلاکوخان نے کوئی رحم نہ کھایا اور بغدادکی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھدی اور جب تک مسلمانوں کی لاشوں کا انبارنہ لگا دیا اسوقت تک سکون و چین کی سانس نہ لی۔
یقیناً قارئین کرام کویہ دردناک اور اندوہناک واقعہ یاد ہوگاجسے تاریخ اسلام کبھی فراموش نہیں کرسکتی، ایک زمانہ تھا جب دنیا کے سارے خزانوں اور دولت و ثروت کی ساری کنجیاں مسلم حکمراں کے قبضے میں تھیں۔وسیع و عریض کرہئ ارض پر حکمرانی تھی، دولت و ثروت کی ریل پیل تھی، پھر کیا دیری تھی!! عظیم الشان اور خوبصورت محلات و باغات تعمیر ہونے شروع ہوگئے، مگرصد افسوس کہ کاشانہئ دل ویران ہوتا چلا گیا اور اخلاق بگڑتے چلے گئے، اس طرف کسی کا ذہن مبذول نہ ہوسکا، دیواروں میں قیمتی فانوس و قمقمے بھی آویزاں تھے، مگر دماغوں کی ظلمت اور عقلوں کا اندھیرا بڑھتا ہی چلا گیا اور اللہ کے شکر و قدردانی کے بجائے اسکی ناقدری و ناشکری عام ہوتی چلی گئی۔ جس قوم کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اور ہر حال میں احکام الہی کا پاس و لحاظ رکھنے کو کہا گیا تھا، اللہ نے خلافت اس لئے دی تھی تاکہ زمین پر عدل وانصاف قائم کرے، انسانیت کی خدمت کرے، آج وہی قوم کنیزوں کے خوبصورت جسموں سے اپنے حرم سجانے میں لگ گئی اور نہ جانے کیا کیا برائیاں جنم لینے لگ گئی، اللہ کی نظروں سے گرنے کیساتھ ساتھ وہ دنیا کی نظروں سے گر کر رہ گئی۔مگر پھربھی ایک دن بغداد کی شاہراہوں اور سڑکوں پر ایک مجذوب خدا چیختااور چلاتا پھر تا نظر آیا،تنبیہ کے لئے خدا نے اس بندے کو بھیجا، اللہ کے بندے نے ببانگ دہل اعلان کیا۔”لوگو! خدا کی نافرمانیوں سے باز آجاؤ، رسول خدا کی اطاعت سے ہر گز منہ مت موڑو اور شراب وکباب کے ذخیروں کو نالیوں میں بہا دو، چنگ و رباب توڑ دو اور اللہ کو راضی کرنے میں جڑ جاؤ، ورنہ قدرت کا پیمانہئ برداشت چھلکنے والا ہے، عذاب وقہر کے دن گنے جا چکے ہیں، بس کچھ گھڑیاں باقی رہ گئی ہیں، ابھی بھی توبہ و استغفار کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ عناد وسرکشی چھوڑ دو،کثرت سے توبہ و استغفار کرو،ممکن ہے خدا تم سے راضی ہوجائے اور ذلت کی موت سے چھٹکارہ اور نجات دے، نہیں تو تمہارے کاندھوں سے گردنوں کا بوجھ بھی کم کر دیا جائے گا، خون کی ندیاں بہنے لگیں گی، بڑی ذلت ورسوائی کا دن دیکھنا پڑے گا۔
”عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا أدلّکم علی داء کم و دواء کم، ألا أنّ داء کم الذنوبُ و دواءَ کم الاستغفارُ”۔ رواہ البیہقی۔۔۔ والترغیب والترھیب۔ ولکن اسنادہ مجھول۔مفہوم: ”بیہقی کی حدیث بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کیا میں تمہیں تمہاری بیماری اور اسکی دوا نہ بتا دوں!! بے شک تمہاری بیماری تمہارا گناہ ہے اور اس کی دوا تمہارا کثرت سے توبہ و استغفار ہے“ او کما قال ﷺ۔مگر کون جانتا تھا کہ ہلاکو خان اتنی بڑی تباہی کی تیاری کرچکا ہے۔جو صدیوں پرانے تخت و تاراج کوقوم سمیت الٹ پلٹ کر رکھ دے گا۔
جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ حق بات ہمیشہ کڑوی لگتی ہے، گردش ایام کے لمحوں کے ساتھ ساتھ مجذوب خداکی لے تیز ہوتی جا رہی تھی۔ شروع میں لوگ اسے پاگل اور مجنوں سمجھ کر ایک دلچسپ تماشے سے لطف اندوز ہوتے رہے، مگر وہ دیوانہ وار بڑے پتے کی باتیں کر تا رہا اور اپنے مسلمان بھائیوں کو اس فتنے سے آگاہ کرتارہا جوانہوں نے اپنی نور بصیرت سے دیکھا تھا اور بڑے خوفناک راز کوعوام کے درمیان فاش کر رہا تھا، آخر عشرت کدوں میں رہنے والوں کو اس وحشی اور مجنوں کے نعرے گراں گزرنے لگے، مجذوب خدا سے کہا گیا کہ وہ نعرہ بازی بند کر دے، اس کی بے ہنگم آوازوں سے شرفاء و امراء شہر کے آرام و سکون میں خلل پڑتا ہے، وہ کس عذاب کی باتیں کرتا ہے؟ عذاب تو ہمیں چھو بھی نہیں سکتا کہ ہم اہلِ ایمان ویقین ہیں، کئی بار تنبیہ کی گئی، لیکن مجذوب خدانے اپنی روش نہیں بدلی، وہ پریشاں حالوں اور بوسیدہ کپڑوں کے ساتھ ہر گلی کوچے میں چیختا پھر رہا تھا۔خدا کا قہر آنے والا ہے!! مسلمانو! سنبھل جاؤ!! گناہوں سے توبہ و استغفار کرلو! ”اے بے خبر لوگو! سرخ آندھی آنے والی ہے۔ اس کے تیز جھونکوں میں تمہارے پتھروں کے مکان روئی کے تیز گالوں کی مانند اڑ جائیں گے، اب اس قہر سے تمہیں سوائے اللہ کے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہلاکت اور بربادی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔“ دنیاداری میں مست، آخرت سے بے خبر اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے لوگ آخر اپنی موت کی خبریں کیسے سننا گوارا کر سکتے تھے۔ بالآخر عمائدین خلافت اور امراء شہر نے مجذوب کی باتوں کو بدفالی و بد شگونی کی علامت قرار دے کر ایک سنگدلانہ حکم جاری کردیا۔ اب وہ بے ضرر انسان جدھر جاتا لوگ اس پہ غلاظت پھینکتے تھے، مجذوب ان کی اس حرکت پہ قہقہے لگاتا تھا، لوگوں کی حرکتوں پر افسوس کرتے ہوئے کہتا تھا۔”میرے جسم پہ گندگی کیوں پھینکتے ہو۔ اپنے اعمال و اخلاق، مسخ شدہ چہروں اور غلاظت میں ڈوبے اپنے ملابس و پوشاک کی طرف دیکھو۔ عنقریب ان پر سیاہی ملی جانے والی ہے، اور تمہاری دردناک اورسیاہ تاریخ لکھی جانے والی ہے، کچھ دن خدا کے نظام کا مذاق اڑا لو۔ پھر وقت تمہارا اس طرح مذاق اڑائے گا کہ تم موت کو پکارو گے مگر موت بھی تمہیں قبول نہیں کرے گی۔“
اب مجذوب خداکی باتوں کو صحیح سمجھنے کے بجائے اب لوگ ظلم وتشدد پر اتر آئے، مجذوب جہاں سے گزرتا تھا، جوان اور بچے اس پر پتھر برساتے تھے، لاغر اور نحیف جسم اپنے خون میں نہا گیا، بدمستوں اور بے خبروں نے قہقہے بلند کئے، مجذوب خدا بغداد کی ایک شاہراہ پر کھڑا لڑکھڑا رہا تھا، اس خونی مناظرو تماشے کو دیکھنے کے لئے بے وقوفوں کی ایک بڑی جماعت جمع ہو گئی۔ مجذوب خدا نے مسلمانوں کے ہجوم کی طرف دیکھا اور بڑے ا داس لہجے میں بولا۔”کیا تم میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو ان سنگدلوں کو منع کرے اور میری طرف آنے والے پتھروں کو روک لے؟“ ألیس فیکم رجل رشید؟
بیچارے مظلوم و بے بس مجذوب کی فریاد سن کر لوگوں کے قہقہے کچھ اور بلند ہو گئے۔ کسی نے سنگ باری کرنے والوں کو منع نہیں کیا،اسطرح پورا مجمع گناہوں کا مرتکب ہوا اور ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا کیونکہ پوری قوم کا ضمیر مردہ ہو چکا تھا، عذاب ان کے اوپر لکھا جا چکا تھا۔ خون سے لت پت مجذوبِ خدانے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر چیخا ”لکھنے والے نے لوحِ محفوظ پر لکھ دیا: آگ، خون، موت، ذلت اور بربادی۔ پھر مجذوب نے بہتے ہوئے خون کو اپنے چہرے پہ مل لیا، چند پتھر اور برسے، مجذوب زمین پر گر پڑا، اور شہید کا درجہ حاصل کرلیا۔
یاد رکھئے!!“”مسخرا آسمان کی خبریں دیتا ہے۔“ لوگ دیوانہ وار ہنس رہے تھے۔ یہ خبر نہیں کہ خود اپنا کیا حال ہونے والا ہے؟ ہلاکو خان کل کیا درگت کرنے والا ہے، آخر کار ایک مظلوم ومجبور، اللہ والے مجذوب پر مشقِ ستم کرنے کے بعدپورا ہجوم منتشر ہو گیا، مجذوب کے جسم سے خون بہہ بہہ کر زمین پر جمتا رہا۔ دنیا کا خوبصورت شہر بغداد کے باہوش شہریوں اور انجام سے غافل عمائدین حکومت نے ایک دیوانے سے نجات حاصل کر لی، اس دن کے بعد پھر کسی نے مجذوب کو نہیں دیکھا، وہ اپنا کام ختم کر کے بہت دور جا چکا تھا، شہر کی فضائیں نغمہ بار تھیں، موسیقی کی پُر شور آوازوں نے گناہ کے خوابیدہ جذبوں کو بیدار کر دیا تھا، سیم تن بدنوں کے رقص نے جذبات کی دنیا میں وہ طوفان اٹھائے تھے کہ اہلِ دل اور ارباب حل واقتدار کی بینائی زائل ہو گئی تھی اور امراء اندھے ہو گئے تھے، سرحدی محافظوں کے بازو شل ہو گئے تھے اور تلواریں شاخِ گل کی مانند لہرا رہی تھیں۔اور پھر اہلِ بغداد اور عمائدین حکومت و خلافت کو قہرِ خداوندی اور عذاب الہی نے آپکڑا۔ ہلاکو خان رات کے اندھیرے میں شمشیر بکف آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔اور عظیم الشان اسلامی سلطنت کے نگہبان ہاتھوں میں چنگ و رباب لئے ہوئے جھوم رہے تھے، پھر ہر طرف فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی، سنگِ سرخ سے بنے ہوئے سر بہ فلک محلات میں آگ لگی ہوئی تھی اور علم و حکمت کے ذخیرے سوکھی لکڑیوں کی طرح جل رہے تھے، شاندار تہذیب و تمدن کے آثار وحشیوں کے نیزوں کی زد پر تھے، ہلاکو خان کے سامنے عالمانہ تقریریں کرنے والے بے شمار تھے، مگر وہ تلوار کے سوا کوئی زبان نہیں سمجھتا تھا، اس فتنہئ عظیم کو صرف جرأت و شجاعت کے ہتھیاروں سے ہی روکا جا سکتا تھا مگر مسلمان بہت پہلے ان ہتھیاروں کو زنگ آلود سمجھ کر اپنے اسلحہ خانوں میں دفن کر چکے تھے، اس لئے چنگیز خان کا سفاک پوتا مسلمانوں کے سروں کے مینار بنا رہا تھا اور اہلِ بغداد ایک درندے سے تہذیب و شائستگی کی زبان میں رحم و کرم کی بھیک مانگ رہے تھے۔ پھر یوں ہوا ؎۔آگ اس گھر کو ایسی لگی کہ جو تھا جل گیا۔
بھلا جب نبوت محمدی کے دور اوراسکی نسل سے قریب مسلمانوں کے ساتھ ایسادرد ناک اور اندوناک حادثہ پیش آ سکتا ہے تو ہم اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں!!آخر ظلم و ستم کی ٹہنی کب تک پھلتی اور پھولتی رہے گی! کہنے والے نے صحیح کہا ہے کہ حکومتیں کفرِ خدا کے ساتھ تو قائم رہ سکتیں ہیں،مگر ظلم و بربریت کے ساتھ بہت دنوں تک نہیں چل سکتیں!آج دنیا میں کیا ہورہا ہے اور کیا نہیں ہورہا ہے،سب ہماری نظروں کے سامنے دو دو چار کی طرح عیاں ہے،افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری حکومتوں،عدالتوں، صحافتوں اور زمین و آسمان کے درمیان وہ کونسا حصہ ہے جو ہمارے گناہوں اور ظلم و فساد سے بھر نہ گیا ہو!اللہ کا سچا فرمان ہے۔ ”ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس،لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون“۔
اسی لئے آج موجودہ حکمرانوں کی بے زار دین اوربے زار اخلاق پالیسیوں سے انسانیت کااعتماد متزلزل ہو کر رہ گیا ہے، جس میں دم گھٹتی انسانیت کی صحیح اور مخلص رہنمائی نہیں ہے اور نہ ہی بے زارمذہب ارباب حل و اقتداراس کی صحیح خیر خواہی کر سکتے ہیں!؟ جن کے اندرسسکتی اور بلکتی انسانیت کے ساتھ عدل و مساوات کی میزان قائم کرنے کی استطاعت نہیں اوردووقت کی روٹی اوردو نوالے کھانادم توڑتی انسانیت کے لئے نہیں ہے، بھلاوہ کیسیپوری انسانیت کی رہبری کر سکتے ہیں؟ جنہوں نے اکثر یت کو معمولی کوروناوائرس کیوجہ سے بغیرکسی خوراک کے مقید زندگی گزارنے پر مجبور کردیا ہے،ایسے حکمرانوں کے بلند وبانگ دعوے سب کھوکھلے ثابت ہو کر رہ گئے ہیں،جو ایک معمولی مرض کی صحیح دوا بنانے پر بھی قدرت نہیں رکھتے! پروردگار عالم نے سچ کہا ہے ”ضعف الطالب والمطلوب“ ”حاکم بھی کمزور اوراسکے سب دعوے بھی کمزور“۔سسکتی انسانیت کے سامنے سب کی بے بسی صاف طورپر واضح ہوکر دکھائی دے رہی ہے۔
آج مجبورمحض انسانیت کو پھر وہی نوع انسان کے گروہ کی شدید ضرورت محسوس ہونے لگی ہے، جو اس کو خوفزدہ اور مقید زندگی گزارنے کے بجائے بے خوف و خطر آزادانہ اور منصفانہ زندگی گزارنے کا نسخہ ئ کیمیا فراہم کرسکے،عاجز بندوں کی فضول عبادت اور لا حاصل جی حضوری سے ایک زبردست قوت و طاقت رکھنے والے قادر مطلق کی بندگی کی طرف نکال لائے، جو اسے کسی مخلوق خدا یعنی کورونا وائرس سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور معاشی بدحالی کے خوف اوردنیا داروں کے ظلم و بربریت سے نجات دلاسکے اور اپنے بے شمار انعامات و احسانات کا ان پر انبار لگا دے اور دولت و ثروت کی فراوانی ان پر انڈیل دے، دنیائے انسانیت کو آج پھر اسی جماعت کی جستجو ہے،جوانہیں ظالم بادشاہوں کے جرائم و مظالم، نا انصافی و حق تلفی، حرص و ہوس،باطل اور فرسودہ عقائدو اوہام اور ادیان و مذاہب کے جھگڑوں سے نکال کر امن و سلامتی، عزت وبلندی، عظمت ورفعت، لطف و کرم، رحمت وبرکت، غم خواری وہمدردی، شفقت ومحبت اور بے پایاں اجرو ثواب کے اس عادل و منصف دین و مذہب کی طرف رہنمائی اور خیر خواہی کرے، جہاں پہنچ کر انہیں غلامی سے آزادی کا احساس ہو، باطل سے چھٹکارا پاکر حق اور انصاف کا ادراک ہو، ا نسا نیت کی سربلندی کاانہیں لازوال پیغام حاصل ہو۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پہنچ کر برابری کا وہ احساس ہو جواس سے پہلے اسے کبھی نہ محسوس ہوا ہو، جہاں ایک بادشاہ اور غریب، ایک بندہ اور صاحب،ایک محتاج اور غنی،ایک امیر اور فقیر کے درمیان بے مثال عدل و انصاف کامحور قائم ہے۔ علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے سچ کہا ہے۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
خلاصہ یہ کہ مسلمان کل بھی اس ملک کے لیے مفید تھے اور آج بھی مفید ہیں اور ان شا ء اللہ ہردم اس ملک وقوم بلکہ پوری انسانیت کے لیے مفید بنے رہیں گے۔
مگر افسوس صد افسوس:
پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ ہم وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں
Comments are closed.