داستان ایمان فروشوں کی(قسط-3)
تلخیص: ابو حمران
’’میرے دوست! ‘‘صلاح الدین ایوبی نے کہا۔” میں نے یہ فیصلہ صرف اس لیے کیا ہے کہ میری انتظامیہ اور فوج سے سازشوں کا خطرہ ہمیشہ کے لیے نکل جائے اور میں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ فوج میں کسی کا عہدہ کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو اور کوئی کتنا ہی ادنی کیوں نہ ہو وہ شراب نہ پئے، ہلڑ بازی نہ کرے اور فوجی جشنوں میں ناچ گانے نہ ہوں۔”
’’لیکن عالی جاہ!”ناجی نے کہا۔”میں نے حضور سے اجازت لے لی تھی۔”
’’اور میں نے شراب اور ناچ گانے کی اجازت صرف اس لیے دی تھی کہ اس فوج کو اس کی اصل حالت میں دیکھ سکوں جسے تم ملت اسلامیہ کی فوج کہتے ہو۔ میں پچاس ہزار نفری کو برطرف نہیں کرسکتا ،مصری فوج میں اسے مدغم کر کہ اس کے کردار کو سدھار دوں گا اور یہ بھی سن لو کہ ہم میں کوئی مصری ،سوڈانی، شامی اور عجمی نہیں ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں، ہمارا جھنڈا ایک اور مذہب ایک ہے۔”
’’امیر عالی مرتبت نے یہ تو سوچا ہوتا کہ میری حیثیت کیا رہ جائے گی۔‘‘
’’جس کے تم اہل ہو ۔” صلاح الدین ایوبی نے کہا۔” اپنے ماضی پر خود ہی نگاہ ڈالو، ضروری نہیں کہ اپنی کارستانیوں کی داستان مجھ سے ہی سنو۔۔۔۔ فورا واپس جاؤ، اپنی فوج کی نفری ،سامان، جانوروں، سامانِ خوردونوش وغیرہ کے کاغذات تیار کر کے میرے نائب کے حوالے کردو ۔سات دن کے اندر اندر میرے حکم کی تعمیل مکمل ہوجائے۔”
ناجی نے کچھ کہنا چاہا لیکن صلاح الدین ایوبی ملاقات کے کمرے سے نکل گیا۔
ناجی بے حد غصے کے عالم میں اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا اس نے دربان کو بلا کر کہا کہ ادروش کو بلائے اس کا ہم راز اور نائب ادروش آیا تو ناجی اس کے ساتھ بھی اسی موضوع پر بات کی ۔اسے وہ کوئی نئی خبر نہیں سنا رہا تھا، ادروش کے ساتھ وہ صلاح الدین کے نئے حکم نامے پر تفصیلی تبادلہ خیالات کرچکا تھا مگر دونوں اس کے خلاف کوئی کارروائی سوچ نہیں سکے تھے، اب ناجی کے دماغ میں ایک کارروائی آگئی تھی اس نے ادروش سے کہا ۔” میں نے جوابی کارروائی سوچ لی ہے "۔
’’کیا ؟‘‘
’’بغاوت ۔‘‘ ناجی نے کہا۔ادروش چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔ناجی نے کہا۔ ” تم حیران ہو گئے ہو ؟کیا تمھیں شک ہے کہ یہ پچاس ہزار سوڈانی فوج ہماری وفادار نہیں؟ کیا یہ صلاح الدین ایوبی کی بنسبت مجھے اور تمھیں اپنا حاکم اور بہی خواہ نہیں سمجھتی ۔۔؟ کیا تم اپنی فوج کو یہ کہہ کر بغاوت پر آمادہ نہیں کر سکتے کہ تمھیں مصریوں کا غلام بنایا جا رہا ہے اور مصر تمھارا ہے ؟”
ادروش نے گہری سانس لے کر کہا۔” میں نے اس اقدام پر غور نہیں کیا تھا، بغاوت کا انتظام ایک اشارے پر ہو سکتا ہے ؛لیکن مصر کی نئی فوج بغاوت کو دبا سکتی ہے اور اس فوج کو کمک بھی مل سکتی ہے ، حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ہمیں ہر پہلو پر غور کرلینا چاہیے۔”
’’میں غور کرچکا ہوں۔‘‘ناجی نے جواب دیا ۔” میں عیسائی بادشاہوں کو مدد کے لیے بلا رہا ہوں ، تم دو پیامبر تیار کرو انھیں بہت دور جانا ہے، آؤ میری باتیں غور سے سن لو۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے دونوں فوجوں کو مدغم کرنے کا وقت سات روز مقرر کیا تھا ، کاغذی کارروائی ہوتی رہی، ناجی پوری طرح تعاون کرتا رہا ،چار روز گزر چکے تھے اس دوران ناجی ایک بار پھر صلاح الدین ایوبی سے ملا لیکن اس نے کوئی شکایت نہ کی ، تفصیلی رپورٹ دے کر صلاح الدین ایوبی کو مطمئن کردیا کہ ساتویں روز دونوں فوجیں ایک ہوجائیں گی ، صلاح الدین ایوبی کے نائبین نے بھی اسے یقین دلایا کہ ناجی دیانت داری سے تعاون کر رہا ہے مگر علی بن سفیان کی رپورٹ کسی حد تک پریشان کن تھی ، اس کی انٹیلی جنس سروس نے رپورٹ دی تھی کہ سوڈانی فوج کے سپاہیوں میں بے اطمینانی اور ابتری سی پائی جاتی ہے وہ مصری فوج میں مدغم ہونے پر خوش نہیں، ان کے درمیان یہ افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں کہ مصری فوج میں مدغم ہو کر ان کی حیثیت غلاموں کی سی ہو جائے گی،انہیں مال غنیمت بھی نہیں ملے گا اور ان سے بار برداری کا کام لیا جائے گا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہیں شراب نوشی کی اجازت نہیں ہوگی، علی بن سفیان نے یہ رپورٹیں صلاح الدین ایوبی تک پہنچا دی ،، ایوبی نے اسے کہا کہ یہ لوگ طویل وقت سے عیش کی زندگی بسر کر رہے ہیں ان کو یہ تبدیلی پسند نہیں آئے گی ، مجھے امید ہے کہ وہ نئے حالات اور ماحول کے عادی ہو جائیں گے۔
’’اس لڑکی ذکوئی سے ملاقات ہوئی یا نہیں جسے تم نے جاسوسی کے لیے ناجی کے محل میں بھیجا تھا؟‘‘ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا
’’نہیں۔ ‘‘علی نے جواب دیا۔’’اس سے ملاقات ممکن نظر نہیں آتی، میرے آدمی ناکام ہوچکے ہیں ناجی اس سے اتنا متاثر ہوگیا ہے کہ اسے باہر نکلنے نہیں دیتا‘‘۔
اس سے اگلی رات کا واقعہ ہے رات ابھی ابھی تاریک ہوئی تھی ذکوئی اپنے کمرے میں تھی ناجی ادروش کے ساتھ اپنے کمرے میں تھا، اسے گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دیں، اس نے پردہ ہٹاکر دیکھا ، باہر کے چراغوں کی روشنی میں اسے دو گھوڑ سوار گھوڑوں سے اترتے دکھائی دیے ۔ لباس سے وہ تاجر معلوم ہوتے تھے لیکن وہ گھوڑوں سے اتر کر ناجی کے کمرے کی طرف چلے تو ان کی چال بتاتی تھی کہ یہ تاجر نہیں ،اتنے میں ادروش باہر نکلا ،دونوں سوار اسے دیکھ کر رک گئے اور ادروش کو سپاہیوں کے انداز سے سلام کیا ، ادروش نے ان کے گرد گھوم کر ان کے لباس کا جائزہ لیا پھر انہیں کہا کہ ہتھیار دکھاؤ ۔دونوں نے پھرتی سے چغے کھولے اور ہتھیار دکھا دیے ۔ان کے پاس چھوٹی تلواریں اور ایک ایک خنجر تھا ،ادروش انہیں اندر لے گیا۔ دربان ایک طرف کھڑا تھا۔
ذکوئی گہری سوچ میں کھو گئی وہ کمرے سے نکلی اور ناجی کے کمرے کا رخ کیا مگر دربان نے اسے دروازے پر روک لیا اور کہا کہ اسے حکم ملا ہے کہ کسی کو اندر نہ جانے دوں ۔ذکوئی کو وہاں ایسی حیثیت حاصل ہو گئی تھی کہ وہ کمانڈروں پر بھی حکم چلانے لگی تھی ۔ دربان کے روکنے سے وہ سمجھ گئی کہ کوئی خاص بات ہے لہذا وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئی اس کے اور ناجی کے خاص کمرے کے درمیان ایک دروازہ تھا جو دوسری طرف سے بند تھا اس نے اس دروازے کے ساتھ کان لگا دیے ، ادھر کی آوازیں دھیمی تھیں ،اسے کوئی بات سمجھ نہ آئی، لیکن کچھ دیر بعد اسے ناجی کی بڑی صآف آواز سنائی دی۔اس نے کہا۔” آبادیوں سے دور رہنا اگر کوئی شک میں پکڑنے کی کوشش کرے تو سب سے پہلے یہ پیغام غائب کرنا ، جان پر کھیل جانا ،جو بھی راستے میں حائل ہو اسے ختم کر دینا، تمھارا سفر چار دنوں کا ہے، تین دن میں پہنچنے کی کوشش کرنا ،سمت یاد کرلو، شمال مشرق۔”
دونوں آدمی باہر نکلے، ذکوئی بھی باہر آگئی، اس نے دیکھا کہ وہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہو رہے تھے ، ناجی اور ادروش بھی باہر کھڑے تھے، سواروں کو الوادع کہنے نکلے ہوں گے،سوار بہت تیزی سے روانہ ہوگئے ،ناجی نے ذکوئی کو دیکھا تو اسے بلاکر کہا۔”میں باہر جا رہا ہوں، کام بہت ہے، تم آرام کرو، اگر اکیلے دل نہ لگے تو حرم میں گھوم پھر آنا۔”
ناجی اور ادروش کے جانے کے بعد ذکوئی نے چغہ پہنا کمر بند میں خنجر اڑسا اور حرم کی طرف چل پڑی وہ جگہ چند سو گز دور تھی ،وہ ناجی پر یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ وہ حرم میں گئی تھی، دربان کو بھی اس نے یہی بتایا ،حرم میں داخل ہوئی تو وہاں کی رہنے والیوں نے اسے حیران ہوکر دیکھا، وہ پہلی دفعہ وہاں گئی تھی سب نے اس کا استقبال احترام اور پیار سے کیا ذکوئی سب سے ملی ہر ایک کے ساتھ باتیں کی اور چپکے سے باہر نکل گئی۔
حرم والے مکان اور ناجی کی رہائش گاہ کا درمیانی علاقہ اونچا نیچا تھا اور ویران۔۔ذکوئی حرم سے نکلی تو ناجی کی رہائش گاہ کی طرف جانے کی بجائے بہت تیز تیز دوسری سمت چل پڑی۔
صلاح الدین ایوبی اپنے کمرے میں بیٹھا علی بن سفیان سے رپورٹ لے رہا تھا اس کے دو نائب بھی موجود تھے یہ رپورٹیں کچھ اچھی نہیں تھیں ، علی بن سفیان نے بغاوت کے خدشے کا اظہار کیا تھا جس پر غور ہورہا تھا ، دربان گھبراہٹ کے عالم میں اندر آیا اور بتایا کہ ایک لڑکی امیر مصر سے ملنا چاہتی ہے یہ سنتے ہی علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح کمرے سے نکلا، وہ لڑکی ذکوئی تھی، علی بن سفیان اسے اندر لے گیا۔اس نے کہا ۔”شمال مشرق کی طرف سوار دوڑا دو ، دو سوار جاتے نظر آئیں گے ،دونوں کے چغے بادامی رنگ کے ہیں ، ایک کا گھوڑا بادامی اور دوسرے کا سیاہ ہے، وہ تاجر لگتے ہیں ان کے پاس سالار ناجی کا تحریری پیغام ہے جو عیسائی بادشاہ فرینک کو بھیجا گیا ہے ۔ ناجی کی یہ سوڈانی فوج بغاوت کرے گی، مجھے اور کچھ نہیں معلوم۔ تمہاری سلطنت سخت خطرے میں ہے۔ ان دو سواروں کو راستے میں پکڑ لو۔ تفصیل ان کے پاس ہے ”
اس نے بتایا کہ ناجی نے ادروش کے ساتھ کیا باتیں کی تھیں؟ اسے کس طرح اپنے کمرے میں بھیج دیا گیا تھا۔ ناجی کا غصہ اور بھاگ دوڑ ،دو سواروں کا آنا وغیرہ۔
صلاح الدین ایوبی نے نہایت اعلی نسل کے آٹھ جوان گھوڑے منگوائے اور آٹھ سوار منتخب کرکے انہیں علی بن سفیان کی کمان میں ناجی کے ان دو آدمیوں کے پیچھے دوڑا دیا گیا جو ناجی کا پیغام لے کر جا رہے تھے۔
صبح طلوع ہوئی تو علی بن سفیان آٹھ سواروں کے ساتھ انتہائی رفتار سے شمال مشرق کی طرف جا رہا تھا ، آبادیاں دور پیچھے رہ گئی تھیں، اسے معلوم تھا کہ فرینک کے ہیڈ کوارٹر تک پہنچنےکا راستہ کون سا ہے ۔ رات انھوں نے گھوڑوں کو تھوڑی دیر آرام دیا تھا۔ یہ عربی گھوڑے تھکے ہوئے بھی تازہ دم لگتے تھے ۔ دور افق پر کجھور کے چند درختوں میں علی کو دو گھوڑے جاتے نظر آئے ، اس نے اپنی پارٹی کو رستہ بدلنے اور اوٹ میں ہونے کے لیے ٹیلوں کے ساتھ ساتھ ہو جانے کو کہا ، وہ صحرا کا راز دان تھا ،بھٹکنے کا اندیشہ نہ تھا ، اس نے رفتار اور تیز کردی ، اگلے دو سواروں اور اس کی پارٹی میں کم وبیش چار میل کا فاصلہ تھا ۔ یہ فاصلہ طے ہوگیا مگر گھوڑے تھک گئے ، وہ جب کھجوروں کے درختوں تک پہنچے تو دونوں سوار کوئی دو میل دور مٹی کی ایک پہاڑی کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے ، ان کے گھوڑے بھی شاید تھک گئے تھے ،دونوں سوار اترے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
’’وہ پہاڑیوں کی اوٹ میں بیٹھ گئے ہیں۔‘‘علی بن سفیان نے کہا اور راستہ بدل دیا ۔
فاصلہ کم ہوتا گیا اور جب فاصلہ چند سو گز رہ گیا تو دونوں سوار اوٹ سے سامنے آئے ، انھوں نے گھوڑوں کے سرپٹ دوڑنے کا شور سن لیا تھا ۔ وہ دوڑ کر غائب ہوگئے، علی بن سفیان نے گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔ تھکے ہوئے گھوڑے نے وفاداری کا ثبوت دیا اور رفتار تیز کردی ۔ باقی گھوڑے بھی تیز ہوگئے ،پہاڑی کے اندر گئے تو دونوں سوار وہاں سے جا چکے تھے، مگر دور نہیں گئے تھے ۔ وہ شاید گھبرا بھی گئے تھے ،آگے ریتیلی چٹانیں تھیں ۔ انھیں راستہ نہیں مل رہا تھا ،کبھی دائیں جاتے کبھی بائیں ۔علی بن سفیان نے اپنے گھوڑے ایک صف میں پھیلا دئے اور بھاگنے والوں سے ایک سو گز دور جا پہنچا ۔ ایک تیر انداز نے دوڑتے گھوڑے سے تیر چلایا جو ایک گھوڑے کی اگلی ٹانگ میں لگا ۔ گھوڑا بے قابو ہوگیا تھوڑی سی اور بھاگ دوڑ کے بعد وہ دونوں گھیرے میں آگئے اور انھوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔
سوال جواب پر انھوں نے جھوٹ بولا، اپنے آپ کو تاجر کہا ، لیکن تلاشی لی تو پیغام مل گیا جو ناجی نے انہیں دیا تھا۔ دونوں کو حراست میں لیا گیا۔ گھوڑوں کو آرام کا وقت دیا گیا ۔ اور یہ پارٹی واپس ہوئی۔
صلاح الدین ایوبی بڑی بے تابی سے انتظار کر رہا تھا ،دن گزر گیا، رات بھی گزرتی جا رہی تھی۔ آدھی رات گزر گئی ، ایوبی لیٹ گیا ۔ اور اس کی آنکھ لگ گئی۔(جاری)
(بصیرت فیچرس)
Comments are closed.