اذان: جناب جاویداختر کے نام
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اُمید ہے آپ میرا یہ کھلا مکتوب پڑھنے کے لئے اپنی مصروف اوقات میں سے چند لمحات نکالنے کی زحمت گوارا کریں گے۔
آپ بفضل تعالیٰ ایک باشعور مسلمان، فہمیدہ انسان ، مستند ادیب ، مقبول کہانی کار، مشہور گیت کار اور فلمی دنیا کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں ۔ آپ کا خانوادہ ان معنوںمیں ہمہ آفتاب ہے کہ علم و ادب اور درس وتدریس اس کا وجہ ٔ امتیاز رہاہے ۔ اور خیرسے جب آپ کا سلسلۂ نسب آپ کے جد امجد الفضل الفضلاء، خاتم الحکماء،رئیس المتکلمین،مجاہدِ جلیل، قائد جنگ ِ آزادی کہلانے والے مولانا فضل ِحق خیر آبادیؒ جیسے جید عالم دین سے منسوب ہو، جنہوں نے تصنیف و تالیف، سخن وری اور شجاعت و عزیمت کی دھاک بٹھاتے ہوئے۱۸۵۷ء کی جنگ ِآزادی میں نہ صرف ایک قابل قدر کردار اداکیا بلکہ کالا پانی کی سزا خوشی خوشی برداشت کر کے انگریزوں کے قید وبند میں ہی وصال ِابدی فرمایا، جنہوں نے اپنے رشحاتِ قلم سے وقت کے دبے کچلے مسلمانوں میں یقین کی روشنیاں جگمگائیں اور ایمان کی جوت جگائی، اس لئے مشکل سے بھی یقین نہیں آتا کہ آپ اذان کے بارے میں علانیہ طور ایسا بے احتیاط تبصرہ کریں گے جن سے صرف مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی اور کچھ نہ ہوا ۔
آپ موجودہ زمانے کے حالات وکوائف کے رمز شناس ہیں ،اس لئے ادباً عرض ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ اس دورِ پُر آشوب میں اذان پر فلم نگری کے گلوگار سونم نگم جیسی منفی خیال آرائی کسی مسلمان کی زبانی ہونا اہل ِاسلام کے لئے اذیت ناک ثابت ہوسکتی ہے، وہ بھی اس وقت جب مسلمانان ِ ہند ملک بھر میں ستیہ کے مارگ سے بر گشتہ
بعض تشدد پسند ہم وطنوں کے ہاتھوں جعفر آباد دلی جیسی بھیانک
جارحیت کا سامنا کررہے ہوں ،جب ان کو مختلف بہانوں ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہو، جب غریب مسلم ٹھیلے والوں اور سبزی چھاپڑی فروشوں تک کو نان ِ شبینہ کا محتاج بنا نے کی غرض سے اُن کا بائیکاٹ کروا نے
عام غنڈے ہی نہیں بلکہ بھگوا نیتا اورایم ایل اے تک میدان میں کمر کسے کھڑے ہوں، جب کسی رحیم الدین کو اپنا نام سنگھی لیڈر کے سامنے جھوٹ موٹ راج کمار بتاکر اپنی زندگی بچانے کا رقص نیم بسمل کر ناپڑ رہاہو ، جب مسلمانوں کے پرسنل لاء سے لے کرا ن کے تمام جمہوری حقوق پامال کرنے کا چلن عام ہو، جب کورونا کے پھیلاؤ میںتبلیغی مرکز نظام الدین دلی کو انڈیا کا وُہان جتلانے میں گودی میڈیا رات دن زمین و آسمان کے قلابے ملارہاہو، جب اعتدال پسند لوگوں کے مسکن تامل ناڈو تک میں مسلم آبادی کے خلاف زہرناکی کا یہ اثر پایا جارہاہو کہ ایک بیکری والا اشتہارآویزاں کر ے کہ اس کے بیکری کارخانے میں کوئی مسلمان کام نہیں کرتا، جب ایک شفاخانے میں پوسٹر چسپاں کیا گیا ہوکہ مسلم مریض کورونا فری ہونے کی سند پیش کر کے ہی وہاں علاج ومعالجہ کی سہولت سے مستفید ہو گا۔
آپ کو یہ بتانے کی بھی غالباً ضرورت نہیں کہ ایک جانب بیس کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل مسلم کمیونٹی عملاًسیاسی حاشیے پر پھینکے گئے ہیں ، دوسری جانب اسلامو فوبیا کا وائرس پیدا کر کے کلمہ خوانو ں کی ہمہ وقت کردار کشیاں ہورہی ہیں ، اُنہیں برائی کا استعارہ، جہالت کا مرکب ، دقیانوسی کا مظہر اور انسان دشمنی کے چلتے پھرتے نمونے جتلایا جارہاہے، حد یہ کہ ہندوستان میں مسلم بیزار حالات اور واقعات کے بڑھتے سلسلے پر پہلی بار مشرق وسطیٰ کے حکومتی حلقے مسلم مخالف ٹویٹس پر اس قدر بر افروختہ ہیںکہ انڈیا کو گاندھی واد کی یاد ہی نہ دلا رہے ہیں بلکہ مسلمانوں کے خلافhate speech میں ملوث وہاں اعلیٰ عہدوں پر فائز بھارتی ملازمین کو نوکری سے برخواست کر رہے ہیں۔اس ساری گھمبیر صورت حال کے چلتے اگر آپ جیسی عوامی شخصیت ارباب ِحکومت سے غریب مزدوروں پر ترس کھاکر ان کی راحت کاری کا مطالبہ کرتی، شراب کی دوکانیں کھول کر سوشل ڈسٹنگ کی دھجیاں اُڑئے جانے پر ناراضی کا اظہارکرتی، مسلمانوں کو گودی میڈیا کے ذریعے شب وروز ہدفِ ملامت بنانے سے گریز کر نے کی تاکید کر کے ملکی عوام کو اتحاد وہم آہنگی کا درس دیتی ، برادران ِ وطن کو یومیہ مزدوری کر نے والے غریب مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ
کر نے کی حماقت سے باز آنے کی تلقین کرتی تو کوئی بات تھی۔اس کے بجائے آپ کا اذان کے حوالے سے لاوڈ اسپیکر کے استعمال کی بندش پر حلت وحرمت کا دفتر کھولنا بے وقت کی راگنی ہے۔
محترم !یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اذان مسلمانوں کے نماز کے لئے محض بلاوا ہوتی ہے جوصرف دوپانچ منٹ میں اداہوتی ہے ۔ آج کل تودیار ِ مغرب میں بھی اس پر لگی پابندی ہٹا کر مسلمانوںکو لاؤڈ اسپیکر پراذان دینے کی ا جازت دی جارہی ہے ۔ البتہ اذان کے علاوہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے کسی بھی عنوان سے غیر ضروری استعمال پر علمائے دین پہلے ہی متعدد فتویٰ دے چکے ہیں ۔ بایں ہمہ اگر آپ اس بارے میں کسی مدلل وضاحت کے طلب گارہیں یا عام روش سے ہٹ کر اس موضوع پر کوئی علمی اختلاف رکھتے ہیں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ پیغمبرؐ اسلام نے کبھی بھی سوال یا وضاحت طلبی کی حوصلہ شکنی نہ کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ایک صحابی نے آپ ؐ سے زنا کی اجازت مانگی تو آپ ؐ نے ا س کا کوئی بُرانہ مانا بلکہ پیغمبرانہ نرم مزاجی کے ساتھ وہ مسکت اور معقول جواب دیا کہ سائل اس ناجائز کام کی قباحت کا بہ دل و جان قائل ہوا ۔ لہٰذابجائے اس کے کہ آپ اذان کے بارے میں اپنے خیال یااشکال کو public domain میں لاتے بہتر یہ تھا کہ اسلام کے مستند علماء اور اسکالروں سے کھلے دل ودماغ سے تبادلہ ٔ خیال کر تے۔اس صورت میں یا تو آپ انہیں اپناہم خیال بنا کر چھوڑتے یا اُن کے خیالات سے خود مطمئن ہوجاتے۔بہر کیف کسی سنجیدہ فکر آدمی کا طارق فتح کے لب ولہجہ میں موقع بے موقع مسلمانوں کے خلاف گند اُچھالنا اور کیڑے نکالنا مولانافضل ِ حق خیرآبادی کے اَخلاف کو کسی طرح سے زیب نہیں دیتا۔
والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ
خاکسار
ش م احمد
سری نگر کشمیر 7006883587
Comments are closed.