دوراستے! دوانجام! فیصلہ آپ کو کرنا ہے، کسے چنیں؟

 

محمد امداداللہ قاسمی

مذاہبِ عالم میں صرف اسلام کا طرہ امتیاز ہے کہ اس نے انسانیت کے رشتہ کی بنیاد پہ انسانوں کی خدمت کو عبادت کا درجہ دے کر سب سے بہتر اس شخص کو قرار دیا ہے؛ جو ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر اجتماعی مفاد کے لئے کام کرتا ہو۔

"خيرُ الناسِ من ينفعُ الناس”

اللہ تعالی کی محبت حاصل کرنے کا سب سے مختصر راستہ اور آسان راستہ ” خدمتِ خلق "(ضرورت کے وقت انسانوں کے کام آنا اور کسی کی پریشانی کے وقت ان کی پریشانی دور کرنا ) ہے۔

اسلام میں اس کی اتنی ترغیب دی گئی ہے کہ فرمایا محسنِ انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور وہ شخص اللہ کو بہت زیادہ محبوب و پیارا ہے؛ جوا س کے کنبے کے لئے زیادہ مفید ہو“۔

 

ہمارے بزرگوں نے بھی ہمارے اندر "خدمتِ خلق” کی یہ روح پیدا کرنے کے لئے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ذاتی مفاد سے بالا تر ہوکرانسانیت کو فائدہ پہنچایا جائے۔ صوفیا کے ہاں خلقِ خدا کی خدمت سے بڑھ کر کوئی نیکی کا عمل نہیں۔

چناں چہ شیخ سعدی فرماتے ہیں:

دل بدست آور کہ حج اکبر است

”لوگوں کو فائدہ پہنچا کر ان کادل خوش کرو کہ یہ حجِ اکبر ہے”

اور فرمایا کہ ہاتھ میں تسبیح بدن پہ گڈری ودرویشانہ لباس کا نام تصوف نہیں۔۔۔بلکہ اصل تصوف تو خدمت خلق ہے:

طریقت بجز خدمتِ خلق نیست

بتسبیح وسجادہ ودلق نیست

(”طریقت خدمتِ خلق کے علاوہ اور کسی چیز کا نام نہیں،تسبیح و جائے نماز اورگُدڑی کا نام نہیں“)۔

 

احبابِ گرامی! نوجوان کسی بھی قوم ، تنظیم یا جماعت کے لیئے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں، نوجوانوں کے جنون کو صیح سمت میں استعمال کرنے میں ہی ملت و قوم کی بقاء ہے، تاریخ گواہ ہے آج تک جتنی بھی تبدیلیاں و انقلاب آئے ہیں نوجوانوں کا اس میں اہم کردار ہے۔

تو آئیے! ہم سب مل کر ایک مشن اور ایک مقصد لے کر چلیں کہ ہم اپنی جوانی اور صلاحیت کو کارآمد بنائیں گے، ہم اپنی توانائی اور صلاحیت کو اور اپنے اوقات کو فضول، واہی تباہی میں ضائع کرنے کے بجائے، مخلص ہوکر، فریق کے بجائے رفیق ہوکر قوم و ملت کے مفاد کے لئے استعمال کریں گے تاکہ رب بھی خوش ہو اور بندوں کی خوشی کا اور ان کی صلاح و فلاح کا سامان بھی ہو جائے اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی بھی مل جائے۔

یاد رکھئے! یہ جوانی بھی گزر جائے گی اور وقت بھی گزر جائے گا اور ایک دن ہماری زندگی بھی ختم ہو جائے گی! بس فرق یہ ہو گا کہ اگر وقت،جوانی اور زندگانی کو خالق و مخلوق کی خدمت ،قوم و ملت کے لئے اور اپنوں اور پرایوں کے لئے کار آمد بنایا ہوگا تو ہم اپنی زندگی کے مقصد میں کامیاب ہوں گے، خالق بھی راضی اور مخلوق بھی خوش ہوگی اور موت کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں اور ان کی یادوں اور دعاوں میں زندہ رہیں گے؛ جب کہ عمرِ عزیز کے اس قیمتی وقت،جوانی اور زندگانی کو اگر ہم نے؛ غلط، تخریبی، لوگوں کی دل آزاری میں اپنوں اور پرایوں کو نقصان پہنچانے، اوروں کو نیچا دکھانے اور ذلیل کرنے میں استعمال کیا تو نہ تو یہاں چین ملے گا اور نہ وہاں، نہ دنیا ہماری نہ آخرت، نہ خدا ہم سے خوش نہ خلقِ خدا۔

راستے دونوں ہیں، فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم خود کو کس راستے پر ڈالیں!!!۔

اللہ تعالی ہمیں حسنِ فہم اور حسنِ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

Comments are closed.