احساس زیاں ہے کہ نہیں
محمد نجیب اللہ ندوی
دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
جن لوگوں کارشتہ گاؤں دیہات کی زندگی سے جڑاہواہو انہوں نے اس محاورے کوضرورسناہوگاکہ جس وقت آس پڑوس میں کسی بات کولے کرتنازع ہوتاہے یاکسی مدعاپرتکرارہوتی ہے توکہاجاتاہے کہ’’ لڑپڑوسی مگردیدرکھ‘‘ کہ ایک چھوٹاسایہ جملہ ہمیں ہماراسلجھاطرز زندگی اور پڑوسیوں سے برادرانہ تعلقات وخیرخواہانہ معاملات کی بھولی ہوئی تاریخ کاپتہ دے رہاہے کہ کس طرح سخت حالات میں بھی اپنی سرحدیں پارنہ کرنا،حق ِہم سائیگی کاخیال رکھنااورگنجائشی پہلواختیارکرناہماری تہذیب کا انوکھاحصہ رہا ہے، ان کایہ جذبہ اس فکرکاعکاس ہے جوان کے ذہنوں میں رچی بسی تھی کہ کسی بھی سماج کے لوگوں کی ذہنی سطح مختلف ہوسکتی ہے، اقدارکاتصورمختلف ہوسکتاہے ،تہذیب ورہن سہن کامفہوم مختلف ہوسکتاہے ،پھریہ بھی ہوتارہاہے کہ ہرانسانی نسل اپنے علم ،شعور،تہذیبی تصورکی روشنی میں زندگی کا نیا طرز تعبیرکرتا ہے حریت وآزادی کی آفاقی تصورات کی روشنی میں تشریح کرتی ہے اور ملی جلی تہذیب صدیوں تک اسی اندازمیں پہلوبہ پہلومعاشرت کے صدہاگوشوں میں مشترکہ تحریک بن کراپناسفرطے کرتی رہتی ہے اوروہ کسی ملک کی شناخت بن جات ہے،یقیناہمیں اپنی پرانی تہذیب ،تاریخی معاشرت اور محبت وملنساری کوتلاش کرناہوتوان گاؤں دیہاتوں میں جاکرڈھونڈناچاہئے کہ جہاں شہرجیسی چمک دمک تونہیں رہتی، بڑی بڑی فلک بوس عمارتیں، کوٹھیوں اورمحلات کے نازنخرے نہیں رہتے، البتہ خاک کے گھروندے، پھوس کی جھوپڑپٹیاں اپنی آغوش میں فقروغربت کے ساتھ راحت وسکون سمیٹے ہوئے قدرتی مناظرکے بیچ اپناجمال بکھیرتی رہتی ہیں ،ان کی سرحدوں سے لگے درخت اپنی نباتی آنکھوں سے آسمان کی پنہائیوں میں چھپے دشمن تلاش کررہے ہوتے ہیں توحدنگاہ تک ان کی حرکتوں اورسرگرمیوں پرکڑی نظر رکھے ہوتے ہیں، وہ مسجدوں کے صحنوں میں ،مندروں، گردواروںاور چرچوں کی دیوار سے لگے محوتسبیح نظرآتے ہیں ،وہاں ہمارے اجداد اورپرکھوں کی سیاست و شراکت کی سچی تصویر نظر آتی ہے، جن سے ہم دورنہیں بہت دور نکل گئے ہیں ،ہماری آبائی واصولی سیاست مٹتی اورمعیارشراکت گھٹتاچلاجارہاہے ،یہ شہری سیاست کے لاپرواہ ماحول نے کیاہے، اب بھی نفرت وعداوت سے آئینہ کی طرح صاف وشفاف زندگی پرکھوں کی ان ہی گھڑاریوں پرتلاش وجستجوکرنے سے ملے گی ،وہیں ان کادیاہوادرس، معاشرتی و ثقافتی گڑاخزینہ اور روادارانہ فضاموجودہے کہ جس کی ہمیں آج سخت ضرورت ہے، واقعی اپنے اجدادکے دیہی طریقۂ زندگی کو دیکھیں تواس میں رہنمایانہ طرز سیاست نظرآئے گاکہ کس طرح وہ ایک دوسرے کی کمی زیادتی کونظراندازکرکے، سماج ومعاشرے کے بکھرے تسبیحی دانوں کوزنارکے دھاگے میں پروئے رہتے ہوئے ہم ایک ہیں، ہم کامیاب ہیں کی عملی مثال کے ذریعہ اپنی دانشمندانہ حکمت عملی وسرپرستانہ قیادت کاثبوت دیتے تھے، انھوں نے اپنے مذہب کوسچے دل سے اپنائے رکھاتھا،جس کی وجہ سے مختلف تہذیبوں اورمذاہب کواپنی چادرمیں سمیٹے بحفاظت ہم تک پہونچایااورآپس کے تصادم کاکبھی بھی موقع نہیں دیا،ایسا اس لئے ہوا کہ ان کے معاشرے میں سب سے زیادہ پڑوسی کے حقوق ہواکرتے تھے اوروہ نسلاومذہبا کوئی بھی ہوتاتھااس کے ساتھ طرزمعاشرت کوخاص اہمیت ہواکرتی تھی، ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کی فکرکرتاتھا،اس کے آڑے وقت کام آتاتھا،جس کاانھوں نے ریتی رواج نام دے رکھاتھاجومذہب سے کم درجہ کا نہیں تھا،آج وہی ریتی رواج ہمارے درمیان سے اٹھتا چلاجارہاہے، ہم شہری زندگی کی نفرت آلودفضاکودیہی سادگی پر حاوی کرتے جارہے ہیں، ہماراسلجھااورمفاہمتی حسن معاشرت جوکبھی ہمارے آباء واجدادکی شان وعظمت کی علامت ہواکرتا تھاآج مجروح ومفقود ہوتاجارہاہے اوریہ کام خود اسی سما ج کے لوگ کررہے ہیں، حالانکہ انھیں چاہئے تھاکہ سماجی سدھاراوران ریتی رواجوں کوپروان چڑھاکراس کے حسن کودوبالاکرتے، مگرانہوں نے ایسا نہیں کیا بالآخر ان کی غفلت نے انہیں اجدادکے طریقۂ زندگی سے دوراوراخلاقی وسماجی زوال کے اس پائیدان پرلاکھڑاکیاہے کہ اب وہاں سے واپسی ناممکن سی معلوم ہو رہی ہے، پڑوسی کاخیرخواہانہ جذبہ انتقام وظلم وزیادتی کارخ اختیارکرتاجارہاہے، ایک گھرسے لے کرپورے گاؤں ،شہریہاں تک کہ پورے ملک وبیرون ملک اس کی لپٹ پہونچتی چلی جارہی ہے جس کامشاہدہ ہمیں حالیہ دنوں ہوا جو ملک کوزوال کے خوفناک کشمکش میں الجھاکرایکسپلوڈ(Explode) کرنے کاخطرناک رجحان ثابت ہوسکتا ہے، ہماراوہی سماج جوکل تک افہام وتفہیم کانمائندہ اورانصاف کاپیامبرہواکرتاتھا آج اپنی تاریخ کوبھول کر ٹکراؤ، تصادم اور ظلم وناانصافی کے بھنورمیں ہچکولے کھاناشروع کردیاہے، اگرہمارااندرونی طور پرمسلسل کشمکش میں مبتلا ہونااورآپس میں ہماراایسا دست وگریباں ہونا(جوکہ ہماری آبائی سیاست کاہرگزحصہ نہیں ہے )بندنہیں ہواتوکبھی بھی ملک امپلوڈ((Implodeہوسکتاہے ،بیرونی دنیاکابھی حال کچھ ٹھیک نہیں ہے، پڑوسی ملکوں سے ہمارے بگڑتے رشتے اوراس میں مزیدکھٹاس پیداہونا،تاک میں بیٹھے ہمارے دشمنوں کے منصوبوں کوفائدہ پہونچانے اوردشمنی کوفروغ دینے کاسبب بن رہاہے، یہ اسی آبائی طرز سیادت سے ہٹ کرغیردانشمندانہ قدم اٹھانے اورداخلی وخارجی منفی حکمت عملی اپنانے کاثمرہ ہے کہ ہم مختلف بحرانوں کا شکار ہیں نتیجتاً جوملک کبھی ایک مثبت کردارہواکرتاتھاآج ہماری کم عقلی کی وجہ سے دوسروں کامہرا بنتاجارہاہے، ہم ہزاروں میل دورامریکہ سے دوستی کاہاتھ بڑھاسکتے ہیں مگرپاس میں موجودپڑوسی پرہماری توجہ نہیں ،ہم سینکڑوں میل دوراسرائیل کواپنادوست بناکر فخرکرسکتے ہیں مگرہمارے سامنے کھڑاپڑوسی اس کامنتظرہے، حالانکہ دوست ممالک کوان دونوں ملکوں کی دوستی کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے جس کی شروعات وطن عزیز میں بھی ہوچکی ہے، ہم پڑوسیوں کوگھیرنے اورسبق سیکھانے کے جذبے میں ڈوبے خودہی سیاسی واخلاقی اسٹریٹیجی حیثیت کھوتے اورمشکلات میں گھرتے چلے جارہے ہیں اور ہماری پوزیشن تیزی کے ساتھ گرتی جارہی ہے،اور اس زیاں کا ہمیں احساس تک نہیں ،کل تک جس ملک کی اٹھتی کسی بھی آوازکوباوزن وقابل توجہ سمجھاجاتاتھااس کے کردارپرسوالیہ نشان لگایاجانا،اسکے خلاف قراردادیں پیش کیاجاناباعث تشویش ہی نہیں بلکہ قابل خود احتسابی بھی ہے کہ ہم نے کس کس موڑ پرآبائی حکمت اپنانے میں چوک کی ہے، اسی طرح ملک کے موجودہ سیاسی حالات کی آنکھوں میں جھانک کردیکھاجائے تونظرآجائے گاکہ ہم نے اپنے ملک کے نسلی ومذہبی پڑوسی باشندوں پرظلم کی کوئی انتہانہیں کررکھی ہے، گذشتہ کئی مہینوں سے کشمیرکوقیدخانہ میں تبدیل کیا ہوا ہے،وہاں کے باشندوں کے جذبات ،ان کی آئینی خودمختاری، ان کی تمام تر امنگوں کوکچل کر،ان کے زخموں کواتناہراکردیاکہ جس کے رِستے اورٹپکتے خون کی بوندیں اقوام عالم کی دہلیز پر اپنی مظلومیت اوربربادی کی صدابلندکررہی ہیں ،ملیٹینس توکبھی تصادم کے نام پربے قصوروں ،آئینی حقوق کے طلبگاروں اور بڑے بڑے افسران کاخون ناحق بہاناہماری فوج اورملیٹری کامقصدوردی بن گیاہے، ہماراملک چائینا یابرمانہیں کے جہاں اقلیتوں کے کوئی حقوق نہیں ہوتے ،یاایساملک تونہیں کہ جہاں کی عدالتیں مہاجنوں کی دوکان بن چکی ہوں، جہاںانصاف سونے کی مہروں سے خریداجاسکتاہو ،بلکہ یہ بھارت ،ہندوستان اورانڈیاہے جودنیاکاسب سے بڑاقانون رکھنے والی اورسب سے مستحکم ومنفردنظام عدالت رکھنے والی سب سے بڑی جمہوریت ہے جواپنی ایک شناخت اورعظیم تاریخ رکھتی ہے مگرافسوس ! اس جمہوریت کو شرمندہ کرتے ہوئے ظلم اور عصبیت میں اتنامغلوب ہوگئے ہیں کہ ہماری فوجی کارروائی بوڑھوں، معصوم بچوں، کمزورعورتوں کوبھی خاک وخون میں تڑپانے میں کوئی دریغ نہیں کرتی، ہمارایہ رویہ ملک وقوم کے لئے فال نیک نہیں ہے ،اگراندرون ملک اسی طرح پڑوسی باشندوں کونسل اورمذہب کی بنیادپرانتقام کی آگ میں جھونکاجاتارہااوراورعدالتیں اپنادستوری کرداراداکرنے میں ہچکچاتی رہیں نیزدوسرے وطنی پڑوسیوں نے اس کے خلاف آواز بلند کراپنے پرکھوں والے ریتی رواج کوزندہ رکھنے کی کوشش نہیں کی توہمارابیرونی پڑوسی تحفظ اقلیت کے نام پر شامت بن کر کبھی بھی ہمارے سرپرآپڑے گا، لہٰذا ہمیں اس خطرہ سے بچنے کے لئے اپنے پڑوسی وطنی بھائیوں سے مصالحت ومفاہمت کی راہ اختیار کرناہوگی ،نئے سرے سے اپنی سیاست ترتیب دینی ہوگی اور پالیسی سازی میں ہمیں پرکھوں والی مفاہمتی ومصالحتی اورگنجائشی روح ڈالناہی ہوگی، وہی ہمارے لئے آئیڈیل ہیں انہی کی اصولی سیاسی زندگی کامیابی کارازہے ،ان کی راہ پر چل کرہی بیرونی مداخلت اور پڑوسیوں کے خطرات سے بچاجاسکتاہے اوراس وقت بڑھتے عالمی سیاسی درجۂ حرارت کے پیش نظردانشمندی کابھی یہی تقاضاہے۔
Comments are closed.