سیاست کا جرائم زدہ چہرہ

آزاد ہندوستان کی ابتدائی پارلیمنٹ میں مجرمانہ پس منظر کے ارکان کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا مگر اب ایسے لوگوں کی بھرمار ہے
سہیل انجم
ایک وقت تھا جب سیاست میں جرائم کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ پہلے تعلیم یافتہ، صاف ستھرے، قابل اور ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے ہی سیاست میں آتے تھے۔ رائے دہندگان بھی ایسے ہی امیدواروں کو منتخب کرتے تھے۔ ہم نے یہ جاننے کی بہت کوشش کی کہ 1952 میں قائم ہونے والی پہلی پارلیمنٹ اور اس کے فوراً بعد کی پارلیمنٹ کے ارکان میں کتنوں کے خلاف جرائم یا بدعنوانی کے الزامات تھے، لیکن ہم ناکام رہے۔ یہ صورت حال 1960 کے بعد تک رہی ہے۔ لیکن ساٹھ کے اواخر سے سیاست میں اخلاقیات کا زوال شروع ہوا۔ اس میدان میں ایسے لوگ آنے لگے جن کے خلاف فوجداری مقدمات تھے۔ رفتہ رفتہ پیسے اور طاقت کا بھی عمل دخل بڑھا۔ پھر تو جرائم پیشہ افراد کے لیے سیاست ایک پرکشش ٹھکانہ ثابت ہوئی۔ انٹرنیٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2000 آتے آتے مجرمانہ ریکارڈ کے ارکان پارلیمنٹ میں کافی اضافہ ہو گیا۔ 2024 میں ایسے 46 فیصد امیدوار کامیاب ہو گئے جن پر فوجداری مقدمات تھے۔ یعنی 543 میں سے 251 ارکان کے خلاف مقدمات ہیں۔ حالانکہ عدلیہ نے سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے لیکن وہ سب بے سود ثابت ہوئے۔ سپریم کورٹ نے 2002 میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ہر امیدوار کے لیے فوجداری مقد مات، مالی پوزیشن اور تعلیمی لیاقت کا اعلان ضروری قرار دیا۔ اس نے سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے 2013 میں للی تھامس کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایم پی یا ایم ایل اے کو کم از کم دو سال کی سزا ہوتی ہے تو وہ فوری طور پر رکنیت کے لیے نااہل ہو جائے گا۔ اس درمیان اور اس کے بعد چھ سال تک وہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ عدالت نے 2014 اور 2018 میں اپنے فیصلے میں سٹنگ ایم پی اور ایم ایل اے کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی سماعت کے لیے تیز رفتار ٹرائل کا حکم دیا اور ہدایت دی کہ پارٹیاں اپنے امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ پارٹی کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کریں۔ لیکن اگر عملی طور پر دیکھا جائے تو ان اقدامات کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔ اگر 2024 کے مقابلے میں سابقہ ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو 2019 میں 43 ، 2014 میں 34، 2009 میں 30 اور 2004 میں 23 فیصد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اوپر فوجداری مقدمات ہونے کا اندراج کیا تھا۔
حالیہ چند برسوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان کے ریکارڈ دیکھنے سے انکشاف ہوتا ہے کہ اسمبلیوں میں بھی مجرمانہ بیک گراونڈ کے زیادہ امیدوار کامیاب ہو رہے ہیں۔ اب جبکہ مغربی بنگال میں بی جے پی رہنما شوبھیندو ادھیکاری وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں تو 2016 کی وزیر اعظم کی تقریر کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ ادھیکاری کے آن کیمرہ رشوت لینے کا ذکر اپنے مخصوص انداز میں کر رہے ہیں اور بھیڑ خوشی کا اظہار کر رہی ہے۔ ان کے خلاف کیا جانے والا ناردا اسٹنگ آپریشن کافی مشہور ہوا تھا۔ وزیر اعظم اپنی تقریروں میں کثر و بیشتر اعلان کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے ملک کی دولت لوٹی ہے ان سے یہ دولت واپس لی جائے گی۔ لیکن دلچسپ حقیقت یہ ہے، اور اسے ان کی سیاست بھی کہہ سکتے ہیں، کہ اس وقت بی جے پی کے کم از کم چار وزرائے اعلیٰ ایسے ہیں جو پہلے دوسری پارٹیوں میں تھے اور ان پر بدعنوانی کے الزامات تھے۔ پھر وہ بی جے پی میں آگئے اور نہ صرف یہ کہ ان کے خلاف کیس میں پیش رفت رک گئی بلکہ وہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر بھی بٹھا دیے گئے۔ شوبھیندو ادھیکاری پہلے کانگریس میں تھے پھر ٹی ایم سی میں آئے اور پھر بی جے پی میں آگئے۔ انھوں نے ممتا بنرجی کے خلاف جارحانہ مہم چلائی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ ہیمنت بسوا سرما پہلے کانگریس میں تھے۔ ان کا نام لوئیس برجر اسکینڈل میں مشہور ہوا تھا۔ بعد میں وہ بی جے پی میں آگئے اور فتہ رفتہ سیاسی ترقی کے منازل طے کرنے لگے۔ وہ 2015 میں بی جے پی میں آئے اور 2021 میں وزیر اعلیٰ بنا دیے گئے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری پہلے آر جے ڈی میں تھے۔ بعد میں جے ڈی یو میں اور پھر بی جے پی میں آئے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران ان پر سنگین الزامات عاید کیے گئے تھے جن میں 1995 میں عاید کیا جانے والا قتل کا الزام بھی شامل ہے۔ ان کی تعلیمی لیاقت پر بھی سوال اٹھتا رہا ہے۔ اسی طرح اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو پر بھی بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ سپریم کورٹ نے اسی سال اپریل میں ان کے خلاف جانچ کا حکم دیا ہے۔ مہاراشٹر کے اجیت پوار پر، جو کہ اب دنیا میں نہیں ہیں، ہزاروں کروڑ روپے کی بدعنوانی کا الزام تھا لیکن پھر ان کے ساتھ حکومت بنا لی گئی۔ اے ڈی آر کے مطابق بنگال کی موجودہ اسمبلی میں 65 آسام میں 17 ، اترپردیش میں 51 اور مہاراشٹر میں 64 فیصد منتخب ارکان کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف بی جے پی کے لیڈروں کے خلاف ہی سنگین الزامات ہیں۔ دوسری پارٹیاں بھی پاک صاف نہیں ہیں۔ وہ بھی اس معاملے میں پیش پیش رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ انتخابی اصلاحات پر نظر رکھنے والے ادارے ”اے ڈی آر“ نے انکشاف کیا ہے کہ بی جے پی کے 240 میں سے 94، کانگریس کے 99 میں سے 49، سماجوادی پارٹی کے 37 میں سے 21، ترنمول کانگریس کے 29 میں سے 13، ڈی ایم کے کے 22 میں سے 13، ٹی ڈی پی کے 16 میں سے آٹھ اور شیو سینا کے سات میں سے پانچ منتخب ارکان لوک سبھا کے خلاف مجرمانہ مقدمات ہیں۔ قابل ذکر ہے یہ الزامات مختلف نوعیت کے ہیں جن میں قتل، اغوا، عصمت دری اور ہیٹ اسپیچ جیسے الزامات بھی شامل ہیں۔ جبکہ کرناٹک میں 55، پنجاب میں 50 ،تمل ناڈو میں 54 اور کیرالہ میں 70 فیصد منتخب ارکان اسمبلی کے خلاف مجرمانہ الزامات ہیں۔ ان ریاستوں میں بی جے پی کی نہیں بلکہ اپوزیشن کی حکومتیں ہیں۔
پہلے صرف صاف ستھری امیج والے امیدوار ہی کامیاب ہوتے تھے لیکن اب مجرمانہ پس منظر والے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات بہت زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔ ہندوستان کی انتخابی سیاست کا یہ ایک تشویش ناک رجحان ہے۔ اب پارٹیوں کے نزدیک نہ تو کردار کی اہمیت ہے نہ صاف ستھری امیج کی، نہ ایمانداری کی نہ شرافت کی، نہ ملک کی خدمت کے جذبے کی اور نہ ہی بدعنوانی سے نفرت کی۔ اب ان کی ترجیحات میں وہ امیدوار شامل ہیں جو جیتنے کے امکانات رکھتے ہوں خواہ وہ ہسٹری شیٹر ہی کیوں نہ ہوں۔ بالی ووڈ کے ایسے ایسے لوگوں کو بھی قانون ساز بنا دیا جاتا ہے جو کسی کام کے نہیں ہوتے۔ جو پارلیمنٹ میں نہ تو ایک بھی سوال کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے حلقے میں کوئی کام کرتے ہیں۔ وہ اپنی پارٹیوں کے لیے شو پیس ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال ایوان میں کسی بل پر ووٹنگ کے لیے ہوتا ہے۔ اب تعلیم یافتہ امیدواروں کی بھی ضرورت نہیں۔ اب صرف ایسے امیدوراوں کی ضرورت ہے جو خوشامد میں طاق ہوں اور پارٹی قائد کی ہاں میں ہاں ملانے کو ہی اپنا سیاسی فریضہ سمجھتے ہوں۔ اب اگر کوئی سیاست داں اصولوں کی بات کرتا ہے تو وہ بدھو بلکہ نرا احمق کہلاتا ہے۔ اب وہی سب سے بڑا لیڈر مانا جاتا ہے جو عوام کو سب سے زیادہ بیوقوف بنا سکے۔ اب اخلاقیات کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں۔ اگر کوئی سیاست داں اخلاقیات کی بات کرتا ہے تو اسے اس کی نااہلی تصور کیا جاتا ہے۔ اب نفرت انگیزی کو بھی برا نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ اگر کوئی ہیٹ اسپیچ دیتا ہے خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو تو اسے اس کے ذاتی خیالات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ سبھی سیاست داں ایسے نہیں ہیں۔ ان میں کچھ اچھے بھی ہیں اور عوام میں بھی اچھے لوگ ہیں جو غلط لوگوں کا انتخاب نہیں چاہتے۔ لیکن ایسے لوگ اقلیت میں ہیں۔ اور انتخابی جمہوریت میں اقلیت ہونا بے وزنی کی علامت ہے۔ اب تو اکثریت کا فیصلہ ہی سب کچھ ہے۔
موبائل: 9818195929

Comments are closed.