تعلیم بنے سبھی بچوّں کا حق:کورونا دور میں تعلیم کے فرق کو کم کریں

تعارف : کورونا کی وجہ سے جب بچوں کی پڑھائی میں رکاوٹ ہوئی ہے،آئیے اس یوم خواندگی پر ہم بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کاعہد لیں۔
پرسانتا داش
راکیش اور شیکھر ( بدلا ہوا نام) دونوں بھائیوں نے اپنے مستقبل کا سنہرا خواب دیکھا تھا۔ اپنے دیگر دوستوں کی طرح ان کی بھی کچھ خواہشات اور اُمیدیں تھی کہ ایک دن وہ پڑھائی کر کے اپنے لئے ایک اچھی نوکری حاصل کریں گے، تاکہ اپنے کنبہ کوغریبی سے باہر نکال سکیں۔
لیکن کوویڈ۔۱۹ وبا نے ان کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ بحران کے اس دور میں جب والد، جو کہ راج مستری کا کام کرتے تھے اور بڑے بھائی جو کہ ڈرائیور کا کام کرتا تھا، کو لاک ڈائون کی وجہ سے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کے بعد ان دونوں بھائیوںکو اپنے پانچ رکنی کنبہ کی مدد کے لیے پڑھائی چھوڑ کر گیریج میں کام کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔
اس بحران کے دور میں ماں ہی واحد سہارا بنی تھیں جوکہ گھروں میں کام کرکے اپنے کنبہ کی پرورش کرتی تھی اور ان بچوں کی پڑھائی جاری رکھنے کی واحد امید تھی۔ لیکن ان کا مالی بحران اتنا زیادہ ہو گیا کہ گھر کے کرائے اور دیگر اخراجات کے لئے انہیں قرض لینا پڑا ۔
ان دونوں بچوں کی طرح اور بھی بہت سارے بچے ہیں، جو کہ اسی طرح کی مسائل کا سامنا کر رہیں ہیں۔ ہندوستان میں،لاک ڈائون کی وجہ سے ۱۵ لاکھ اسکول بند ہوئے ہیں، جس کا اثر ۲۴ کروڑ ۷۰ لاکھ بچوں پر پڑا ہے (ان میں سے ۱۱؍ کروڑ۹۰ ؍ لاکھ صرف لڑکیاں ہیں)، جو کہ پرائمری اور سیکنڈری تعلیم سے جڑی ہیں۔اس کے علاوہ ، ملک کے ۱۳؍ لاکھ۷۰؍ ہزار آنگن باڑی مراکز میں پری اسکول تعلیم حاصل کر رہے ۲؍ کروڑ ۸۵ ؍لاکھ بچوں پر بھی اس کا اثر پڑا ہے۔ یہ عدد ان ۶۰؍ لاکھ لڑکے اور لڑکیوں سے الگ ہے، جو کہ کووڈ۔۱۹ بحران سے پہلے ہی اسکول چھوڑ چکے ہیں۔ جھارکھنڈ میں بھی تقریباً ۴۷؍ لاکھ بچے سرکاری اسکولوں میں درجہ (۱۔۱۲) میں نامزد ہیں، جوکہ۲۱؍ مارچ ۲۰۲۰؁ء کے بعد سے اسکول بند ہونے کے وجہ سے اپنے پڑھائی سے محروم ہیں۔ ۲۰ دنوں کے گرمی چھٹی کو اگر چھوڑدیا جائے، جو کہ عام طور پر مئی کے آخر میں شروع ہوتی ہے اوردرمیانی جون تک جاری ر ہتا ہے،تو بھی تقریباً ۴ مہینے سے اوپر اسکول بند ہے۔
تعلیم کے علاوہ اثر:
اس کا اثر نہ صرف تعلیم پر پڑا ہے، بلکہ بچوں کی ذہنی صحت پر بھی پڑا ہے۔ کیونکہ، یہ کوئی با قاعدہ اسکول بندی نہیں ہے۔اس کے ساتھ کئی دوسری و جوہات بھی جوڑی ہیں، جیسے کہ بچوں کے گھومنے پھرنے پر پابندی، جس کی وجہ سے ان کے کھیل اور تفریح کی سرگرمیوں اور دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال میں بھی کمی آئی ہے۔ موجودہ بحران کی وجہ سے اقتصادی مسائل اوردیگر دوسرے وجوہات کا اثر بھی ان پر پڑا ہے۔ مڈ ڈے مل، ٹیکہ کاری اور انسداد کرمی جیسی خدمات میں رکاوٹ پڑنے کا اثر بھی ان پر پڑا ہے۔
اس کا اثرخاص طور سے غریب کنبہ ، شیڈول کاسٹ اور قبائلی طبقہ، ایک والدین والے اور بالغوں میں منشیات کے مسائل سے متاثر کنبہ کے بچوں اور معذور لڑکے ۔لڑکیاں پر ہوا۔
یہ صرف ڈیجیٹل ڈیوائیڈ نہیں ہے:
ان مسائل کے علاوہ، آن لائن تعلیم تک پہنچ بھی ایک مسئلہ ہے۔ حالانکہ، جھارکھنڈ میں حکومت کے ذریعہ طالب علموں کے درمیان ڈیجیٹل کنٹینٹ شیئر کیا جا رہا ہے، لیکن اسکی پہنچ کافی کم ہے۔ کچھ بچے کنکٹیویٹی اور خدمات کی تسلسل کا سامنا کر رہیں ہیں۔ جہاں تک اسماٹ فون کے ذریعہ سے تعلیم دینے کی بات ہے توچونکہ اسمارٹ فون گھروں میں ساجھا استعمال کی جانے والی چیز ہے، جس کی وجہ سے اس کا استعمال پڑھائی کے اصل ذریعہ کے طور میں نہیں ہو سکتا۔
حالانکہ ، شہری اور دیہی بچوں کے لئے صورت حال مختلف ہے۔ دیہی بچوں کے لیے ، خاص طور سے دور دراز کے علاقوں میں جہاں پہنچ اور کنکٹیویٹی کے مسائل ہیں، وہیں شہری جھگیوں کے بچوں کو دیگر چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیساکہ کنبہ کے کئی ارکان کے ساتھ چھوٹے گھروں میں رہائش کرنا اور اگر وہ کنٹینمنٹ زون میں رہ رہے ہیں تو کئی قسم کی پابندیوں کا سامنا کرنا۔
جھارکھنڈ ایک ایسا ریاست ہے، جہاں کے کافی لوگ دوسرے ریاستوں میں رہتے ہیں۔ موجودہ کورونا بحران کی وجہ سے یا تو وہ واپس اپنے ریاست سے لوٹ چکے ہیں یا آگے لوٹ سکتے ہیں۔ ان کنبہ کے بچے جو اپنے کنبہ کے ساتھ یہاں لوٹیں گے انہیں زبان یا نصاب جیسی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص کر اگر وہ کرناٹک یا تامل ناڈو جیسے ریاست سے لوٹتے ہیں تو انہیں اس کا خاص طور سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جدید تعلیم:
یہ یقینی کرنے کے لیے کہ بچوں تک سیکھنے کی مواد پہنچتی رہے، اسکولی تعلیم اور خواندگی محکمہ نے ۱ ؍لاکھ سے زیادہ اساتذہ اور ۳۰۰۰ بلاک اور کلسٹر ریسورس پرسن کے ساتھ وہاٹس ایپ گروپ کا ایک نیٹورک بنایا ہے، جس میں ۱۲ لاکھ سے زیادہ طالب علم بھی جوڑے ہیں۔ اس وہاٹس ایپ گروپ کے ذریعہ سے ہر ایک درجہ کے لئے ہر دن ڈجیٹل موا د شیئر کی جا تی ہے ۔ان گروپوں کے ذریعہ سے اوپن ا یکسس ڈجیٹل وسائل کو شیئر کیا جا رہا ہے۔ یو نیسیف ، محکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر اس پہل پر کام کر رہا ہے اور تعلیمی مواد کے وسائل کی شناخت کرنے اورمتعلقہ مواد کا انتخاب کرنے میں حکومت کا تعاون کر رہا ہے ۔ یونیسیف ، ریاستی وسائل گروپ کے ساتھ کو آرڈینیشن میں بھی کام کر رہا ہے ، جس میں وسائل اساتذہ اور ایس سی ای آر ٹی بھی شامل ہیں ، جو درجہ اور موضوع کے حساب سے تعلیمی مواد کو ترمیم اور تبدیل کرتے ہیں۔
حکومت جھارکھند بچوں کے لئے سیکھنے کے مواقع کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ جھارکھند محکمہ ِتعلیم DIKSHAپورٹل کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ ڈیجیٹل تعلیمی وسائل کو شیئر کرنے کا ایک قومی فورم ہے۔ حکومت اس پلیٹ فارم پر ای۔ کتابیں اور تعلیمی مواد اپ لوڈ کر رہی ہے، تاکہ رجسٹریشن کے بعد استاد اور طالب علم تک یہ مواد پہنچ سکے۔
ہم نے انٹرنیٹ کنکٹیویٹی کے مدعے سامنے آنے کے بعد بچوں کے لیے تعلیمی مواد کی پہنچ کیلئے توسیع کی ہے۔ دوردرشن اور جھار کھنڈ ایجوکیشن پروجیکٹ کانسل کے بیچ ہم اہنگی بنا کر ، مینا سیریز (جو کہ زندگی کی ہنر پر مرکوز ہے)اور گلی گلی سیم سیم (شروعاتی بچپن پر مبنی) کو دوردرشن پر مئی کے شروعات میں نشر کیا گیا۔ دوردرشن کے ذریعہ سے درجہ کے مطابق تعلیمی مواد بھی پیش کی جا رہی ہے۔ ہفتہ میں پانچ دن ٹیلی ویژن کے ذریعہ سے درجہ کے مطابق تعلیمی مواد بھی پیش کی جا رہی ہے۔ہفتہ میں پانچ دن ٹیلی ویژن کے ذریعہ سے تین گھنٹے کی تعلیمی اشیاء بچوں کے درمیان پیش کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ بچوں کیلئے ٹیلی ویژن کے ذریعہ ہوم بیسٹ لرننگ ، سائیکو ۔ سوشل منجمنٹ اور اکزام اسٹریس جیسے موضوعات پر پینل چرچہ بھی منعقد کی گئی ہے ۔
بچوں کے لئے اجتما عی کو شش:
اجتماعی کام ہمیشہ شا ندا ر نتیجہ دیتے ہیں اور جب با ت بچوں کی تعلیم کی ا ٓتی ہے ، تو ملی جو لی کو ششوں کے علا وہ بچوں کی مدد کرنے کا دوسرا بہتر طریقہ اورکوئی ہو نہیں سکتا ۔ اسے دھیا ن میں رکھتے ہوئے ، یونیسیف نے جھارکھنڈ ایجوکیشن پر وجیکٹ کانسل کے سا تھ مل کر خا ص شہری سما جی تنظیموں جیسے کہ پلا ن ، سیو دی چلڈرن ،لیڈس ، کویسٹ ایلائنس ، آئی سی آر ڈبلو ، سینی اور پرتھم کے سا تھ ایلائنس کیا ہے ۔ اس ایلا ئنس کے ذریعہ سے ہم 57بلا کو ں کے دور دراز علا قوں میں رہنے والوں ان بچوں کے بیچ پہنچے کی کوشش کر تے ہیں جن تک تعلیمی موا د کی پہنچ نہیں ہے اس کے ذریعہ سے ہم ان بچوں کے بیچ ہوم بیسڈ لرننگ کو فروغ دیتے ہیں ۔
کئی ایسی تعلیمی سرگرمیاں ہیں جو کہ بچے آزادانہ طور پر یا محدود مددکے سا تھ کر سکتے ہیں ۔ محدود خواندہ کنبہ میں بھی بچوں کے سیکھنے میں تعاون دیا جا سکتا ہے، جیسے کہ بچوں کو کتا بی نصاب سے کہا نی پڑھنے یا گھر کے لئے بجٹ بنا نے کے لئے کہا جا سکتا ہے ۔ دا دا ،دادی ، ما ں با پ اور بھا ئی بہن کہا نی کے ذریعہ سے بچوں کو سیکھنے میں مدد کر سکتے ہیں یا بچوں کو خو د کے ذریعہ کہا نی وغیر ہ لکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں ۔ ما ں ، با پ اور دا دا دادی سے ان کے بچپن کے تجربوں اورزندگی گذارنے کے با رے میں جاننا بچوں کو یہ سمجھنے میں مدد کر سکتی ہے کہ تواریخ صر ف اہم تا ریخوں یا لوگوں کے با رے میں نہیں ہے ۔ بلکہ یہ ہما ری زندگی کی تجربوںکا ایک حصہ ہے ۔ کنبہ میں کھیلے جا نے وا لے انتاکچھری، لوڈویا کیرم جیسے انڈور گیم بھی نہ صر ف کنبہ کے لوگوں کے بیچ رشتہ کومضبوط کر تے ہیں ، بلکہ یہ بچوں کی ذہنی اور سما جی ترقی کے لئے بھی اچھی ہے ۔ اس طرح سے کنبہ اپنے بچے کی سیکھنے کا سفر کا اہم حصہ بن سکتا ہے ۔
حقیقت میں، کورونا بیماری نے ہمیں ایک خاص اندرونی آنکھ اور سبق دی ہے کہ نہ صرف بچے کے ساتھ بلکہ ان کے کنبہ اور پریواروں کے ساتھ بھی جڑنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ گھر پر بچوں کو سیکھنے کیلئے بہتر ماحول کو بنانا یقینی کیا جا سکے۔
آخر میں، میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ ماں باپ اور اساتذہ کے لئے یہ ضروری ہے کے وہ بچوں کے ساتھ مسلسل طور سے بات کریں اور ان کی ذہنی صحت کو یقینی کریں۔ یہ ان کے لئے ایک بہتر ماحول کا ایجاد کرے گا، جو کہ بچوں کو پلنے، بڑھنے اور پڑھنے میں مدد کرے گا۔
مصنف :یونیسف جھارکھند کے ہیڈ ہیں

 

Comments are closed.