کشمیر شخصیاتی ٹکراؤ کی رزم گاہ ،دوستی سے لیڈروں کی دشمنی (۵)
ش م احمد کشمیر
7006883587
کشمیر کی سیاسی تواریخ کا ہنگامہ خیز دور ا۱۹۳ء سے شروع ہوتا ہے۔اس تاریخ کی بالاستعاب ورق گردانی کیجئے تو آپ کومیرواعظانِ کشمیر کی پرچھائیاں سطر سطر سے چھلکتی نظر آئیں گی۔ شیح محمد عبداللہ اور میرواعظ محمد یوسف شاہ ہنگامہ خیز شب وروز کے دو کلیدی کردار تھے۔ کشمیریوں کے لئے ان دو اہم کرداروں کا ملن جتنا اُمید افزاء تھا، اُ تنی ہی ان کی جدائی خلفشار، نومیدی اور مایوسی کا سندیسہ بنی۔ ان دو کے ملنے اور بچھڑنے کی سرگزشت لمحوں میں بنی جس نے ماہ وسال تک اپنے کڑوے اثرات کی تخم ریزی کر کے کشمیر کی سیاست کو دومتوازی اور متحارب دھارے عنایت فرمائے۔
قوم سیاسی میدان میں’’ شیر بکرا‘‘ کے نام سے موسوم یہ دھارے اہل
ِکشمیر کے ماتھے پر ہمیشہ بدنما دھبے بن کر ر ہیں گے ۔’’شیر‘‘ شیخ عبداللہ کے حامیوں کاعرفی نام تھا اور’’ بکرے‘‘ میرواعظ کے عقیدت مندوں کی جماعت کہلاتی تھی۔ واضح رہے کہ شیخ عبداللہ کی شعلہ بیانی سے متاثر ہوکراخبار’’زمیندار‘‘ کے مدیر مولانا ظفرعلی خان نے انہیں ’’شیر کشمیر‘‘ کے لقب سے یادکیا جو آگے اُن کی سیاسی شخصیت کا جز ولاینفک بنا ۔ اس دور ِ ظلمت میں مسلمانوں کی مذہبی تقسیم بھی ہوئی، میرواعظ یوسف کے پیروکاروں کو ’’کوٹہ‘‘ اور میرواعظ مولوی عبداللہ ہمدانی کے مریدوں کو ’’ژیکہ‘‘ کا نام ملا ۔ دونوں دھڑوںکو آپس میں لڑوانے کے لئے مہاراجی کارندوں نے خوب چالیں چلیں، حتیٰ کہ ۱۶ ؍ اپریل۱۹۳۳ء کو عیدگاہ سری نگر میں عید نماز کی ادائیگی کا قضیہ کھڑا کر کے ان گروپوں کو آپس میں دست وگریباں کیاگیا، میرواعظ کشمیر کواسی ماہ کی ۲۷ تاریخ کو نقص ِ امن کے الزام میں گرفتار کرکے ادھمپور جیل پہنچا دیا گیا ۔ اس نازک مرحلے پر کشمیری مسلمانوں کا آپس میں دست گریباں ہونا ، تفرقہ اندازیوں میںپڑنا،منافرتوں اور شکوک و شبہات کا تختہ ٔ مشق بننا لیڈروں کے شخصیاتی ٹکراؤ کے چند ایک پھوڑے پھنسے ہیں جن پر ریاست کی تاریخ صدیوں کف ِ افسوس ملتی رہے گی ۔ ان تُند وتلخ حقیقتوں کا ایک سرسری جائزہ لینا یہاں مناسب رہے گا ۔
قیامِ علی گڑھ کے بعد نئے خیالات، نئے ولولے، نئے خواب اور نئی اُمنگیں اپنے ساتھ لانے و الے بلند قامت شیخ عبداللہ کو پہلے پہل میرواعظ ِزمانہ کے ساتھ گرم جوشانہ تعلقات استوار کر نا پڑے ۔ صحیح ترلفظوں میں انہیں میرواعظ مولوی محمد یوسف شاہ صاحب ( فاضل دیوبند اور قرآن کریم کے کشمیری مترجم ) کے دامن ِ عقیدت میں پناہ لینا پڑی کیوںکہ کشمیر میں منبر ومحراب ہی ایک وسیلہ تھے جن کو استعمال کر کے وہ مسلمانوں میں متعارف ہوکر اپنی قیادت کا سکہ جماسکتے تھے۔ میرواعظ یوسف شاہ نے بھی بڑی کشادہ دلی کے ساتھ اُن کی پبلک لائف کا والہانہ استقبال کیا۔ شیخ صاحب کو عوام کے سامنے مرکزی جامع مسجد کے منبر سے پیش کر کے میرواعظ کا اُنہیں’’میرا لیڈر‘‘ کہنا نوواردِ سیاست کوسر خاب کے پر لگانے کے برابر تھا ۔ اتفاقاً شیخ صاحب کو قدرت نے اثر انگیز لحن عطا کیاتھا ۔اس کی بدولت وہ قرآن خوانی اور کلام اقبال سے سامعین کے دل میں واقعی جادو
جگاتے ۔ جامع مسجد اور خانقاہ معلی کے منبر ومحراب سے آتشیں خطابات کر کر کے بہت جلد’’ماسٹر عبداللہ ‘‘ کے سیاسی بال وپر بڑی سرعت کے ساتھ نکلے ۔ ایک بار اُن کی عوامی ساکھ بنی تو مزاج اور ترجیحات نے پلٹا کھایا اوربہت جلد شیخ اور میرواعظ کے مابین سیاسی رقابت ، شخصیاتی ٹکراؤ اور نظریاتی اختلافات شروع ہوئے ۔ شیخ نے حیلے بہانے کر کے میرواعظ سے اپنی راہ ورسم چھوڑ تے ہوئے سیاست کاری کی جداگانہ شاہراہ پکڑ لی۔ مورخین متفق علیہ ہیں کہ شیخ کو عوام میں متعارف ہونے اور لوگوں کا اعتمادجیتنے کے لئے میرواعظ کے ساتھ ہاتھ ملانے کی مجبوری تھی ،ور نہ ان دونوں کے طرز عمل اور فکری پرداخت میں پہلے دن سے بعدالمشرقین حائل تھا۔ اپنی آپ بیتی’’ آتش ِ چنار ‘‘ میں شیخ کا یہ اعتراف کہ’’ میرواعظ صاحبان کشمیر کی مذہبی اور مجلسی زندگی میں اہم مقام رکھتے تھے ‘‘ اُن کی اسی مجبوری کا پتہ دیتا ہے۔ کشمیر کی زمینی حقیقت کو بر محل سمجھ کر انہوں نے میرواعظ کے ساتھ بظاہردوستانہ بلکہ محبانہ رشتہ قائم کر کے جامع مسجد کا پلیٹ فارم اپنے سیاسی اُبھار میں خوب خوب استعمال کیا۔ غور طلب ہے کہ ایک ہاتھ شیخ صاحب کشمیر میں میرواعظین کی مجلسی اور مذہبی زندگی میں اہمیت کی تصدیق کرتے ہیں، دوسرے ہاتھ یہ اسی آپ بیتی میں یہ کہہ کر میرواعظ کو بین الطورساقط ا لا عتبار گردانتے ہیں کہ’’ دربار میں بھی اُن ( مراد میرواعظان ِ کشمیر ) کی پذیرائی تھی ‘‘۔
’’دربار میںپذیرائی‘‘ سے یہاں اس کے علاوہ اور کیا مراد لیا جاسکتا ہے کہ میرواعظ مہاراجہ کے تئیں وفاداری کے عوض شاہی نذر ونیاز کا حق دار بنتا تھا۔ یہ بہتان میرواعظِ زمانہ کے ساتھ شیخ کی سیاسی رقابت کا شاخسانہ ہے یا فی الحقیقت کسی تاریخی سچائی پر دلالت کر تی ہے ،وہ ایک تحقیق طلب موضوع ہے ۔ فی الحال ہم اسے کذب وافتراء سمجھنے میں حق بجانب ہیں کیوں کہ اس متنازعہ دعوے پر تاریخ خاموش ہے اور تحقیق ندارد ۔ا لبتہ اس ضمن میں سنی فسانہ طرازی یہ ہے کہ ۱۳؍ جولائی کے کشت وخون سے بیرون ِ ریاست مظلوم کشمیری مسلمانوں کے ہمدرد اخبارات اور کئی معتبر کشمیری الاصل شخصیات نے مہاراجی ظلم و جبر کے خلاف رائے عامہ منظم کر نے کا جو بیڑہ پنجاب بھر میں اُٹھایا تھا، اس کاتوڑ کرنا شخصی راج کی سیاسی مجبوری تھی ۔ اس کے لئے ریاستی انتظامیہ نے میرواعظ یوسف کو اپنے شیشے میں اُتارنے کے لئے تین مقامی رابطہ کاروں مسمیان عبدالعزیز فاضلی ، عمہ پنڈت اور مامہ پنڈت کے ذریعے میرواعظ اور مہاراجہ کے وزیراعظم ہری کشن کول کے درمیان موخرالذکر کی سرکاری کوٹھی پر خفیہ ملاقات کا اہتمام کروایا۔ ہری کرشن نے مبینہ طورمیرواعظ سے ایک برقیہ بنام وائسرائے ہند لکھوایاجس کا متن مفہوماً یہ تھا کہ کشمیر میں حالات پُرامن ہیں اور عوام الناس مہاراجہ کی حکمرانی سے خوش ہیں ۔
ا س کے صلے میں مہاراجی دربار کی طرف سے میرواعظ کو سالانہ چھ سو روپیہ نقد وظیفہ منظور اور ایک شال عطیہ دیا گیا۔ جیساکہ عرض کیا گیا کہ’’ آتش ِ چنار‘‘ میں کسی دستاویزی کا حوالہ دئے بغیر شیخ صاحب نے یہ حقارت آمیز’’ انکشاف‘‘ کر کے میرواعظ کا سیاسی رقیب ہونے کا ثبوت پیش کیایا کسی پس پردہ حقیقت کومنصہ شہود پر لایا ،اس پر وثوق واعتماد سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ البتہ بادی النظر میں یہ محض ایک تہمت ہے کیونکہ اور چیزوں کے علاوہ یہ حقیقت دن کے اُجالے کی طرح روشن ہے کہ میرواعظ یوسف صاحب سیم وزر والے نہ تھے بلکہ سادہ اور درویشانہ زندگی میں نمونہ ٔ اسلاف مانے جاتے تھے ۔ بڑے بزرگوں کی سنیں تو آپ طبعاً قلندر اور مزاجاً بذلہ سنج تھے، ، البتہ سیاسی تگڈم بازیوں سے ناواقف ِمحض تھے ۔ بہر کیف شیخ صاحب کی یہ تہمت آج تک متنازعہ فیہ ہے کیونکہ نہ ا س کے پشت پرکوئی تاریخی سندہے اور نہ کسی آزاد انہ تحقیق سے اس کی چھان پھٹک ہوئی ہے ۔ بنا بریں ایک اہانت آمیز جملہ ہو نے کے ساتھ ساتھ اس جملے میں کشمیر کہانی کا وہ درد چھپا ہوا ہے جس کی پرتیں کھولیئے تو پتہ چلے گا کہ برصغیر کی سیاسی تقدیر سنورنے کے فیصلہ کن مرحلے پر کشمیر ی مسلمانوں کا ملّی اتحاد کس طرح پارہ پارہ کیا گیا ، انہیں متحد الفکر ہونے کے برعکس خود قیادت کے ہاتھوں دو متوازی سیاسی دھاروں میں کس عنوان سے بانٹ دیا گیا کہ آج تک گھر کے ہیں نہ گھاٹ کے۔
شیخ اور میرواعظ کے مابین بدمزگیاں ۱۳؍جولائی کے صرف چار ماہ بعد ہی منظر عام پر آنے لگی تھیں ۔ ۱۲؍ نومبر ۳۱ء کو مہاراجہ ہر ی سنگھ نے کشمیرکی مسلم رعایا کی شکایات اور مشکلات کا جائزہ لینے کے لئے گلینکسی کمیشن کا قیام عمل میں لایا۔ شیخ عبداللہ اور ان کے ساتھی تازہ تازہ ہی جیل سے مچلکہ پر رہائی پاگئے تھے اور رہائی کی شرط یہ تھی کہ یہ لوگ سیاست سے خود کو باز کھیں گے ۔ میرواعظ نے شیخ کی مدبرانہ فہمائش کی کہ حالات میں بہتری آنے تک وہ خود کو سیاسی سرگرمیوں سے باز رکھیں۔اس فہمائش پر شیخ مشتعل ہی نہ ہوئے بلکہ ا نہوں نے محسوس کیا کہ میرواعظ اور مہاراجہ کے درمیان کوئی اندورنی ساز باز ہے ۔ا نہوں نے حکومت مخالف آتشیں تقریروں کا سلسلہ جاری رکھا ۔ میرواعظ سے شیخ کا یہ ’’باغیانہ‘‘ طور طریقہ برداشت نہ ہو ا۔ انہوں نے سری نگر شہر خاص میں واقع گاڑہ یارمسجد میں اپنی ایک مجلس ِوعظ کے دوران سامعین سے کہا کہ کچھ ’’بے داڑھی لوگ‘‘ مرزائیوں کے ایجنٹ بن کرمسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ یہ سنتے ہی اگر چہ شیخ نے اپنے چہرے پر داڑھی سجائی مگر ایک قلیل مدت کے بعد یہ پھر ہمیشہ کے لئے عنقا ہوگئی ۔ اس صورت حال میں شخصیاتی ٹکراؤ کی سرد جنگ کا آغاز ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی ۔ رقابت کی ان آہٹوں کو سنتے ہی میرواعظ کے ایک اورحریف مذہبی رہنما مولانا احمد اللہ ہمدانی نے شیخ عبداللہ کی مکمل حمایت کا پرچم تھا ما۔
کشمیر میں میرواعظ ایک اہم ترین مذہبی منصب کا نام ہے جو سکھ اور ڈوگرہ حکومتوں سے لے کر آج تک عزت ومنزلت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہاہے ۔ میرواعظ خانوادے کی خدمات وعظ وتبلیغ ، اصلاح و تزکیہ ، تعلیم وتدریس تک محدود رہی ہیں مگر تحریک ِآزادی ٔ ہند کی تیز گام لہروں نے جونہی کشمیر کی خاموش فضاؤں کا سکوت توڑنا شروع کیاتو یہ بات بعیدازفہم تھی کہ جنت نظیر کا ایک اہم دینی گھرانہ اس پیش رفت سے لاتعلق رہے اور عصری سماجی وسیاسی مسائل کے حوالے سے کوئی ٹھوس موقف اختیار نہ کرے ۔ یہ اس لئے بھی بالخصوص ناممکن تھا کیونکہ حسن ِاتفاق سے میرواعظ خاندان کے چشم وچراغ مولوی محمد یوسف شاہ صاحب اسی پُر آشوب دور میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم رہے تھے ،جہاں آپ کوملکی سیاست کے زیروبم سے آشنائی ہوتی رہی تھی۔ آپ اپنے گھرانے کے واحد میرواعظ تھے جنہوں نے دیوبند میں آٹھ سال تک سنداً علوم اسلامیہ کی تحصیل کی ۔ انہیںعلامہ اقبال کے مربی ومرشد مولانا انور شاہ کشمیری اور مولانا شبیر
ا حمد عثمانی کا شاگردِ رشید ہونے کے علاوہ مولانا قاری طیب ، مولانا بدرعالم میرٹھی (صاحبِ ’’ترجمان السنۃ‘‘) ، مولانا منظور نعمانی ، مفتی ٔاعظم پاکستان ( صاحب ِ ’’معارف القرآن‘‘)جیسی برگزیدہ دینی شخصیات کا ہم درس ہونے کا شر ف بھی حاصل رہا ۔ دارالعلوم میں اپنے طالب علمانہ زندگی کے دوران میرواعظ یوسف نے جہاںقرآنیات،حدیث، فقہ اور فلسفہ میں عالمانہ وفاضلانہ درک حاصل کیا، وہاں اُن کے ذہن رسا نے آزادیٔ وطن کے حوالے سے ہند وستانی مسلمانوں کی انگریزوں کے خلاف مردانہ و ار جدوجہد آزادی کا نظارہ بھی کیا تھا ، نیز زمانے کے جید علماء کے ساتھ نشست وبرخواست اور مراسم نے میرواعظ کے فکری اورسیاسی تدبر وبصیرت کو جلاّبخشی تھی ۔ چنانچہ دیوبند سے فراغت کے بعد آپ واپس وطن مالوف لوٹے تو ریاست کے قدآور مذہبی رہنما ہونے کا حق ادا کر نے کے ساتھ ساتھ اُن سیاسی لہروں کی صدائے بازگشت بھی اپنے ہم وطنوں کو سنائی جو برطانوی ہند میں ان دنوں زوروں پر تھی۔ ان دنوں تحریک ِخلافت ہندوستان میں اپنے عروج پر تھی۔ گاندھی جی کی قیادت میں جاری اس تحریک میں علمائے اسلام اورطلبائے دیوبند بھی شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ ا سی کا عیاں وبیاں اثر یہ تھا کہ میرواعظ یوسف شاہ صاحب نے کشمیر میں بھی خلافت کمیٹی کا قیام عمل میں لایا مگر کمیٹی تحریک کی غایت اولیٰ سے لاعلمیت کے سبب کوئی خاطرخواہ نتیجہ پیدا کئے بغیر پس منظر میں چلی گئی ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ میرواعظ نے جدید دور کے چلن کا تقاضا سمجھتے ہوئے کشمیر یوں کے جذبات واحساسات کو اظہار کی زبان دینے کے لئے ایک پریس خرید لیا اور’’الاسلام‘‘ کے نام سے ایک جریدہ جاری کیا ۔
کشمیر میں شخصی راج کے زیرسایہ قتل وغارت گری ، قید وبند اور لوٹ مار کی وارداتوں نے مقامی سیاست کا رُخ یکسربدلا تھا اورعوامی جذبات کو ایک نئی منزل پر گامزن کیا تھا۔ حالات کے اس بدلتے رُخ کے تناظر میں ہندوستان کی تحریک آزادی ، مذہبی گروہ اور سرکردہ سیاسی وعلمی شخصیات نے کشمیر میں گہری دلچسپی لینا شروع کیاتھا۔ خاص کر پنجاب میں رہ رہے کشمیری الاصل آبادی کشمیر کا دردوکرب اُجاگر کر نے تن من دھن سے جھٹ گئی تھی ۔ مرزائیوں اور تحریک ِاحرار نے بھی پیش قدمی کر کے مسلم اکثریتی کشمیرمیں اپنی سرگرمیوں کا جال بچھانے کی منصوبہ بندی کرڈالی ۔ قادیانیوں نے برصغیر میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کو بروقت بھانپتے ہوئے شملہ میں ۱۴؍جولائی ۳۱ء کو ’’کشمیر کمیٹی‘‘ قائم کی ۔اس کا صدر مرزائیوں کا خلیفہ بشیرالدین بنا اور سیکرٹری خواجہ عبدلرحیم دردؔ بنا ۔ اس میں علامہ اقبال بھی شامل ہوگئے ( ا قبال کااحوال آگے آئے گا )۔ تحریک ِاحرار نے اپنے جھتے کشمیر یوں کے دفاع میں عطاء اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں احراری سوچیت گڑھ کے راستے کشمیر میںروانہ کئے۔ کانگریس کے چوٹی کے رہنما مولاناابولکلام آزاد بھی یکم اگست ۳۱ء کو واردِ کشمیر ہوئے اور جیلوں میں بند مسلم لیڈروں سے ملاقاتیں کیں ۔ ان کے سیاسی اثرورسوخ کا یہ نتیجہ نکلا کہ سیاسی قیدیوں کو ان کی آمد کے ۲۱؍ دن کے اندر رہائی ملی ۔ (باقی باقی)
نوٹ: ش م احمد کشمیر کے آزاد صحافی ہیں
Comments are closed.